وزیر محمد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

وزیر محمد (ییدائش: 22 دسمبر 1929 جونا گڑھ، جونا گڑھ سٹیٹ ،برٹش انڈیا)

وزیر محمد
کرکٹ کی معلومات
بلے بازی Right-hand bat
گیند بازی Right-arm bowler
بین الاقوامی کرکٹ
قومی ٹیم
کیریئر اعداد و شمار
مقابلہ ٹیسٹ کرکٹ فرسٹ کلاس کرکٹ
میچ 20 105
رنز بنائے 801 4930
بیٹنگ اوسط 27.62 40.40
100s/50s 2/3 11/-
ٹاپ اسکور 189 189
گیندیں کرائیں 24 102
وکٹ
بولنگ اوسط
اننگز میں 5 وکٹ
میچ میں 10 وکٹ
بہترین بولنگ
کیچ/سٹمپ 5/- 35/-
ماخذ: [1]

ایک پاکستانی کرکٹر ہیں۔جو پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں منفرد مقام کے حامل  محمد برادران میں سے ایک ہیں حنیف محمد عظیم بیٹسمین، مشتاق محمد عمدہ بیٹسمین اور کامیاب کپتان، صادق محمد سٹائلش اوپنراوررئیس محمد لیکن ان میں سب سے بڑے وزیر محمد جن کو بہت کم لوگ جانتے ہیں

وزیر محمد ،حنیف محمد ، مشتاق محمد،صادق محمد چار بھائیوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ پانچویں  رئیس محمدنے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلی، ٹیسٹ کرکٹ کھلاڑی بننے کی منزل کے قریب پہنچے، کپتان عبدالحفیظ کاردار نے 1955میں انڈیا کے خلاف ڈھاکہ ٹیسٹ شروع ہونے سے ایک دن پہلے، رئیس محمد کو یہ نوید جانفزا سنائی کہ وہ کل کے ٹیسٹ میں ٹیم کا حصہ ہوں گے لیکن میچ شروع ہونے سے پہلے وہ ڈراپ کرکے بارہویں کھلاڑی بنادیے گئے۔ اس ناانصافی کی کبھی تلافی نہ ہو سکی۔حنیف محمد عظیم بیٹسمین، مشتاق محمد عمدہ بیٹسمین اور کامیاب کپتان، صادق محمد سٹائلش اوپنرتھے لیکن بھائیوں میں سب سے بڑے  وزیر محمد کا چرچا کم ہونے کی بنیادی وجہ تو یہی ہے کہ کرکٹ کے میدان میں ان کی کارکردگی چھوٹے بھائیوں کی بہ نسبت فروتر ہے۔ دوسرے وہ 45 برس سے انگلینڈ میں مقیم ہیں، اس عرصے میں کرکٹ سے متعلق کوئی ذمہ داری بھی انہیں نہیں سونپی گئی۔

22 دسمبر 1929کو جونا گڑھ میں آنکھ کھولنے والے وزیر محمد نے پاکستان کی طرف سے 20 ٹیسٹ کھیلے۔ قومی ٹیم کی چند ابتدائی یادگار کامیابیوں میں ان کا اہم کردار رہا جس پر انہیں ناز ہے

اگست 1954 میں پاکستان کرکٹ ٹیم نے انگلینڈ کو، اس کی سرزمین پر، اوول ٹیسٹ میں شکست دے کر دنیا کو حیران کر دیا۔ اس میچ کے اصل ہیرو صحیح معنوں میں فضل محمود تھے جنھوں نے بارہ وکٹیں حاصل کیں۔ لیکن اس جیت میں وزیر محمد کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ میزبان ٹیم پہلی اننگز میں 130رنز بناکر ڈھیر ہو گئی تو پاکستان  نے تین رنز کی برتری کے ساتھ دوسری اننگز کا آغاز کیا۔ 82 کے سکور پر پاکستان کے آٹھ کھلاڑی پویلین لوٹ گئے۔ اس نازک صورت حال میں وزیر محمد  نے ذو الفقار احمد کے ساتھ مل کر 58 رنز جوڑے۔ اس کے بعد آخری وکٹ کی شراکت میں محمود حسین کے ساتھ مجموعی سکور میں قیمتی 24 رنز کا اضافہ کیا۔ اتفاق سے پاکستان اتنے ہی رنز سے یہ میچ جیتا۔ وزیر محمد 42 رنز بناکر ناٹ آٹ رہے۔ یہ ٹیسٹ میچ میں پاکستان کی طرف سے سب سے زیادہ انفرادی سکور تھا۔اس میچ میں وزیرمحمد سے دو تین دفعہ کیچ بھی ڈراپ ہوا۔

