گوجری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
گوجری
Gojri, Gurjari
مقامی افغانستان، پاکستان، بھارت
علاقہکشمیر، جنوب مشرقی افغانستان
مقامی متکلمین
(1 ملین cited 1992–2000)e21
زبان رموز
آیزو 639-3gju
گلوٹولاگguja1253[1]

گوجری (انگریزی: Gujjari) زبان پاکستان، بھارت افغانستان اور کشمیر میں وسیع پیمانے پر بولی جاتی ہے۔عہد وسطیٰ میں ہندوستانی گجرات اور راجھستان وغیرہ میں یہ لوگ بڑی بڑی سلطننتوں کے حاکم تھے ۔گیارہویں ,بارہویں اور تیرہویں صدی میں ہندوستان پر حملہ کرنے والے عرب اور ترک حملہ آوروں نے ان کی ان عظیم ریاستوں کو ختم کیا [حوالہ درکار] جس سے یہ زبان سرکاری سرپرستی اور گجر قوم اپنی مرکزیت سے محروم ہوگٸ۔اس کے بعدان لوگوں نے کشمیر کا رخ کیا اور وہاں جاکر آباد ہوگیۓ۔کشمیر ہی سے یہ لوگ ایک طرف پنجاب میں دریاۓ جہلم کے دونوں اطراف میں پھیل ہوگیۓ اور دوسری طرف ہزارہ ڈویژن,ملاکنڈ ڈویژن اور افغانستان کی طرف نکل گیۓ۔ ان میں سے کچھ لوگوں نے سندھ ,بلوچستان اور گلگت بلتستان کا رُخ کیا ۔عرب اور ترک حملہ آوروں کے ہاتھوں اپنا اقتدار گنوانے کے بعد اس قوم کی دربدری کا زمانہ شروع ہوتا ہے۔اس دوران کشمیر اور پنجاب میں تو یہ لوگ ہمیشہ مستحکم و خوشحال رہے لیکن پختونخواہ,گلگت بلتستان,سندھ,بلوچستان اور افغانستان میں ان پر جو بیتی وہ ناقابل بیان ہے۔کہاں وہ وقت کہ بڑی بڑی سلطنتوں کے مالک تھے اور کہاں ایسا وقت کہ دوسروں کے باج گزار بن گیۓ۔چترال,انڈس کوہستان,ملاکنڈ ڈویژن,ہزارہ ڈویژن,سندھ,بلوچستان,گلگت بلتستان اور افغانستان غرض ہر جگہ مختلف قوموں نے ان پر ظلم کے پہاڑ ڈھاۓ اور عملاََ ان کواپنا غلام بناۓ رکھا۔انیس سو اسی کے بعد قاٸدِ قوم فانوس گجر کی قیادت میں انجمن گوجراں ,گجر یوتھ فورم اور اسی طرح کے دیگر پلیٹ فارمز سے اس قوم نےاپنے حقوق کےلیۓ آٸینی وقانونی جدوجہد کا آغاز کیا۔اس جدوجہد کے انتہاٸ مثبت اثرات مرتب ہوۓ۔اب ان علاقوں میں آباد گجر سماجی,معاشی اور سیاسی طور پرماضی کی بنسبت زیادہ مستحکم اور خوشحال ہیں۔اپنی کھوٸ ہوٸ مرکزیت کو دوبارہ حاصل کرنے کےلیۓ یہ قوم پاکستان میں اپنے لیۓ الگ صوبے کے قیام کی جدوجہد کررہی ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر میں گجرستان کے نام سے یہ اپنا ڈویژن بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔پاکستان میں صوبہ گجرستان ,صوبہ گجر دیس ,صوبہ ہزارہ گجرستان صوبہ گوجرانوالہ-گجرات وغیرہ کے نام سے مختلف تحریکیں الگ صوبے کے قیام کا مطالبہ کررہی ہیں جس میں گوجرانوالہ ڈویژن,گجرات ڈویژن ,خطہ پوٹھوہار کےاضلاع,ہزارہ ڈویژن اور ملاکنڈ ڈویژن پر مشمتل علاقوں کو ایک صوبہ بنانے کا مطالبہ ہے جس کانام صوبہ گجرات ,صوبہ گوجرانوالہ ,صوبہ گجردیس ,گجرستان رکھا جاۓ یا پھر ملاکنڈ گوجرانوالہ,ہزارہ گجرستان,پوٹھوہار گردیس ,پوٹھوہار گوجرانوالہ ,ہزارہ گجرات وغیرہ رکھاجاۓ۔ مزید برآں تیرہویں صدی میں اپنی کھوٸ ہوٸ مرکزیت کو دوبارہ حاصل کرنے کےلیۓ کشمیر کو ایک الگ آزاد و خودمختار ریاست بنانا بھی گجر نیشلسٹوں کا مشن ہے۔واضح رہے کہ گجر قوم ہندوستانی کشمیراور پاکستانی کشمیر کی جموعی طور پر چار بڑی قوموں میں سے ایک ہے۔باقی تین بڑی قومیں کشمیری,ڈوگری اور پہاڑی ہیں۔کشمیر کا ایک آزاد و خودمختار ملک بن جانا بالعموم کشمیر کی تمام قوموں اور بالخصوص گجر قوم کے مفاد میں ہے۔اسلیۓ پاکستان ,انڈیا ,افغانستان اور کشمیر کے گجر قوم پرست مثلاََ گل رحمان ہمدرد وغیرہ کشمیر کوآزاد ریاست بنانے کے حق میں آواز اٹھاتے رہے ہیں۔

