روشن خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
روشن خان

روشن خان (پیدائش: 1927ءپشاور)| وفات: 6جنوری 2006ءکراچی) سکواش کے سابق عالمی چیمپئن۔ ورلڈ سکواش فیڈریشن کے صدر اور سکواش کے سابق عالمی چیمپئن جہانگیر خان کے والد تھے ان کے والد آرمی میں ملازم تھے لیکن انہوں نے پاکستان نیوی میں ملازمت اختیار کی۔ وہ بال بوائے تھے اور نیوی افسران جب سکواش کھیلتے تو وہ ان کو بال اٹھا کر دیا کرتے تھے۔ یہیں سے ہی ان میں سکواش کھیلنے کا شوق پیدا ہوا۔ بعد میں انہیں نیوی کی جانب سے سکواش کے مقابلوں میں شرکت کرنے کا موقع ملا۔ ان کی ان کامیابیوں سے سکواش کی دنیا میں پاکستان کی طویل حکمرانی کا آغاز ہوا۔ روشن خان نے پہلی مرتبہ 1957ء میں برٹش اوپن سکواش چیمپئن شپ جیتی تھی۔ وہ تین مرتبہ یو ایس اوپن کے فاتح بھی رہے۔

چپڑاسی کی نوکری نے راستہ کھول دیا[ترمیم]

روشن خان کی زندگی جہد مسلسل سے عبارت تھی۔ کچھ لوگوں کو ان کے سخت مزاجی سے شکوہ رہا لیکن درحقیقت اس تلخی کے پیچھے وہ حالات اور واقعات تھے جن کا سامنا روشن خان کو اپنے کریئر کے دوران کرنا پڑا۔ لیکن جو لوگ انہیں قریب سے جانتے تھے وہ بتاتے ہیں کہ روشن خان اندر سے ایک نرم مزاج انسان تھے۔ روشن خان نے ایک انٹرویو میں ان مشکل حالات کا تفصیل سے ذکر کیا تھا۔

ʹمیں راولپنڈی کلب میں اپنے والد فیض اللہ خان کے ساتھ کام کرتا تھا لیکن بہتر مستقبل کی خاطر میں راولپنڈی سے کراچی آ گیا مگر میرے پاس سر چھپانے کے لیے ٹھکانہ تھا نہ کوئی ملازمت تھی۔ میں نے کئی راتیں سڑکوں پر گزاری تھیں۔

یہ وہ دور تھا جب ہاشم خان نے برٹش اوپن جیت کر اپنی شناخت کروا لی تھی۔ انہیں پاکستان فضائیہ نے لندن بھجوانے کا انتظام کیا تھا۔ روشن خان بھی انہی کی طرح اپنی پہچان بنانا چاہتے تھے لیکن حالات اس کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ روشن خان نے سنہ 1949ء میں کاکول میں پاکستان پروفیشنل سکواش چیمپئن شپ جیتی تھی لیکن اس میں ہاشم خان نہیں کھیلے تھے۔ روشن خان چاہتے تھے کہ ان کی صلاحیت کا پتہ اس وقت چلے گا جب وہ ہاشم خان سے مقابلہ کریں گے۔روشن خان کے ذہن میں یہ تھا کہ ہاشم خان پاکستان میں چیمپئن شپ نہیں کھیلتے ہیں لہذا کراچی میں ان کے لیے مواقع ہو سکتے ہیں کہ وہ یہاں سے لندن جاکر قسمت آزمائی کر سکیں۔ اس دوران ان کے بڑے بھائی نصراللہ نے جو کراچی میں ٹینس اور سکواش کھیلتے تھے، نے ان کی مدد کی۔ 1952ء میں جب پاکستان پروفیشنل چیمپئن شپ ہوئی تو ہاشم خان اور ان کے چھوٹے بھائی اعظم خان نے اس میں حصہ نہیں لیا۔ روشن خان کا خیال تھا کہ یہ دونوں بھائی جان بوجھ کر ان سے کھیلنا نہیں چاہتے تھے۔ روشن خان نے ایک بار پھر چیمپئن شپ جیت لی لیکن انہیں ہاشم خان کے ساتھ نہ کھیلنے کا دکھ تھا۔نصراللہ خان نے ایک تجویز نکالی اور ہاشم خان اور روشن خان کے درمیان چیلنج میچ کرانا چاہا جس کے لیے انہوں نے پانچ سو روپے انعام کا اعلان بھی کیا لیکن ہاشم خان نے اس میں بھی کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی۔

سیاست عروج پر تھی[ترمیم]

روشن خان نے بتایا تھا کہ یہ وہ دور تھا جب وہ قومی چیمپئن ہونے کے باوجود انگلینڈ میں ہونے والے مقابلوں میں شرکت سے محروم تھے جبکہ اس دور میں ہاشم خان، اعظم خان، سفیراللہ اور محمد امین انگلینڈ جا رہے تھے۔ان کے مطابق محمد امین کراچی جمخانہ اور سفیراللہ سندھ کلب سے وابستہ تھے لیکن یہ دونوں ان کے ساتھ کھیلنے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے بلکہ انہیں ان دونوں جگہوں میں کھیلنے کی اجازت بھی نہیں تھی۔روشن خان کے مطابق ’سیاست اپنے عروج پر تھی۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود میں رات کے وقت میں ایک کھلے میدان میں جا کر دوڑ لگایا کرتا تھا تاکہ خود کو فٹ رکھ سکوں۔ اسی میدان میں انٹرکانٹینٹل ہوٹل بنا۔ ایک دن میں نے مایوسی کے عالم میں بڑے بھائی نصراللہ سے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ مجھے ہاشم خان اور دوسرے کھلاڑیوں سے کھیلنے کا موقع مل سکے گا لہذا مجھے کوئی نوکری تلاش کرنی چاہیے تاکہ گزر اوقات ہو سکے۔ʹ

