ضلع ڈیرہ اسماعیل خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
خیبر پختونخوا کا نقشہ جس میں زرد رنگ ڈیرہ اسماعیل خان کو ظاہر کر رہا ہے

خیبر پختونخوا کے جنوب میں پاکستان کا ایک شہر اور اسی نام کے ایک ڈویژن کا ایک ضلع دریائے سندھ کے مغربی کنارے آباد ہے۔ لوگوں کا ذریعہ معاش کھیتی باڑی اور جانور پالنا ہے۔ اس علاقے میں چترالی اور پشتو زبان بولی جاتی ہے۔ یہاں کے قدیم باشندے لکھیسر قوم سے تعلق رکھتے ہیں۔ جو کوہاٹ سے آئے تھے اور یہاں سکونت اختیار کی تو یہیں کے ہو رہے لکھیسر قوم کا بنیادی پیشہ اسلحہ سازی تھا اور آج بھی یہ لوگ اسلحہ کی مرمت کا کام کرتے دکھائی دیتے ہیں اسی نسبت سے ان کے کچھ لوگوں نے لوہار کاکام بھی کیا۔ اس پیشے سے کئی لوگ منسلک ہیں۔ ایک عرصہ تک لکھیسر قوم کے پاس ڈیرہ کا بہت سا علاقہ ملکیت میں تھا لیکن بعد میں وہ انہی زمینوں کو بیچ کر اپنی قوم کو پسماندہ کر گئے۔ ڈیرہ اسماعیل خان شروع میں زیادہ تر علاقہ غیر آباد تھا لیکن بعد میں اس علاقے میں کھیتی باڑی کو کافی ترقی دی گئی اور بڑے بڑے فارم ہاؤس بنائے گئے۔ ٹیوب ویل لگا کر آبپاشی کے نئے نئے طریقے اپنائے گئے۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک یونیورسٹی گومل یونیورسٹی کے نام سے ہے۔ اس کے علاوہ میڈیکل کالج بھی وہاں کام کر رہا ہے۔ علاقے کی سب سے مشہور سوغات سوہن حلوہ جو پورے پاکستان میں مشہور ہے۔ علاقے کا موسم شدید ہے اور یہاں سخت گرمی پڑتی ہے۔ بارشیں بہت کم ہوتیں ہیں۔ اس لیے آبپاشی زیادہ تر ٹیوب ویل سے ہوتی ہے۔ قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمن کا تعلق بھی اسی علاقے سے ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر فیصل کریم کنڈی کا تعلق بھی ڈیرہ اسماعیل خان سے ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان جو کبھی امن و آشتی کا مظہر تھا ان دنوں فرقہ وارانہ فسادات اور دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے۔