   جدید زمانے میں گجر قوم اور گوجری زبان کاسب سے بڑا  علمی ,ادبی اور ثقافتی مرکز کشمیر ہے جہاں یہ مختلف سطحوں پر  زبان نصاب میں شامل ہے اور آٸینی و دستوری طور پر اس زبان کی اہمیت تسلیم کی گٸ ہے۔کشمیر اگر ایک آزاد و خودمختار ملک بن جاۓ تو گوجری زبان وثقافت کی ترویج و حفاظت اور گجر قوم کی ترقی اور فلاح وبہبود کے لیۓ زیادہ بہتر ہوگا۔

مزید برآں,بھارت کی ریاست ہریانہ میں گوجری زبان کے ہریانوی لہجے کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ پاکستان میں جو لوگ انڈیا کے ہشیار پور سے ہجرت کر کے پاکستان آئے وہ گوجری زبان بولتے ہیں ۔ہندوستان میں جو ہریانوی، راجستھانی، گجراتی، میواتی وغیرہ زبانیں بولی جاتیں ہیں وہ دراصل گوجری زبان ہیرتر کا روپ ہیں ۔

بھارت کی ریاستوں میں گوجری زبان جموں و کشمیر، ہماچل پردیش، ہریانہ، اتراکھنڈ، راجستھان، گجرات (بھارت)، پنجاب، بھارت، دہلی بڑے پیمانے پر بولی جاتی ہے۔ پاکستان میں شمالی پنجاب یعنی گوجرانوالہ ڈویژن,گجرات ڈویژن اور خطہ پوٹھوہار میں گجر کافی تعداد میں آباد ہیں۔,سندھ,بلوچستان اورپختونخوا میں بھی گجر کافی تعداد میں موجود ہیں ۔ملاکنڈ ڈویژن اور ہزارہ ڈویژن میں انکی موجودگی زیادہ نمایاں ہے۔ علاوہ ازیں آزاد کشمیر,مقبوضہ کشمیر , گلگت بلتستان,انڈس کوہستان,چترال وغیرہ میں بھی گجر بڑی تعداد میں موجود ہیں جو گوجری زبان بولتے ہیں۔افغانستان کے شمالی اور مشرقی علاقوں میں بھی گجر آباد ہیں جو گوجری زبان بولتے ہیں۔جموں و کشمیر نے گوجری زبان کو آئین ریاست کی 6 فہرست بند زبانوں میں شامل کیا ہے۔[2]

مشہور گجر شخصیات

1۔ چوہدری رحمت علی 2۔ چوہدری فضل الٰہی 3۔ فانوس گجر 4۔ چوہدری اسلم پرویز صدر انجمن گوجراں پاکستان / ڈاٸریکٹر انٹر نیشنل گجر سیکرٹریٹ ایوانِ گوجراں اسلام آباد 5۔ میجر طفیل شھید 6۔ سردار محمد یوسف گجر (سابقہ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور، پاکستان) 7۔ پروفیسر گل رحمان ہمدرد ,فلسفی اسکالر(بانی تحریک صوبہ گجرستان) 8۔ جاوید چوہدری (کالم نگار، صحافی) 9۔ معروف محقق اور مصنف ڈاکٹر رفیق انجم 10۔ قمر زمان کائرہ 11۔ چوہدری لطیف اکبر رکن آزاد کشمیر اسبملی 12۔ ڈاکٹر جاوید راہی ,معروف محقق

