کوہاٹ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
کوہاٹ
شہر
Kohattanda.jpg
متناسقات: 33°35′N 71°26′E / 33.583°N 71.433°E / 33.583; 71.433
ملک پاکستان
صوبہ خیبر پختونخوا
حکومت
 • MNA (NA-14) Sheryar Afridi
 • MPA (PK-37 Kohat-1) Amjid Khan Afridi
 • MPA (PK-39 Kohat-3) Imtiaz Qureshi
 • MPA (PK-38 Kohat-2) Zia Ullah Bangash
بلندی 489 میل (1,604 فٹ)
منطقۂ وقت PST (یو ٹی سی+5)
کالنگ کوڈ +92 922
یونین کونسلیں 31
صوبہ خیبر پختونخوا میں ضلع کوہاٹ کا محل وقوع

خیبر پختونخوا پاکستان کا ایک شہر جو ضلع کوہاٹ میں واقع ہے ۔ کوہاٹ (انگریزی: Kohat) اپنے ہيڈکوارٹر کوہاٹ کے نام سے پکارا جاتاہے۔ یہ برِصغير کا ايک پرانا ضلع ہے جس کا ذکر بدھ مت کی قديم کتابوں ميں بھی ملتا ہے۔ عصرحاضر ميں بھی، پاکستان کی سب سے پرانی چھاؤنی، ائربیس (جنگی بیس زیرتعمیر)، گھنڈیالی اور تانڈا ڈیمز، انڈس ھائی وے، فرینڈ شپ ٹنل، فضائیہ اور سگنل ٹریننگ سنٹر کی وجہ سے اس ضلع کو دفاعی اور جغرافیاعی لحاظ سے اہم مقام حاصل ہے.اسکی سرحديں صوبہ پنجاب، ضلع نوشہرہ، اورکزئی ایجنسی، ضلع ھنگو اور ضلع کرک سے ملتی ہیں۔

سارا سال رواں چشموں کی یہ سرزمین مختلف اجناس اور پھلوں کیلۓ کافی زرخیز ہے. امرود کا پھل یہاں کی خصوصی پیدوار میں شامل ہے۔ کوھاٹ روائیتی لحاظ سے ایک تجارتی مرکز ہے جو قبائلی علاقہ جات اور پنجاب کيلئے ايک اہم منڈی کی حيثيت رکھتاہے۔ اکثریئتی بنگش قبائل کے یہ محنتی، بہادراورذھین لوگ سروسز، ٹرانسپورٹ، کاروباراوردفاعی امورمیں کافی ماہر ہیں۔ اردو کے بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعر احمد فراز کا تعلق بھی اسی ضلع سے ہے۔ کوہاٹ میں ہندکو اور پشتو زبان بولی جاتی ہے۔

تانڈا جھیل کوہاٹ
سیلاب میں تانڈا جھیل کوہاٹ

سید آدم بنوری اورحضرت حاجی بہادر بابا کا شمار روحانی شخصيات میں میں ہوتا ہے۔

عجب خان آفریدی آذادی کے ہیرو ہیں.

زبانیں[ترمیم]

کوہاٹ میں بنیادی اور مقامی طور پر دو بڑی زبانیں بولی جاتی ہیں.

1. ہندکو تاریخی اعتبار سے یہ پنجابی زبان کی ایک شاخ ہے جو پوٹھواری اور سرائکی زبانوں سے ملتی جلتی ہے کوہاٹ کے مقامی باشندگان آپسی بول چال کے لیے استعمال کرتے ہیں.یہ زبان تھوڑے بہت فرق کے ساتھ پشاور اور ہزارہ ایبٹ آباد میں بھی بولی جاتی ہے. کوہاٹ کے شہری علاقوں کے علاوہ مغرب میں (شاہپور، بڈھ اور جبی تک) جنوب میں (،قمر ڈھنڈ، سورگل تک)، جنوب مشرق میں (خیرماتو، کوٹ، سیاب) اور مکمل مشرقی علاقوں (توغ،بلی ٹنگ سے خوشحال گڑھ) میں بولی جاتی ہے.

2. پشتو کوہاٹ کی دوسری بڑی زبان ہے جو کہ شہری علاقہ جنگل خیل میں بولی جاتی ہے اس کےعلاوہ مغرب میں (محمدزئی سے رئیسان) ، مشرق میں (توغ پایاں، پشتو گھنڈیالی، تولج)،جنوب میں (تپئی جرمااور مسلم آباد سے لیکر شکردرہ تک) اور شمال کے علاقوں میں بولی جاتی ہے. افغان مہاجرین اور قبائلی لوگوں کے آمد سے حالیہ دہائیوں میں آبادیاتی خصوصیات میں تبدیلی کے بعد، پشتو زبان بولنے والے اکثریت میں ہیں.