اس حوالے سے مزے کا ایک قصہ پاکستانی وکٹ کیپر امتیاز احمد نے سناتے ہیں۔ ان کے بقول میچ میں ایک مرحلے پر کامپٹن  نے شاٹ کھیلا تو گیند فضا میں بلند ہوئی، فیلڈر کے پاس اسے ہاتھوں میں محفوظ کرنے کے واسطے مناسب وقت تھا، وزیر محمد کیچ پکڑنے کے لیے حرکت میں آئے تو ساتھی کھلاڑی کہنے لگے کہ وزیر! خدا کا واسطہ ہے، کیچ پکڑ لینا، ملک کی عزت کا سوال ہے۔ لیکن کیچ تو خیر وہ کیا کرتے گیند ان کے ہاتھوں میں آنے کی بجائے ماتھے سے جا ٹکرائی۔1956میں پاکستان نے آسٹریلیا کو پہلی دفعہ ٹیسٹ میچ ہرایا۔ کراچی میں میٹنگ وکٹ پر مہمان ٹیم پہلی اننگز میں 80رنز بنا پائی۔ پاکستان ٹیم کے 70پر پانچ کھلاڑی آٹ ہو گئے جس کے بعد وزیر محمد نے کپتان عبدالحفیظ کاردار کے ساتھ مل کر ٹیم کو مشکل صورت حال سے نکالا اور 67 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی۔ حنیف محمد اور وزیر محمد کے لیے 1958 کا دورہ ویسٹ انڈیز بہت بارآور ثابت ہوا۔ حنیف محمد نے برج ٹان ٹیسٹ میں 337 رنز کی تاریخی اننگز کھیلی جسے ٹیسٹ میچ بچانے کی عظیم ترین کوشش کہا جاتا ہے۔ اس سیریز میں پاکستان  نے پورٹ آف سپین میں میزبان ٹیم کو ایک اننگز سے شکست دی تو اس تاریخی کامیابی میں وزیر محمد کی 189رنز کی شاندار اننگز  نے کلیدی کردار ادا کیا۔ یہ اس ٹیسٹ میچ کی اکلوتی سنچری تھی۔کنگسٹن ٹیسٹ میں بھی وہ سنچری بنانے میں کامیاب ہوئے۔ جارج ٹان ٹیسٹ میں 97رنز کے ساتھ ناٹ آٹ رہے۔

ویسٹ انڈیز میں ان کی کارکردگی کے پیش نظر امید یہی تھی کہ وہ حنیف محمد کے ساتھ مزید کئی سال ٹیم کا حصہ رہیں گے لیکن افسوس ایسا نہ ہو سکا۔ وہ اپنی فارم برقرار نہ رکھ سکے اور ان کی کارکردگی کا گراف بتدریج نیچے آتا گیا۔ ویسٹ انڈیز کے دورے کے بعد چار ٹیسٹ میچ کھیل سکے۔ 1959میں انہوں  نے ڈھاکہ میں آسٹریلیا کے خلاف آخری ٹیسٹ کھیلا۔1963میں انہیں نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل انگلینڈ کا دورہ کرنے والی پاکستان ایگلٹس ٹیم کا کپتان مقرر کیا گیا۔ اس دورے سے ان کی کپتانی میں کئی ایسے نوجوان کھلاڑیوں کو گروم ہونے کا موقع ملا جنہوں نے آگے چل کر کرکٹ میں نام کمایا۔ اس ٹیم میں ان کے چھوٹے بھائی مشتاق محمد اور صادق محمد بھی شامل تھے۔ صادق محمد فطری طور پر دائیں ہاتھ کے بیٹسمین تھے لیکن کرکٹ میں اپنے ابتدائی برسوں میں وزیر محمد کی ہدایت پر انہوں نے کھبے ہاتھ سے بیٹنگ شروع کردی تو ان کی کارکردگی میں خاصی بہتری آئی-

ویسٹ انڈیز میں ان کی کارکردگی کے پیش نظر امید یہی تھی کہ وہ حنیف محمد کے ساتھ مزید کئی سال ٹیم کا حصہ رہیں گے لیکن افسوس ایسا نہ ہو سکا۔ وہ اپنی فارم برقرار نہ رکھ سکے اور ان کی کارکردگی کا گراف بتدریج نیچے آتا گیا۔ ویسٹ انڈیز کے دورے کے بعد چار ٹیسٹ میچ کھیل سکے۔ 1959میں انہوں  نے ڈھاکہ میں آسٹریلیا کے خلاف آخری ٹیسٹ کھیلا۔1963میں انہیں نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل انگلینڈ کا دورہ کرنے والی پاکستان ایگلٹس ٹیم کا کپتان مقرر کیا گیا۔ اس دورے سے ان کی کپتانی میں کئی ایسے نوجوان کھلاڑیوں کو گروم ہونے کا موقع ملا جنہوں نے آگے چل کر کرکٹ میں نام کمایا۔ اس ٹیم میں ان کے چھوٹے بھائی مشتاق محمد اور صادق محمد بھی شامل تھے۔ صادق محمد فطری طور پر دائیں ہاتھ کے بیٹسمین تھے لیکن کرکٹ میں اپنے ابتدائی برسوں میں وزیر محمد کی ہدایت پر انہوں نے کھبے ہاتھ سے بیٹنگ شروع کردی تو ان کی کارکردگی میں خاصی بہتری آئی۔

