گلگت بلتستان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
گلگت بلتستان
Gilgit–Baltistan
پاکستان کا پانچواں صوبہ
گلگت بلتستان
Montag of Gilgit Baltistan.jpg
Flag of گلگت بلتستان
پرچم
Official seal of گلگت بلتستان
مہر
گلگت بلتستان کا محل وقوع (گہرے رنگ میں)
گلگت بلتستان کا محل وقوع (گہرے رنگ میں)
متناسقات: 35°21′N 75°54′E / 35.35°N 75.9°E / 35.35; 75.9متناسقات: 35°21′N 75°54′E / 35.35°N 75.9°E / 35.35; 75.9
ملک Flag of Pakistan.svg پاکستان
صوبہ Flag of Gilgit Baltistan.svg گلگت بلتستان
قیام 1 جولائی 1970
دارالحکومت گلگت
سب سے بڑا شہر گلگت
حکومت
 • قسم پاکستان کا پانچواں صوبہ
 • ادارہ قانون ساز اسمبلی
 • گورنر میر غضنفر علی[1]
 • وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمان[2]
رقبہ
 • کل 72,971 کلو میٹر2 (28,174 مربع میل)
آبادی (2008; تخمینہ)
 • کل 1,800,000
 • کثافت 25/کلو میٹر2 (64/مربع میل)
منطقۂ وقت پاکستان کا معیاری وقت (یو ٹی سی+5)
Geocode 1168878[3]  Change value GeoNames ID (P1566) in Wikidata
آیزو 3166 رمز PK-NA
زبانیں
اسمبلی نشستیں 33[4]
اضلاع 9
شہر 9
ویب سائٹ gilgitbaltistan.gov.pk

گلگت بلتستان (Gilgit Baltistan) پاکستان کا شمالی علاقہ ہے۔ تاریخی طور پر یہ تین ریاستوں پر مشتمل تھا یعنی ہنزہ، نگر[5]

گلگت اور بلتستان۔ 1848ء میں کشمیر کے ڈوگرہ سکھ راجہ نے ان علاقوں پر بزور قبضہ کر لیا اور جب پاکستان آزاد ہوا تو اس وقت یہ علاقہ کشمیر کے زیرِ نگیں تھا۔ 1948ء میں اس علاقے کے لوگوں نے خود لڑ کر آزادی حاصل کی اور اپنی مرضی سے پاکستان میں شمولیت اختیار کی۔آزادی کے بعد سے یہ علاقہ ایک گمنام علاقہ سمجھا جاتا تھا جسے شمالی علاقہ جات کہا جاتا لیکن زرداری کی حکومت نے اس خطے کو نیم صوبائی اختیارات دیے اگرچہ یہاں کے لوگ مکمل صوبائی حیثیت چاہتے ہیں۔یہ پاکستان کا واحد خطہ ہے جسکی سرحدیں تین ملکوں سے ملتی ہیں نیز پاکستان پڑوسی ملک بھارت سے تین جنگیں 48 کی جنگ ،کارگل جنگ اور سیاچین جنگ اسی خطے میں لڑا ہے جبکہ سن 71 کی جنگ میں میں اس کے کچھ سرحدی علاقوں میں جھڑپیں ہوئیں جس میں کئی پاکستانی دیہات بھارتی قبضے میں چلے گئے اس وجہ سے یہ علاقہ دفاعی طور پر ایک اہم علاقہ ہے نیز یہیں سے تاریخی شاہراہ ریشم گزرتی ہے۔ 2009ء میں اس علاقے ہو آزاد حیثیت دے کر پہلی دفعہ یہاں انتخابات کروائے گئے۔ جس کے نتیجے میں پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سید مہدی شاہ پہلے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے [6][7]۔

