بحر اوقیانوس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
زمین کے پانچ بحر

بحر اوقیانوس دوسرا بڑا سمندر ہے جو سطح زمین کے 5/1 حصے کو گھیرے ہوئے ہے۔ اس ‏کا انگریزی نام اٹلانٹک اوشن (‏Atlantic Ocean‏) یونانی لوک کہانیوں سے لیا گیا ہے۔ ‏اٹلانٹک کا مطلب "اطلس کا بیٹا" ہے۔ یہاں یہ واضح کر دینا ضروری ہے کہ دراصل عربی میں، --- اوقیانوس --- Ocean یا بحر ہی کو کہا جاتا ہے، لیکن اردو میں عموما اوقیانوس سے مراد Atlantic Ocean لی جانے لگی ہے لہذا یہاں "بحر اوقیانوس" کو Atlantic Ocean کے متبادل کے طور استعمال کیا گیا ہے۔ اور عربی میں بھی اگر اسکی اصل الکلمہ تلاش کی جاۓ تو تانے بانے ایک یونانی لفظ Okeanos تک لے جاتے ہیں کہ جس سے عربی کا اوقیانوس ماخوذ ہے، اور پھر Okeanos کی ماخوذیت بذات خود ایک اسطورہ (دیومالائی داستان یا افسانے) تک جاتی ہے کہ جہاں د گا ئیا (Gaia) اور دیوتا یورنس (Uranus) کی جفت گیری سے ایک بیٹا پیدا ہوا جسکا نام Oceanus تھا۔

بحر اوقیانوس
Clouds over the Atlantic - Apr 2013.jpg

‏ اس بحر کا حوض انگریزی کے حرف ‏S‏ کی شکل میں شمالا جنوبا لمبائی میں پھیلا ہوا ہے۔ ‏اس کو استوا مخالف رو قریبا 8 درجے شمالی عرض بلد پر شمالی اوقیانوس اور جنوبی ‏اوقیانوس میں تقسیم کرتی ہے۔ اس کو مغرب میں شمالی و جنوبی امریکہ اور مشرق میں یورپ ‏و افریقہ نے گھیرا ہوا ہے۔ یہ بحر شمال میں بحر منجمد شمالی اور جنوب میں آبنائے ڈریک ‏کے ذریعہ بحر الکاہل سے ملا ہوا ہے۔ بحر اوقیانوس اور بحر الکاہل کے درمیان ایک ‏مصنوعی رابطہ نہر پانامہ کے ذریعے قائم کیا گیا ہے۔ مشرق میں بحر اوقیانوس اور بحر ہند ‏کو تقسیم کرنے والا خط 20 درجے مشرقی نصف النہار ہے جو کیپ اگلہاس سے انٹارکٹکا تک ‏ہے۔ بحر اوقیانوس کو بحر منجمد شمالی سے ایک خط علیحدہ کرتا ہے جو گرین لینڈ سے ‏شمال مغربی آئس لینڈ اور پھر شمال مشرقی آئس لینڈ سے سپٹسبرگن کی انتہائی جنوبی نوک ‏تک اور پھر شمالی ناروے میں شمالی کیپ تک جاتا ہے۔

بحر اوقیانوس زمین کے قریبا 20٪ حصے کو گھیرے ہوئے ہے اور پھیلاؤ میں صرف بحر ‏الکاہل سے چھوٹا ہے۔ اپنے ملحقہ سمندروں سمیت اس کا رقبہ تقریبا 106400000 مربع ‏کلومیٹر (41100000 مربع میل) اور ان سمندروں کے بغیر اس کا رقبہ تقریبا 82400000 ‏مربع کلومیٹر (31800000 مربع میل) ہے۔ ملحقہ سمندروں کے ساتھ‍ اس کا حجم 354700000 ‏مکعب کلومیٹر (85100000 مکعب میل) اور ان کے بغیر اس کا حجم 323600000 مکعب ‏کلومیٹر (77640000 مکعب کلومیٹر) ہے۔

