ملتان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں


ملتان
Multan
عمومی معلومات
ملک Flag of Pakistan.svg پاکستان
صوبہ پنجاب
ضلع ملتان
محل وقوع 30.146 درجے شمال، 70.827 درجے مشرق
آبادی 50لاکھ
منطقۂ وقت معیاری عالمی وقت +5
رمزِ بعید تکلم 061
ملتان is located in پاکستان
ملتان
ملتان

پاکستان میں ملتان کا مقام


ملتان پاکستان کے صوبہ پنجاب کا ایک اہم شہر ہے۔ یہ شہر جنوبی پنجاب میں دریائے چناب کے کنارے آباد ہے۔ آبادی کے لحاظ سے یہ پاکستان کا پانچواں بڑا شہر ہے۔ یہ ضلع ملتان اور تحصیل ملتان کا صدر مقام بھی ہے۔بقیہ تحصیلوں میں تحصیل صدر، تحصیل شجاع آباد اورتحصیل جلال پورپیروالہ شامل ہیں۔

ملتان کا نام[ترمیم]

ایک قوم جس کا نام مالی تھا یہاں آکر آباد ہوئی اور سنسکرت میں آباد ہونے کو استھان “[1]“ کہتے ہیں یوں اس کا نام مالی استھان پڑ گیا جو رفتہ رفتہ" مالی تان "بن گیا پھر وقت کے ساتھ ساتھ مالیتان ، مولتان اور اب ملتان بن گیا ہے۔

انتظامی ٹاؤنز[ترمیم]

  • شاہ رکن عالم ٹاؤن
  • شیر شاہ ٹاؤن
  • بستی تھہیم نگر ٹاؤن
  • بوسن ٹاؤن
  • موسیٰ پاک شہید ٹاؤن
  • تحصیل شجاع آباد ٹاؤن
  • تحصیل جلال پورپیروالہ ٹاؤن

تاریخ[ترمیم]

ملتان کی تاریخ میں قلعہ ملتان کی بہت اہمیت حاصل ہے۔ ملتان کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ اس کا شمار دنیا کے قدیم ترین شہروں میں ہوتا ہے۔ بہت سے شہر آباد ہوئے مگر گردش ایام کا شکار ہو کر صفحہ ہستی سے مٹ گئے ، لیکن شہر ملتان ہزاروں سال پہلے بھی زندہ تھا اور آج بھی زندہ ہے ۔ ملتان کو صفحہ ہستی سے ختم کر نے کی کوشش کرنے والے سینکڑوں حملہ آور خود نیست و نابود ہو گئے آج ان کا نام لیوا کوئی نہیں مگر ملتان آج بھی اپنے پورے تقدس کے ساتھ زندہ ہے اور مسجود ملائک بنا ہوا ہے ، شیخ الاسلام حضرت بہائو الدین زکریا ملتانی(رح) نے ایسے تو نہیں کہا تھا۔