شمالی علاقہ جات کی آبادی 11لاکھ نفوس پر مشتمل ہے جبکہ اس کا کل رقبہ 72971مربع کلومیٹر ہے ‘ اردو کے علاوہ بلتی اور شینا یہاں کی مشہور زبانیں ہیں۔ گلگت و بلتستان کا نیا مجوزہ صوبہ دوڈویژنز بلتستان اور گلگت پر مشتمل ہے۔ اول الذکر ڈویژن سکردو اور گانچے کے اضلاع پر مشتمل ہے جب کہ گلگت ڈویژن گلگت،غذر،دیا میر، استور اورہنزہ نگر کے اضلاع پر مشتمل ہے۔ شمالی علاقہ جات کے شمال مغرب میں افغانستان کی واخان کی پٹی ہے جو پاکستان کو تاجکستان سے الگ کرتی ہے جب کہ شمال مشرق میں چین کے مسلم اکثریتی صوبے سنکیانگ کا ایغورکا علاقہ ہے۔ جنوب مشرق میں مقبوضہ کشمیر، جنوب میں آزاد کشمیر جبکہ مغرب میں صوبہ خیبر پختونخوا واقع ہیں۔ اس خطے میں سات ہزار میٹر سے بلند 50 چوٹیاں واقع ہیں۔ دنیا کے تین بلند ترین اور دشوار گزار پہاڑی سلسلے قراقرم،ہمالیہ اور ہندوکش یہاں آکر ملتے ہیں۔ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو بھی اسی خطے میں واقع ہے۔ جب کہ دنیا کے تین سب سے بڑے گلیشئیر بھی اسی خطے میں واقع ہیں۔[8]

گلگت بلتستان کے علاقائی علامات
علاقائی جانور YakRace.jpg
علاقائی پرندہ Vándorsólyom.JPG
علاقائی درخت Quercus ilex.002 - Monfrague.JPG
علاقائی پھول Aquilegia alpina1JUSA.jpg

تاریخ[ترمیم]

چینی سیاح فاہیانگ جب اس علاقے میں داخل ہوا تو یہاں پلولا نامی ریاست قائم تھی جو کہ پورے گلگت بلتستان پے پھیلی ہوئی تھی اور اسکا صدر مقام موجودہ خپلو کا علاقہ تھا۔ پھر ساتھویں صدی میں اسکے بعض حصے تبت کی شاہی حکومت میں چلے گئے پھر 9 صدی میں یہ مقامی ریاستوں میں بٹ گئی جن میں سکردو کے مقپون اور ہنزہ کے ترکھان خاندان مشہور ہیں مقپون خاندان کے راجاؤں نے بلتستان سمیت لداخ،گلگت اور چترال تک کے علاقوں پر حکومت کی احمد شاہ مقپون اس خاندا کا آخری راجا تھا جسے ڈوگرہ افواج نے ایک ناکام بغاوت میں 1840ء میں قتل کر ڈالا پھر 1947ء میں بر صغیر کے دوسرے مسلمانوں کی طرح یہاں بھی آزادی کی شمع جلنے لگی کرنل مرزا حسن خان نے اپنے ساتھیوں کے ہماراہ پورے علاقے کو ڈوگرہ استبداد سے آزاد کر ڈالا۔

اضلاع اور اعداد و شمار[ترمیم]

گلگت و بلتستان اب نو اضلاع پر مشتمل ہے جن میں سے چار بلتستان میں، تین گلگت اور دو ہنزہ۔نگر کے اضلاع ہیں۔ اس سے پہلے ہنزہ۔نگر کو بھی گلگت ڈویژن میں شمار کیا جاتا تھا جسے اب علیحدہ کر دیا گیا ہے۔

ڈویژن اضلاع رقبہ (مربع کلومیٹر) آبادی (1998ء) مرکز
بلتستان ضلع گانچھے 9,400 165,366 خپلو
  ضلع سکردو 8,000 214,848 سکردو
  شگر 8,500 109,000 شگر
  کھرمنگ 5,500 188,000 طولطی
گلگت ضلع استور 8,657 71,666 گوری کوٹ/عید گاہ
  ضلع دیامر 10,936 131,925 چلاس
ضلع غذر 9,635 120,218 گاہکوچ
  ضلع گلگت 39,300 383,324 گلگت
  ضلع ہنزہ۔نگر 20,057 112,450 علی آباد
گلگت و بلتستان۔ مجموعاً 9 اضلاع 119,985 1,496,797 گلگت
نئے ضلع ہنزہ۔نگر کا رقبہ اور آبادی ابھی گلگت کے ساتھ شامل ہے کیونکہ درست شمار دستیاب نہیں:
گلگت و بلتستان کے کل رقبہ کا درست شمار دستیاب نہیں اور مختلف جگہ مختلف رقبے ملتے ہیں اس لیے یہاں صرف تمام رقبوں کا درست مجموعہ دیا گیا ہے۔
Gilgit-wa-baltistan.png