وزیر محمد  نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ اس زمانے میں کھبے ہاتھ سے کھیلنے والے بہت کم تھے، اس لیے فرسٹ کلاس کرکٹ میں بولروں کو ایسے بیٹسمینوں کو بولنگ کرانے کا زیادہ تجربہ بھی نہیں تھا، تو اس کا فائدہ بھی صادق محمد کو ہوا۔وزیر محمد کے خیال میں ان کے بھائی رئیس محمد بھائیوں میں سب سے سٹائلش بیٹسمین تھے۔ ان کے ٹیسٹ کرکٹ کھلاڑی نہ بننے کا انہیں افسوس ہے۔حنیف محمد کے ساتھ وہ قومی ٹیم میں کھیلے۔ ڈومیسٹک کرکٹ میں ان کے کپتان رہے۔ حنیف محمد  نے 1959 میں فرسٹ کلاس کرکٹ میں کراچی کی طرف بہاولپور کے خلاف 499 رنز بناکر ڈان بریڈمین کے 452رنز کا ریکارڈ توڑا۔ وہ اپنی اس اننگز کا کریڈٹ وزیر محمد کو دیتے جو کراچی کی ٹیم کے کپتان تھے۔ ایک قومی اخبار کو انٹرویو میں انھوں نے بتایا، وزیر بھائی ٹیم کے کپتان تھے۔ میں نے تین سو کر لیے توکہنے لگے، تم نے بریڈ مین کا ریکارڈ توڑنا ہے۔ میں نے کہا ابھی ڈیڑھ سو باقی ہیں، یہ کیسے ہوگا؟ کہنے لگے جیسے کھیل رہے ہو تم کر لو گے، بس فٹ اور ریلکس رہو۔ مجھے فٹ رکھنے کے لیے انھوں نے میری مالش بھی کی۔حنیف محمد  نے 1959 میں ڈان بریڈمین کا ریکارڈ توڑا، وہ اپنی اس اننگز کا کریڈٹ وزیر محمد کو دیتے تھے فائل فوٹو: روئٹرزوزیر محمد کرکٹ کے بارے میں معلومات کا خزینہ ہیں جس کی وجہ سے حنیف محمد کے بقول انہیں وزڈن کہا جاتا۔ حنیف محمد نے اپنی آپ بیتی میں لکھا ہے کہ وزیر محمد نئے ٹیلنٹ کے پارکھ تھے، اس لیے جب کسی باصلاحیت نوجوان کے کھیل سے متاثر ہوتے، اس کے بارے میں کراچی کرکٹ ایسوسی ایشن کے صدر مظفر حسین کو آگاہ کرتے۔ پاکستان کے ممتاز وکٹ کیپر وسیم باری کے ٹیلنٹ کو بھی سب سے پہلے انہوں نے پہچانا اور حنیف محمد اور مظفر حسین کو مطلع کیا-

سال1969 میں عبدالحفیظ کاردار نے حنیف محمد پر ریٹائرمنٹ کے لیے دبا ڈالا۔ وزیر محمد اس وقت سلیکٹر تھے۔ کاردار چاہتے تھے کہ وہ حنیف محمد کو ریٹائر ہونے پر آمادہ کریں لیکن انہوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ ان کے بھائی ابھی مزید تین چار سال کرکٹ کھیل سکتے ہیں۔ البتہ کاردار کی سوچ سے حنیف محمد کو وزیر محمد نے بھاری دل سے آگاہ کر دیا۔وزیر محمدکی عمر نوے برس سے  زائد ہو گئی ہے۔ اس وقت وہ پاکستان کے سب سے عمر رسیدہ ٹیسٹ کرکٹ کھلاڑی ہیں۔اس وقت وہ انگلینڈ میں وہ ایک باوقار زندگی گزار رہے ہیں۔ فرصت کے اوقات میں باغبانی کرتے ہیں اور ٹی وی پر کرکٹ میچ دیکھتے ہیں۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]