جموں وکشمیر
| ریاست جموں اور کشمیر | |||||||||||
|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|
| ریاست جموں و کشمیر (ایک بااختیار ریاست) جس کا قیام معائدہ امرتسر کے تحت 1846 میں عمل میں آیا ریاست کے بانی شری مہاراجا گلاب سنگھ ہیں | |||||||||||
جموں و کشمیر کا نقشہ | |||||||||||
| دار الحکومت | سری نگر (مئی-اکتوبر) جموں (نومبر-اپریل)[1] | ||||||||||
| رقبہ | |||||||||||
| • متناسقات | 33°27′N 76°14′E / 33.45°N 76.24°E | ||||||||||
| تاریخ | |||||||||||
| حکومت | |||||||||||
| گورنر | |||||||||||
• 1954–ء1965ء بطور صدرِ ریاست؛ 1965ء–1967ء | کَرن سنگھ (پہلا) | ||||||||||
• 2018ء–2019ء[2] | ستیا پال ملک (آخری) | ||||||||||
| وزیر اعلٰی | |||||||||||
• 1947ء–1948ء بطور وزیر اعظم | مہر چند مہاجن (پہلا) | ||||||||||
• 2016ء–2018ء[3] | محبوبہ مفتی (آخری) | ||||||||||
| مقننہ | ریاست جموں و کشمیر | ||||||||||
• ایوان بالا | جموں و کشمیر ودھان پریشد (36 نشستیں) | ||||||||||
• ایوان زیریں | جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی (89 نشستیں) | ||||||||||
| تاریخ | |||||||||||
• 1948 مہاراجا کشمیر کی بھارت کے ساتھ ذاتی تعلقات اور دعوت پر بھارت جموں و کشمیر میں داخل ہوا۔ | 14 مئی 1948 | ||||||||||
| 31 اکتوبر | |||||||||||
| سیاسی ذیلی تقسیمات | 22 اضلاع | ||||||||||
| |||||||||||
جموں و کشمیر ایک بااختیار ریاست تھی۔ جس کا بیشتر علاقہ ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے پر پھیلا ہوا ہے۔ جموں و کشمیر کی سرحدیں جنوب میں ہماچل پردیش اور پنجاب، بھارت، مغرب میں پاکستان اور شمال اور مشرق میں چین سے ملتی ہیں۔ پاکستان میں بھارت کے قبضے میں علاقے کو مقبوضہ جموں و کشمیر کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ جموں و کشمیر جموں، وادی کشمیر ، لداخ اور گلگت بلتسان میں منقسم ہے۔بھارت کے زیر انتظام سری نگر اس کا گرمائی اور جموں سرمائی دار الحکومت ہے۔اور پاکستان کے زیر انتظام مظفر آباد دار الحکومت ہے۔ وادی کشمیر اپنے حسن کے باعث دنیا بھر میں مشہور ہے جبکہ ۔ لداخ جسے "تبت صغیر" بھی کہا جاتا ہے، اپنی خوبصورتی اور بدھ ثقافت کے باعث جانا جاتا ہے۔ ریاست جموں اینڈ کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت ہے تاہم ہندو، بدھ اور سکھ بھی بڑی تعداد میں رہتے ہیں۔جموں اینڈ کشمیر کا کل رقبہ 85806 مربع میل ہے جو اس وقت چار حصوں میں منقسم ہے۔ ایک حصہ جسے "آزاد کشمیر" کا نام دیا گیا ہے دوسرا گلگت بلتستان، یہ دونوں پاکستان کے زیر قبضہ ہیں۔ تیسرا اور سب سے بڑا حصہ جموں اور سی نگر انڈیا کے قبضے میں پے جبکہ چوتھا حصہ جو اقصائی چن کا علاقہ ہے وہ 1962ء کی انڈیا چین جنگ میں چین نے بھارت سے چھین لیا۔اور1335مربع میل پاکستان نے چائینہ کو گفٹ کیا
جموں و کشمیر برصغیر کی شاہی ریاستوں میں سے ایک تھی۔ یہ ایک مصنوعی ریاست تھی۔ جب انگریزوں نے سکھوں سے وادیٔ کشمیر اور جموں کے علاقے حاصل کیے، تو انھوں نے ان مختلف خطوں کو یکجا کر کے "جموں و کشمیر" کا نام دیا اور انھیں جموں سے تعلق رکھنے والے ہندو ڈوگرہ خاندان کے ہاتھوں فروخت کر دیا۔ اس کے بعد اس ہندو شاہی خاندان نے 1947 تک جموں و کشمیر پر حکومت کی۔ یہ ایک ہندو ریاست تھی جس میں مسلمانوں کی اکثریت پر بھاری ٹیکس عائد کیے گئے تھے۔[4]