ملتان ما بجنت اعلیٰ برابراست
آہستہ پابنہ کہ ملک سجدہ می کنند

ملتان کے بارے میں جس ہستی نے یہ لافانی شعر کہا، وہ ہستی خود کیا تھی؟ اس کا اپنا مقام اور مرتبہ کیا تھا؟ اور اس نے انسانیت کے لیے کیا کیا خدمات سرانجام دیں؟ اس بات کی تفصیل کے لیے ایک مضمون نہیں بلکہ کئی کتب کی ضرورت ہے، حضرت بہاؤ الدین زکریا کی شخصیت اور خدمات بارے کچھ کتابیں مارکیٹ سے تو مل جاتی ہیں مگر ان میں مذکور مضامین کی حیثیت سطحی ہے، زکریا سئیں کو نئے سرے سے جاننے اور نئے سرے سے دریافت کرنے کی ضرورت ہے۔ غوث العالمین، شیخ الاسلام حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی 27 رمضان 566ھ حضرت مولانا وجیہہ الدین محمد قریشی کے ہاں پیدا ہوئے، صغیر سنی میں والد ماجد کا انتقال ہو گیا، یتیمی کی حالت میں تعلیم اور تربیت کے مراحل طئے ہوئے اور عین جوانی میں عازم سفر سلوک بنے، بغداد پہنچ کر حضرت شہاب الدین سہروردی رحمتہ اللہ علیہ سے روحانی فیض حاصل کیا، سہروردی سئیں نے خرقہ خلافت عطا فرمایا اور آپ کو ملتان پہنچ کر دین کے لیے کام کرنے کی تلقین فرمائی، ملتان میں ان دنوں ہندوؤں کا غلبہ تھا اور پرہلاد جی خود تو موحد تھے اور خدا کا انکار کرنے والے اپنے بادشاہ باپ سے جنگ بھی کی مگر پر ہلاد جی کی وفات کے سینکڑوں سال بعد ان کے مندر پر بت پرست غالب آ گئے اور پرہلاد جی کا مندر ہندو مذہب کا مرکز بنا ہوا تھا، ملتان پہنچ کر آپ نے تبلیغ شروع کر دی، پرہلاد مندر کے متولیوں کے غیر انسانی رویوں سے نالاں لوگ جوق در جوق حضرت کی خدمت میں پہنچ کر حلقہ اسلام میں داخل ہونے لگے، آپ نے شروع میں مدرستہ الاسلام قائم کیا اور بعد میں اسے دنیا کی سب سے بڑی پہلی اقامتی یونیورسٹی کی حیثیت دیدی، آپ نے تعلیم کے ساتھ تبلیغ کا سلسلہ شروع کیا، جو بات میں کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ آج دین سکھانے کے لیے کسی نے بستر اور کسی نے کلاشنکوف اٹھا لی ہے، اس کے مقابلے میں حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی (رح) نے کیا طریقہ کار اختیار کیا؟ یہ غور طلب ہے۔

شاہ رکن عالم

غوث العالمین نے اپنی اقامتی یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم کے ساتھ مختلف عالمی زبانوں مثلاً سنسکرت ،پنجابی ، بنگالی ، سندھی ، فارسی ، عربی ، جادی ، برمی ، مرہٹی اور انڈونیشی وغیرہ کے شعبے قائم کیے ، اور مذکورہ زبانوں کے طلبہ کو تعلیم سے آراستہ کر کے گروپ تشکیل دئیے اور ان گروپوں کو جماعتوں کی شکل میں کو تجارت اور تبلیغ کی غرض سے مختلف ممالک کے لیے روانہ کیا ۔ تجارت کے لیے ہزاروں اشرفیوں کی صورت میں خود سرمایہ مہیا فرماتے اور ہدایت فرماتے رزق حلال کے حصول کے لیے تجارت کرنی ہے اور خدا کی خوشنودی کے لیے تبلیغ بھی ، وفود کو روانگی سے پہلے پانچ باتوں کی نصیحت فرماتے۔

  1. تجارت میں اسلام کے زریں اصولوں کو فراموش نہ کرنا۔
  2. چیزوں کو کم قیمت منافع پر فروخت کرنا
  3. خراب چیزیں ہرگز فروخت نہ کرنا بلکہ انہیں تلف کر دینا ۔
  4. خریدار سے انتہائی شرافت اور اخلاق سے پیش آنا۔
  5. جب تک لوگ آپ کے قول و کردار کے گرویدہ نہ ہو جائیں ان پر اسلام پیش نہ کرنا۔