13 حاجی شیر عالم گجر ,چیئرمین گجر اجتماعی شوریٰ افغانستان 14۔حضرت رحمان گجر ,چیئرمین گجر قومی شوریٰ افغانستان 15 شعیب اختر (معروف پاکستانی فاسٹ باؤلر) 16 چودھری عبدالحمید بابا بانی گجر یوتھ فورم پاکستان۔ 17۔ملک رضآ خان کٹھانہ گجر چیئرمین عوامی جمہوری پارٹی پاکستان

تاریخ[ترمیم]

گوجری زبان برصغیر کی قدیم زبانوں میں سے ایک زبان ہے۔ اس خطے میں گوجروں کے تاریخی شواہد پانچویں صدی عیسوی کے بعد واضح طور پر ملتے ہیں اور پھر تیرہویں صدی عیسوی تک ہندوستان میں مختلف گجر ریاستوں اور مملکتوں کے واضح ثبوت دیکھنے میں آتے ہیں۔اُس دور میں گوجری زبان کو سرکاری سرپرستی حاصل رہی۔سرکاری سرپرستی کے زمانے میں ادیبوں اور شاعروں نے کافی مقدار میں گوجری اَدب تخلیق کیا البتہ اس میں شعری اَدب زیادہ ہے اور وہ بھی اکثر صوفیانہ کلام ہے۔ ان شعرا میں سید نور الدین ست گرو، حضرت امیر خسرو، شاہ میراں جی، شاہ باجن ،شاہ علی جیوگامی، برہان الدین جانم، خوب محمد چشتی، جگت گرو اور امین گجراتی کے نام قابل ذکر ہیں۔ڈاکٹر جاوید راہی نے ”گوجری کی صوفیانہ شاعری“ کےنام سےپوری کتاب لکھی ہے۔

ریاست جموں وکشمیر میں بولی جانے والی گوجری پر عربی اور فارسی کے واضح اثرات دیکھنے میں آتے ہیں کیونکہ ریاست کے تمام گوجر مذہب اسلام کو ماننے والے ہیں اور ان کا مذہبی لٹریچر عربی اور فارسی زبانوں میں دستیاب تھا مذہبی اور عالم فاضل لوگ درسگاہوں میں عربی فارسی کی تعلیم دیتے تھے اس لیے عام لوگوں کی زبان پر بھی یہ اثرات مرتب ہونے لگے البتہ تاریخ سے یہ بات ثابت ہے کہ آریائی ہندوستان میں داخل ہوئے تو وہ انڈک زبان بولتے تھے باقی زبانیں آریائی اور قدیم ہندوستانی تہذیبوں اور بولیوں کے میل میلاپ سے وجود میں آئیں جنہیں پراکرت کے نام سے جانا جاتا ہے اور اس کی ایک شاخ آپ بھرنس ہے۔

سرکاری سرپرستی کے دور میں گوجری زبان کو مملکتِ گجرات(جو کہ ہندوستانی گجرات وراجسھتان وغیرہ علاقوں پر مشتمل ایک گجر سلطنت تھی) میں مرکزی حیثیت حاصل رہی۔دکن گجر ریاست نہیں تھی لیکن وہاں بھی گوجری کو سرکاری سرپرستی حاصل رہی۔ اردو زبان کے نامور ادیب ڈاکٹر جمیل جالبی اپنی ” تاریخ اردو ادب “ میں لکھتے ہیں:

” جب دکن میں اردو کے نئے مراکز ابھرے تو وہاں کے اہل علم و ادب نے قدرتی طور پر گوجری ادب کی روایت کو اپنایا۔ دکن میں جب اردو کا چرچا ہوا اور اسے سرکاری دربار کی سرپرستی حاصل ہوئی تو وہاں کے ادیبوں اور شاعروں کی نظر گوجری ادب پر ہی گئی اس ادب کو معیار تسلیم کر کے انہوں نے اس ادب کے تمام عناصر کو اپنے ادب میں جذب کر لیا“۔

