وادی کہون
| کہون | |
| Kahoon | |
| فائل:پاکستان – پنجاب– چکوال.svg | |
| ملک: | پاکستان فائل:Flag of پاکستان۔svg |
| صوبہ: | پنجاب |
| ضلع: | ضلع چکوال |
| زبان: | پنجابی |
وادی کہون یا علاقہ کہونٹانی ضلع چکوال کے پوٹھوہار اور کوہستان نمک میں واقع ایک تاریخی، پہاڑی اور تمدنی علاقہ ہے، جو اپنی پُرفضا وادیوں اور سرسبز چراگاہوں کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ اس علاقے کا نام یہاں کے صدیوں پرانے مقتدر کہوٹ قبیلے کے نام پر رکھا گیا ہے۔[1][2]
جغرافیائی محلِ وقوع اور طبعی حدود
[ترمیم]وادیِ کہون (کہونٹانی علاقہ) ضلع چکوال کی حدود میں کوہستانِ نمک کے دامن اور پوٹھوہار کی سطح مرتفع پر واقع ہے۔ یہ خطہ ناہمواری، پہاڑی سلسلوں اور زرخیز چراگاہوں کا امتزاج ہے۔
کہوٹ قبیلے کی تاریخی مہمات اور ہجرت کے تذکروں کے مطابق، موجودہ چکوال میں مستقل آباد کاری سے قبل ان کا مسکن راولپنڈی کی کوہساری حدود میں واقع تھا، جہاں کی مشہور کہوٹہ کی پہاڑیاں اور کہوٹہ شہر ان کے موروثی اقتدار اور قدیم بستیوں کی یاد کو آج بھی محفوظ رکھے ہوئے ہیں۔ چکوال کے اس کہونٹانی یا کہون کے وسیع خطے پر کہوٹ قبیلے نے کوہستانِ نمک کے دامن میں زراعت اور گلہ بانی کو فروغ دے کر اپنی مستقل بالادستی قائم کی۔
منی کشمیر
[ترمیم]وادی کہون کی سرسبز سرزمین، چشموں اور خوشگوار آب و ہوا کی وجہ سے اسے منی کشمیر بھی کہا جاتا ہے۔ تاہم اب اس دس بارہ کلومیٹر کے علاقے میں ایک کاغذ کی مل اور پانچ سیمنٹ فیکٹریاں لگائی جا چکی ہیں، جس سے علاقے کی قدرتی خوبصورتی ماند پڑتی جا رہی ہے۔ وادی کے قریب واقع پہاڑیوں میں چونے کی مٹی اور جپسم پائے جاتے ہیں، جو سیمنٹ سازی میں استعمال ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ یہاں سیمنٹ کی صنعت نے فروغ پایا۔
نسلی ماخذ اور خاندانی شجرہ نسب
[ترمیم]وادیِ کہون کے مقتدر کہوٹ قبیلے کے ماخذ اور نسب سے متعلق تاریخی مآخذ میں نہایت ممتاز روایات درج ہیں۔
قریشی علوی ماخذ کا دعویٰ
[ترمیم]کہوٹ قبیلے کے موروثی ریکارڈ کے مطابق، وہ اصل میں عرب کے رہنے والے قریشی نسل سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کا نام ان کے ایک نامور جدِ اعلیٰ کے نام پر منسوب ہے جو چوبیس پشتیں قبل گذرا تھا۔ اس قبیلے کی مروجہ تمدنی روایات میں یہ عقیدہ راسخ ہے کہ وہ حضرت علیؓ کے بھائی اور ابو طالب کے فرزند جعفر طیارؓ کی نسل سے ہیں، جس کی گواہی پوٹھوہار کی لوک شاعری میں اس مخصوص مصرعے سے ملتی ہے کہ ”کہوٹ پوترے ابو طالب دے اول آئے“ (یعنی کہوٹ ابو طالب کے فرزندوں میں سے سب سے پہلے یہاں آئے)۔[3]