اردو قومی ذبان ہونے کی وجہ سے اردو میں بھی بات کی جاتی ہے اور سمجھی جاتی ہے. سرکاری کالونیوں کے علاوہ شہر میں بھی بعض گھرانوں میں بولی جاتی ہے.ایک طرح سے اردو یہاں کی تیسری بڑی زبان ہے۔

مرکزی قبائل[ترمیم]

کوہاٹ کے مرکزی قبائل بنوری، بنگش، کوہاٹی، اورکزئی، خٹک، شینواری اور آفریدی ہیں

ریلوے اسٹیشن 1900
تحصیل گیٹ 1919

ذرائع نقل و حمل[ترمیم]

ریلوے[ترمیم]

کوہاٹ ریلوے اسٹیشن اور ٹریک کی تعمیر کا کام 1897 میں شروع ہو کر 1902 میں مکمل ہوا-

بڑی ریلوے لائن کوہاٹ سے راولپنڈی (براستہ جنڈ ) جاتی ہے۔ اس ٹریک پر مسافر گاڑی چلا کر تی تھی جوکہ 2008ء سے بند ہو گئی ہے۔ اب صرف فوجی مقاصد کیلئے یہ ٹریک استعمال ہوتا ہے۔

اس طرح چھوٹی لائن جو کہ کوہاٹ سے ٹل (براستہ ھنگو ) بچھائی گئی تھی وہ بھی 1991ء سے بند ہو گئی ہے۔ اس ٹریک کی تو پٹڑی تک اکھاڑی جا چکی ہے۔

مختصراً یہ کہ پاکستان ریلوے سے کوہاٹ کے عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا ہے۔

ہوائی اڈہ[ترمیم]

کوہاٹ میں برطانوی دور کا ایک ہوائی اڈہ موجود ہے جو کہ اس وقت کی برطانوی فوج کی نقل و حمل کے لئے بنایا گیا تھا۔ اس ہوائی اڈے کا کنٹرول آج بھی پاکستان ایئر فورس کے پاس ہے.

سڑکیں کوہاٹ اپنے چاروں اطراف سے سڑک کے ذریعے سے ملک کے باقی علاقوں سے جڑا ہوا ہے۔ انڈس ہائی وے(پشاور کراچی ہائی وے ) کی بدولت اس علاقے کی کافی ترقی ہوئی ہے۔ اس شاہراہ پر واقع ہوٹلز اور بس اسٹینڈ ز اور ان سے جڑے ہوئے کاموں کی وجہ سے روزگار کے مواقع . میں اضافہ ہوا ہے۔ کوہاٹ یونیورسٹی کے پاس انڈس ہائی وے پر بہت سے کاروبار کھلے ہیں۔

  • " راولپنڈی روڈ پر بھی کافی ترقیاتی کام شروع ہیں خوشحال گڑھ کے مقام پر پل بھی مکمل ہو گیا ہے جس سے اس علاقے میں ترقی کے وسیع مواقع پیدا ہونے کی امید ہے اور یہی سڑک آگے پاڑہ چنار تک جانی ہے جس کا کوہاٹ ھنگو حصہ بھی مکمل ہونے والا ہے۔ جبکہ ٹل پاراچنار حصہ پہلے ہی مکمل ہے۔ ھنگو پھاٹک کے مقام سے اسی سڑک کو ھنگو روڈ کہا جاتا ہے۔ یہ پورا روڈ دراصلRCD روڈ کا حصہ ہے جو GT روڈ پر ترنول کے مقام سے الگ ہو کر پاراچنار تک رسائی فراہم کرتا ہے۔

شہر کے اندر بھی موجود سڑکوں کی جانب کافی توجہ دی گئی ہے۔ اور ان کی حالت بھی پہلے سے کافی بہتر ہو گئی ہے۔

سرنگ[ترمیم]

کوہاٹ ٹنل( پاک جاپان فرینڈشپ ٹنل ) جنوبی اضلاع کے لوگوں کا حکومت سے ایک بہت دیرینہ مطالبہ، جس پر 1999 میں جاپان کے تعاون سے کام شروع ہوا.