متعلقہ مضامین[ترمیم]

ظ

* گلگت

مآخذ[ترمیم]

  1. "Pir Karam Ali Shah appointed GB Governor". The News. 2011-01-26. http://www.thenews.com.pk/NewsDetail.aspx?ID=10133۔ اخذ کردہ بتاریخ 2011-01-28. 
  2. "Associated Press Of Pakistan ( Pakistan's Premier NEWS Agency ) - Public service policy to be pursued in Gilgit-Baltistan: PM". Ftp.app.com.pk. اخذ کردہ بتاریخ 2010-06-05. 
  3. سے درآمد: GeoNames — اجازت نامہ: CC BY 3.0 Unported
  4. Legislative Assembly will have directly elected 24 members, besides six women and three technocrats. "Gilgit Baltistan: New Pakistani Package or Governor Rule" 3 September 2009, The Unrepresented Nations and Peoples Organization (UNPO)
  5. نگر ضلع نگر , نگر جو کبھی ماضی میں ایک خود مختار ریاست تھی پاکستان کے صوبہ گلگت بلتستان کا ایک ضلع ہے۔ یہاں کے باشندوں کو بروشو اور ان کی بولی کو بروشسکی کہا جاتا ہے۔ بروشو لوگوں کو شمال کے قدیم ترین باشند ےاور اولین آبادکار ہونے کا شرف حاصل ہے۔یہاں کے لوگوں کی زبان بروشسکی ہے۔ یہاں شیعہ مسلمان آباد ہیں ضلع نگر کا کل رقبہ 5000 کلو میٹر ہے۔ آج کل نگر 3 سب ڈویژنوں پر مشتمل ہے.اس کی کل آبادی تقریباً 115000 ہزار لوگوں پر مشتمل ہے۔ نگر کی تاریخ بہت پرانی ہے ۔یہ پہلے بروشال کے نام سے مشہور تھا جس کا دارالحکومت کیپل ڈونگس تھا۔ جہاں کا بادشاہ تھم کہلاتا تھا۔اور یہ آج کے نگر اور ھنزہ پر مشتمل تھا۔چونکہ کیپل ڈونگس کے چاروں اطراف برفانی گلیشرتھے جن کے بڑھنے سے وہاں کی نظام آبپاشی سخت متاثر ہوا۔وہاں سے لوگ ہوپر میں آکر آبار ہوئے۔اس کے بعد راجہ میور خان کے بیثوں (مغلوٹ اور گرکس نے بروشال کو نگر اور ھنزہ میں تقسیم کیا۔ نگر اور ھنزہ چھو ٹی ریاستں تھیں اور یہ اپنی آمدنی کا زیادہ حصہ چین سے آنے والی تجارتی قافلوں کو لوٹ کر حاصل کرتی تھیں۔چونکہ انگریز یہاں سے روس تک تجارت کرنا چاہتے تھے لیکن یہ ریاستیں ایسا کرنے سے روک رہی تھی اس لیے1891میں کرنل ڈیورنڈ کی سربراہی میں نگر پر حملے کا فیصلہ کیاگیا۔ اور نگر کی طرف چڑہائی شروع کی۔انگریزوں نے چھ مہینوں تک نلت قلعہ کا محاصرہ کیا ۔آخر کار ایک غدار کی مدد سے انگریز فوج قلعے کی اوپر والی چوٹی پر پہچ گھی۔اور قلعے پر حملہ کیا اور یوں نگر کی ہزاروں سال پر مشتمل آزادی ختم ہوگئی۔اس جنگ میں انگریزفوج کو چار وکٹوریہ کراس ملے جو اصل نگر کی چھوٹی سی فو ج کی بہادری کا اعتراف ہے۔
  6. پیپلزپارٹی کے سید مہدی شاہ گلگت بلتستان کے پہلے وزیر اعلیٰ منتخب روزنامہ جنگ، 11 دسمبر 2009ء
  7. گلگت بلتستان: مہدی شاہ نئے وزیر اعلیٰ بی بی سی اردو، 11 دسمبر، 2009ء
  8. شمالی علاقہ جات کو صوبائی حیثیت دینے کا اعلان روزنامہ آج، 4 ستمبر 2009ء