حنیف محمد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
حنیف محمد
ذاتی معلومات
مکمل نام حنیف محمد
بلے بازی دائيں ہاتھ سے
گیند بازی دائيں آف اسپنر
حیثیت بلے بار
بین الاقوامی کرکٹ
قومی ٹیم
پہلا ٹیسٹ (کیپ 4) 16 اکتوبر 1952  بمقابلہ  بھارت
آخری ٹیسٹ 24 اکتوبر 1969  بمقابلہ  نیوزی لینڈ
کیریئر اعداد و شمار
مقابلہ فرسٹ کلاس ٹيسٹ
میچ 238 55
رنز بنائے 17059 3915
بیٹنگ اوسط 52,32 43,98
100s/50s 55 / 66 12 / 15
ٹاپ اسکور 499 337
گیندیں کرائیں 2766 206
وکٹ 53 1
بولنگ اوسط 28,49 95,00
اننگز میں 5 وکٹ 0 0
میچ میں 10 وکٹ 0 0
بہترین بولنگ 3/4 3/4
کیچ/سٹمپ 178 / -- -- / 40
ماخذ: [1]، 16 مارچ 2012

حنیف محمد (21 دسمبر 1934ء-11 اگست 2016ء) پاکستان میں کرکٹ کے حوالے سے انتہائی شہرت کے حامل کھلاڑی ہیں۔پاکستان کی طرف سے پہلی ٹرپل سنچری سکور کرنے کااعزازانہیں اپنے ہم منصب کرکٹرز میں نمایاں کرتاہے۔ انہوں نے پاکستان کی طرف سے 53-1952ء سے لے کر 79-1969ء تک55 ٹیسٹ میچوں میں شرکت کی۔

حنیف محمد کاتعلق کرکٹ کی محمدن فیملی سے تھا اس خاندان میں ان کے دیگر بھائیوں رئیس محمد' وزیرمحمد'مشتاق محمد اورصادق محمد نے بھی کرکٹ کھیلی۔رئیس محمد کے علاوہ باقی چاروں بھائی وزیرمحمد (20ٹیسٹ)' مشتاق محمد (57 ٹیسٹ) اورصادق محمد (41 ٹیسٹ ) میں پاکستان کی نمائندگی کااعزاز رکھتے ہیں جبکہ ان کی والدہ امیر بی متحدہ ہندوستان کی بیڈمنٹن چمپئن رہ چکی ہیں۔

حنیف محمد دنیا کے بہترین بیٹسمین شمارکیے جاتے ہیں اورایک ایسے مرحلے پر جب پاکستان ٹیسٹ کرکٹ کاسٹیٹس حاصل کرنے کے بعد ابھی ابتدائی مرحلے میں تھااوراس کوبہت کم کرکٹ کھیلنے کومل رہی تھی حنیف محمد نے55 ٹیسٹ کھیلے اورایک وقت میں ان کے بغیر پاکستان کرکٹ میچ کاتصوربھی محال تھا۔ ان کو لٹل ماسٹر کہاجاتاتھا یہ لقب پہلی بار کسی کرکٹ کھلاڑی کے لیے استعمال ہوا اگرچہ بعد میں سنیل گواسکر اور سچن ٹنڈولکر بھی لٹل ماسٹر ٹھہرے مگر یہ نام سامنے آتے ہی حنیف محمد کاسراپا نظروں میں سماجاتا ہے۔

حنیف محمد21دسمبر 1934ء کو جوناگڑھ سٹیٹ (سابقہ ہندوستان) میں پیدا ہوئے۔ یہ بات بہت سے لوگوں کے لیے شاید حیرانی کا باعث ہو کہ حنیف محمد کو کرکٹ کی ابتدائی ٹریننگ عبدالعزیز نے دی جو ایک افغانی کرکٹ کھلاڑی تھے اورجنہوں نے جمنا نگر کی طرف سے رانجی ٹرافی کھیلی تھی بعد ازاں ان کے صاحبزادے سلیم درانی بھارت کی طرف سے ٹیسٹ کرکٹ کھیلے۔عبدالعزیز نے نومبر 1951ء میں پاکستان کی طرف سے فرسٹ کلاس کرکٹ کاآغاز کیا تھا جب انہوں نے ایم سی سی کے خلاف کھیلتے ہوئے165منٹ میں26 رنز بنائے۔

