گاما پہلوان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
گاما پہلوان
Gama1916.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش 22 مئی 1878  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 23 مئی 1960 (82 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لاہور  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ پہلوان،  پیشہ ور پہلوان[1]  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کھیل کشتی (کھیل)  ویکی ڈیٹا پر (P641) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات

گاما پہلوان یا غلام محمد بخش بٹ[2] (پیدائش: 22 مئی 1878ء (امرتسر)— وفات: 23 مئی 1960ء۔ لاہور)، انہوں نے ورلڈ چیمپئن کا مقابلہ جیتا اس لیے انہیں “رستمِ زماں” بھی کہا جاتا ہے، وہ قدیم فنِ پہلوانی کے بانیوں میں سے تھے۔


ان کا قد 5 فٹ اور 7 انچ تھا، گاما کے بڑے بھائی امام بخش بھی مشہور پہلوان تھے۔ تعلق کشمیری خاندان سے تھا۔ گاما اور ان کے بھائی کی پہلوانی کے اخراجات پٹیالہ کے مہاراجہ نے کی۔

ورزش اور تربیت[ترمیم]

گاما پہلوان روزانہ 5000 بیٹکیں اور 3000 ڈنڈ لگاتے تھے۔ گاما بیٹھکیں لگانے کیلیئے 95 کلو وزنی بھاری ڈِسک اٹھاتے اور ورزش کرتے تھے۔ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف سپورٹس میوزیم، پٹیالہ، پنجاب، بھارت میں آج بھی یہ ڈِسک موجود ہے۔

خوراک[ترمیم]

گاما کو مہاراجہ آف دتیہ روزانہ 2 بکروں کا گوشت ، 3 سیر مکھن، 6 گیلن دودھ، 3 ٹوکریاں پھل، اور 20پاؤنڈ بادام کی سردائی، فراہم کرتا تھا۔

منفرد اعزاز[ترمیم]

گاما نے 1902ء میں 22 سال کی عمر میں 1200 کلو وزنی پتھر اٹھایا اور اپنے سینے تک لایا اور کچھ قدم چلا بھی یہ پتھر آج بھی بھارت کے بارودا میوزیم سایاجی باغ میں پڑا ہوا ہے اور اس پر لکھا ہے “یہ پتھر 23 دسمبر 1902ء کو گاما نے اٹھایا”۔

میوزیم حکام کا کہنا ہے اس پتھر کو اٹھانے کیلئے ہائڈرالک مشین کا استعمال کیا جاتا ہے ایک جگہ سے دوسری جگہ کرنے میں اور 25 آدمیوں سے یہ پتھر اٹھانا بھی مشکل ہے اور میوزیم کے رجسڑرار میں انٹری نمبر 10-10 میں لکھا ہے کہ یہ پتھر 1912ء میں اس میوزیم میں لایا گیا۔

پہلوانی[ترمیم]

گاما پہلوان اپنے زمانے کے رستمِ زماں(ولڈ چمئین) رہے۔ گاما نے اپنے 50 سالہ کیریئر میں 5000 میچ کھیلے اور کبھی ایک میچ نہیں ہارے۔1916ء تک گاما نے سارے ہندوستانی پہلوانوں بشمول پنڈت بدو برہمن کو شکست دے دی تھی۔

15 اکتوبر، 1910ء کو انہیں جنوب ایشیائی سطح پر ورلڈ ہیوی ویٹ چیمپئن شپ کے اعزاز سے نوازا گیا تھا، پہلوانی کی پوری تاریخ میں وہ واحد پہلوان ہیں جنہیں 50 سال سے زیادہ عرصہ پر محیط کیریئر میں ایک بار بھی شکست کا سامنا نہیں کرنا پڑا، گاما پہلوان کا تعلق کشمیری بٹ خاندان سے تھا، غیر منقسم ہندوستان میں “دتیا” کی شاہی ریاست کے حکمران بھوانی سنگھ نے نوجوان پہلوان گاما اور ان کے بھائی امام بخش کی سرپرستی کی تھی، گاما پہلوان کو اصل شہرت اس وقت ملی جب انہوں نے 19 سال کی عمر میں انڈین ریسلنگ چیمپئن رحیم بخش سلطانی والا کو چیلنج کر دیا جو خود بھی گوجرانوالہ کے کشمیری بٹ خاندان سے تھے، توقع یہ تھی کہ تقریباً 7 فٹ قد کے رحیم بخش 5 فٹ 7 انچ قامت والے گاما کو سیکنڈوں میں چت کر دیں گے لیکن ادھیڑ عمری ان کے آڑے آئی اور وہ نوجوان گاما کو شکست نہ دے سکے، یوں یہ مقابلہ برابر رہا۔

گاما بمقابلہ گورے[ترمیم]

1910ء تک سوائے رحیم بخش کے وہ ہندوستان کے تمام نامی گرامی پہلوانوں کو شکست دے چکے تھے، بعد ازاں مغربی پہلوانوں کا مقابلہ کرنے وہ اپنے بھائی کے ساتھ بحری جہاز میں انگلستان پہنچے، ان کا پہلا مقابلہ امریکی پہلوان بنجامین رولر عرف “ڈوک” سے ہوا جسے پہلی بار ایک منٹ 20 سیکنڈ اور دوسری بار 9 منٹ 10 سیکنڈ میں زیر کیا، دوسرا مقابلہ اسٹینی سیلس زبسکو سے 17 ستمبر، 1910ء کو ہوا، جسے شکست دے کر 250 پاؤنڈ کی انعامی رقم اور “جون بُل بیلٹ” جیت لی، (یہ بیلٹ ہر ورلڈ چیمپین حاصل نہیں کر سکتا،صرف مستند چیمپئنز کو دی جاتی ہے) جس کے بعد انہیں “رستمِ زماں” یا ورلڈ چیمپئن کا خطاب دیا گیا، انگلستان کے دورے میں انہوں نے یورپی چیمپئن سوئٹزرلینڈ کے جویان لیم، عالمی چیمپئن سوئیڈن کے جیس پیٹرسن اور فرانس کے مورس ڈیریاز کو بھی شکست دی۔

قیامِ پاکستان[ترمیم]

قیامِ پاکستان کے بعد وہ لاہور منتقل ہو گئے، جہاں انہوں نے اپنے بھائی امام بخش اور بھتیجوں بھولو برادران کے ساتھ بقیہ زندگی گزاری،

1959ء کو انہیں صدارتی تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا گیا

وفات[ترمیم]

رستم زماں گاما پہلوان 21 مئی، 1960ء کو لاہور میں انتقال کر گئے،

پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز رشتے میں گاما پہلوان کی نواسی بتائی جاتی ہیں۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. CageMatch worker ID: https://www.cagematch.net/?id=2&nr=1354
  2. https://www.express.pk/story/2325077/16/.  مفقود أو فارغ |title= (معاونت)

http://www.flickr.com/photos/rashid_ashraf/12714995455/

تصویر کا ماخذ: سوانح عمری رستم زماں گاما پہلوان مصنف: فہیم الدین فہمی اشاعت: 1960 صفحات: 188

مکمل سوانح عمری-پی ڈی ایف میں:

http://www.scribd.com/doc/208686563/Rustam-E-Zaman-Gama-Faheem-Uddin-Fehmi-Karachi-1960