ضلع بونیر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ضلع بونیر
ضلع
ضلع بونیر
ضلع بونیر کا محل وقوع
ضلع بونیر کا محل وقوع
ملک پاکستان
صوبہ خیبر پختونخوا
ہیڈکوارٹر ڈگر
رقبہ
 • کل 1,865 کلو میٹر2 (720 مربع میل)
آبادی (خانہ و مردم شماری پاکستان 2017ء)
 • کل 897,319
 • کثافت 480/کلو میٹر2 (1,200/مربع میل)
منطقۂ وقت پاکستان میں وقت (UTC+5)
تعداد تحصیل 4
تعداد یونین کونسل 27

بونیرyخیبر پختونخوا کا ایک ضلع ہے۔ اس کو 1991ء میں ضلع کا درجہ ملا جس سے پہلے اس حیثیت ضلع سوات کی ایک تحصیل کی تھی۔

تحصیلیں[ترمیم]

ضلع بونیر چھ سب ڈویژن پر مشتمل ہے۔

اس ضلع کو ہُنرمند افرادی قوت، خوبصورت قدرتی مناظر، گھنے جنگلات اور معدنی دولت کی وجہ سے ملا کنڈ ڈویژن میں مرکزی حیثّیت حاصل ہے۔ یہاں زیادہ تر لوگ پشتو زبان بولتے ہیں۔ تعلیمی اور کاروباری حوالے سے یہ ضلع خیبر پختون خواہ کے ترقی یافتہ اضلاع میں شمار ہوتاہے۔

شماریات[ترمیم]

بونیر ضلع کا کُل رقبہ1865 مربع کلومیٹر ہے۔

یہاں فی مربع کلو میٹر 352 افراد آباد ہیں۔

مئی 2004ء میں ضلع کی آبادی 656000 تک پہنچ گئی۔

دیہی آبادی کا بڑا ذریعۂ معاش زراعت ہے۔

کُل قابِل کاشت رقبہ 55420 ہیکٹیرز ہے۔

#ضلع_بونیر

ضلع بونیر خیبر پختونخوا کی وہ شمالی ضلع ہے جو اپنی قدرتی حسن وجمال کی وجہ سے ایک اعلیٰ مقام رکھتا ہے ۔یہاں کی بلندوبالا پہاڑیں شور کرتی ابشاریں اور صاف شفاف بہنے والی ندیاں ضلع بونیر کی خوبصورتی کی عکاسی کرتا ہے۔ضلع بونیر نوک دار چٹانوں اور خوبصورت ڈھلوانوں کے ساتھ نہایت دلفریب وادی ہے۔ یہاں کے جنگلات بہت گنے اور بڑے پیمانے پر پھیلے ہوئے ہیں ان جنگلات میں میں مختلف قسم کے جانور پائے جاتے ہیں۔۔ یہ واحد ضلع ہے جس کی بارڈر چھ مختلف اضلاع سے لگی ہیں یہاں کے سیاحتی مقامات میں سے پیربابا،دیوانہ بابا،کلیل،ایلم ،چغرزی ،سرملنگ،آسمانی موڑ ،قادرنگر ،مولا بانڈہ ،اور گوکند نمایاں ہیں۔ یہاں کے پہاڑوں میں مختلف قسم کے معدنیات پائے جاتے جن میں ماربل ،کوئلہ یورینیم اور قیمتی پھتر قابل ذکر ہیں۔ یہاں کے لوگ جفاکش،امن پسند،مخنتی اور مہمانواز ہیں۔ضلع بونیر کے زیادہ تر لوگ تعلیم سے آشنا ہیں تعلیم کے ساتھ ساتھ کھیتی باڑی اور کاشتکاری بھی کرتے ہیں۔یہاں کی زمینیں زرخیز جس کی وجہ سے مختلف قسم کی فصل اگائی جاتی ہیں۔ یہاں کے لوگ قاعدے اور قانون کے پابند ہیں۔کھبی بھی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی ہیں۔ یہاں کے پولیس اور آرمی اپنی ذمہ داری اچھے طریقے سے نبھا رہے ہیں یہ ضلع 7 تحصیل اور 27 یونین کونسلز پر مشتمل ہیں۔یہاں کی آبادی 897،319 ہیں۔اس ضلع میں بت مت کے مانے والوں کے آثار بھی پائے جاتے ہیں۔یہاں پٹھانوں کے علاوہ ہندو اور سکھ بھی رہتے ہیں یہاں ان کے عبادت گاہیں بھی ہیں جس میں وہ اپنی عبادت کرتے ہیں آبادی کی تناسب سے صوبائی اسمبلی کے تین ممبرز اور قومی اسمبلی کے ایک ممبر ہیں۔اس ضلع کو 1991 میں ضلع کی حثیت دی گئی تھی اس سے پہلے یہ ضلع سوات اور مالاکنڈ کے ساتھ شمار کیا جاتا تھا۔ضلع بونیر کی تاریخ بہت دلچسپ ہیں سن 27۔326ع میں سکندر یونانی نے ضلع بونیر کا ایک علاقہ درہ امبیلہ کو اپنی گزرگاہ بنایا تھا۔آج بھی یہ روٹ عسکری اور تجارتی مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہے۔دور اکبری میں مغلوں کی ایک بڑی مشہور لڑائی سن 1587 میں یہاں لڑی گئی اس لڑائی میں 800 مغل مارے گئے جس میں ایک مشہور شحص بھی تھا جو اکبر کی نورتنو میں سے سب سے اہم تھا جس کا نام بیربل تھا

ان عظیم تاریخ کے ساتھ ضلع بونیر چند مسائل کا شکار ہیں یہاں کا سب سے بڑا مسئلہ گیس کا ہے اگر گیس کا مسلہ حل کیا گیا تو یہاں کے جنگلات کو تحفظ مل سکتی ہیں۔گیس نہ ہونے کی وجہ سے لوگ لکڑیوں کو بطور ایندھن استعمال کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے جنگلات میں حاطر حوا کمی آرہی ہیں۔دوسرا مسلہ سیاحتی مقامات کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھا ہیں اگر ان مقامات وہ سہولیات دی گئی تو یہ مقامات سیاحت کا مرکز بن سکتا ہیں۔ ایک مسلہ یہاں کے گراونڈوں کا ہیں اگر اس پر توجہ دی گئی تو یہاں کے ویران گراونڈ آباد ہو سکتے ہیں اور کھیل کو فروع مل سکتا ہیں ایک اور مسلہ ان گاوں کی سڑکوں کا ہیں جو پہاڑوں میں ہیں ان سڑکوں پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہیں اگر یہ سڑکیں تعمیر کیے گئے تو یہ علاقے سیاحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں

ہم حکام بالا سے یہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ مشکلات حل کی جائے جس کا سامنا ہم لوگ کر رہے ہیں ہم یہاں کے ایم این اے اور ایم پی ایز سے مطالبہ کرتے ہیں کہ یہاں سرکاری گراؤنڈز، گیسٹ ہاؤس،مساجد اور سرکاری پارکس تعمیر کی جائے اور اس کے ساتھ ساتھ تعلیم،بجلی اور صحت پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہیں اگر یہ مطالبات مانے گئے تو ضلع بونیر کے لوگوں میں خوشحالی کی لہر اٹھ سکتی ہیں۔