پاکستان قومی کرکٹ ٹیم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
پاکستان
پاکستان کرکٹ
پاکستان کرکٹ
ٹیسٹ اجازت نامہ حاصل ہوا 1952
پہلا ٹیسٹ میچ بمقابلہ Flag of بھارت بھارت بمقام فیروز شاہ کوٹلہ، دہلی، بھارت 16–18 اکتوبر 1952۔
کپتان مصباح الحق (ٹیسٹ) اظہر علی (نائب کپتان)
اظہر علی (ایک روزہ) سرفراز احمد (نائب کپتان)
سرفراز احمد (ٹی-20) [1]
تربیت کار مکی آرتھر
رسمی آئی سی سی ٹیسٹ، ایک روزہ اور ٹی20 درجہ بندی تیسری (ٹیسٹ)
نویں (ایک روزہ)
ساتویں (ٹی-20)[2] [1]
ٹیسٹ میچ
– اس سال
395
0
آخری ٹیسٹ بمقابلہ  انگلستان Sharjha International Stadium، شارجہ (شارجہ)، 1-5 نومبر 2015
جیتے/ہارے
– اس سال
126-111
0/0
آخری تجدید: مئی 2016

پاکستان کرکٹ ٹیم کرکٹ کی دنیا میں پاکستان کی نمائندگی کرتی ہے جس کا انتظامیہ پاکستان کرکٹ بورڈ ہے۔ پاکستان کوبین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لینے کی اجازت بین الاقوامی کرکٹ انجمن (International Cricket Council) نے 1952ء میں دی۔ پاکستان نے اپنا پہلا ٹیسٹ میچ 16 اکتوبر، 1952ء میں بھارت کے خلاف دہلی میں کھیلا۔[3] پاکستان کرکٹ ٹیم اس وقت دنیا کی مضبوط ترین ٹیموں میں شامل ہے۔ پاکستان نے اپنا پہلا عالمی کرکٹ کپ عمران خان کی قیادت میں 1992ء میں برطانیہ کے خلاف جیتا ۔ پاکستان نے کئی مایہ ناز گیند باز وبلے باز پیدا کیے ہیں جن میں عمران خان، وسیم اکرم، عبدالقادر ، سرفراز نواز ، وقار یونس ، شعیب اختر ، انضمام الحق ، شاہد آفریدی اور جاوید میانداد کا نام آتا ہے۔

24 جون 2015ء تک پاکستان نے 395 ٹیسٹ کھیلے ہیں جن میں سے 126 جیتے اور 111 ہارے، اور 158 بلا نتیجہ رہے۔ پاکستانی ٹیم اس وقت ایشیائی ٹیموں میں سب سے زیادہ ٹیسٹ جیتنے والی ٹیم ہے[4] آئی سی سی کی درجہ بندی کے مطابق پاکستان ٹیسٹ میچوں میں تیسری (3) اور ایک روزہ میچوں میں نویں (9) اور ٹی20 میں ساتویں (7) نمبر پر ہے، [5]

انتظامیہ

پاکستان میں ہر قسم کی کرکٹ (فرسٹ کلاس) ، ٹیسٹ کرکٹ، اور ایک روزہ کرکٹ، پاکستان کرکٹ بورڈ کے ذمہ ہے۔ یہ محکمہ صدر پاکستان کے زیرہ نگرانی کام کرتا ہے۔ اس کی انتظامیہ میں پرانےکرکٹر، ارور کاروباری حضرات شامل ہیں۔ علاقائ ٹیمرں کے مقابلے جن میں قائد اعظم ٹرافی شامل ہے کا انتظام اور میدانوں کی دیکھ بھال بھی اسی کے ذمہ ہے۔

صدر پاکستان کرکٹ بورڈ کے صدر کا انتخاب کرتا ہے اس وقت بورڈ کا صدر شہر یار خان ہے۔ حال ہی میں صدر پاکستان نے نئے آئین کی منظوری دی ہے جس کے تحت علاقائی ٹیموں کی انتظامیہ کے افراد کرکٹ بورڈ کو چلائیں گے۔

