ضلع بالائی کوہستان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
صوبہ خیبر پختونخوا میں ضلع بالائی کوہستان کا محل وقوع

جو ہزارہ ڈویژن میں آتا ہے

ضلع بالائی کوہستان خیبر پختونخوا عجب جغرافيائي اہميّت اور حکمتِ عملانہ مقصديت کا حامل ہے۔ اس کی سرحدیں شمالى علاقہ جات، ملا کنڈ ڈویژن اور ضلع زیریں کوہستانسے ملتی ہيں۔ شاہراہِ قراقُرم کي گزرگاہ ہونے کي بناء پر اس ضلع ميں شعبہء سياحت کي بہتري کيلئے کافی استعداد موجود ہے۔ ہزارہ ڈويژن کے وجود سے 1976 ميں کوہستان بحیثت ضلع وجود ميں آيا۔ یہ چار سب ڈويژن داسُو ، کندیا, پالس اور پٹن کے اشتملات پر مشتمل تها۔ آصف علی زرداری کےدورصدارت میں تحصیل پٹن اورتحصیل پالس کوملاکر ضلع زیریں کوہستان کےنام سےایک نیاضلع بنایاگیااورتحصیل کندیااورتحصیل داسوپرمشتمل ضلع بالائی کوہستان وجودمیں آیا

1976 کےتباہ کُن زلزلے کے بعد اس پسماندہ ضلع کی تعمير و ترقی کی ذ مہ داری کوہستان ڈيويلپمنٹ بورڈ کے سپرد کر دی گئی تهی۔ اگرچہ بعد میں بورڈ کا خاتمہ ہوا لیکن ترقیاتی سرگرمیوں نے اپني رفتار برقرار رکھی جغرافیائی دوری معاشی اور معاشرتی کمزوری یہاں کے اہم مسائل ہیں۔ غربت عروج پر ہے۔اب یہاں حکومت داسوڈیم کےنام سے ایک ڈیم بھی بنا رہی ہے جو علاقےکی خوشحالی کاباعث ہوگا

2014ء میں ضلع کوہستان کو ضلع بالائی کوہستان اور ضلع زیریں کوہستان میں تقسیم کر دیا گیا جس کے بعد صوبے میں اضلاع کی تعداد 26 ہو گئی ہے۔ [1]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]