اسی زمانے دریائے راوی ملتان کے قدیم قلعے کے ساتھ بہتا تھا اور اسے بندرگاہ کی حیثیت حاصل تھی ، کشتیوں کے ذریعے صرف سکھر بھکر ہی نہیں منصورہ ، عراق ، ایران ، مصر کا بل دلی اور دکن تک کی تجارت ہوتی اس طرح ملتان کو دنیا بہت کے بڑے علمی تجارتی اور مذہبی مرکز کی حیثیت حاصل ہوئی اور صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں حضرت بہاو الدین زکریا ملتانی(رح) نام اور پیغام پہنچا، آپ کے پیغام سے لاکھوں انسان حلقہ بگوش اسلام ہوئے اور آپ نے لوگوں کے دلوں میں اس طرح گھر بنا لیا کہ آٹھ صدیاں گزرنے کے باوجود آج بھی لاکھوں انسان ننگے پاؤں اورسر کے بل چل کر آپ کے آستانے پر حاضری دیتے ہیں اور عقیدت کے پھول نچھاور کرتے ہیں۔ میرے سامنے ملتان کے معروف آرٹسٹ سئیں ضمیر ہاشمی کے چند فن بارے موجود ہیں ، ان فن پاروں میں قلعہ ملتان کی قدامت کو پنسل ورک ‘‘ کے ذریعے عیاں کرنے کی کوشش کی گئی ہے قلعہ کی فصیل دکھائی گئی ہے ، پرہلاد مندر کا نقشہ انہدام سے پہلے کی شکل میں موجود ہے اور شاہ رکن عالم کا دربار پر انوار بھی جلوہ افروز ہے ۔ قلعہ ملتان کتنا قدیم ہے؟ اس بارے کہا جاتا ہے کہ یہ پانچ ہزار سال پرانا ہے لیکن ہو سکتا ہے کہ یہ اس سے بھی قدیم ہو ، اس بات پر تمام مورخین کا اتفاق ہے کہ ملتان اور قلعہ ملتان کا وجود قبل از تاریخ دیو مالائی دور سے بھی پہلے کا ہے ، قابل افسوس امر یہ ہے کہ حملہ آوروں نے ہمیشہ اس قلعے کو نشانہ بنایا اور اسے فتح کرنے کے بعد خوب لوٹ مار ہوتی رہی مگر اسے بحال کرنے کی صورت پیدا نہ ہو سکی ، 1200قبل مسیح دارانے اسے تباہ کیا ،325 قبل مسیح سکندر اعظم نے اس پر چڑھائی کی پھر عرب افغان سکھ اور انگریز حملہ آوروں قدیم قلعہ ملتان کو برباد کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی ، اب فرزندان ملتان اور سرائیکی وسیب کے تمام باسیوں کا فرض ہے کہ وہ اپنی سابقہ کوتاہیوں پر غور کریں اور اپنے وسیب کے ساتھ ہونیوالی پانچ ہزار سالہ زیادتیوں کی تلافی کریں اور اپنی عظمت رفتہ کو پہنچائیں۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ملتان ایک شہر ہی نہیں ایک تہذیب اور ایک سلطنت کا نام بھی ہے ۔372ہجری کتاب ’’حدود العالم بن المشرق الی المغرب‘’ میں ملتان کی حدود بارے لکھا ہے کہ قنوج کے راجہ اور امیر ملتان کی سرحدیں جالندھر پر ختم ہوتی تھیں’’ سیر المتاخرین‘‘ میں اقلیم ملتان کی حدود اس طرح بیان کی گئی ہیں کہ ملتان اول دوم و سوم اقالیم سے زیادہ فراخ ہے کیونکہ ٹھٹھہ اس صوبہ پر زیادہ ہوا ہے فیروز پور سے سیوستان تک چار سو تیس کوس لمبا اور چتوڑ سے جیسلمیر تک ایک سو آٹھ کوس چوڑا ہے دوسری طرف طول کیچ اور مکران تک چھ سو ساٹھ کوس ہے اس کے خاور ﴿مشرق﴾ رویہ سرکار سرہند سے ملا ہوا ہے شمالی دریائے شور میں اور جنوبی صوبہ اجمیر میں ہے اور باختر﴿مغرب﴾ میں کیچ اور مکران ہے ۔ ابوالفضل نے اپنی مشہور عالم کتاب آئین اکبری میں ملتان کی حدود یہ بیان کی ہیں ، صوبہ ملتان کے ساتھ ٹھٹھہ کے الحاق سے پہلے یہ صوبہ فیروز پور سے سیوستان تک ۶۲۴کروہ تھا چوڑائی میں کھت پور سے جیسلمیر تک۶۲۱ کروہ تھا ٹھٹھہ کے الحاق کے بعد یہ صوبہ کیچ اور مکران تک وسیع ہوگیا ، اس کا یہ فاصلہ ۰۶۶ کروہ تھا ، مشرق میں اسکی سرحدیں سرہند سرکار سے شمالی میں پشاور سے جنوب میں اجمیر کے صوبے اور مغرب میں کیچ مکران سے ملتی تھیں ، کیچ اور مکران پہلے صوبہ سندھ میں شامل تھے ملتان کے صوبے میں تین سرکاریں ﴿ملتان خاص دیپال پور اور بھکر﴾ تھیں اور کل اٹھاسی پراگنے ﴿ضلع﴾تھے۔ ملتان کی وسعت اور عظمت پر تاریخ آج بھی رشک کرتی ہے ، ملتان کے قدامت کے ہم پلہ دنیا میں شاید ہی کوئی شہر ہو ، پاکستان میں جن شہروں کو مصنوعی طریقے سے ملتان سے کئی گنا بڑے شہر بنایا گیا ہے، آج سے چند سو سال پہلے یہ ملتان کی مضافاتی بستیاں تھیں اس بات کی شہادت حضرت داتا گنج بخش(رح) نے اپنی کتاب’’کشف المجوب‘‘ میں ’’لاہور یکے از مضافاتِ ملتان‘‘ فرما کر دی ہے ۔