کشمیر پر حکمرانی کرنے والے ہندو مہاراجوں کو کشمیری پنڈتوں (یعنی کشمیری برہمن ہندو) کا تعاون حاصل تھا، جو وادی میں کشمیری مسلمانوں کا استحصال کرتے تھے۔ کشمیری پنڈت مصنف پریم ناتھ بزاز نے لکھا ہے کہ سری نگر میں مسلمانوں کے نوے فیصد گھرانے ہندوؤں کے مقروض تھے۔[5]
1931 میں جموں کے پنجابی مسلمانوں اور وادی کشمیر کے کشمیری مسلمانوں نے ریاست میں مسلمانوں کے حقوق کے لیے ایک سیاسی تحریک کا آغاز کیا۔ 1947 تک ریاست میں دو بڑی سیاسی جماعتیں موجود تھیں: مسلم کانفرنس اور نیشنل کانفرنس۔ نیشنل کانفرنس کی قیادت کشمیری رہنما شیخ عبد اللہ کر رہے تھے اور یہ جماعت وادی کشمیر کے نسلی کشمیریوں میں زیادہ مقبول تھی۔ مسلم کانفرنس کی قیادت چوہدری غلام عباس کر رہے تھے اور یہ جماعت جموں (بشمول میرپور اور پونچھ) کے مسلمانوں میں زیادہ مقبول تھی؛ اس کے علاوہ یہ مظفر آباد میں بھی مقبول تھی۔ کچھ کشمیری رہنماؤں، جیسے کہ مولانا میرواعظ یوسف شاہ، نے بھی مسلم کانفرنس کی حمایت کی۔[6]
مسلم کانفرنس آل انڈیا مسلم لیگ کی حلیف تھی اور اس نے تحریکِ پاکستان کی حمایت کی، جبکہ شیخ عبد اللہ کی نیشنل کانفرنس نے انڈین نیشنل کانگریس اور تحریکِ آزادیِ ہند کی حمایت کی۔ مسلم کانفرنس نے ریاست جموں و کشمیر کے پاکستان سے الحاق کے لیے ایک قرارداد منظور کی۔[6]
میرپور، پونچھ اور مظفر آباد کے ساتھ ساتھ سرحدی علاقوں اور گلگت ایجنسی کے مسلمان پاکستان میں شامل ہونا چاہتے تھے۔[6] جموں کے ہندو اور لداخ کے بدھ مت کے پیروکار بھارت کے ساتھ الحاق کے خواہاں تھے۔ وادیٔ کشمیر میں، مسلمانوں کی اکثریت شیخ عبد اللہ کی حمایت کر رہی تھی جو نہرو کے دوست تھے؛ تاہم وادی کے بہت سے کشمیری مسلم لیگ اور پاکستان کی بھی حمایت کرتے تھے، حالانکہ وہ بیک وقت شیخ عبد اللہ اور نیشنل کانفرنس کے بھی حامی تھے۔[7]
میرپور، پونچھ اور مظفرآباد کے مسلمانوں نے پاکستان میں شامل ہونے کے لیے جموں و کشمیر کی ہندو ریاست کے خلاف جنگ کی۔ ہندو مہاراجا کی فوج میں شامل مسلمان فوجیوں نے بغاوت کر دی اور ریاست کو پاکستان میں شامل کرانے کے لیے لڑائی کی۔ انھیں پاکستان کی فوج اور قبائلی پشتونوں کی مدد حاصل تھی۔[6]
گلگت کے مسلمانوں نے بھی ہمدرد برطانوی فوجی میجر ولیم براؤن اور چترال کی ریاستی افواج کی مدد سے پاکستان میں شامل ہونے کے لیے جدوجہد کی۔[6]
چونکہ پاکستانی اور قبائلی افواج ریاست میں داخل ہو گئی تھیں، اس لیے ہندو مہاراجا نے بھارت سے مدد طلب کی۔ لیکن بھارت نے مطالبہ کیا کہ مہاراجا جموں و کشمیر کو بھارت کا حصہ بنانے کے لیے 'الحاق نامے' پر دستخط کریں۔ تاہم، یہ الحاق عارضی تھا اور اس الحاق نامے کے ساتھ یہ شرط تھی کہ کشمیریوں کو اس الحاق کو قبول یا مسترد کرنے کا موقع دیا جائے گا۔[6]
مہاراجا کے الحاق نامے پر دستخط کرنے کے بعد، بھارتی افواج باضابطہ طور پر جموں و کشمیر میں داخل ہوئیں۔ اس کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ ہوئی۔ نہرو کی قیادت میں بھارت جموں و کشمیر کا معاملہ اقوامِ متحدہ لے گیا۔[6]
