جنوبی افریقا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(جنوبی افریقہ سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
Flag of South Africa
پرچم
شعار: "!ke e: ǀxarra ǁke" (ǀXam)
"Unity in Diversity"
محل وقوع  جنوبی افریقا  (dark blue) – Africa  (light blue & dark grey) – the افریقی اتحاد  (light blue)
محل وقوع  جنوبی افریقا  (dark blue)

– Africa  (light blue & dark grey)
– the افریقی اتحاد  (light blue)

Location of South Africa
دار الحکومت
سب سے بڑا شہر جوہانسبرگ[2]
دفتری زبانیں

[Note 1]

نسلی گروہ (2014[3])
نام آبادی جنوب افریقی
حکومت وحدانی ریاست پارلیمانی نظام جمہوریہ
• صدر
سیرل رامافوسا
ڈیوڈ مابوزا
مقننہ پارلیمان
نیشنل کونسل
قومی اسمبلی
آزادی  متحدہ مملکت برطانیہ عظمی و آئر لینڈ سے
31 مئی 1910
11 دسمبر 1931
31 مئی 1961
4 فروری 1997
رقبہ
• کل
1,221,037 کلومیٹر2 (471,445 مربع میل) (25th)
• آبی (%)
نہ ہونے کے برابر
آبادی
• 2015 تخمینہ
54,956,900[4] (25th)
• 2011 مردم شماری
51,770,560[5]:18
• کثافت
42.4/کلو میٹر2 (109.8/مربع میل) (169th)
خام ملکی پیداوار (مساوی قوت خرید) 2016 تخمینہ
• کل
$742.461 بلین[6] (30th)
• فی کس
$13,321[6] (90th)
خام ملکی پیداوار (برائے نام) 2016 تخمینہ
• کل
$326.541 بلین[6] (35th)
• فی کس
$5,859[6] (88th)
جینی (2009) 63.1[7]
انتہائی اعلی
انسانی ترقیاتی اشاریہ (2014) Increase2.svg 0.666[8]
متوسط · 116th
کرنسی جنوبی افریقی رانڈ (ZAR)
منطقۂ وقت جنوبی افریقہ معیاری وقت (متناسق عالمی وقت+2)
ڈرائیونگ سمت بائیں
کالنگ کوڈ +27[9]
انٹرنیٹ ڈومین Za.

جنوبی افریقا (South Africa) رسمی طور پر جمہوریہ جنوبی افریقا (Republic of South Africa) براعظم افریقا کے جنوبی حصے میں واقع ایک ملک ہے۔ اس کے شمال میں نمیبیا، بوٹسوانا اور زمبابوے واقع ہیں۔ اس کے مشرق اور شمال مشرق میں موزمبیق اور سوازی لینڈ ہیں۔ یہ دنیا کا پچیسواں بڑا ملک اور آبادی کے لحاظ سے دنیا کا 24واں بڑا ملک ہے۔ اس کی سرحدیں بحرِ اوقیانوس اور بحرِ ہند کے ساتھ 2,798 کلومیٹر تک پھیلی ہوئی ہیں۔

اولین آبادکار[ترمیم]

جنوبی افریقہ میں سب سے پہلے سان قبائل سے تعلق رکھنے والا گروہ داخل ہوا۔ یہ لوگ اس سے پہلے بوٹسوانا، نمیبیا، انگولا، زیمبیا اور زمبابوے میں آباد تھے۔ سان قبائل کے بعد 2000 قبل از مسیح کے قریب خوئی خوئی (Khoikhoi) نام کا ایک گروہ جنوبی افریقا میں داخل ہوا۔ دونوں قبائل نے مل کر رہنا شروع کیا جس کی بنا پر ان دونوں کو خویسان (Khoisan) کا نام دیا گیا۔ ان کی آپسی پہچان یہ تھی کہ سان قبیلہ شکار کرتا تھا جبکہ خوئی خوئی چرواہے تھے اور جانور پالتے تھے۔

بانٹو قبائل[ترمیم]

بانٹو قبائل نے تقریبا ایک ہزار قبل مسیح براعظم افریقہ کے مختلف حصوں میں پھیلنا شروع کیا۔ پہلی صدی میں بانٹو قبائل نے کانگو کی وادیوں سے نکل کر جنوبی افریقہ کا رخ کیا۔ بانٹو قبائل جنوبی افریقہ میں خوئی خوئی قبیلے کے علاقوں پر حملہ آور ہوئے اور انہیں شکست دے کر بنجر اور غیر آباد علاقوں کی طرف دھکیل دیا۔ زولو، زوسا ، سوازی اور ندبیلی نام کے قبائل انہی کی نسل میں سے ہیں۔


