ضلع چترال

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
چترال ‎
ݯھترار
ضلع
Chitral Fort.JPG
ملک پاکستان
صوبہ خیبر پختونخوا
تعمیر ۱۹۶۹
حکومت
 • امحتار شہزادہ افتخار الدین
علاقہ
 • کل 14,850 کلو میٹر2 (5,730 مربع میل)
منطقۂ وقت وقت (یو ٹی سی+۵)
تحصیلوں کی تعداد ۲
ویب سائٹ ‏ اصل رابطہ ‏

چترال خیبر پختونخوا پاکستان کا ایک ضلع ہے جوکہ ہندوکش کے پہاڑوں کے دامن میں واقع ہے ، ضلع چترال کی ایک تحصیل کا نام بھی چترال ہے ، چترال کی مناسبت سے یہاں کی زبان کھوار کو چترالی بھی کہا جاتا ہے اور چترال کے لوگوں کو بھی چترالی کہا جاتا ہے،یہ ضلع ترچ میر کے دامن میں واقع ہے جو کہ سلسلہ کوہ ہندوکش کی بلند ترین چوٹی ہے۔ اس کي سرحد افغانستان کی واخان کی پٹی سے ملتی ہے جو اسے وسط ایشیا کے ممالک سے جدا کرتی ہے۔ رياست کے اس حصے کو بعد ميں ضلع کا درجہ ديا گيا۔ اور صوبہ خیبر پختونخوا کے مالاکنڈ ڈويژن سے منسلک کيا گيا۔ اپنے منفرد جغرافيائي محلِ وقوع کي وجہ سے اس ضلع کا رابطہ ملک کے ديگر علاقوں سے تقريباپانچ مہينے تک منقطع رہتا ہے۔ اپني مخصوص پُر کشش ثقافت اور پُر اسرار ماضي کے حوالے سے ملفوف چترال کي جُداگانہ حيثّيت نے سياحت کے نقطہءنظر سے بھي کافي اہميّيت اختيار کر لي۔ جنگ افغانستان کے دوران اپني مخصوص جغرافيائي حيثيت کي وجہ سے چترال کي اہميّت ميں مزيد اضافہ ہوا۔ موجودہ دور ميں وسطي ايشيائي مسلم ممالک کي آزادي نے اس کي اہميت کو کافي اُجاگر کيا۔ رقبے کے لحاظ سے يہ صوبہ کا سب سے بڑا ضلع ہے۔

چترال پاکستان کا قدیمی لوک و تاریخی ورثہ کا حامل ہے ،بادشاہ منیر بخاری کے مطابق چترال میں 17 زبانیں بولی جاتی ہیں اور اس کی کل آبادی چار لاکھ نفوس پر مشتمل ہے ،لیکن چترال سے تعلق رکھنے والے اردو اور کھوار زبان کے ممتاز ادیب، شاعر، محقق اور صحافی رحمت عزیز چترالی نے چترال میں بولی جانے والی زبانوں کی تعداد چودہ لکھئ ہے۔

تاریخ[ترمیم]

چترال پہلے پاکستان کا حصہ نہیں تھا_ یہ ایک الگ ریاست تھی پھر بعد میں پاٹا میں شامل ہوگیا اور بالآخر خیبر پختونخوا کا ضلع بن گیا۔

انتظامیہ ،سیاحت و ثقافت[ترمیم]

چترال پاکستان کے تمام تر علاقوں میں اپنا ایک الگ مقام رکھتا ہے۔اس کی طرف سیاحت اور تفریح کے لئے لوگ نہ صرف پاکستان بلکہ دوسرے ممالک سے آتے ہیں۔یہاں پہ کلاش نام کے لوگ ہیں جنہوں نے یہاں کی سیاحت کو ایک اور خوبصورت رنگ دیا ہے۔چترال پاکستان کے چند ان علاقوں میں ہے جو بلند سطح پہ واقع ہیں۔چترال میں اکثر تو کھوار زبان بولی جاتی ہے تاہم پشتو زبان کا بھی بہت گہرا رسوخ ہے ۔چترال جانے کے لئے دو راستے ہیں ایک لوری پاس کے ذریعے اور دوسرا دیر (قصبہ) کے ذریعے۔چترال کو انتظامی لحاظ سے دو تحصیلوں میں تقسیم کیا گیا ہے ایک تحصیل چترال اور دوسرا تحصیل مستوج۔ان دو تحصیلوں میں 24 یونین کونسلیں ہیں۔

زبانیں[ترمیم]

کھوار چترال کی سب سے بڑی زبان ہے اس کے علاوہ چترال میں پالولہ، دامیلی، کالاشہ، یدغہ، وخی، فارسی ،پشتو اور دیگر زبانیں شامل ہیں۔

چترال کے نمایاں شعراء[ترمیم]

کھوار اکیڈمی کے حالیہ سروے کے مطابق کھوار زبان کے شعرا کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔ اور شعرا کے مجموعہ کلام بھی شایع ہورہے ہیں۔ چترال کے چند ممتاز شعرا مندرجہ زیل ہیں۔-

شماريات[ترمیم]

چترال ضلع کا کُل رقبہ14850 مربع کلوميٹر ہے۔

یہاں في مربع کلومیڑ 25 افراد آباد ہيں

سال 2004-05ميں ضلع کي آبادي 378000 تھی

دیہی آبادي کا بڑا ذریعہ معاش زراعت ہے۔

کُل قابِل کاشت رقبہ 22550 ھيکٹيرزہے

بیرونی روابط[ترمیم]

میونسپل کی ویب سائٹ