کے ٹو

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
کے ٹو
K2 2006b.jpg
کے ٹو ، 2006ء کے موسم گرما میں
بلندی 8,611 میٹر (28,251 فٹ)
دوسرے درجہ پر (پاکستان کا سب سے بلند پہاڑ)
امتیاز 4,017 میٹر (13,179 فٹ)
فہرست سازی دوسرا بلند ترین پہاڑ
22ویں درجہ پر
پاکستان کا سب سے بلند پہاڑ
محلِّ وقوع
کے ٹو is located in سطح مرتفع تبت
کے ٹو
کے ٹو
پاکستان کا پرچم گلگت بلتستان ، پاکستان
چین کا پرچم سنکیانگ ، چین
سلسلہ قراقرم
متناسقات 35°52′57″N 76°30′48″E / 35.88250°N 76.51333°E / 35.88250; 76.51333متناسقات: 35°52′57″N 76°30′48″E / 35.88250°N 76.51333°E / 35.88250; 76.51333[1]
فرازروی
فرازروی اول

31 جولائی ، 1954ء
اطالیہ کا پرچم اکِلّی کومپاگنونی

اطالیہ کا پرچم لینو لاسیڈیلی

کے ٹو دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی ہے۔ یہ سلسلہ کوہ قراقرم، پاکستان میں واقع ہے۔ اس کی بلندی 8611 میٹر/28251 فٹ ہے۔ اسے پہلی بار 31 جولائی 1954ء کو دو اطالوی کوہ پیماؤں لیساڈلی اور کمپانونی نے سر کیا۔

اسے ماؤنٹ گڈون آسٹن اور شاہگوری بھی کہتے ہیں۔

تاریخ[ترمیم]

1856ء میں اس پہاڑ کا پہلی بار گڈون آسٹن نے سروے کیا۔ تھامس ماؤنٹ گمری بھی اس کے ساتھ تھا۔ اس نے اس کا نام کے ٹو رکھا کیونکہ سلسلہ کوہ قراقرم میں یہ چوٹی دوسرے نمبر پر تھی۔گوڈون آسٹن کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے۔

کے ٹو پر چڑھنے کی پہلی مہم 1902ء میں ہوئی جو ناکامی پر ختم ہوئی۔ اسکے بعد 1909ء، 1934ء، 1938ء، 1939ء اور 1953ء والی کوششیں بھی ناکام ہوئیں۔ 31 جولائی، 1954ء کی اطالوی مہم بالاخر کامیاب ہوئی۔ لیساڈلی اور کمپانونی کے ٹو پر چڑھنے میں کامیاب ہوۓ۔ 23 سال بعد اگست 1977 میں ایک جاپانی کوہ پیما اچیرو یوشیزاوا اس پر چڑھنے میں کامیاب ہوا۔ اسکے ساتھ اشرف امان پہلا پاکستانی تھا جو اس پہ چڑھا۔ 1978ء میں ایک امریکی ٹیم اس پر چڑھنے میں کامیاب ہوئی۔

کے ٹو کو ماؤنٹ ایورسٹ کے مقابلے میں زیادہ مشکل اور خطرناک سمجھا جاتا ہے۔ کے ٹو پر 246 افراد چڑھ چکے ہیں جبکہ ماؤنٹ ایورسٹ پر 2238۔

کتابیات[ترمیم]

کے ٹو پر فلمیں[ترمیم]

  • Vertical Limits
  • K2

بیرونی روابط[ترمیم]

نگار خانہ[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

Incomplete-document-purple.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کرکے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