ملتان کے حوالے سے فارسی کا شعر

چہار چیزاز تحفہ ملتان است

گردو گرما گداوگورستان است

گرد کا مطلب ہے کہ یہاں آندھیاں بہت آتی ہیں ۔ گرما کا مطلب ہے کہ گرمی بہت ہوتی ہے ، گدا [2] کا مطلب ہے کہ یہاں اللہ والے بہت لوگ ہیں اور گورستان کا مطلب ہے کہ یہاں قبرستان بہت ہیں۔ گرمی کے حوالے سے ’’گرمے‘‘ کی بات کوچھوڑ کر محققین کو اس بات پر غور کرنا چاہئیے کہ دنیا کی امیر کبیر شہر ، دنیا کی بہت بڑی تہذیب ، دوسرا سب سے پرانا قدیم شہر اور دنیا کی بڑی سلطنت کو گورستان میں کس نے تبدیل کیا ؟ ایک وقت تھا جب یہ سلطنت سمندر تک پھیلی ہوئی تھی اور عروس البلد لاہور اس کا ایک مضافاتی علاقہ ہوتا تھا۔ ساہیوال، پاکپتن، اوکاڑہ، میاں چنوں، خانیوال، لودھراں، مظفرگڑھ اور بھکر تمام اس کے علاقے تھے۔ مگر یہ تاریخی شہر رفتہ رفتہ تقسیم در تقسیم ہوتا گیا۔تاریخی سلطنت (صوبہ ملتان) اور آج تین تحصیلوں تک محدود ہوگیا ہے۔

تحریک صوبہ ملتان[ترمیم]

اب ملتان کی عوام نے تحریک بحالی صوبہ ملتان کا آغاز کر دیا ہے۔ اور تمام زبانیں بولنے والے چاہے وہ پنجابی ہوں یا سرائیکی تمام لوگ اس بات پر مطفق ہیں کہ صوبہ ملتان کا رتبہ بحال کیا جائے۔ اور اس کا صدر مقام بھی ملتان کو ہی بنایا جائے جو اس کا بنیادی حق ہے اور لسانی بنیادوں پر اس کا نام نہ رکھا جائے۔ اور اس کے علاوہ صوبہ کو انتظامی بنیادوں پر قائم کیا جائے۔ اور تحریک کے بنیادی مقاصد درج ذیل ہیں۔

