علیم ڈار

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
علیم ڈار
ذاتی معلومات
مکمل نام علیم سرور ڈار
بلے بازی دائیں ہاتھ سے
گیند بازی دائیں سپنر
حیثیت بلے باز، امپائر
قومی کرکٹ
سالٹیم
1997/98 گوجرانوالا
1995/96 الائیڈ بینک لمیٹڈ
1987/95 لاہور شہر
1986/87 پاکستان ریلوے
debut 8 فروری 1987 پاکستان ریلوے  بمقابلہ  ایشیائی ترقیاتی بینک لمیٹڈ
آخری 6 دسمبر 1997 گوجرانوالا  بمقابلہ  بہاولپور
کیریئر اعداد و شمار
مقابلہ فرسٹ کلاس لسٹ A
میچ 17 18
رنز بنائے 270 179
بیٹنگ اوسط 11.73 19.88
100s/50s 0 / 0 -- / --
ٹاپ اسکور *39 37
گیندیں کرائیں 740 634
وکٹ 11 15
بولنگ اوسط 34.36 31.66
اننگز میں 5 وکٹ 0 0
میچ میں 10 وکٹ 0 --
بہترین بولنگ 3/19 3/19
کیچ/سٹمپ 5 / -- 17 / --
ماخذ: [1]

علیم سرور ڈار (پیدائش 6 فروری، 1968 جھنگ، پنجاب) پاکستان کے درجہ اول کرکٹ کھلاڑی تھے۔ انہوں نے الائیڈ بینک، گوجرانوالا کرکٹ ایسوسیئیشن اور پاکستان ریلوے کیطرف سے کرکٹ کھیلی۔ ڈار سیدھے ہاتھ سے بلے بازی اور لیگ بریک بالنگ کراتے تھے۔ کرکٹ سے رخصت ہونے کے بعد امپائرنگ ان کی وجئہ شہرت بنا۔ ڈار ایک بین الاقوامی امپائر ہیں۔ انہوں نے اپنی تعلیم اسلامیہ کالج، سول لائنز، لاہور سے حاصل کی۔

امپائرنگ[ترمیم]

علیم ڈار کی اصل وجئہ شہرت ان کی امپائرنگ بنی۔ آپ نے اپنا بین الاقوامی امپائرنگ کا سفر پاکستان اور سری لنکا کے مابین 16 فروری، 2000 میں گوجرانوالا میں کھیلے جانے والے ایک روزہ بین الاقوامی سے کیا۔ 2002 میں وہ آئی۔ سی۔ سی کے امپائر کے بین الاقوامی پینل کا حصہ بنے۔

اپنے نپے تلے اور درست فیصلوں کیوجہ سے انہیں آئی۔ سی۔ سی ورلڈ کپ 2003 میں امپائرنگ کرنے کا موقع ملا، ان کھیلوں ڈار کو کافی پزیرائی ملی۔ اکتوبر 2003 میں اپنی اعلٰی امپائرنگ کیوجہ سے ڈار اپنے پہلے پانچ روزہ بین الاقوامی مقابلہ جو بنگلہ دیش اور سری لنکا کے مابین ڈھاکا میں کھیلا گیا۔

اپریل 2004 میں وہ آئی۔ سی-سی کے ایلیٹ (ممتاز) پینل کے پہلے پاکستانی امپائر بنے۔[1] علیم ڈار کی کرکٹ کھیل کے مختلف قسموں میں امپائر کے طور پر شمولیت کے شماریات درج ذیل ہیں۔

طرز دور میچ
ٹیسٹ 2003–تاحال 90
ایک روزہ 2000–تاحال 163
ٹی 20 2009–تاحال 34

علیم ڈار 2005 اور 2006 میں آئی۔ سی۔ سی کے بہترین امپائر کے اعزار کے لیے نامزد ہوئے مگر دونوں دفعہ آسٹریلوی امپائر سائمن ٹافل بازی لے گئے۔

17 اکتوبر 2007 کو آسٹریلیا اور بھارت کے مابین کھیلے جانے والے ایک روزہ مقابلے علیم ڈار کے لیے خاص اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ ان کا ایک سواں میچ تھا اور وہ یہ سنگ میل طے کرنے والے دسویں امپائر بنے۔ انہوں نے یہ سنگ میل صرف سات سالوں میں پورا کیا۔

تنازعات[ترمیم]

ڈار کی امپائرنگ میں ہر امپائر کیطرح تھوڑی غلطیاں بھی ہیں۔ جنوری 2005 میں جنوبی افریقہ اور انگلستان کے مابین سنچیورین میں کھیلے جانے والے پانچ روزہ کھیل میں ڈار اور ان کے ساتھی سٹیو بکنر کو دھمکیاں ملیں۔[2] 2007 میں کھیلے گئے عالمی کپ مقابلوں کے فائنل کھیل میں ڈار اور ان کے ساتھیوں اسٹیو بکنر، روڈی کرٹزن، بلی باؤڈن اور کرو کو ڈک ورتھ لوئس کے تحت ہونے والے کھیل کے حالات سے بیخبر ہونے اور آسٹریلیا کو اندھیرے میں تین اوور کروانے پر شدید تنقید کا سامنہ کرنا پڑا اور اس کے نتیجہ میں باقی امپائروں کے ساتھ 2007 کا ٹی 20 مقابلہ میں امپائرنگ کا موقع نہیں دیا گیا۔

اعزازات[ترمیم]

تمغا حسن کارکردگی
تاریخ 14-08-2010
ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان
پیش کردہ آصف علی ذرداری
شمار۔ سال وجہ اعزازات
01 2009 آئی سی سی سال کا بہترین ایمپائر آئی سی سی سال کا بہترین ایمپائر 2009
آئی سی سی اعزازات
02 2010 آئی سی سی سال کا بہترین ایمپائر آئی سی سی سال کا بہترین ایمپائر 2010
آئی سی سی اعزازات
03 2011 آئی سی سی سال کا بہترین ایمپائر آئی سی سی سال کا بہترین ایمپائر 2011
آئی سی سی اعزازات
04 2011 تمغا حسن کارکردگی، ایمپائرنگ تمغا حسن کارکردگی پاکستان
تمغا حسن کارکردگی (2010–2019)

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "میلنڈر اور ڈار کا ایلیٹ پینل میں انتخاب"۔ Cricinfo۔ فروری 6, 2004۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 18 مارچ 2010۔
  2. "امپائروں کو ملیں دھمکیاں، بقول سٹیو بکنر"۔ Cricinfo۔ جنوری 30, 2005۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 18 مارچ 2010۔
  3. Aleem Dar gets Pride of Performance award