دریائے سندھ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
دریائے سندھ
دریائے سندھ کی خلائی تصویر
دریائے سندھ کی خلائی تصویر
آغاز جھیل مانسرور
دہانہ بحیرہ عرب
میدان ممالک چین، بھارت، پاکستان
لمبائی 3200 کلومیٹر (1988 میل)
منبع کی بلندی 4556 میٹر
دہانہ کی بلندی 0 میٹر

دریائے سندھ پاکستان کا سب سے بڑا اور اہم دریا ہے۔ دریائے سندھ کی شروعات تبت کی ایک جھیل مانسرور کے قریب ہوتی ہے۔ اس کے بعد دریا لدّاخ اورگلگت بلتستان سے گزرتا ہوا صوبہ خیبرپختون خواہ میں داخل ہوتا ہے۔ صوبہ خیبرپختونخواہ میں اسے اباسین بھی کہتے ہیں جس کا مطلب ہے دریاؤں کا باپ۔ دریائے سندھ کو شیر دریا بھی کہا جاتا ہے۔ صوبہ خیبرپختونخواہ میں دریا پہاڑوں سے میدانوں میں اتر آتا ہے اور اس کے بعد صوبہ پنجاب اور سندھ سے گزرتا ہوا کراچی کے قریب بحیرہ عرب میں گرتا ہے۔ مختلف مقامات پر اس کے مشرقی معاون دریا (دریائے جہلم، دریائے چناب، دریائےراوی، دریائےستلج)اس میں شامل ہوتے رہتے ہیں اس دریا کی لمبائی 3200 کلومیٹر ہے دریائے سند ھ کے تین میدان مشہور ہیں:

(1 ) دریائے سند ھ کا بالائی میدان (2)دریائےسندھ کا زیریں میدان (3) دریائ سندھ کا ڈیلٹائی میدان

