پاک بھارت جنگ 1947

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

{{Infobox military conflict | conflict = پاک بھارت جنگ 1947 | partof = پاک بھارت جنگیں | image = Indian soldiers fighting in 1947 war.jpg دوران جنگ پاک فوج کہ کچھ سدوزئی سپاہی

| ابتدائی جنگ 24 اگست 1947 پونچھ موجودہ آزاد کشمیر عوام نے مہاراجہ کشمیر کے شخصی راج کے خلاف الحاق پاکستان کے حصول کے لیے شروع کی

| 22 اکتوبر 1947 قبائلی عوام پونچھ مجاہدین کے معاون جنگ بنے

| 27 اکتوبر 1947 مہاراجہ کشمیر نے الحاق ہندوستان کر دیا

| 28 اکتوبر 1947 صبح 5 بجے بھارت نے کشمیر کا الحاق بھارت سے دعوی کرتے ہوئے پونچھ جنگجوؤں پر حملہ کر دیا

| 29 اکتوبر 1947 پاکستان نے ریاست جموں و کشمیر کی سب سے بڑی جماعت مسلم کانفرنس کی قرارداد الحاق پاکستان کا دعوی کرتے ہوئے پاک فوج کشمیر میں داخل کر دی

| جنگ بندی

| 2 جنوری 1949 اقوام متحدہ نے پاک بھارت جنگ بندی کرادی*

| place = کشمیر | territory =پاکستان نے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ و بھارت سے چھین لیا

| combatant1 = Flag of India.svg بھارت، ڈومنین بھارت

| combatant2 = Flag of Pakistan.svg پاکستان، ڈومنین پاکستان
Flag of Azad Kashmir.svg پرچم آزاد کشمیر [1]
Liwa-e-Ahmadiyya 1-2.svg Furqan Force[2][3] | commander1 = Flag of بھارت سالار المیدان K. M. Cariappa
Flag of بھارت Lt.Gen. S. M. Shrinagesh
Flag of بھارت میجر جنرل K. S. Thimayya
Flag of بھارت Maj.Gen. Kalwant Singh

Flag Jammu Kashmir.png ہری سنگھ | commander2 = {{nowrap|Flag of پاکستان MGen. Akbar Khan
Flag of پاکستان BGen Ayub Khan
Flag of پاکستان ACdre. Mukhtar Dogar
Cdre. H. M. S. Choudri
Liwa-e-Ahmadiyya 1-2.svg [[مرزا بشیر الدین محمود|Mirza Ahmad]"/>[4]}} | strength1 = | strength2 = | casualties1 = 12000 مارے گئے ز[5][6][7]
3,500زخمی | casualties2 = 6,000 اموات
~1221 زخمی[7] | notes =