بحر اوقیانوس کی اوسط گہرائی ملحقہ سمندروں سمیت 3332 میٹر (10932 فٹ) اور ان کے ‏بغیر اوسط گہرائی 3926 میٹر (12881 فٹ) ہے۔ اس کی سب سے زیادہ گہرائی پورٹو ریکو ‏گھاٹی میں ہے جہا ں اس کی گہرائی 8605 میٹر (28232 فٹ) ہے۔ بحر اوقیانوس کی چوڑائی ‏متغیر ہے۔ اس کی کم سے کم چوڑائی برازیل اور لائیبیریا کے درمیان 2848 کلومیٹر (1770 ‏میل) اور زیادہ سے زیادہ سے چوڑائی ریاستہائے متحدہ امریکہ اور شمالی افریقہ کے درمیان ‏‏4830 کلومیٹر (3000 میل) ہے۔

بحر اوقیانوس کا ساحل کٹا پھٹا ہے اور بہت سی کھاڑیوں، خلیجوں اور سمندروں میں پھیلا ہوا ‏ہے جن میں بحیرۂ کیریبین، خلیج میکسیکو، خلیج سینٹ لارنس، بحیرۂ روم، بحیرۂ اسود، بحیرۂ ‏شمال، بحیرۂ لیبریڈور اور بحیرۂ نارویجن-گرین لینڈ شامل ہیں۔ بحر اوقیانوس میں موجود جزائر ‏میں جزائر فارو، گرین لینڈ، آئس لینڈ، راکال، جزائر برطانیہ، آئر لینڈ، فرنینڈو ڈی نورونہا، ‏ازورز، جزائر میڈیرا، کانریز، کیپ وردے، ساؤ ٹامے اور پرنسیپی، نیوفاؤنڈ لینڈ، برمودا، ‏ویسٹ انڈیز، اسینشن، سینٹ ہیلینا، ٹرینڈاڈ، مارٹن واز، ٹرسٹن ڈا کنہا، جزائر فاک لینڈ، جزیرۂ ‏جنوبی جارجیا شامل ہیں۔


ثقافتی اہمیت: ماورائے اوقیانوس کا سفر امریکا مےں مغربی تہذیب کے فروغ کا باعث بنا ہے،اس کے علاوہ شمالی امریکااوریورپ کے مابین بحرِ اوقیا نوس کے لئے The Pond (تالاب) کی اصطلاح ثقافتی اور جغرافیائی صورت اختیار کر گئی ہے،چنانچہ اکثر امریکی،یورپ خصوصاً اہلِ برطانیہ کے لئے "across The pond"(تالاب پار) کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ ثقافتی اہمیت: ماورائے اوقیانوس کا سفر امریکا میں مغربی تہذیب کے فروغ کا باعث بنا ہے،اس کے علاوہ شمالی امریکااوریورپ کے مابین بحرِ اوقیا نوس کے لئے The Pond (تالاب) کی اصطلاح ثقافتی اور جغرافیائی صورت اختیار کر گئی ہے،چنانچہ اکثر امریکی،یورپ خصوصاً اہلِ برطانیہ کے لئے "across The pond"(تالاب پار) کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔

بحری پیندا‏[ترمیم]

بحر اوقیانوس کے پیندے کی سب سے اہم خصوصیت وسط اوقیانوسی ارتفاع کا آبدوز پہاڑی ‏سلسلہ ہے۔ یہ شمال میں آئس لینڈ سے قریبا 58 درجے جنوبی عرض بلد تک پھیلا ہوا ہے اور ‏زیادہ سے زیادہ 1600 کلومیٹر (1000 میل) کی چوڑائی تک پہنچتا ہے۔ ایک عظیم شگافی ‏وادی بھی اس ارتفاع کے بیشتر حصے کے ساتھ پھیلی ہوئی ہے۔ اس ارتفاع پر پانی کی گہرائی ‏بہت سی جگہوں پر 2700 میٹر (8900 فٹ) سے کم ہے جبکہ بہت سی چوٹیاں پانی سے باہر ‏نکلی ہوئی ہیں جن سے جزائر وجود میں آتے ہیں۔ جنوبی بحر اوقیانوس میں ایک اور ارتفاع ‏بھی ہے جو والوس ارتفاع کہلاتا ہے۔