(1) دریائے سند ھ کا بالائی میدان: دریائے سند ھ اٹک کے مقام پر صوبہ پنجاب میں داخل ہوتا ہے اٹک سے مٹھن کوٹ کا خطہ دریائے سند ھ کا بالائی میدان کہلاتا ہے یہ میدان انتہائی زرخیز ہے۔ ہرقسم کے پھل، سبزیاں فصلیں اور جنگلات یہاں پائے جاتے ہیں۔میانوالی،بھکر،ڈیرہ اسماعیل خان سے گذرتا ہوایہ دریا پنجند(مٹھن کوٹ) کے مقام پر صوبہ سندھ میں داخل ہوجاتا ہے۔دریائے سند ھ کا بالائی میدان دوآبو ں پر مشتمل ہے۔دودریاؤں کی درمیانی زمین کو دوآبہ کہتے ہیں ۔ دریائے سند ھ کےبالائی میدان کے دوآبے درج زیل ہیں: 1۔باری دوآب: دریائے ستلج اور دریائے راوی کا درمیانی علاقہ باری دوآب کہلاتا ہے۔یہ پنجاب کے شہر لاہور،قصور،ساہیوال اور ملتان میں واقع ہے۔نہری نظام اور ٹیوب ویلوں کی وجہ سے یہاں فصلیں کاشت کی جاتی ہیں۔ 2۔رچنا دوآب: دریائے چناب اور دریائے راوی کا درمیانی علاقہ رچنا دوآب کہلاتا ہے۔یہ پنجاب کے شہر سیالکوٹ ، گوجرانوالہ، شیخوپورہ اورفیصل آباد میں واقع ہے۔ یہاں چاول، گنا،کپاس گندم ،سورج مکھی ،تمباکو کی فصلیں کاشت کی جاتی ہیں۔ 3۔ چج دوآب: دریائے چناب اور دریائےجہلم کا درمیانی علاقہچج دوآب کہلاتا ہے۔یہ پنجاب کے شہرجھنگ ، گجرات اور سرگودھا میں واقع ہے۔ یہاں چاول، گنا،کپاس گندم کی فصلیں کاشت کی جاتی ہیں۔مالٹے کی پیداوار کے لئے یہ علاقہ بین لاقوامی شہرت رکھتا ہے۔ 3۔سندھ ساگردوآب : دریائے سندھ اور دریائےجہلم کا درمیانی علاقہسندھ ساگردوآب کہلاتا ہے۔یہ پنجاب کے شہرخوشاب، میانوالی بھکر اورمظفرگڑھ میں واقع ہے۔ یہاں چاول، گنا،کپاس گندم کی فصلیں کاشت کی جاتی ہیں۔چنے کی پیداوار کے لئے یہ علاقہ ملک بھر میں شہرت رکھتا ہے۔ بار: ہر سال دریا کے پانی میں تیزی اور طغیانی آتی ہے جس کے باعث بعض مقامات بلند ہوجاتے ہیں ان مقامات کو بار کہتے ہیں یہ دریاؤں کی لائی ہوئی زرخیزمٹی سے بنے ہوتے ہیں اس لئے یہ زمینیں زرخیز ہوتی ہیں،دریائے سندھ کا بالائی میدان درج ذیل باروں پر مشتمل ہے: 1۔نیلی بار: ساہیوال او ر ملتان کا علاقہ نیلی بار کہلاتا ہے ، یہاں چاول، گنا،کپاس گندم کی فصلیں کاشت کی جاتی ہیں۔نیلی،راوی اور ساہیوال نسل کی بھینسوں کے لئے یہ علاقہ ملک بھر میں شہرت رکھتا ہے۔ 2۔ساندل بار: سانگلہ ہل،چینیوٹ،او رشاہ کوٹ کا علاقہ ساندل بار کہلاتا ہے ، یہاں چاول، گنا،کپاس گندم کی فصلیں،سبزیاں اور پھل کاشت کئے جاتے ہیں۔ 3۔کیرانہ بار: اس کے علاقوں میں ضلع سرگودھا اور ضلع جھنگ کے علاقے شامل ہیں۔یہ دریائے چناب اور دریائے جہلم کی گذرگاہ پر واقع ہے 4۔ گنجی بار: دریائے ستلج اور دریائے بیاس کے علاقے کو کہتے ہیں ۔ اس علاقے میں بہاولنگر اور چشتیاں آتے ہیں۔ (2)دریائےسندھ کا زیریں میدان: دریائے سندھ صوبہ پنجاب سے گذرتا ہوا مٹھن کوٹ کے مقام پر صوبہ سندھ میں داخل ہوتا ہے ۔یہاں سے ٹھٹھہ تک دریائے سندھ کے چوڑائی بہت زیادہ اور گہرائی کم اور بہاؤ میں سستی آجاتی ہے ۔ یہ ٹھٹھہ کے مقام پر بحیرہ عرب میں داخل ہوجاتا ہے۔سیلاب کے دنوں میں علاقہ نشینوں کو بہت پریشانی اور دشواری کا سامنا کرنا پڑتاہے لاتعداد فصلیں ،پھل داردرخت ،سبزیاں تباہ ہوجاتی ہیں اور انسان اورجانور موت کے گھاٹ اترجاتے ہیں۔سیلاب سے بچاؤ کے لئے بہت سے مقامات پر حفاظتی بند تعمیر کئے گئے ہیں۔طغیانی کے باعث یہ دریا کئی مقامات پر اپنا راستہ بدل لیتاہے۔ آب پاشی کی ضروریات کے پیش نظر اس میدان میں بیراج تعمیر کئے گئے ہیں ،مثلاً گدو بیراج،سکھر بیراج،غلام محمد بیراج وغیرہ ۔ (3)دریائےسندھ کا ڈیلٹائی میدان: دریائے سندھ صوبہ پنجاب اور صوبہ سندھ سے گذرتا ہوا ٹھٹھہ کے مقام پر ڈیلٹابناتا ہے یہاں یہ دریا مختلف شاخوں میں تقسیم ہوکر بحیرہ عرب میں ضم ہوجاتا ہے بارش کی کمی اور نہری نظام کی عدم دستیابی کے باعث یہ خطہ ویران اور بنجر ہے یہاں دلدل کے باعث کھیتی باڑی ممکن نہیں۔خود روجھاڑیاں اور تمر کے جنگلات پائے جاتے ہیں یہاں کے لوگوں کا سب سے بڑا پیشہ گلہ بانی ہے۔ جھیلیں:دریائےسندھ کے زیریں میدان میں جھیلیں بھی پائی جاتی ہیں مثلاًمان چر جھیل،کین جھر جھیل اور کالری جھیل ۔یہ جھیلیں صحت افزا مقامات بن چکی ہیں لوگ یہاں سیر وتفریح کے لئے آتے ہیں۔

آبی حیات[ترمیم]

انڈس ڈولفن جو صرف دریائے سندھ میں پائی جاتی ہے

اندھی ڈولفن[ترمیم]

دریائے سندھ میں اندھی ڈولفن پائی جاتی ہے۔ اس کو سو سو کہا جاتا ہے۔ اسکا ایک مقامی نام بلھن بھی ہے۔ ڈولفن کی یہ قسم دنیا بھر میں نایاب ہے۔ یہ قدرتی طور پر اندھی ہوتی ہیں اور پانی میں آواز کے سہارے راستہ تلاش کرتی ہے۔ اس کی آبادی میں اظافے اور اس کی حيات کو پیش دشواریوں کو دور کرنے کی کئی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

1861 میں بنایا گیا دریائے سندھ پر اٹک کے مقام پر کشتیوں کا ایک پل۔

مزید دیکھیں[ترمیم]