ضلع شانگلہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
صوبہ خیبر پختونخوا میں ضلع شانگلہ کا محل وقوع

شانگلہ پاکستان کے خیبر پختونخوا میں واقع ایک ضلع ہے۔ انتظامی طور پر ضلع شانگلہ دو تحصیلوں الپوری اور پورن پر مشتمل ہے۔ بشام، چکیسر،کابلگرام اور مارتونگ یہاں کے اہم مقامات ہیں۔جبکہ بشام ضلع شانگلہ کا مرکزی شہر اور دنیا کے آٹویں عجوبے شاہراقراقرم پر واقع ہے۔بشام شہر چو بیس گھنٹے کھلا رہنے والا شہر ہے اور یہ شہر بٹگرام،کوہستان،تورغر اور شانگلہ کے سنگم پر واقع ہےاور کاروباری مرکز ہے۔ ضلع شانگلہ کے ضلعی دفاتر الپوری میں واقع ہیں۔ سرکاری طور پر ضلع متعین ہونے سے پہلے شانگلہ ضلع سوات کی ایک تحصیل تھا اور یکم جولائی 1995ء کو اسے ضلع بنا دیا گیا۔ اس ضلع کا کل رقبہ 1586 مربع کلومیٹر ہے۔

انسانی ترقی کے پیمانے میں شانگلہ کا شمار ملک کے پسماندہ ترین علاقوں میں ہوتا ہے۔ خیبر پختونخوا میں یہ سب سے پسماندہ جبکہ پاکستان میں یہ دوسرا سب سے پسماندہ علاقہ ہے۔ اس ضلع شانگلہ میں امیر مقام نے 15 سال تک لوگوں سے ووٹ لے کر کچھ بھی کام نہیں کیا اس وجہ سے یہ علاقہ بہت پسمندہ علاقہ ہیں اس ضلع میں ایک علاقہ چغرزئی آباد ہیں چغرزئی میں بہت سے انچہا انچہا پہاڑ ہے اور یہاں پر بہت سے گاؤ موجود ہے ان میں کچھ بڑی بڑی گاؤ کے نام کچھ اس طرح سے ہیں پیشلوڑ اور توتیالانو. اور دانکول. اور بہار چورانو. اور کماچ دیدل نصرت خیل.. اور بھی بہت سے گاؤ اس ضلع شانگلہ چغرزئی میں آباد ہے مگر اس علاقے کو سیاست دانوں نظر آنداز کیا ہوا ہے اس علاقے ہر الکشن میں امیر مقام ووٹ لے تھا ہے آج تک امیر مقام نے کچھ بھی کام نہیں کیا لیکن یہاں پر ایک بہادر اور غیرتی نام کے ایک شخص موجود ہے اس کا نام ہے سکٹری اورنگ زیب خان صاحب اورنگ زیب خان صاحب کو اللہ تعلی نے ایک غیرتی فرزند عطا کیا ہوا ہے اس کا نام ہے فیصل زیب خان..جناب فیصل زیب خان صاحب..1/1/2017میں سیاست میں قدم رکھتے ہوئی فورآ علاقے کی قسمت کو تبدیل کردیا گیا یہاں پر وہ ابھی تک نہ ایم پی اے ہیں اور نہ وزراعلی فیصل زیب حکومت میں نہیں ہے سیاست میں ابھی سے قدم رکھا ہوا ہے لیکن اس نے اپنا ضلع شانگلہ چغرزئی کی عوام کو بہت سے سہولت شروع کردیا ہے یہاں پر پہلے سے امیر مقام اس علاقہ میں جاگرداری کرتے ہوئے 15 سال گزرگئ مگر آج تک نہ اسکول اور نہ روڈ اور نہ کچھ اور کوئی طرقیاتی کام کیا...یہاں ضلع شانگلہ چغرزئی میں فیصل زیب خان نے بہت سے طرقیاتی کام شروع کردی اس طرقیاتی کاموں میں اور چوڑق باؤڑو اور دانکول اور مئیرا اور ڈانڈوقا اور لنڈی نسکو اور اتیشت کوٹکے اور کماچ دیدل یعنی پورا نصرت خیل یونین کونسل کی عوام اور بالولخیل یونین کونسل کی عوام اور مارتونگ پورن کابل گرام بہار کی عوام اور خاص کر گاؤ نخترو گلشن سر کی عوام جناب فیصل زیب خان نہایت مشکور ہیں ان سے بہت خوش ہے اور یہ عوام فیصل زیب کیلئے دعا گوں ہیں کہ اللہ تعلی فیصل زیب خان کو اس علاقہ ایم پی اے بنادے اللہ تعلی فیصل زیب خان کو کامیابی عطا کرے اور اللہ پاک فیصل زیب خان کو لمبی عمر عطا کرے اور اللہ پاک فیصل زیب خان کو لمبی عمر عطا فرمائے..آمین..اللہ تعلی ہماری اس ضلع شانگلہ کی عوام میں اتفاق اور اتحاد پیدا فرمائ. آمین...میں داؤد شاءیوسفزئی گاؤ نخترو گلشن سر سے آپ ضلع شانگلہ کے تمام بھائیوں التماس کرتا ہو. کی جاگ جاؤ اور اپنا آپ میں اتفاق پیدا کرو. ایک ہو جاؤ اپنے علاقے کے طرقی کیلئے ایک ساتھ ایک ہاتھ پر فیصل زیب خان کو 2018 میں کامیاب کرے آپ فیصل زیب خان کو کامیاب کرے گے تو ان شاءاللہ مزید ہمارے اس پسمندہ علاقہ میں وہ بہت سے سہولت کام کرے گے یہا پر چغرزئی میں روڈوں کا کام فیصل زیب خان نے کر دیا ہے مگر یہاں پر اور بھی بہت سے مسائل ہے یہا نہ کالج ہے مڈل اسکول ہے نہ اور نہ کوئی ڈسپنسری ہسپتال ہے یہاں پر یعنی بہت سے مسائل ہے وہ مسائل ان شاءاللہ فیصل زیب حال کرے گے لیکن آپ اس کو اپنا ووٹ سے کامیاب بنا دے...اللہ تعلی ہمارے اس ضلع شانگلہ کی عوام میں اتفاق و اتحاد پیدا فرمائے..آمین. آمین...