دہلی سے ہجرت اور نواب علی کا کردار
[ترمیم]سنہ 1359ء میں کہوٹوں کے جدِ امجد سعید نواب علی نے دہلی کے سلطان فیروز شاہ تغلق (بن محمد تغلق) کے عہدِ حکومت میں ہند کے مرکزی دار الخلافہ دہلی کی طرف ہجرت کی اور شاہی دربار سے الحاق کیا۔ سعید نواب علی نے مغلوں اور تغلقوں کے دور میں خطے کی تعمیر و ترقی اور سکیورٹی میں اہم کردار ادا کیا۔
تاریخی ارتقا اور آباد کاری
[ترمیم]کہون کی وادی میں کہوٹ قبیلے کے عروج اور آباد کاری کے سیاسی واقعات درج ذیل تمدنی معرکوں سے مربوط ہیں۔
سیالکوٹ کی عسکری مہم اور سئین پال کا خاتمہ
[ترمیم]سعید نواب علی اور ان کے ساتھی جب دہلی کی طرف پیش قدمی کر رہے تھے تو راستے میں ان کا سامنا سیالکوٹ کے بت پرست ڈوگرا بادشاہ سئین پال سے ہوا۔ کہوٹ عسکری دستوں نے ایک شدید جنگ کے بعد اس غیر مسلم راجا کو شکست دی اور سیالکوٹ پر اپنی بالادستی قائم کی۔ فتح کے بعد وہ دہلی کے شاہی دربار میں حاضر ہوئے اور اپنی جنگی خدمات کے عوض شاہی تحائف وصول کیے۔
دہلی سے مارچ اور وریا مال کا قیام
[ترمیم]دہلی کے سلطان نے کہوٹوں کی دلیری اور عسکری صلاحیتوں کو تسلیم کرتے ہوئے انھیں دھنی اور کوہستانِ نمک کے دامن میں آباد ہونے کا شاہی فرمان جاری کیا۔ سعید نواب علی کے فرزند کہوٹ کی سرکردگی میں اس قبیلے نے دہلی سے عسکری کوچ کیا، جس کا ذکر لوک گیتوں میں ان الفاظ میں محفوظ ہے: ”کہوٹ چڑھیہ دہلیوں ست مار نقارے، چار ہزار بھیڑا اور ہمی ساریں“ (یعنی کہوٹ دہلی سے چار ہزار بھائیوں اور جری ساتھیوں کے ساتھ طبلِ جنگ بجا کر روانہ ہوئے)۔ کہوٹ کی قیادت میں اس قافلے نے کوہستانِ نمک کے دامن میں واقع موضع وریا مال کو اپنا اولین تمدنی مرکز بنایا۔
مغل عہد اور معاشی و انتظامی نظام
[ترمیم]مغلیہ سلطنت کے عروج کے وقت وادیِ کہون کا معاشی اور انتظامی ڈھانچہ کہوٹوں کے کنٹرول میں تھا۔
کلر کہار کا تذکرہ اور بابر نامہ
[ترمیم]جب مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر اپنے عسکری لشکر کے ساتھ کوہستانِ نمک کے دشوار گزار راستوں سے گزرتے ہوئے تاریخی مقام کلرکہار پہنچے، تو کہوٹ قبیلہ اس علاقے میں مضبوطی سے قدم جما چکا تھا۔ مغلوں کی آمد کے وقت مشرقی دھنی کا علاقہ ایک وسیع جھیل یا دلدل کا منظر پیش کرتا تھا، جسے بعد میں بادشاہ بابر کے احکامات کے تحت خشک کر کے قابلِ کاشت بنایا گیا۔[4]
معاشی محصولات کی وصولی
