گاوری زبان
| گاوری | |
|---|---|
| دیس | کالام، اوشو، اتروڑ (سوات) |
| خطہ | پاکستان |
| ایک لاکھ اسی ہزار (2025) | |
ہند-یورپی
| |
| فارسی-عربی | |
| سرکاری حیثیت | |
| سرکاری زبان | گاوری |
| مقتدرہ | کھوار اکیڈمی |
| رموزِ زبان | |
| آیزو 639-1 | gwc |
| آیزو 639-2 | gwc (B) gwc (T) |
| آیزو 639-3 | gwc – gawri |
| ایایلپی | Kalami |
گاؤری زبان، جسے کالامی اور کالام کوہستانی بھی کہا جاتا ہے، پاکستان کے ضلع سوات اور ضلع دیر بالا میں بولی جانے والی ایک ہند-آریائی زبان ہے۔ انگریزی میں اسے Gawri لکھا جاتا ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق گاؤری زبان 180,000 کے لگ بھگ لوگ بولتے ہیں۔[1] گاؤری توروالی زبان کی قریبی رشتہ دار ہے۔
گاؤری بنیادی طور پر کوہستانِ سوات کی تین وادیوں: کالام، اتروڑ اور اوشو اور کوہستانِ دیر کی مرکزی اور مشہور سیاحتی مقام وادیٔ کمراٹ کی زبان ہے۔ کمراٹ میں گاؤری چھ دیہات میں بولی جاتی ہے جن میں تھل، راجکوٹ، بریکوٹ، لاموتی، بیاڑ اور کالکوٹ شامل ہیں۔ راجکوٹ اور بریکوٹ کے علاؤہ جہاں گاؤریوں کی اکثریت نے اپنی مادری زبان چھوڑ کر پشتو اپنا لی ہے، یہ باقی علاقوں کی اکثریتی زبان ہے۔ کھوار اکیڈمی نے چترال، سوات اور شمالی علاقہ جات کی جن معدوم ہونے زبانوں کو بچانے کے لیے یونیسکو (UNESCO) سے اپیل کی ہے ان زبانوں میں گاوری-کالام کوہستانی زبان سر فہرست ہے۔
بیرونی روابط
[ترمیم]- گاوری زبانآرکائیو شدہ (غیرموجود تاریخ) بذریعہ groups.yahoo.com (نقص:نامعلوم آرکائیو یو آر ایل)
- https://youtu.be/hpNcuKi87VE
- ↑ علی یاسر (2025)۔ گاؤری لوگوں کی آبادی (تھیسس)۔ باچا خان یونیورسٹی