جنوبی افریقا میں ولندیزیوں کی آمد[ترمیم]

ہالینڈ کی ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی نے 1652 میں کیپ کے مقام پر اپنی کلونی قائم کی۔ مشرق کی طرف جانے والے تمام بحری جہاز یہاں رکتے پھر تجارتی مال لے کر افریقہ کا چکر لگاتے، اس کے بعد مشرقی ممالک کی طرف جاتے۔ خوئی خوئی قبائل نے ولندیزیوں سے تعاون نہ کیا، وہ ضرورت کی چیزیں بھی نہ دیتے۔ ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہالینڈ سے کسان منگوا کر جنوبی افریقا میں بسا لیے۔ وہ کھیتی باڑی کرنے لگے جس سے ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی کو ضرورت کی ہر چیز میسر ہونے لگی اور انہوں نے جنوبی افریقہ میں اپنے قدم جما لیے۔

جنوبی افریقا میں پرتگالیوں کی آمد[ترمیم]

بارتولو رومیو [10] دیاس نامی ایک پرتگالی ملاح 1488 میں یورپ اور مشرقی ممالک کے درمیان تجارت کے لیے بحری راستہ تلاش کرنے کے لیے جنوبی افریقہ کے ساحل پر پہنچا، مقصد براعظم افریقہ کے جنوب سے گزر کر ہندوستان پہنچنا تھا۔ جنوبی افریقا کے جس ساحل پر اس نے قیام کیا اس کا نام کابوداس ٹارمنٹس (طوفانوں کا ساحل) رکھا، اسی راستے سے واسکوڈے گاما ایک بحری بیڑے کے ساتھ ہندوستان پہنچا۔


کیپ کالونی پر برطانیہ کا قبضہ[ترمیم]

ہالینڈ میں حکمران ولیم پنجم کے خلاف 1887 میں بغاوت ہوئی،جو ختم ہو گئی مگر اقتدار پر ولیم کی گرفت کمزور ہو گئی۔ 1894 میں فرانس نے ہالینڈ پر حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں ولیم انگلستان بھاگ گیا۔ ان حالات میں برطانیہ میں مقیم ہالینڈ کے مفرور حکمران ولیم نے جنوبی افریقہ میں کیپ کالونی کی انتظامیہ کو خط لکھا کہ کالونی برطانیہ کے حوالے کر دی جائے۔ اس خط کے بعد ہالینڈ نے برطانیہ سے 60 لاکھ پونڈ وصول کرکے کالونی اس کے حوالے کردی۔ اس طرح 1815 میں جنوبی افریقہ کیپ کالونی پر برطانیہ کا قبضہ ہوگیا و41و۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "The Constitution"۔ Constitutional Court of South Africa۔ اخذ شدہ بتاریخ 3 ستمبر 2009۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  2. "Principal Agglomerations of the World"۔ Citypopulation.de۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 اکتوبر 2011۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  3. Mid-year population estimates 2014۔ Statistics South Africa
  4. "Mid-year population estimates 2015"۔ Statistics South Africa۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 11 اگست 2015۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  5. ^ ا ب پ ت "South Africa"۔ International Monetary Fund۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015-04-26۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  6. "Gini Index"۔ World Bank۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2 مارچ 2011۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  7. "2015 Human Development Report"۔ United Nations Development Programme۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 15 دسمبر 2015۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  8. Qposter۔ "South Africa Dialing Codes, Country Codes and Area Codes"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 9 ستمبر 2016۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  9. Domville-Fife، C.W.۔ The encyclopedia of the British Empire the first encyclopedic record of the greatest empire in the history of the world ed۔ London: Rankin۔ صفحہ 25۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  1. خوی، ناما اور خواسان زبانیں زبانیں، جنوب افریقی اشارہ زبانیں، جرمن، یونانی، گجراتی زبان، ہندی زبان، پرتگیزی، تیلگو زبان، تمل زبان، اردو، عربی، عبرانی زبان، سنسکرت زبان اور "جنوبی افریقہ میں مذہبی مقاصد کے لیے استعمال دیگر زبانیں" (Chapter 1, Article 6 of the South African Constitution