وسط اوقیانوسی ارتفاع بحر اوقیانوس کو دو عظیم نشیبوں میں تقسیم کرتا ہے جن کی گہرائی کی ‏اوسط 3700 سے 5000 میٹر (12000 سے 18000 فٹ) کے درمیان ہے۔ براعظموں اور وسط ‏اوقیانوسی ارتفاع کے درمیان پھیلے ہوئے ترچھے ارتفاع بحر اوقیانوس کے پیندے کو بہت سے ‏حوضوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ شمالی اوقیانوس کے چند بڑے حوضوں میں گیانا، جنوبی ‏امریکہ، کیپ وردے، کانریز شامل ہیں۔ جنوبی اوقیانوس کے چند عظیم ترین حوض انگولا، ‏کیپ، ارجنٹینا اور برازیل کے حوض ہیں۔

گہرے بحر کے فرش کو کافی ہموار سمجھا جاتا ہے گوکہ اس میں بہت سی پہاڑیاں بھی موجود ‏ہیں۔ فرش بحر میں بہت سی گہرائیاں اور گھاٹیاں بھی پائی جاتی ہیں۔ شمالی اوقیانوس میں پورٹو ‏ریکو گھاٹی سب سے گہری ہے۔ اس کی زیادہ سے زیادہ گہرائی8,605 میٹر(28,232 فٹ)ریکا رڈ کی گئی ہے۔اوقیانوس کی دوسری گہری ترین گھاٹی ساﺅتھ سینڈوچ ٹرنچ(South Sandwich Trench)ہے،جنو بی اوقیانوس میں واقع یہ گھاٹی 8,428 میٹر(27,651 فٹ)گہری ہے،اس عظیم سمندر کی تیسری گہری ترین گھاٹی رومانچے ٹرنچ(Romanche Trench)ہے، خط ِاستواکے نزدیک واقع اس گھاٹی کی گہرائی 7,454 میٹر(24,455فٹ)بیان کی جاتی ہے۔اس کے علاوہ کینیڈا کے مشرقی ساحل پر زیرِآب 6,000میٹر گہری وادی کا بھی پتہ چلا ہے،سینٹ لارنس(Saint Lawrence )سے منسوب اس وادی کولورینٹن ابیز(Laurentian Abyss ) کا نام دیا گیا ہے۔


بحری گاد خاکزاد،بحرنشین اور معدن البحر مواد پر مشتمل ہے۔خاکزاد مواد ریت، کیچڑ اور ‏چٹانوں کے ذرات پر مشتمل ہے جو زمینی کٹاؤ، موسمی اثر اور آتش فشانی عمل کی وجہ سے ‏زمین سے بہہ کر سمندر میں چلا جاتا ہے۔ یہ مواد زیادہ تر ساحلی ڈھلوانوں پر پایا جاتا ہے اور ‏اس کی تہہ دریاؤں کے دہانوں اور صحرائی ساحلوں پر سب سے موٹی ہوتی ہے۔ بحرنشین مواد ‏ان مردہ حیوانات و نباتات کے بقایاجات پر مشتمل ہوتا ہے جو مر کر تہہ میں چلے جاتے ہیں۔ ‏اس مواد کی موٹائی 60 سے 3000 میٹر (200 سے 11000 فٹ) تک ہوتی ہے۔ معدن البحر ‏مواد منگنزی گرہوں (‏manganese nodules‏) جیسے اجزاء پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ مواد ‏وہاں ہوتا جہاں گاد کے اکٹھا ہونے کا عمل سست ہوتا ہے یا اسے بحری رویں اکٹھا کرتی ہیں۔

آبی خصوصیات[ترمیم]

کھلے بحر کی سطح کے پانی کا بلحاظ کمیت نمکیاتی تناسب 33 سے 37 فی ہزار حصص ہے ‏اور عرض بلد اور موسم کی مطابق بدلتا رہتا ہے۔ گو کہ کم سے کم نمکیاتی تناسب خط استوا ‏کے بالکل شمال میں پایا گیا ہے لیکن یہ تناسب عمومی طور پر اونچے عرض بلد اور ساحلوں ‏کے قریب اس جگہ سب سے کم ہوتا ہے جہاں دریا آ کر سمندر میں ملتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ ‏نمکیاتی تناسب 25 درجے شمالی عرض بلد پر ہوتا ہے۔ سطح کے نمکیاتی تناسب پر تبخیر، ‏ترسیب، دریائی آمد اور سمندری برف کے پگھلاؤ جیسے عناصر اثرانداز ہوتے ہیں۔