ڈاکٹر جمیل جالبی اردو اور گوجری کے لسانی روابط تلاش کرتے ہوۓ گوجری زبان کی ادبی حیثیت کو تسلیم کرتے ہیں۔ اردو بولنے والوں کو گوجری سمجھنے میں کوئی دقت نہیں ہوتی یقیناً گوجری زبان اور اردو کا لسانی رشتہ بہت قریبی ہے کیونکہ اردو زبان کی بنیادیں ہی گوجری ادب پر ہیں۔

  کشمیر میں تخلیق ہونے والا گوجری ادب مقامی لہجوں کا مرکزی روپ ہے گوجری زبان کا اپنا ایک حلقہ ہے ،اپنا ایک ادب ہے، اپنے خالص الفاظ کا ذخیرہ ہے اور اپنی ایک الگ پہچان ہے۔گوجری زبان میں محاورے، ضرب المثل، پہلیاں، لوک گیت، لوک کہانیاں اور لوک بار غیر ہ  سب مواد موجود ہے۔ گوجری اپنی قدامت اور وسعت کے لحاظ سے برصغیر کی اہم زبان ہے ۔شروع شروع میں گجرات (بھارت) اور دکن میں اس سے اردو نے نشو و نما پائی ۔اردو ادب کے 

دبستانِ دکن پر گوجری زبان کے اثرات نمایاں ہیں۔ چوہدری اشرف گوجر نے اپنی کتاب” اردو کی خالق، گوجری زبان“ میں بڑے خوبصورت طریقے سے یہ بات ثابت کی ہے۔ تیرہویں صدی عیسوی کے بعد عرب اور ترک حملہ آوروں کےپےدرپے حملوں کے نتیجے میں ہندوستان میں گجرریاستوں (مملکتِ گجرات و راجستھان) اور گجرحکومتوں کا خاتمہ ہو گیا ۔اس کے ساتھ ہی گوجری زبان کی سرکاری سرپرستی ختم ہو گئی اور یہ زبان اپنے مرکز سے محروم ہوگٸ۔

  مرکزیت کھونے کے بعد گوجری زبان کا اپنا  کوئی مخصوص علاقہ نہ رہا تو انہوں نے سبزہ زارِ کشمیرمیں پناہ لی اور کشمیر کو اپنا ثقافتی وادبی اور قومی مرکز بنا لیا۔جلد ہی گجر قوم ریاست ِ کشمیر کی سات بڑی قوموں میں سے ایک بن گٸ۔دیگر چھ قومیں کشمیری,ڈوگری ,لداخی ,گلگتی ,بلتی اور پہاڑی تھیں (واضح رہے کہ اُس دور میں گلگت بلتستان بھی ریاست کشمیر کا حصہ تھا) ۔ریاستِ کشمیر  زبانوں کے تحفظ بار ےکافی حساس تھی۔اس میں دیگر زبانوں کے ساتھ ساتھ گوجری زبان کو بھی سرکاری سرپرستی حاصل ہوگٸ۔لیکن تقسیم ہند کے بعد تنازعہء  کشمیرنے جنم لیا۔کشمیرکی وحدت پارہ پارہ کردی گٸ۔  کشمیر  کے تین حصوں(آزاد کشمیر , گلگت اور بلتستان)پر پاکستان اور تین حصوں (وادی کشمیر,جموں اور لداخ) پر انڈیا نےقبضہ کرلیا۔ ریاستِ کشمیر کی اس جغرافیاٸ تقسیم نےشینا,بلتی,ڈوگری اور لداخی بولنے والوں کو تو کم متاثر کیا لیکن کشمیری ,گجر اور پہاڑی زبان بولنے والوں کی وحدت اس جغرافیاٸ تقسیم نے بالکل ہی پارہ پارہ کردی۔اور یہ تینوں قومیں عملاََ دو جغرفیاٸ اکاٸیوں میں تقسیم ہوگیٸں۔یوں گجر قوم اور گوجری زبان برصغیر میں اپنی آخر پناہ گاہ سے بھی محروم ہوگیۓ۔  دوہزار انیس میں انڈیا نے کشمیر کی  مخصوص ریاست کی  حثیت ختم کردی جس کے بعد ہندوستانی کشمیر میں دیگر اقوام کی آباد کاری کی راہ ہموار ہوگٸ۔پاکستانی کشمیرمیں غیر اقوام کی آباد کاری کا سلسلہ پہلےہی سے شروع تھا۔کشمیرکے دونوں حصوں میں اس نٸ آباد کاری  کی وجہ سے کشمیر کی  تمام قوموں کی زبان و ثقافت شدید خطرات سے دوچار ہو چکی ہیں۔اسلیۓ کشمیر میں آباد قومیں تشویش میں مبتلا ہیں اور پوری دنیامیں روحوں کی دلدوز چیخیں سناٸ دے رہی ہیں۔
  کشمیر میں موت وحیات کے اس  سخت ترین چیلنج  کے باوجود  گوجری زبان برصغیر کے میدانوں اور کوہساروں میں بڑی توانائی کے ساتھ  اپنے وجود کو برقرار رکھنے کی سعی کررہی ہے۔ یہ زبان ہندوستانی گجرات, راجستھان، ہماچل پردیش، جموں وکشمیر، شمالی پنجاب ,ہزارہ ڈویژن ,ملاکنڈ ڈویژن , اور گلگت بلتستان اور ساتھ ہی  افغانستان،ایران, روس اور چین کے کچھ علاقوں میں بھی بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ایک اندازے کےمطابق برصغیر پاک وہند و افغانستان میں گوجری زبان بولنےوالوں کی تعداد دوکروڑ سے زیادہ ہے۔جغرافیائی وسعت کے اعتبار سے برصغیر کی دوسری کوئی زبان گوجری کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔

ادب[ترمیم]

گوجری ادب میں اسلامی ادب کا بڑا سرمایہ موجود ہے جس میں تراجم قرآن کریم۔ تفاسیر قرآن۔ سیرت الرسول ۔ منقبت اصحاب۔ منقبت اولیاء ۔فقہ اور حدیث کے تراجم پائے جاتے ہیں۔

گوجری فولک میں نغمے، بلاڈ اور فولک کہانیاں جنہیں داستان کہا جاتا ہے بہت دستیاب ہیں۔ گوجری زبان کے سیکڑوں گانے نشر ہوئے ہیں جن میں “نوروو‘‘، “تاجو“، “نئرا“، “بیگوما“، “شوپیا“، “کونجھڑی“ اور “ماریاں“ شامل ہیں۔ گوجری زبان میں اب لکحنے کا رواج بھی عام ہوچلا ہے۔ مشہور لکھاریوں میں سین قادر بخش، نون پونچی اور دیگر شامل ہیں۔ دوسرے لکھاریوں میں میاں نطام الدین، خدا بخش، زابائی راجوری، شمس الدین مہجور پونچی، میاں بشیر احمد، جاوید راہی، رفیق انجم، ملکی رام کوشن، سروری کاسانا، نسیم پونچی، مفتی محمد ادریس ولی ۔(مفتی صاحب کی کتاب لشکار محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر پاکستان حکومت نے 2021 میں صدارتی ایوارڈ سے نوازا ہے)۔جیسے لوگوں نے نام کمایا ہے اور اپنی شاعری، نثر اور تنقیدوں کے ذریعے گوجری زبان کی خدمت کی ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ہیمر اسٹورم، ہرالڈ؛ فورکل، رابرٹ؛ ہاسپلمتھ، مارٹن، ویکی نویس (2017ء). "Gujari". گلوٹولاگ 3.0. یئنا، جرمنی: میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ فار دی سائنس آف ہیومین ہسٹری. 
  2. In Jammu and Kashmir, Gujari is written right-to-left in an extension of the Persian alphabet, which is itself an extension of the Arabic alphabet. Gujari is associated with the Nastaʿlīq style of Persian calligraphy – http://jktribals.page.tl/Gojri-Language.htm آرکائیو شدہ (Date missing) بذریعہ jktribals.page.tl (Error: unknown archive URL), http://www.merinews.com/article/writers-in-jk-seek-constitutional-safeguards-for-gojri/129813.shtml آرکائیو شدہ (Date missing) بذریعہ merinews.com (Error: unknown archive URL)