جہانگیر خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
جہانگیر خان
جہانگیر خان
ملک Flag of Pakistan.svg پاکستان
رہائش کراچی, پاکستان
پیدائش 10 دسمبر 1963ء (عمر 55 سال)کراچی، پاکستان
ریٹائر 1993
انفرادی
اعلی ترین درجہ بندی نمبر 1
ورلڈ اوپن فاتح (1981, 1982, 1983, 1984, 1985, 1988)
آخری ترمیم: 19 ستمبر 2010ء۔

جہانگیر خان پاکستان کے سابقہ عالمی نمبر 1 اسکواش کے کھلاڑی ہیں۔

ولادت[ترمیم]

10 دسمبر 1963ء دنیائے اسکواش کے سب سے عظیم کھلاڑی جہانگیر خان کی تاریخ پیدائش ہے۔

خاندان[ترمیم]

جہانگیر خان کراچی میں پیدا ہوئے۔ ان کا آبائی گھر نواں کلے پشاور تھا ان کے والد روشن خان خود بھی اسکواش کے معروف کھلاڑی تھے اور 1957ء میں برٹش اوپن اسکواش ٹورنامنٹ جیت چکے تھے۔ روشن خان اپنے بڑے بیٹے طورسم خان کواسکواش کا عالمی چیمپئن بنانا چاہتے تھے اور ان کی تمام توجہ بھی انہیں پر مرکوز تھی کہ 26 نومبر 1979ء کو طورسم خان وفات پاگئے۔ طورسم خان کی وفات کے بعد روشن خان نے جہانگیر خان کو اسکواش کے مقابلوں کے لیے تیار کیاجنہوں نے اپریل 1981ء میں پہلی مرتبہ برٹش اوپن اسکواش ٹورنامنٹ کا فائنل کھیلنے کا اعزاز حاصل کیا۔

عالمی اعزاز[ترمیم]

جہانگیر خان پہلے برس تو برٹش اوپن نہیں جیت سکے مگر اسی برس انہوں نے اپنے ہم وطن قمر زمان کو ورلڈ اوپن اسکواش ٹورنامنٹ کے فائنل میں شکست دے کر کامیابیوں اور کامرانیوں کے اس سفر کا آغاز کیا جس کی کوئی مثال اسکواش کی دنیا میں توکجا کھیلوں کی دنیا میں بھی دور دور تک نہیں ملتی۔ جہانگیر خان 1993ء تک اسکواش کی دنیا پر راج کرتے رہے اس دوران انہوں نے دنیائے اسکواش کی ہر بڑی چیمپئن شپ جیتی اور 1981ء سے 1986ء تک ہر مقابلے میں ناقابل شکست رہے۔ اپنے کیریئر میں انہوں نے دس مرتبہ برٹش اوپن اور چھ مرتبہ ورلڈ اوپن اسکواش ٹورنامنٹ جیتنے کا اعزاز حاصل کیا۔ ان کا 6 مرتبہ ورلڈ اوپن اسکواش ٹورنامنٹ جیتنے کا ریکارڈ تو جان شیر خان توڑ چکے ہیں مگر ان کا 10 مرتبہ برٹش اوپن جیتنے کا ریکارڈ آج بھی برقرار ہے۔[1] جہانگیر خان کو اسکواش کی عالمی تنظیم ورلڈ اسکواش فیڈریشن کا آئندہ 4 سال کے لیے اعزازی صدر ر ہے، اس سے قبل بھی اسکواش کی عالمی تنظیم کے اعزازی صدر کے طور پر اپنی خدمات سر انجام دے چکے ہیں واضح رہے کہ جہانگیر خان انٹرنیشنل اسکواش سرکٹ میں ایک ناقابل شکست کھلاڑی تصور کیے جاتے تھے جب کہ ان کے حوالے سے یہ بھی مشہور ہے کہ انہوں نے مسلسل 555 میچز میں کامیابی کو اپنے گلے لگایا،

ورلڈ اوپن فائنل[ترمیم]

جیت (6)
سال فائنل میں مخالف فائنل میں اسکور
1981 جیف ہنٹ 7–9, 9–1, 9–2, 9–2
1982 ڈین ولیمز 9–2, 6–9, 9–1, 9–1
1983 کرس دیتمار 9–3, 9–6, 9–0
1984 قمر زمان 9–0, 9–3, 9–4
1985 راس نارمن 9–4, 4–9, 9–5, 9–1
1988 جان شیر خان 9–6, 9–2, 9–2
دوم (3)
سال فائنل میں مخالف فائنل میں اسکور
1986 راس نارمن 5–9, 7–9, 9–7, 1–9
1991 روڈنی مارٹن 17–14, 9–15, 4–15, 13–15
1993 جان شیر خان 15–14, 9–15, 5–15, 5–15

برٹش اوپن فائنل[ترمیم]

جیت (10)
سال فائنل میں مخالف فائنل میں اسکور
1982 ہدی جہاں 9–2, 10–9, 9–3
1983 جمال اعواد 9–2, 9–5, 9–1
1984 قمر زمان 9–0, 9–3, 9–5
1985 کرس دیتمار 9–3, 9–2, 9–5
1986 راس نارمن 9–6, 9–4, 9–6
1987 جان شیر خان 9–6, 9–0, 9–5
1988 روڈنی مارٹن 9–2, 9–10, 9–0, 9–1
1989 روڈنی مارٹن 9–2, 3–9, 9–5, 0–9, 9–2
1990 روڈنی مارٹن 9–6, 10–8, 9–1
1991 جان شیر خان 2–9, 9–4, 9–4, 9–0
دوم (1)
سال فائنل میں مخالف فائنل میں اسکور
1981 جیف ہنٹ 2–9, 7–9, 9–5, 7–9

بیرونی روابط[ترمیم]

کھیلوں کے عہدے
ماقبل 
قمر زمان
جان شیر خان
جان شیر خان
جان شیر خان
جان شیر خان
جان شیر خان
عالمی نمبر 1
جنوری 1982 - دسمبر 1987
نومبر 1988 - اکتوبر 1989
مارچ 1990 - اپریل 1990
جولائی 1990 - اکتوبر 1990
جنوری 1992 - اپریل 1992
جولائی 1992 - دسمبر 1992
مابعد 
جان شیر خان
جان شیر خان
جان شیر خان
جان شیر خان
جان شیر خان
جان شیر خان

حوالہ جات[ترمیم]