سطح آب کے درجات حرارت عرض بلد، رووں کے نظام اور موسم کے لحاظ سے تبدیل ہوتا ‏رہتا ہے اور شمسی توانائی کی شمالا جنوبا تقسیم کو واضح کرتے ہیں۔ یہ درجات حرارت 2‏‎ ‎‏− ‏درجے سے کم سے 29 درجے سینٹی گریڈ (28 درجے فارن ہائیٹ سے 84 درجے فارن ہائیٹ) ‏تک ہوتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ درجات حرارت خط استوا کے شمال میں اور کم سے کم قطبی ‏علاقوں میں ہوتے ہیں۔ درمیانی عرض بلد کے علاقوں میں زیادہ سے زیادہ درجات حرارت کی ‏مقداریں متغیر ہیں اور 7 درجے سینٹی گریڈ سے 8 درجے سینٹی گریڈ (13 درجے فارن ہائیٹ ‏سے 15 درجے فارن ہائیٹ) تک ہوتی ہیں۔

بحر اوقیانوس پانی کے چار بڑے ذخائر پر مشتمل ہے۔ شمالی اور جنوبی اوقیانوس کے مرکزی ‏پانی سطحی پانیوں پر مشتمل ہیں۔ زیر اوقیانوسی وسطی پانی 1000 میٹر (3300 فٹ) کی ‏گہرائی تک جاتا ہے۔ شمالی اوقیانوسی گہرا پانی 4000 میٹر (13200 فٹ) تک کی گہرائی تک ‏جاتا ہے۔

شمالی اوقیانوس کے اندر پانی کے ذخیرے کا ایک لمبا جسم بحری رووں نے علیحدہ کر دیا ‏ہے۔ پانی کا یہ ذخیرہ بحیرۂ سرگاسو کہلاتا ہے، جس میں نمکیاتی تناسب واضح طور پر زیادہ ‏ہے۔ بحیرۂ سرگاسو میں سمندری گھاس بڑی مقدار میں موجود ہے اور یورپی مارماہی کی ایک ‏اہم جائے تخم ریزی ہے۔

کوریولس اثر (‏Coriolis effect‏) کے باعث شمالی اوقیانوس میں پانی کی حرکت گھڑیال ‏موافق (‏clockwise‏) سمت میں گردش کرتا ہے جبکہ جنوبی اوقیانوس میں پانی کی گردش ‏گھڑیال مخالف ہوتی ہے۔ بحراوقیانوس کی جنوبی موجیں نصف یومی ہوتی ہیں یعنی ہر 24 ‏قمری گھنٹوں دو اونچی موجیں آتی ہیں۔ موجیں ایک عام لہرہوتی ہیں جو جنوب سے شمال کی ‏طرف حرکت کرتی ہے۔ 40 درجے شمال سے اونچے عرض بلد پر کچھ‍ شرقا غربا تغیر وقوف ‏بھی عمل میں آتے ہیں۔

موسم[ترمیم]

