بروڈ پیک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بروڈ پیک
فاۓ چان کنگری یا پھلچن کنگری
ཨིྰན་ཨངརི་
7 15 BroadPeak.jpg
بروڈ پیک
بلند ترین مقام
بلندی8,051 میٹر (26,414 فٹ) 
بارہویں درجہ پر بلند ترین (پاکستان کا چوتھا بلند ترین)
امتیاز1,701 میٹر (5,581 فٹ)
انفرادیت9.12 کلومیٹر (29,900 فٹ)
فہرست پہاڑآٹھ ہزاری
بلند ترین
جغرافیائی متناسق نظام35°48′42″N 76°33′54″E / 35.81167°N 76.56500°E / 35.81167; 76.56500متناسقات: 35°48′42″N 76°33′54″E / 35.81167°N 76.56500°E / 35.81167; 76.56500
جغرافیہ
لوا خطا ماڈیول:Location_map میں 502 سطر پر: Unable to find the specified location map definition: "Module:Location map/data/Tibetan Plateau" does not exist۔
پاک/چین سرحد پر بروڈ پیک کا مقام
مقامگلگت بلتستان، پاکستان
سنکیانگ یغور، چین
سلسلہ کوہقراقرم
کوہ پیمائی
پہلی بار9 جون 1957 - کوہ پیما: آسٹریائی کوہ پما

بروڈ پیک (Broad Peak) دنیا کی 12ویں اور پاکستان کی چوتھی سب سے اونچي چوٹی ہے۔ یہ قراقرم کے سلسلہ میں پاکستان اور چین کی سرحد پر واقع ہے۔ اس کی بلندی 8047میٹر / 26400 فٹ ہے۔ اسے سب سے پہلے 9 جون 1957 کو ایک آسٹرین ٹیم نے سر کیا۔

یہ کے ٹو سے 8 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ اس کی چوٹی قریبا ½1 کلومیٹر لمبی ہے۔ اس لیے اس کا نام بروڈ پیک ہے۔ مقامی نام فائے چان کنگری یا پھلچن کنگری ہے۔ (لیکن یہ بات وثوق سے نہیں کہی جاسکتی) پاکستان کی چوتھی اور دنیا کی بارہویں بلند ترین چوٹی کا نام براڈ پیک ہے۔ یہ سطح سمندر سے آٹھ ہزار اکاون یا اننچاس میٹر یعنی چھبیس ہزار چار سو چودہ فٹ کی بلندی پر پاک چین بارڈر کے قریب گلگت بلتستان میں واقع ہے۔ یہ بھی گاشر برم کی برفانی چمکتی ہوئی دیوار کا حصہ ہے اور اس سلسلے کی چوٹیوں میں سے ایک ہے۔ یہ کے 2 اور گاشر برم 4 کے درمیان موجود ہے۔ اس کی چوٹی کی لمبائی چوڑائی کی وجہ سے اسے براڈ پیک کہا جاتا ہے۔ اسے بھی تھامس منٹگمری نے ہندوستان کے پیمائشی سروے کے دوران 1856 میں دریافت کیا تھا۔

براڈ پیک کو پہلی بار 1957 میں آسٹرین کوہ پیما ٹیم نے سر کیا تھا، ان میں نانگا پربت کو پہلی دفعہ سر کرنے والے کوہ پیما ہرمن بوہل بھی شامل تھے۔ جب کہ سردی کے سخت موسم میں براڈ پیک کی دیڑھ سے دو کلومیٹر لمبی اور ناہموار چوٹی کو 2013 میں پولش ٹیم نے پہلی دفعہ سر کیا۔ ایڈم بلچکی بھی اس ٹیم میں شامل تھے۔ ایڈم بلچکی ایک سال پہلے گاشربرم 1 کو سردیوں میں سر کرنے والی ٹیم کا بھی حصہ تھے۔ کے ٹو سے محض آٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر موجود براڈ پیک کو سر کرنا کوہ پیما نسبتاً آسان سمجھتے ہیں تاہم برفانی طوفان اور تودے ان کی راہ میں رکاوٹ بنتے رہتے ہیں۔ حسن سد پارہ 2007 اور کریم حیات 2014 میں براڈ پیک کی چوٹی پر سبز ہلالی پرچم لہرا چکے ہیں۔ 2016براڈ پیک کی بلندی تک پہنچنے کے لیے زیادہ تر مغربی ڈھلوانیں استعمال کی جاتی ہیں۔ میں پہلی بار ایک فرانسیسی پیراگلائیڈر نے براڈ پیک پر پیراگلائیڈنگ کرکے ریکارڈ قائم کیا۔ یہ پاکستان کے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں کہ پیرا گلائیڈنگ کی تاریخ میں پہلی بار آٹھ ہزار میٹر سے بلند جس چوٹی پر پرواز کی گئی وہ براڈ پیک ہے۔

بیرونی روابط[ترمیم]