حنیف محمد کا ٹیسٹ کیرئیر دہلی کے ٹیسٹ سے شروع ہواجب پاکستان کی کرکٹ ٹیم 53 - 1952ء میں بھارت کے اولین دورے پر پہنچی۔ حنیف محمد نے اس ٹیسٹ میں51 رنز بنائے۔ لکھنئو کے دوسرے ٹیسٹ میں 34 اورممبئی کے تیسرے ٹیسٹ میں96 رنز کی شاندارباری کھیلی اورپانچویں ٹیسٹ میں ان کے56 رنز بھی بہت عمدہ تھے یوں پانچ ٹیسٹ کی سیریز میںحنیف محمد نے287رنزبنائے۔اس سے اگلی سیریز انگلینڈ میں تھی جس میں حنیف محمدچار ٹیسٹوں کی آٹھ اننگز میں ملی جلی کارکردگی دکھاسکے۔51رنز کی ایک بڑی باری کے علاوہ وہ متاثر نہ کرسکے تاہم پھر بھی1955ء میں بھارت کے دورہ پاکستان میں وہ ٹیم میں شامل تھے انہوں نے ڈھاکہ کے پہلے ٹیسٹ میں44رنز بنائے مگر یہ دوسراٹیسٹ ہی تھا جب انہوں نے بہاولپور کے مقام پراپنی اولین سنچری 142رنز کی شکل میں ترتیب دی تاہم سیریز کے باقی میچوں میں ان کی کارکردگی ملی جلی رہی۔اگلی سیریز میں نیوزی لینڈ کے خلاف اپنے ملک میں ایک اورسنچری سکورکرلی جبکہ ڈھاکہ ہی کے مقام پر انہوں نے 103 رنز بنائے۔اس کے بعد آسٹریلیا کے خلاف واحد ٹیسٹ میں قسمت نے ان کاساتھ نہ دیا۔

1958ء میں پاکستان کی ٹیم ویسٹ انڈیز کے دورے پرتھی یہ وہ دورہ تھا جس نے حنیف محمد کے کھیل کو اور جلا بخشی۔ برج ٹائون کے پہلے ٹیسٹ میں ویسٹ انڈیز نے پہلے کھیلتے ہوئے 9 وکٹوں کے نقصان پر 576 رنزبنائے جس میں ایورٹن ویکس197اورسی سی ہنٹ 142رنز کے ساتھ نمایاں رہے۔پاکستان کی طرف سے فضل محمود نے3 اور محمود حسین نے 4 کھلاڑیوں کوآئوٹ کیا اس بڑے سکورکے جواب میں پاکستان کی ٹیم106رنز پرڈھیر ہو گئی۔امتیاز احمد20'حنیف محمد17اوروالس میتھائس17کے علاوہ کوئی کھلاڑی بھی وکٹ پرنہ ٹھہر سکا۔471رنز کے خسارے کے بعد یہ بات یقینی تھی کہ پاکستان کے لیے یہ ٹیسٹ بچانا مشکل ہوگامگرپھر حنیف محمد نے 16 گھنٹے کیریز پرڈیرے ڈالے رکھے اورٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کی ایک طویل اننگز 337 رنز کی صورت میں مرتب کی۔اس ٹرپل سنچری کویہ ریکارڈ بھی حاصل ہوا کہ یہ 970 منٹ میں بننے والی دنیا کی سست ترین ٹرپل سنچری قرار دی جاتی ہے۔

1959ء میں حنیف محمد نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں 499 رنزبنا کر ڈان بریڈ مین کاvسب سے زیادہ فرسٹ کلاس سکور کاریکارڈ توڑا جب انہوں نے کراچی کی طرف سے بہاولپور کے خلاف یہ بڑا مجموعہ بنایا ان کے اس ریکارڈ کو35سال کے بعد ویسٹ انڈیز کے برائن لارا نے توڑا۔حنیف محمدکے فرسٹ کلاس کیرئیر میں 52.32 کی اوسط سے56 سنچریاں شامل تھیں لیکن ٹیسٹ کرکٹ میں حنیف محمد کی سنچریوں کی تعداد 12 رہی ۔