بحر اوقیانوس اور اس سے ملحق زمینی علاقوں کے موسم پر سطح آب اور بحری رووں کے ‏درجۂ حرارت کے علاوہ پانیوں کے آرپار چلنے والی ہوائیں بھی اثر انداز ہوتی ہیں۔ چونکہ ‏بحر میں بڑی مقدار میں گرمی کو اپنے اندر محفوظ رکھنے کی صلاحیت ہوتی ہے اس لیے ‏ساحلی علاقے مموسمیاتی تغیرات کی انتہا سے محفوظ رہتے ہیں۔ ساحلی علاقوں کے موسم ‏کے اعداد و شمار اور ہوا کے درجۂ حرارت کے پانی کے درجۂ حرارت سے فرق سے بارش ‏کی مقدار کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ بحار فضائی نمی کا ایک بڑا ذریعہ ہیں۔ یہ نمی عمل تبخیر ‏سے پیدا ہوتی ہے۔ موسمی منطقے عرض بلد کے لحاظ سے تبدیل ہوتے ہیں۔ گرم ترین موسمی ‏منطقہ بحر اوقیانوس پر خط استوا کے شمال میں پھیلا ہوا ہے۔ سرد ترین منطقے اونچے عرض ‏بلد میں ہیں، ان میں سرد ترین علاقے وہ ہیں جو سمندری برف سے ڈھکے ہوئے ہیں۔ بحری ‏رویں سرد اور گرم پانیوں دوسرے علاقوں تک منتقل کر کے وہاں کے موسم پر اثرانداز ہوتی ‏ہیں۔ ملحقہ زمینی علاقے ان ہواؤں سے متاثر ہوتے ہیں جو ان رووں کے اوپر چلتی ہیں۔ مثال ‏کے طور پر خلیجی دھارا (‏Gulf Stream‏) نامی ایک بحری رو جزائر برطانیہ اور شمال ‏مغربی یورپ کی فظا کو گرم کرتی ہے، اور سرد پانی رویں شمال مشرقی کینیڈا (گرینڈ بینکس ‏کے علاقوں میں) اور شمال مغربی افریقہ کے ساحلوں پر گہری دھند کا باعث بنتی ہیں۔

سمندری طوفان شمالی بحر اوقیانوس کے جنوبی حصے میں کیپ وردے اور جزائر ونڈورڈ کی ‏درمیان بنتے ہیں اور مغرب کی جانب بحیرۂ کیریبین تک جاتے ہیں اور بعض صورتوں میں ‏شمالی امریکہ کے مشرقی ساحل سے جا ٹکراتے ہیں اور کافی تباہی پھیلاتے ہیں۔ یہ طوفان ‏مئی اور دسمبر کے درمیان بنتے ہیں لیکن بیشتر طوفان آخر جولائی سے اوائل نومبر تک آتے ‏ہیں۔ شمالی بحر اوقیانوس میں طوفان شمالی سردی کی وجہ سے بہت عام ہیں جس وجہ سے اس ‏عبور کرنا کافی مشکل اور خطرناک ہوتا ہے۔

تاریخ اور اقتصادیات[ترمیم]

بحرمنجمد جنوبی کے بعد بحر اوقیانوس شمالی دوسرا کم عمر بحر ہے۔ تحقیقات سے ثابت ہوا ‏ہے کہ بحر اوقیانوس آج سے 18 کروڑ سال پہلے موجود نہیں تھا۔ اس وقت سمندری فرش کے ‏پھیلاؤ سے عظیم براعظم پینجیا (‏Pangaea‏) کے ٹوٹنے سے بننے والے براعظم ایک ‏دوسرے سے دور ہٹ رہے تھے۔ بحر اوقیانوس کے ساحلی علاقوں کے آباد ہونے کے بعد سے ‏اس کی بہت زیادہ سیاحت کی گئی ہے۔ اس کے مشور سیاحوں میں وائیکنگ، پرتگالی اور ‏کرسٹوفر کولمبس شامل ہیں۔ کولمبس کے بعد یورپی سیاحت میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا اور ‏بہت سے نئے تجارتی راستے قائم کیے گئے۔ نتیجتا بحر اوقیانوس یورپ اور امریکی ‏براعظموں کے درمیان ایک اہم شاہراہ بن گیا اور ابھی تک اس یہ اہمیت برقرار ہے۔ اس بحر ‏میں بہت سی سائنسی تحقیقات بھی کی گئیں ہیں۔ جرمن شہابی مہم، جامع کولمبیا کی لیمانٹ ‏ارضیاتی رصدگاہ اور ریاستہائے متحدہ بحری فوج کا ہائیڈروگرافک آفس قابل ذکر ہیں۔