1.89 کلومیٹر طویل اس ٹنل منصوبے کو 2003 جون میں مکمل کر کے ٹریفک کے لئے کھول دیا گیا. اس سے جہاں کوہاٹ سمیت باقی جنوبی اضلاع کا پشاور سے فاصلہ کم ہوا وہیں بڑی گاڑیوں کو بھی سہولتیں ہوئی ہیں. اس سے پہلے کوتل بائی پاس پر ان گاڑیوں کے لئے بہت مشکل حالات ہوتے تھے۔ اس ٹنل کی وجہ سے وقت اور جان ومال کی بھی بچت ہوئی ہے۔


24 فروری 2008 کو دہشتگردوں نے اس ٹنل کے راستے سیکیورٹی فورسز کے لئے سپلائی لیکر جانے والے ٹرکوں کے ایک قافلے پر حملہ کر دیا۔ یہ سپلائی جنوبی وزیرستان جا رہی تھی۔ 27 فروری کو فوج نے آرٹلری، ہیلی کاپٹرز اور ہیوی مشین گنوں کی مدد سے 24 دہشتگردوں کو مار کر ٹرکوں کو بازیاب کرا لیا. اس کے بعد سے ٹنل کا کنٹرول فوج کے پاس ہے.


یہ ٹنل انڈس ہائی وے کا ایک اہم حصہ ہے جو کہ کوتل بائی پاس کا متبادل اور شہروں کے درمیان فاصلے کم کرنے کا زریعہ ،علاقے کی معیشت اور ٹریفک صورتحال کی بہتری میں بھی مددگار ہے.


اس ٹنل پر 6626.75 ملین روپے لاگت آئی اور یہ منصوبہ 48 ماہ میں مکمل ہوا.


ٹنل کی دونوں جانب ٹنل تک رسائی کے روڈ کی ٹوٹل لمبائی 29.8 کلومیٹر ( شمالی حصہ 7.7 کلومیٹر جبکہ جنوبی حصہ 22.1 کلومیٹر ) ہے۔

ٹنل کی لمبائی 1.89 کلومیٹر جبکہ چوڑائی 10.3 میٹر ( بلیک ٹاپ 7.3 میٹر اور کارنر 3 میٹر ) ہے۔

اہم مقامات(پکنک پوائینٹ)[ترمیم]

  • تانڈا جھیل ایک خوبصورت پکنک پوائنٹ ہے. جو کہ تاندہ ڈیم کنارے قدرتی ماحول اور حالت میں لوگوں کو تفریح فراہم کرتا ہے۔ عید اور دوسری تعطیلات بالخصوص موسم گرما میں لوگ بڑی تعداد میں یہاں آتےھیں. مغرب میں کوئی 10کلومیٹر پر واقع شہرسے اس جھیل تک دو راستے آتے ہیں.ایک شاھپور گاؤں سے، جبکہ دوسرا ھنگو بائی پاس (کالوخان بانڈہ) سے ھوکرآتاھے. دوسرا راستہ اپنےحسین مناظرکی بدولت بہت دلفریب ہے. (وادی، ندی، ندی کاپل،پہاڑ اور اس پر بل کھاتی سڑک) بہت ہی سرسبز علاقہ ہے. یہ دنیاکاواحد ڈیم ہے جوصرف600میٹر بند (جنوبی طرف)لگا کر بنایاگیاھے. باقی سب اطراف پہاڑ ہیں۔ جھیل سے نکلی نہروں کے ذریعے شاہپور، قمر ڈھنڈ، سورگل، چمبئی، جرما، تپی، میروزئی، ڈھوڈہ، کوٹ، خیرماتو، غلام بانڈہ، توغ، بہادرکوٹ ، کالوچنہ اور شیخان سمیت کوئی 30فیصد دیہات کوسیراب کیا جاتا ہے.‏
  • کے ڈی اے پارک شہرسے متصل ترقیاتی اور انتظامی محکموں،اداروں کے دفاتر کے لیے مختص یہ (سرخ مٹی اور پتھروں کا تہ درتہ پہاڑی) علاقہ، ضلعی حکومت، ایکسائز آفس، بیت المال، پاسپورٹ آفس اور نادرا آفس سمیت ڈسٹرکٹ ھسپتال،کئ بینکوں اور ملٹی نیشن کمپنیوں کے دفاتر اور پرائیوٹ سکولوں کی وجہ سے ماڈرن سٹی کا منظرپیش کرتاھے جو انتظامی طورپر کوئی14سیکٹرزمیں تقسیم ہے. سکیٹر9میں بچوں اور خواتیں کے لیے دو بہت خوبصورت (کےڈی اے)پارک بناۓ گۓ ہیں. جہاں موجود بچوں کے جھولے، گھاس کےقطعے اور پھول خوبصورتی کودوبالا کرتے ہیں. پارک کےمغرب سےشہرکا نظارہ کیاجاسکتاھے. یہ منظر شام(غروب آفتاب) یا رات کو بہت حسین ہوتا ہے.یہاں سے نیچےوالی پہاڑی پربنی بھورے رنگ کی ٹائلوں اور شیشے سے مزئین مسجد (گولڈن ماسق)کا نظارہ بھی دیدنی ہوتا ہے. صحن میں لگے فواروں، گھاس اور گارڈینا کی جھاڑیوں اور اردگرد بنے چھوٹے پارکوں نے مسجدکےحسن کو چار چاند لگا دیۓ ہیں. مسجدکےجنوبی دروازے سے وادی کا نظارہ بہت سحرانگیز ہے۔