بین الاقوامی مقابلوں میں کارکردگی

عالمی کپ

عالمی کپ ریکارڈ
سال راؤنڈ درجہ کھیلے جیتے ہارے برابر بلا نتیجہ
انگلینڈ1975 پہلا مرحلہ 5/8 3 1 2 0 0
انگلینڈ 1979 سیمی فائنل 4/8 4 2 2 0 0
انگلینڈ 1983 سیمی فائنل 4/8 7 3 4 0 0
بھارت اور پاکستان 1987 سیمی فائنل 3/8 7 5 2 0 0
آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ 1992 فاتح 1/9 10 6 3 0 1
بھارت، پاکستان اور سری لنکا 1996 کوائٹر فائنل 6/12 6 4 2 0 0
انگلینڈ اور نیدرلینڈز 1999 فائنل ہارا 2/12 10 7 3 0 0
جنوبی افریقہ، زمبابوے اور کینیا 2003 پہلا مرحلہ 10/14 6 2 3 0 1
ویسٹ انڈیز 2007 پہلا مرحلہ 10/16 3 1 2 0 0
بھارت، سری لنکا اور بنگلہ دیش 2011 سیمی فائنل 3/14 8 6 2 0 0
آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ 2015 کوارٹر فائنل 5/14 7 4 3 0
انگلینڈ 2019 -
بھارت 2023 -
کل 10/10 1 اعزاز 64 37 25 0 2

ٹی 20 عالمی کپ

ورلڈ ٹوئنٹی 20 ریکارڈ
سال مرحلہ درجہ کھیلے جیتے ہارے برابر بلا نتیجہ
جنوبی افریقہ 2007 دوسرا مقام 2/12 7 5 1 1 0
انگلستان 2009 فاتح 1/12 7 5 2 0 0
ویسٹ انڈیز 2010 سیمی فائنل 4/12 6 2 4 0 0
سری لنکا 2012 سیمی فائنل 3/12 6 4 2 0 0
بنگلا دیش 2014 سپر 10 5/16 4 2 2 0 0
بھارت 2016 سپر 10 7/16 4 1 3 0 0
کل 4/4 1 ٹائٹل 34 19 14 1 0

دیگر

دیگر اہم ٹورنامنٹ
آئی سی سی چیمپینز ٹرافی ایشیاء کپ
  • 1998: کوارٹر فائنل
  • 2000: سیمی فائنل
  • 2002: راؤنڈ 1
  • 2004: سیمی فائنل
  • 2006: راؤنڈ 1
  • 2009: سیمی فائنل
  • 2013: راؤنڈ 1
  • 1984: تیسرا مقام
  • 1986: دوسرا مقام
  • 1988: تیسرا مقام
  • 1990/1991: حصہ نہیں لیا
  • 1995: تیسرا مقام
  • 1997: تیسرا مقام
  • 2000: فاتح
  • 2004: تیسرا مقام
  • 2008: تیسرا مقام
  • 2010: تیسرا مقام
  • 2012: فاتح
  • 2014: دوسرا مقام
  • 2016: تیسرا مقام
کالعدم ٹورنامنٹ
کامن ویلتھ گیمز ایشیائی ٹیسٹ چیمپئن شپ آسٹرل-ایشیاء کپ
  • 1998: راؤنڈ 1
  • 1999: فاتح
  • 2001: دوسرا مقام

کھیل کے میدان

میدان شہر ٹیسٹ میچ ایک روزہ میچ
نیشنل اسٹیڈیم کراچی 40 33
قذافی اسٹیڈیم لاہور 38 49
اقبال اسٹیڈیم فیصل آباد 24 12
راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم راولپنڈی 8 21
ارباب نیاز اسٹیڈیم پشاور 6 15
ملتان کرکٹ اسٹیڈیم ملتان 5 4
نیاز اسٹیڈیم حیدرآباد 5 6
جناح اسٹیڈیم سیالکوٹ 4 9
شیخوپورہ اسٹیڈیم شیخوپورہ 2 1
جناح اسٹیڈیم گوجرانوالہ 1 11
ابن قاسم باغ اسٹیڈیم ملتان 1 6
پنڈی کلب گرائونڈ راولپنڈی 1 2
ظفر علی اسٹیڈیم ساہیوال 0 2
ایوب نیشنل اسٹیڈیم کوئٹہ 0 2
سرگودھا اسٹیڈیم سرگودھا 0 1
بگٹی اسٹیڈیم کوئٹہ 0 1