اس بحر نے ارد گرد کے مملک کی ترقی اور اقتصادیات میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ ‏‏"ماورائے اوقیانوس" (‏transatlantic‏) آمد و رفت اور سفری راستوں کے علاوہ اس کی ‏ساحلی ڈھلوان میں رسوبی چٹانوں پائے جانے والے معدنی تیل اور دنیا مچھلی کے عظیم ترین ‏ذرائع کی وجہ سے بھی بحر اوقیانوس کی وجہ سے بھی اس کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ اس سے ‏پکڑی جانے والی مچھلیوں کی اہم اقسام میں کاڈ، ہیڈاک، ہیک، ہیرنگ اور میکرل شامل ہیں۔ ‏مچھلی کی سب سے زیادہ پیداوار والے علاقوں نیوفاؤنڈلینڈ کے گرینڈ بینکس، نوواسکاشیا کا ‏ساحلی ڈھلوان کا علاقہ، کیپ کاڈ کے پاس جارجز بینک، بہاما بینکس، آئسلینڈ کے ارد کرد کے ‏پانی، بحیرۂ آئرش، بحیرہ شمال کا ڈاگر بینک اور فاک لینڈ بینکس شامل ہیں۔ مارماہی، جھینگے ‏اور وہیل بھی بڑی تعداد میں پکڑے گئے ہیں۔ یہ تمام عناثر بحر اوقیانوس کی تجارتی اہمیت کو ‏بہت بڑھا دیتے ہیں۔ تیل بہنے، سمندری ملبے اور سمندر کے کنارے زہریلے کچرے کی ‏خاکستری کی وجہ بحر اوقیانوس کو لاحق ماحولیاتی خطرات کی چند اقسام کو کسی حد تک کم ‏کرنے کیلیے بہت سے بین الاقوامی معاہدے کیے گئے ہیں۔

بحر اوقیانوس سے منسوب چند اہم تاریخی واقعات یہ ہیں:‏

  • 1958ء میں سائرس نے فیلڈ پہلی ماورائے اوقیانوس ٹیلیگراف لہاس بچائی۔
  • 1919ء میں امریکہ کا این۔ سی۔ 4 اوقیانوس کو عبور کرنے والا پہلا جہاز قرار پایا (گرچہ یہ ‏راستے دو جزائر پر بھی اترا)‏
  • بعد میں 1919ء میں ہی، ایک برطانوی جہاز نے نیوفاؤنڈلینڈ سے آئرلینڈ تک بلاتوقف ‏ماورائے اوقیانوس پرواز کی۔ اس جہاز کو ایلک اور براؤن نے اڑایا۔‏
  • 1921ء میں شمالی اوقیانوس کو ہوائی کشتی (‏airship‏) میں عبور کرنے والا پہلا ملک ‏برطانیہ تھا۔
  • 1922ء میں جنوبی اوقیانوس کو ہوائی کشتی میں عبور کرنے والا پہلا ملک ‏پرتگال تھا۔
  • پہلی ماورائے اوقیانوس فون کال 7 جنوری 1927ء کو کی گئی۔
  • 1927ء میں چارلس لنڈبرغ نے ماورائے اوقیانوس پہلی بلاتوقف تنہا پرواز کی (جو نیویارک ‏شہر اور پیرس کے درمیان تھی)۔
  • 81 دن اور 2962 میل تک کشتی کھینے کے بعد 3 دسمبر 1999ء تو ٹوری مرڈن چپو والی ‏کشتی کے ذریعے بحر اوقیانوس کو تنہا عبور کرنے والی پہلی خاتون بن گئی۔ اس نے جزائر ‏کانری سے گوڈیلوپ تک سفر طے کیا۔

خدوخال[ترمیم]

بحیرۂ لیبریڈور، آبنائے ڈنمارک اور بحیرۂ بالٹک کی سطح اکتوبر سے جون تک سمندری برف ‏سے ڈھکی رہتی ہے۔ شمالی اوقیانوس میں گرم پانی کی گردش گھڑیال موافق گردش ہوتی ہے ‏اور جنوبی اوقیانوس میں گرم پانی کی گردش گھڑیال مخالف ہوتی ہے۔ بحری فرش سب سے ‏نمایاں خصوصیت وسط اوقیانوسی ارتفاع پھیلی ہے جو اوقیانوس کے پیندے پر شمال سے ‏جنوب تک ایک منحنی لکیر کی طرح پھیلی ہوئی ہے۔ اس ارتفاع کو چیلینجر مہم نے دریافت کیا ‏تھا۔