  • تمام مذاہب کو برابر حقوق حا صل ہوں۔
  • خطے کی محرومی ختم ہو سکے۔
  • سرائیکی زبان کے علاوہ دیگر زبان بولنے والوں کے کی دل آزاری نہ ہو۔
  • خطے کی رقم خطے میں ہی خرچ ہو سکے۔

مشہوراولیاءکرام کے مزارات[ترمیم]

اس شہر کو اولیاء کا شہر کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں کافی تعداد میں اولیاء اور صوفیاء کے مزارات ہیں۔ مشہور مزارات میں حضرت شاہ شمس تبریز(رض) ، حضرت بہاؤالحق (رض)، بی بی نیک دامن (رض)، حضرت بہاؤالدین زکریا ملتانی(رض) ، حضرت شاہ رکن عالم(رض) ،حضرت منشى غلام حسن شہيد ملتانى (رض)، حضرت موسیٰ پاک شہید (رض)، حضرت سید احمد سعید کاظمی(رض) ، حضرت حافظ محمد جمال (رض) ، حضرت بابا پیراں غائب(رض) اور بہت سے اولیاء کرام کے مزارات یہاں پر ہیں۔ مضافات میں حضرت مخدوم رشید(رض) شاہ صاحب (وہاڑی روڈ)، حضرت پیر سید سخی سلطان علی اکبر (رض) کا مزار بھی موجود ہے جو سورج میانی روڈ پر واقع ہے۔

ملتان کے قدیم دروازے[ترمیم]

ملتان کے قدیم دروازوں کے نام یہ ہیں۔

پاک گیٹ[ترمیم]

اس کا نام پاک گیٹ اس وجہ سے ہے کہ اس سے 300 فٹ اندر کی طرف ایک بزرگ شيخ سيد ابوالحساب موسى پاک شہيد کا مزار ہے، جو سید حامد بخش گیلانی کے بیٹے تھے۔

دیگر دروازے[ترمیم]

1 2 3 4 5
حرم دروازہ بوہڑ دروازہ دہلی دروازہ دولت دروازہ لوہاری دروزہ

مشہورمقامات[ترمیم]

1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24 25 26 27 28 29 30 31
حسین آگاہی گھنٹہ گھر عزیز ہوٹل قدیر آباد سورج میانی قاسم بیلہ،لنگڑیال شیر شاہ پیراں غائب سمیجہ آباد شاہ رکن عالم کالونی نیو ملتان ملتان کینٹ ڈیرہ اڈا ممتاز آباد گلگشت کالونی شمس آباد كالونى واپڈا ٹاون کھاد فیکٹری نشتر ہسپتال سول ہسپتال نواب پور مخدوم رشید بستی ملوک بستی خداداد مظفرآباد قلعہ کہنہ قاسم باغ دولت گیٹ سوئی گیس کالونی بہاوالدین زکریا یونیورسٹی مزار بی بی پاک دامان رحمان کالونی

آموں کا گھر[ترمیم]

ملتان کی پیداوار[ترمیم]

1 2 3 4 5 6 7 8 9
انور ریٹول چونسہ دوسہری کا لا چونسہ دیسی فجری مالدہ لنگڑہ سندھڑی

شجاع آباد کی پیداوار[ترمیم]

  • انور ریٹول
  • چونسہ
  • دوسہری
  • دیسی
  • لنگڑہ

مشہورسوغات[ترمیم]

  • حافظ کا ملتانی سوہن حلوہ
  • حافظ عبدالودود کا سوہن حلوہ
  • ریواڑی کی مٹھائی
  • دلمیر کے پیڑے
  • حرم گیٹ کی کھیر
  • لال کرتی کینٹ کا دودھ
  • لال کرتی کینٹ کی چانپ
  • نواب ہوٹل کا نمکین
  • خونی برج کی مچھلی
  • دال مونگ

حوالہ جات[ترمیم]

  1. استھان سنسکرت میں آباد کو کہتے ہیں
  2. گدا "گدا کا مطلب ہے مانگنے والا، مگر یہاں مانگنے والے اللہ سے مانگتا ہے انسانوں سے نہیں"