حنیف محمد کی سنچریوں میں1959ء میں ویسٹ انڈیزکے خلاف103رنز'آسٹریلیا کے خلاف کراچی میں103ناٹ آئوٹ اوربھارت کے خلاف 1960ء میں ممبئی کے مقام پر 160رنز کی باریوں نے حنیف محمد کوپاکستان کرکٹ کے چند نمایاں کھلاڑیوں کی فہرست کاحصہ بنادیا۔1962ء میں انگلینڈ کے خلاف ڈھاکہ میں انہوں نے دونوں اننگز بالترتیب111اور104رنز بنائے۔آسٹریلیاکے خلاف میلبورن میں104اوردوسری اننگز میں93رنزکی باریاں بھی لوگوں کوایک عرصہ تک یاد رہیں۔نیوزی لینڈ کے خلاف کرائسٹ چرچ میں100ناٹ آئوٹ اورلاہور میں203رنز ناٹ آئوٹ کی اننگز بھی سراہے جانے کے قابل تھیں۔ اسی طرح1967ء میں انگلینڈ کے خلاف لارڈزکے مقام پر187رنز ناٹ آئوٹ نے بھی حنیف محمد کوصلاحیتوں کے اظہارکابھی خوب موقع فراہم کیا یہ حنیف محمد کی آخری ٹیسٹ سنچری تھی۔

حنیف محمد نے نیوزی لینڈ کے خلاف1969-70ء میں کراچی کے آبائی گرائونڈ پراپنی آخری ٹیسٹ کھیلا جس میں انہوں نے22اور35رنزبنائے۔یوں ان کا وہ کیرئیراختتام پزیر ہوا جو 1952سے لے کر1969ء تک محیط تھا۔جس میں انہوں نے55ٹیسٹ میچوں کی97اننگزمیں8مرتبہ ناٹ آئوٹ رہتے ہوئے3915رنز بنائے۔337ان کاکسی ایک اننگزکازیادہ سے زیادہ سکور قرار پایادیگر11سنچریوں کے ساتھ ان کی ٹیسٹ اوسط43.98تھی انہوں نے15نصف سنچریاں بھی بنائیں جبکہ فرسٹ کلاس کرکٹ میں انہوں نے1951-52سے1975-76ء تک238میچزکی370اننگز میں44مرتبہ ناٹ آئوٹ رہتے ہوئے17059رنز بنائے۔499ان کا زیادہ سے زیادہ سکور تھاجبکہ55سنچریاںاور66نصف سنچریوںکے ساتھ ان کی اوسط52.32تھی۔

ریٹائرمنٹ کے بعد حنیف محمد نے کرکٹ کے موضوع پرایک جریدے دی کرکٹ کھلاڑیکااجراء کیا اوردو دہائیوں تک اس کوجاری رکھا۔ انہوں نے پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائن کے ٹیم منیجر کی حیثیت سے بھی اپنے فرائض انجام دیے ان کاایک بیٹا شعیب محمد بھی پاکستان کی طرف سے 45 ٹیسٹ میچ کھیل چکا ہے جبکہ ان کا پوتا شہزاداحمد بھی پی آئی اے کی طرف سے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیل رہاہے تاہم پاکستان کی طرف سے انہیں ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کاموقع نہیں ملا۔

حنیف محمد کو1959ء میں کرکٹ میں غیر معمولی خدمات پر حکومت پاکستان کی طرف سے تمغا حسن کارکردگی سے نوازاگیا۔2018ء میں ان کی وفات کے بعد انہیں گوگل نے اپنے ڈوڈل کے ذریعے خراج تحسین پیش کیا جبکہ آئی سی سی کرکٹ ہال آف فیم میں بھی شامل رہے۔

بلے بازی کی کارکردگی[ترمیم]

حنیف محمد کے کیرئیر کی کارکردگی کا گراف.


وفات[ترمیم]

حنیف محمد سرطان کے مرض میں مبتلا تھے۔ 2013ء میں لندن میں ان کا آپریشن ہوا تھا، جس کے بعد وہ صحت یاب ہو گئے تھے۔ تاہم بعد ازاں انھیں پھیپھڑوں میں سرطان کی تشخیص ہوئی۔ اگست 2016ء کے ابتدائی دنوں میں طبیعت بگڑنے پر انھیں ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ کئی دن زیر علاج رہنے کے بعد 11 اگست 2016ء کو دم توڑ گئے۔