| پس منظر جنگ پاک بھارت 1947

اس جنگ کا اصل اسباب کیا ہیں اس کی تہہ میں جائیں تو معلوم ہوتا ہے 3 جون 1947 کو انگریز حکومت ہند نے تقسیم ہند کا اعلان کیا جس کی روح سے انگریز حکومت ہند کا اور ڈوگرہ مہاراجوں کا معاہدہ امرتسر ختم ہو گیا، دراصل یہ معاہدہ امرتسر ہی تھا جس کے بل بوتے پر ڈوگرہ نے کشمیری مسلمانوں پر حکومت کی معاہدے امرتسر کی 10 دفعات ہیں جس کی دفعہ 8 میں انگریز حکومت ہند اس بات پر اقرار کرتے ہیں کہ اگر ڈوگرہ حکومت کے خلاف اندرونی یا بیرونی کوئی بھی حملہ آور ہوا تو اس کا دفاع انگریز حکومت ہند کرے گی دراصل اسی معاہدہ امرتسر نے کشمیری مسلمانوں کی آزادی کو صلیب کیے تھا کشمیری مسلمان جب بھی ڈوگرہ سے آزادی کی جہدوجہد کرتے تو ڈوگرہ انگریز حکومت ہند سے معاہدہ امرتسر کی روح سے انگریزوں سے کشمیریوں کی آزادی کی تحریک کچلا ڈالتے چناچہ 3 جون کے تقیسم ہند کے اعلان کے بعد انگریز حکومت ہند سے ڈوگرہ کا معاہدہ امرتسر ختم ہوتے ہی ریاست جموں و کشمیر کے مسلمانوں نے 19 جولائی 1947 قرارداد الحاق پاکستان منظور کر کے مہاراجہ ہری سنگھ سے الحاق پاکستان کا مطالبہ کیا مگر مہاراجہ نہ مانے تو 14 اگست 1947 اعلان آزادی پاکستان کے دس دن بعد پونچھ کے مسلمانوں نے ریاست جموں و کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ کے شخصی راج کے خلاف مسئلح بغاوت کر دی جنہوں نے دس دنوں میں کشمیر کا بہت سا علاقہ مہاراجہ ہری سنگھ کے شخصی راج سے آزاد کر لیا اور 4 اکتوبر 1947 کو آزاد کشمیر حکومت کی بنیاد رکھ کر باقی کشمیر کو ڈوگرہ تسلسل سے آزاد کرانے کے لیے ڈوگرہ سے گمسان کی لڑائی جاری رکھے تھے جن کی مدد کو 22 اکتوبر 1947 پشتون قبائل آن پہنچے قبائلی پشتونوں کا اور آزاد کشمیر پونچھ سدھنوتی کے سدوزئیوں سے خونی رشتہ تھا کیونکہ پونچھ سدھنوتی کے سدوزئی بھی پٹھان افغان نسل تھے جنہوں نے ڈوگرہ سے جنگ آزادی شروع کر رکھی تھی ان 21000 ہزار سدوزئیوں کا آزاد کشمیر کے 9000 دیگر حریت قبائل کے لوگ ساتھ دے رہے تھے یوں آزاد کشمیر کے 30000 جنگجو ڈوگرہ اور اس کے اتحادیوں سے جنگ لڑ رہے تھے جن کی مدد کو 22 اکتوبر کو ہزاروں قبائلی آن پہنچے یوں مہاراجہ ہری سنگھ نے خوفزدہ ہو کر 27 اکتوبر 1947 کو بھارت سے الحاق کر دیا جس کے بعد راتوں رات بھارت نے اپنی فوجیں کشمیر میں داخل کر دی جس کے بعد ،پاک فوج بھی میدان میں آ گئی یوں پاک فوج اور بھارتی افواج کا کشمیر میدان جنگ بنا

| campaignbox =

| campaign = | colour_scheme = background:#91ACDA }}

پاک بھارت جنگ 1947 یا پہلی کشمیر جنگ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر پر لڑی گئی پہلی جنگ ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Robert Blackwill, James Dobbins, Michael O'Hanlon, Clare Lockhart, Nathaniel Fick, Molly Kinder, Andrew Erdmann, John Dowdy, Samina Ahmed, Anja Manuel, Meghan O'Sullivan, Nancy Birdsall, Wren Elhai, Nicholas Burns (Editor), Jonathon Price (Editor)۔ American Interests in South Asia: Building a Grand Strategy in Afghanistan, Pakistan, and India۔ Aspen Institute۔ صفحات 155–۔ ISBN 978-1-61792-400-2۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 3 November 2011۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)CS1 maint: multiple names: authors list (link) CS1 maint: extra text: authors list (link)
  2. Simon Ross Valentine۔ Islam and the Ahmadiyya Jama'at: History, Belief, Practice۔ Hurst Publishers۔ صفحہ 204۔ ISBN 978-1850659167۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت); |access-date= requires |url= (معاونت)
  3. "Furqan Force"۔ Persecution.org۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 March 2012۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  4. and the Ahmadiyya Jama'at: History, Belief, Practice. Columbia University Press, 2008. ISBN 0-231-70094-6, ISBN 978-0-231-70094-8
  5. "An incredible war: Indian Air Force in Kashmir war, 1947-48", by Bharat Kumar, Centre for Air Power Studies (New Delhi, India)
  6. By B. Chakravorty, "Stories of Heroism, Volume 1", p. 5
  7. ^ ا ب By Sanjay Badri-Maharaj "The Armageddon Factor: Nuclear Weapons in the India-Pakistan Context", p. 18