لداخ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
لدّاخ
لدقس
Ladakh
علاقہ
Gravel road through high mountains with brightly colored flags at the side
لداخ کا تنگلنگ لہ در
کشمیر کے نقشے میں سرخ رنگ لداخ کو ظاہر کررہا ہے[α]
کشمیر کے نقشے میں سرخ رنگ لداخ کو ظاہر کررہا ہے[α]
لدّاخ is located in بھارت
لدّاخ
لدّاخ
شہر لیہ کا وقوع
متناسقات: 34°10′12″N 77°34′48″E / 34.17000°N 77.58000°E / 34.17000; 77.58000متناسقات: 34°10′12″N 77°34′48″E / 34.17000°N 77.58000°E / 34.17000; 77.58000
ملک Flag of India.svg بھارت
ریاست جموں و کشمیر
نشست لیہہ  Change value capital (P36) in Wikidata
رقبہ[1][β]
 • کل 86,904 کلو میٹر2 (33,554 مربع میل)
آبادی (2001)
 • کل 270,126
 • کثافت 3.1/کلو میٹر2 (8.1/مربع میل)
زبانیں
 • دفتری اردو
منطقۂ وقت بھارتی معیاری وقت (یو ٹی سی+5:30)
Geocode 1265343[2]  Change value GeoNames ID (P1566) in Wikidata
شہر لیھ، کارگل
شرحِ امواتِ طفل 19%[3] (1981)
ویب سائٹ leh.nic.in۔ kargil.nic.in
لداخ کی ایک بدھ خانقاہ

لداخ بھارت کے زیر انتظام ریاست جموں و کشمیر کا ایک حصہ ہے جو شمال میں قراقرم اور جنوب میں ہمالیہ کے پہاڑی سلسلوں کے درمیان ہے۔ یہ بھارت میں سب سے کم آباد علاقوں میں سے ایک ہے۔

لداخ اپنی خوبصورتی اور بدھ ثقافت کے باعث مشہور ہے۔ علاقے پر تبتی ثقافت کی گہری چھاپ ہے اور اسے "تبت صغیر" (Little Tibet) بھی کہا جاتا ہے۔ لداخ کے دو بڑے قصبے لیہہ اور کارگلہیں۔ لیہہ کی اکثریت بدھ مذہب سے تعلق رکھتی ہے جبکہ کارگل کی آبادی شیعہ مسلمان ہے۔ یہاں کے مکینوں نے حال ہی میں لداخ کو مسلم اکثریتی ریاست کشمیر سے علیحدہ ریاست بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ علاقہ کیونکہ ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ہے، جو پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازع کا بنیادی سبب ہے، اس لئے عالمی سطح پر اسے متنازع علاقہ سمجھا جاتا ہے۔

تاریخی لحاظ سے یہ علاقہ ، بلتستان، زانسکر، لاہول سپتی نوبرا وادی اور اکسیئ چن پر مشتمل تھا۔ موجودہ لداخ کی سرحدیں مشرق میں چین کےعلاقے تبت، جنوب میں ہماچل پردیش، مغرب میں جموں اور شمال میں چین سے اور جنوب مغرب میں پاکستان سے ملتی ہیں۔

1960 میں چینی اہلکاروں نے علاقے کی تاریخی تجارتی راستہ جو مشہور ریشم راستے کا حصہ تھا کو بند کر دیا تھا جس سے پہلے یہ علاقہ وسط ایشیا کے قدیم تجارتی مقامات کو جوڈتا تھا۔ 1970 کے دہائیوں میں بھارتی حکومت نے علاقے کو سیاحت کوکامیابی کے ساتھ فروغ دیا۔

  • حوالہ جات
  1. "MHA.nic.in". MHA.nic.in. اخذ کردہ بتاریخ 2012-06-21. 
  2. سے درآمد: GeoNames — اجازت نامہ: CC BY 3.0 Unported
  3. Wiley، AS (2001). "The ecology of low natural fertility in Ladakh". Department of Anthropology, Binghamton University (SUNY) 13902–6000, USA, PubMed publication. اخذ کردہ بتاریخ 2006-08-22.