[ترمیم]مغل دربار کی وفاداری کے تحت کہوٹ قبیلے کو پورے علاقے سے محصولات (ریونیو) وصول کرنے کا موروثی حق حاصل تھا۔ کہوٹوں کے سردار اس علاقے میں آباد گوجر گوالوں اور کوہستانِ نمک کے جنجوعہ سرداروں سے محصولات جمع کر کے دہلی کے شاہی خزانے میں جمع کرواتے تھے۔ اس دور میں کہوٹوں کے سردار ”دھونی“ نے نمایاں انتظامی کارنامے انجام دیے، جس کی یاد میں یہ روایتی مصرع گایا جاتا ہے: ”کہوٹ دھونی سرخرو ہویا، سنیاں چنڈال سارے“۔
سماجی حیثیت اور قبائلی عادات
[ترمیم]وادیِ کہون کے کہوٹوں کو پوٹھوہار کے دیگر ممتاز قبائل، جیسے جنجوعہ، مئیر اور کسار، کے برابر ایک معزز زراعت پیشہ جٹ قبیلہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ کہوٹ قبیلہ اپنی غیرت، جنگی مہارت اور تمدنی روایات کی بدولت شاہ پور، گجرات، راولپنڈی، ہزارہ اور جہلم کے اضلاع میں پھیلا ہوا ہے، تاہم ان کا موروثی گڑھ کہون کا خطہ ہی مانا جاتا ہے۔ وہ ایک محنتی اور پرامن کاشتکار معاشرہ رکھتے ہیں جو اپنے خاندانی وقار اور اراضیات کے موروثی ریکارڈ کو برقرار رکھنے کے لیے قبائلی روایات کی سختی سے پابندی کرتے ہیں۔
مشتمل علاقہ جات
[ترمیم]کلرکہار سے چوآسیدن شاہ جانے والے راستے پر اس علاقے میں صدیوں پرانا کٹاس مندر واقع ہے، جو ہندو تہذیب میں اہم مقام رکھتا ہے۔ یہاں ایک قدیم بدھ عبادت گاہ بھی موجود ہے جہاں اشوک بادشاہ نے عبادت کی تھی اور قریبی پہاڑیوں سے دنیا کے قدیم فوسل بھی دریافت ہوئے ہیں۔
وادی کہون میں متعدد گاؤں آباد ہیں جن میں تقریباً اڑھائی لاکھ افراد عرصہ دراز سے رہائش پزیر ہیں۔ بارانی کاشتکاری اور فوجی ملازمت ان کے بنیادی ذرائع معاش ہیں۔ وادی سے تعلق رکھنے والے دیہات میں چوآسیدن شاہ، ڈنڈوت، ملوٹ، چھوئی جندران، سنمبل، وڑالہ، کرولی، خیرپور، دلیل پور، کھنڈوعہ، کھوکھر بالا، ڈلوال، وعولہ، دوالمیال، ڈھیری سیداں، ارڑ، تترال، کٹاس اور ڈھریالہ کہون شامل ہیں۔[5][6]
مزید دیکھیے
[ترمیم]حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ ای۔ ڈی میکلیگن، ایچ اے روز، ذاتوں کا انسائیکلوپیڈیا، بک ہوم، لاہور، 2014ء، جلد 1، صفحہ 1037
- ↑ ایچ اے روز، اے گلوسری آف دی ٹرائبز اینڈ کاسٹس آف دی پنجاب اینڈ نارتھ ویسٹ فرنٹیر پروونس، گورنمنٹ پرنٹنگ، لاہور، 1911ء، جلد 1، صفحہ 133
- ↑ ایچ اے روز، اے گلوسری آف دی ٹرائبز اینڈ کاسٹس آف دی پنجاب اینڈ نارتھ ویسٹ فرنٹیر پروونس، گورنمنٹ پرنٹنگ، لاہور، 1911ء، جلد 2، صفحہ 200
- ↑ ایچ اے روز، اے گلوسری آف دی ٹرائبز اینڈ کاسٹس آف دی پنجاب اینڈ نارتھ ویسٹ فرنٹیر پروونس، گورنمنٹ پرنٹنگ، لاہور، 1911ء، جلد 1، صفحہ 134
- ↑ ندائے کھوکھر، جون 2013ء، چکوال
- ↑ Chakwal District – Howling Pixel[مردہ ربط]
| ویکی ذخائر پر وادی کہون سے متعلق سمعی و بصری مواد ملاحظہ کریں۔ |