محل وقوع[ترمیم]

شمال میں شانگلہ کی سرحد ضلع کوہستان، مشرق میں ضلع بٹگرام اور کالا ڈھاکہ جبکہ مغرب میں ضلع سوات سے ملتی ہے۔ ضلع شانگلہ کے جنوب میں ضلع بونیر واقع ہے۔

شانگلہ ٹاپ اس ضلع کو دوسرے اضلاع سے ملانے کا واحد ذريعہ ہے۔ يہ ضلع سواتى قبيلے کا آبائى وطن ہے۔ دریائے سندھ اسکے قريب بہتا ہے۔ ضلع شانگلہ اونچے پہاڑوں، تنگ درّوں، صنوبر، چيڑ اور ديودار کے گھنّے جنگلات کى سر زمين ہے۔ جنگلات ہى لوگوں کى معاشى زندگى اور آمدن کا واحد ذريعہ ہے۔صرف تنگ درّوں ميں کچھ کھيتى باڑى ہوتى ہے۔ لوگوں کى طرزِ زندگى قبائلى روايات اور مکمّل ديہاتى ماحول پر مشتمل ہے۔


تاریخ[ترمیم]

پیرسر، چکیسر اور داوت کے مقامات پر قدیم یونانی اثرات کی حال ہی میں دریافت ہوئی ہے۔ یہاں یہ خیال عام ہے کہ سکندر اعظم نے پیر سر کے مقام پر کئی روز تک اپنے لشکر سمیت پڑاؤ ڈالا تھا۔ ہندو شاہی اور قلندر اجمیری کے یہاں قیام اور اثرات ملے ہیں۔


جغرافیہ[ترمیم]

ضلع شانگلہ کئی وادیوں پر مشتمل علاقہ ہے جو رقبہ کے لحاظ سے عظیم تصور نہیں کی جاسکتیں۔ یہاں بلند وبالا پہاڑ ہیں جو گنجان جنگل ہیں جن میں پنڈرو، فر، کیل، چیڑ اور دیودار کے جنگلات شامل ہیں۔ سطح سمندر سے یہ علاقہ تقریباً 2000 سے 3000 میٹر بلند ہے۔ یہاں کا بلند ترین مقام کوز گنرشال ہے جو 3440 میٹر بلند ہے اور ضلع کے انتہائی شمال میں واقع ہے۔ جنگلی سبزیوں کی پیداوار کے لحاظ سے یہ علاقہ موزوں ترین تصور کیا جاتا ہے اور یہاں پانی کے بہاؤ سے بجلی پیدا کرنے کے کئی مواقع دستیاب ہیں۔ خان خوڑ میں حال ہی میں ایک ایسا منصوبہ تیار کیا گیا ہے جس کی مدد سے مقامی سطح پر بجلی پیدا کی جائے گی۔

شماریات[ترمیم]

  • ضلع کا کُل رقبہ 1586 مربع کلوميٹر ہے۔
  • یہاں في مربع کلو میٹر 341 افراد آباد ہيں
  • سال 2015ميں ضلع کي آبادي 670000 تک پہنچ جائے گي ۔
  • دیہى آبادى کا بڑا ذریعہ معاش زراعت ہے ۔
  • کُل قابِل کاشت رقبہ 41750 ہيکٹيرز ہے۔