پاکستان نیوی کی نوکری[ترمیم]

یہ غالباً 1953ء کی بات ہے جب روشن خان سکواش سے مکمل طور پر مایوس ہو چکے تھے۔ اس موقع پر نصراللہ خان نے اپنے ایک دوست سے ذکر کیا جو روشن خان کو پاکستان نیوی کے ایک افسر کے پاس لے گیا۔ روشن خان نے انہیں اپنے میچوں سے متعلق اخبارات کے تراشے دکھائے۔افسر نے روشن خان سے کہا کہ وہ انہیں پاکستان بحریہ میں چپڑاسی کی ملازمت دلوا سکتے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اگرچہ یہ ملازمت ان کے شایان شان نہیں ہے لیکن اس سے آگے کا راستہ کھل سکتا ہے۔ اور اس کے بعد جو ہوا وہ تاریخ کا حصہ بن گیا۔روشن خان نے جب تیسری مرتبہ قومی پروفیشنل چیمپئن شپ جیتی تو پاکستان نیوی کے افسران بہت خوش تھے۔ روشن خان کو چپڑاسی کی ڈیوٹی سے ہٹا دیا گیا۔ ان کی تنخواہ میں اضافہ کر دیا گیا اور اب ان کا کام صرف سکواش کھیلنا تھا۔ پھر وہ وقت بھی آیا جب نیوی نے اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے روشن خان کو انگلینڈ بھجوا دیاروشن خان کے بیٹے جہانگیر خان نے 10 مرتبہ برٹش اوپن سکواش چیمپئن شپ جیتنے کا ریکارڈ قائم کیا۔ جہانگیر 6 مرتبہ ورلڈ اوپن کے فاتح بھی رہے ہیں۔

سکواش کی تاریخ میں روشن اور جہانگیر خان واحد باپ اور بیٹا ہیں کہ جنہوں نے برٹش اوپن ٹائٹل جیتا ہے۔

روشن خان کو کئی ممالک نے کوچنگ کی پیشکش کی تھی جسے انہوں نے ٹھکرادیا اور ملک میں رہنے کو ترجیح دی۔ ان کے تینوں بیٹوں طورسم خان، حسن خان اور جہانگیر خان نے سکواش کھیلی۔

پندرہ پاؤنڈ کی خریداری مگر جیب میں ایک سکہ[ترمیم]

روشن خان لندن تو پہنچ گئے لیکن ان کی حالت کچھ اس طرح تھی کہ جیب میں صرف پانچ شلنگ تھے۔ ان کا کل سامان صرف دو ٹراؤزر، ایک شرٹ، ٹینس شوز کی ایک جوڑی اور ایک اوور کوٹ پر مشتمل تھا۔ یہ اوور کوٹ بھی نیوی کے سٹور سے انہیں دیا گیا تھا جسے وطن واپسی پر سٹور میں واپس کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔روشن خان اپنی رہائش کا پیشگی کرایہ ادا کرکے جب پاکستان ہائی کمیشن پہنچے تو ان کی جیب میں صرف ایک شلنگ باقی بچا تھا۔ ان کی خوش قسمتی کہ انہیں برٹش سکواش ریکٹس ایسوسی ایشن کے سیکریٹری ہینری ہیمین کے پاس پہنچایا گیا جو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ روشن خان کے پاس کھیل کا مناسب سامان تک نہیں تھا۔وہ انھیں پکِڈولی سرکس میں کھیلوں کے سامان کی مشہور دکان لِلی وائٹس لے گئے جہاں انہوں نے روشن خان کے لیے ریکٹ، جوتے، جرابیں اور شرٹس خریدیں۔ بل پندرہ پاؤنڈ کا آیا جو ہیمین نے ادا کیا۔ وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ روشن خان کو اپنے ٹریولرز چیک کیش کرانے کا وقت نہیں مل سکا ہو گآ ۔ہینری ہیمین نے روشن خان کو تمام اہم سکواش کلبس میں متعارف کرایا۔ اس دوران ان کے رشتہ دار عبدالباری، پاکستان ہائی کمیشن اور برمنگھم میں مقیم ایک پاکستانی نے بھی روشن خان کی مدد کی۔

برٹش اوپن کے فائنل میں شرکت ==[ترمیم]

جیت (1)
سال فائنل میں حریف فائنل میں اسکور
1957 ہاشم خان 6–9, 9–5, 9–2, 9–1
دوسری پوزیشن (2)
سال فائنل میں حریف فائنل میں اسکور
1956 ہاشم خان 9–4, 9–2, 5–9, 9–5
1960 اعظم خان 9–1, 9–0, 9–0