ضلع کوہاٹ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
صوبہ خیبر پختونخوا میں ضلع کوہاٹ کا محل وقوع

خیبر پختونخوا کا ایک ضلع۔ ضلع کوہاٹ اپنے ہیڈکوارٹر کوہاٹ کے نام سے پکارا جاتاہے۔یہ برِصغیر کا ایک پرانا ضلع ہے۔کوہاٹ کا ذکر بدھ مت کی قدیم تاریخ میں بھی پایا جاتا ہے۔زمانہء حال میں بھی اس ضلع کو جغرافیائی ، عمومی اور دفاعی اعتبار سے خصوصی اہمیت حاصل ہے یہاں پر پاکستان کی سب سے پرانی چھاونی موجود ہے۔۔اس ضلع کی سرحدیں اورکزئی ایجنسی ،ضلع پشاور ،صوبہ پنجاب، ضلع ہنگو اور ضلع کرک سے ملتی ہیں۔ عجب خان آفریدی اور فوجی چھائونی نے کوہاٹ کو ایک ناقابلِ فراموش داستان بنادیا ہے۔کوہاٹ زرعی اعتبار سے اور خصوصاً میوہ جات کی وجہ سے کافی زرخیزہے۔ امرود کا پھل یہاں کی خصوصی پیدوار میں شامل ہے۔ روایتی لحاظ سے یہ ایک تجارتی مرکز ہے۔قبائلی علاقہجات اور پنجاب کے لیے ایک اہم منڈی کی حیثیت رکھتاہے۔ یہاں کے لوگ بہت ذہین اور محنت کش ہیں۔ ٹرانسپورٹ اورسروسِز میں یہ لوگ کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ساتھ ساتھ یہاں کے لوگ دفاعی امور میں بھی کافی مہارت رکھتےہیں۔ ڈیم، اہم فوجی تنصیبات ،انڈس ہائی وے اور کوہاٹ سُرنگ کی تعمیر کی بدولت یہ ضلع کافی اہمیت رکھتا ہے۔ کوھاٹ میں اکثریت بنگش قبائیل کی ہے۔ اردو کے بین الاقوامی شہرت رکھنے والے شاعر احمد فراز کا تعلق بھی اسی ضلع سے ہے۔ کوہاٹ میں ہندکو اور پشتو زبان بولی جاتی ہے۔

شماریات[ترمیم]

ضلع کا کُل رقبہ 2545 مربع کلومیٹر ہے۔

یہاں فی مربع کلو میٹر 275 افراد آباد ہیں

سال 2004-05میں ضلع کی آبادی 700000 تھی

دیہی آبادی کا بڑا ذرہعہ معاش زراعت ہے۔

کُل قابِل کاشت رقبہ 71210 ہیکٹیرزھے

ضلع کوہاٹ کا تقریباً %70 علاقہ زراعت پر مشتمل ہے جس میں بہادر کوٹ، خرماتو، ڈھوڈہ، کوٹ، سیاب، گھنڈیالی، بلی ٹنگ، توغ، کالوچنہ، شیخان، شاہ پور، محمد زئی اور شیرکوٹ کے علاوہ سور گل، چمبئی، بڈھ، تک کا علاقہ نہایت ہی زرخیز ہے۔ اکثر علاقے کو تاندہ اور گنڈیالی ڈیموں سے سیراب کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ کنوں کے پانی کو بھی زراعت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