غایت رفعت[ترمیم]

  • عمیق ترین مقام: پورٹوریکو گھاٹی میں ملواکی سفل – 8605 میٹر (28232 فٹ؛ 5.3 میل)‏
  • رفیع ترین مقام: سطح سمندر، 0 میٹر‏

قدرتی وسائل[ترمیم]

تیل اور گیس کے ذخائر، مچھلی، سمندری پستانیہ جانور (سگ ماہی اور وہیل)، ریت اور بجری ‏کے ذخائر، پلیسر کے ذخائر، کثیردھاتی گرہیں، قیمتی پتھر

قدرتی خطرات[ترمیم]

آبنائے ڈیوس، آبنائے ڈنمارک اور شمال مغربی اوقیانوس میں فروری سے اگست تک برفانی ‏تودے عام ہیں۔ یہ تودے جنوب کی جانب برمودا اور جزائر میڈیرا تک پائے گئے ہیں۔ انتہائی ‏شمالی اوقیانوس میں اکتوبر سے مئی تک بحری جہازوں کے عرشے پر برف جم جانے کا ‏خطرہ ہوتا ہے۔ مئی سے ستمبر تک مسلسل رہنے والی سمندری کہر اور خط استوا کے شمال ‏میں مئی سے دسمبر تک آنے والے سمندری طوفان ایک بڑا خطرہ ہیں۔

برمودا مثلث کے بارے مشہور ہے کہ یہ وہی جگہ ہے جہاں بہت سے ہوائی اور بحری حادثے ‏ہوئے جن کی وجوہ بظاہر ناقابل فہم اور پراسرار تھیں لیکن ساحلی محافظوں کی دستاویزات ان ‏دعووں کی تائید نہیں کرتیں۔

موجودہ ماحولیاتی تنازعات[ترمیم]

خطرات سے دوچار جانوروں میں مینیٹی، سگ ماہی، سمندری شیر، کچھوے اور وہیل شامل ‏ہیں۔ جال سے مچھلی پکڑنے سے ڈولفن، قطرس اور بہت سے دوسرے آبی پرندوں کی نسلیں ‏ختم ہو رہی اور سمندر میں مچھلیوں کی تعداد میں تیزی سے کمی آ رہی ہے، جس بہت ‏سے بین الاقوامی تنازعات پیدا ہو رہے ہیں۔ مشرقی ریاستہائے متحدہ، جنوبی برازیل اور ‏مشرقی ارجنٹینا کے ساحلوں کو شہری کیچڑ نے آلودہ کر دیا ہے جبکہ بحیرۂ کیریبین، خلیج ‏میکسیکو، جھیل میراکیبو، بحیرۂ روم اور بحیرۂ شمال میں تیل کی آلودگی ہے۔ اس کے علاوہ ‏بحیرۂ بالٹک، بحیرۂ روم اور بحیرۂ شمال کو صنعتی فضلہ اور شہری پانی آلودہ کر رہا ہے۔

جغرافیائی تذکرہ[ترمیم]

بحر اوقیانوس کی بڑی حفاظتی چوکیاں (چیک پوائنٹ) آبنائے جبل الطارق (جبرالٹر) اور نہر پانامہ ہیں؛ آبنائے ڈوور، فلوریڈا ‏کے آبنائے اور گزرگاہ مونا، اورسنڈ اور گزرگاہ ونڈورڈ حربی اہمیت کے حامل ہیں۔ سرد جنگ ‏کے دوران نام نہاد شگاف گرین لینڈ-آئسلینڈ-متحدہ سلطنت حربی لحاظ سے ایک بڑا باعث فکر ‏تھا اس لیے اس علاقے کے سمندر کی تہہ میں ہائیڈروفون کا بہت بڑا نظام نصب کیا گیا تاکہ ‏سوویت آبدوز جہازوں کا سراغ لگایا جا سکے۔