ہرسیکٹر میں کھیلوں کے میدان ہیں. جن میں سیکٹر 8 فٹبال، سیکٹر 10 ھاکی اور سیکٹر 6 کرکٹ گراؤنڈ بہت مشہور ہیں. ھر سیکٹر کی اپنی شاپنگ مارکیٹ ہے.جہاں ضرورت کی اشیاء باآسانی ملتی ہیں.

  • چشمہ جات یہ جگہ پرانے بس سٹینڈ کے پاس ہی ہے. ٹھنڈے، میٹھے پانی کے چشموں پر نہانے کا الگ مزہ ہے. جنگل خیل گاؤں کے شمال میں زیارت(بینے بابا) کے چشموں کاپانی بہت ہی ٹھنڈا ہے.کیونکہ اس جگہ درختوں کی بہتات ہے.‏
  • جوزارہ یہ جگہ شہر کے مغرب میں ھنگو روڈ پر کوئی 25کلومیٹر پر واقع ہے۔ یہاں کے ٹھنڈے اور میٹھے پانی کے چشمے انسان پر الگ ہی طرح کا سرور طاری کر دیتے ہیں۔ گرمی کی دوپہر میں یہاں آ کر ایک عجیب سا نشہ چھا جاتا ہے۔ اس جگہ کا اصل حسن پاس سے گزرنے والی بل کھاتی سڑک سے دکھائی دیتا ہے . گھاس کے میدان، ریلوے لائن، چشموں کا شفاف پانی.اور درختوں کے جھنڈ...... اور یہ سب کچھ ایک دوسرے کے متوازی.
  • ڈھوڈہ شریف شہر سے جنوب مشرقی طرف کوئی 22 کلومیٹر دور، یہ ایک بزرگ اور ولی اللہ کا مزار ہے جس کے پاس سے کوہاٹ توئی کا پانی ایک دریا کی صورت میں گزرتا ہے ۔ اس مقام سے پہلے گودی بانڈہ کے مقام پر کوہاٹ توئی میں ،کوہاٹ کے چشموں کا پانی شامل ہونے کی وجہ سے دریا کچھ تیز ہوجاتاہے. یہاں پر درختوں اور دریا کی وجہ سے کچھ رونق ہوتی ہے۔
  • بادو زیارت یہ بھی ایک چشموں اور دریا پر مشتمل پکنک پوائنٹس والی جگہ ہے جو کہ شہر سے تقریباً 35 کلومیٹر دور جنوب مشرق میں واقع ہے۔ کوہاٹ توئی جو ڈھوڈہ شریف کے پاس سے ہو کر گزرتی ہے اس جگہ پر موجود چشموں کے پانی سے اور بھی تند وتیز ہو جاتی ہے۔ چشموں کے اردگرد درختوں کے جھنڈ اور گھاس کے میدانوں پر لوگوں کے گروپ اپنے شغل میں مصروف ہوتے ہیں۔ اپنے ساتھ لائے ہوئے سامان سے پکوان تیار کر رہے ہوتے ہیں تو کوئی دریا یا چشموں سے شکار کی ہوئی مچھلی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ مارچونگی گاؤں کے پار اس دریا کا نظارہ بہت دلفریب ہے۔ مگر یہ کنارہ صرف مچھلی کے شکاریوں کے لئے بہتر ہے کیونکہ یہاں پر کوئی سایہ دار درخت نہیں ہے ۔ صرف سردیوں میں کچھ گروپ یہاں آتے ہیں۔ یا پھر شام کے وقت کچھ چہل پہل ہوتی ہے۔
  • 1924 کے کوہاٹ فسادات یہ فسادات اپنی نوعیت کے بڑے سکھ ہندو مخالف فسادات تھے جو برطانوی ہند کے شمال مغربی سرحدی صوبے میں کوہاٹ شہر میں، 1924ء میں برپا ہوئے۔ فسادات کے تین دنوں (9–11 ستمبر) میں، 155 ہندو اور سکھ ہلاک ہوئے۔ ہندو اور سکھ آبادی کو جانیں بچانے کے لیے وہاں سے بھاگنا پڑا۔ موہن داس گاندھی نے اکتوبر 1924ء میں 21 دنوں تک ہندو مسلم اتحاد کے لیے روزہ رکھا۔