موجودہ ٹیم کے کھلاڑی

نام بلے بازی کا طریقہ گیند بازی کا طریقہ علاقائی ٹیم
کپتان
مصباح الحق دائیں ہاتھ سے میانوالی
سابق کپتان
شاہدآفریدی دائیں ہاتھ سے لیگ بریک کراچی
وکٹ کیپر
محمد رضوان دائیں ہاتھ سے پشاور
سرفراز احمد دائیں ہاتھ سے کراچی
اننگ کھو لنے والے بلے باز
سمیع اسلم بائیں ہاتھ سے رائٹ آرم میڈیم فاسٹ لاہور
محمد حفیظ دائیں ہاتھ سے آف بریک لاہور
خرم منظور دائیں ہاتھ سے آف بریک کراچی
احمد شہزاد دائیں ہاتھ سے لیگ بریک لاہور
شان مسعود بائیں ہاتھ سے رائٹ آرم میڈیم فاسٹ کراچی
مڈل آرڈر بلے باز
اظہر علی دائیں ہاتھ سے آف بریک کراچی
عمر اکمل دائیں ہاتھ سے کراچی
یونس خان دائیں ہاتھ سے آف بریک کراچی
اسد شفیق دائیں ہاتھ سے کراچی
مصباح الحق دائیں ہاتھ سے کراچی
آل راؤنڈر
شاہد آفریدی دائیں ہاتھ سے میڈیم , لیگ بریک گوگلی کراچی
عبدالرزاق دائیں ہاتھ سے فاسٹ میڈیم لاہور
سہیل تنویر بائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ میڈیم فاسٹ راولپنڈی
حماد اعظم دائیں ہاتھ سے میڈیم فاسٹ اٹک
فاسٹ گیند باز
محمد عامر بائیں ہاتھ سے فاسٹ میڈیم راولپنڈی
راحت علی بائیں ہاتھ سے فاسٹ میڈیم ملتان
محمد عرفان بائیں ہاتھ سے فاسٹ گگو منڈی
عمران خان دائیں ہاتھ سے فاسٹ میڈیم پشاور
جنید خان بائیں ہاتھ سے میڈیم پشاور
احسان عادل دائیں ہاتھ سے فاسٹ میڈیم فیصل آباد
سپن گیند باز
سعید اجمل دائیں ہاتھ سے آف بریک فیصل آباد
عبدالرحمان بائیں ہاتھ سے سلو لیفٹ آرم آرتهاڈاکس سیالکوٹ
ذوالفقار بابر بائیں ہاتھ سے سلو لیفٹ آرم آرتهاڈاکس
یاسر شاہ دائیں ہاتھ سے لیگ بریک صوابی

ٹیم کے شیدائی فین

عبدالجلیل جو پاکستان میں چاچا کرکٹ کے نام سے مشہور ہیں ، ہر جگہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کی حوصلہ افضائی کے لیے میدان میں موجود ہوتے ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ ان کو ماہانہ دس ہزار روپیہ دیتا ہے۔ وہ سال 1969 سے ٹیم کے ساتھ ہیں۔

عملہ

تربیتی عملہ

انتظامی عملہ

  • ٹیم مینیجر: نوید اکرم چیمہ
  • سیکورٹی مینیجر: کرنل (ر) وسیم احمد
  • تجزیہ کار: عمر فاروق

ریکارڈز

سانچہ:Http://m.bbc.co.text

مزید دیکھیے

پاکستان کرکٹ بورڈ کرکٹ

بیرونی روابط

حوالہ جات

  1. ^ "PCB hand over T20 Captaincy to Afridi". The Express Tribune. Retrieved 16 September 2014. 
  2. ^ "ICC rankings - ICC Test, ODI and Twenty20 rankings - ESPN Cricinfo". ای ایس پی این کرک انفو. 
  3. ^ http://content-www.cricinfo.com/ci/engine/match/62741.html
  4. ^ Overall Result Summary – Test Cricketای ایس پی این کرک انفو. Retrieved 6 February 2012.
  5. ^ خطا در حوالہ: حوالہ بنام ICC_rankings_-_ICC_Test.2C_ODI_and_Twenty20_rankings کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا ().

((