اقوام متحدہ میں بھارت نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ مہاراجا نے بھارت کے ساتھ الحاق نامے پر دستخط کیا تھا اور اس لیے یہ ریاست بھارت کا حصہ ہے۔ تاہم، پاکستان کا موقف تھا کہ تقسیمِ ہند کے اس اصول کی بنیاد پر کہ برصغیر کے مسلم اکثریتی علاقے پاکستان کا حصہ بنیں گے، جموں و کشمیر کا خطہ بھی پاکستان میں شامل ہونا چاہیے۔ اقوامِ متحدہ نے قانونی طور پر ناقابل نفاذ قرارداد منظور کی جس میں کہا گیا کہ جب پاکستان اپنی افواج کو ہٹا دے گا اور بھارت ریاست میں اپنی فوج کا حجم کم کر دے گا تو جموں اور کشمیر کے لوگوں کو ووٹ دینے کا موقع دیا جائے کہ وہ بھارت یا پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔
خود مختاری کے لیے کوئی تیسرا متبادل موجود نہیں تھا کیونکہ جموں و کشمیر برطانوی ہند کی سینکڑوں شاہی ریاستوں میں سے ایک تھا۔ ان میں سے کسی بھی ریاست کو آزاد رہنے کی اجازت نہیں تھی اور سبھی کو بھارت اور پاکستان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا تھا۔
اس وجہ سے جموں کشمیر ستر سال سے زائد عرصے سے دو جوہری طاقتوں پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعے کا باعث بنا ہوا ہے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ مسلم اکثریتی ریاست ہونے کے باعث تقسیم ہند کے قانون کی رو سے یہ پاکستان کا حصہ ہے جبکہ بھارت اسے اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے۔علاقہ عالمی سطح پر متنازع قرار دیا گیا ہے۔اقوام متحدہ اور باقی بڑی اہم عالمی تنظیموں نے جموں کشمیر کے حق آزادی کو تسلیم کیا ہے۔اور سلسلے اپنی ثالثی کی پیش کی ہے۔
بھارت کے زیر انتظام جموں کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت ہے جس میں وادی کشمیر میں مسلمان 95 فیصد، جموں میں 33.45 فیصد اور لداخ میں 46.41 فیصد ہیں۔ جموں میں ہندو 62.55 فیصد اور سکھ 3.28 فیصد ہیں اور لداخ میں بودھ 39.65 فیصد اور ہندو 12.11 فیصد ہیں۔اور پاکستان کے زیر انتظام میں 99.9 مسلمان ہیں۔ جموں کشمیر کا شرح خواندگی 98 فیصد سے زائد ہے۔
جموں کشمیر کے لوگ اپنی بہترین صلاحیتوں کے باعت جموں کشمیر،انڈیا،پاکستان اور بیرون ممالک میں اہم عہدوں پر فائز ہیں۔اور مختلف شعبہ زندگی میں اپنی صلاحتیوں کے جوہر دیکھا رہے ہیں۔ساتھ ہی ساتھ یہ لوگ اپنے طور جموں کشمیر کی تحریک آزادی کو کامیاب کرنے میں ہر سطح پر حصہ ڈال رہے ہیں۔
تحریک آزادی کو کمزور کرنے کے لیے 5 اگست 2019ء کو بھارت نے آئین ہند کی دفعہ 370 کو ختم کرنے اور ریاست کو دو یونین علاقوں میں تقسیم کر دیا۔متنازع علاقے کو اپنا علاقہ لکھ دیا – لیکن اس کے بعد تحریک آزادی مزید شدید ہو گئی ہے۔عوام کے اس شدید رد عمل کے باعث بھارت نے پوری وادی میں سخت کرفیو نافذ کر دیا۔ ریاست بھر میں انٹرنیٹ سروس معطل اور موبائل کنیکشن بند اور مقامی سیاسی لیڈروں کو گرفتار کیا گیا۔[8] گھر گھر تلاشی کے دوران ہزاروں بے گناہ نوجوانوں اور نوعمر لڑکوں کو گرفتار کرکے غائب کر دیا ہے۔
بھارت کے ان پیش قدمی کے اقدام کی وجہ سے چین بھارت، بھارت پاکستان سرحدی تنازعات بڑھ رہے ہیں۔ سنجیدہ ماہرین کے مطابق اگر کشمیر کا حل جلد نہ کیا گیا تو یہ تیسری بڑی عالمی جنگ کا پیش خیمہ بن کر کروڑوں لوگوں کی موت کا باعث بن سکتی ہے۔جس کے اثرات صدیوں ختم نہیں ہوں گے۔
نگار خانہ
[ترمیم]حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ The Hindu Net Desk (8 May 2017). "What is the Darbar Move in J&K all about?". The Hindu (بزبان بھارتی انگریزی). Archived from the original on 2017-11-10. Retrieved 2019-02-23.
- ↑ "Satya Pal Malik sworn in as Jammu and Kashmir governor"۔ The Economic Times۔ Press Trust of India۔ 23 اگست 2018۔ 2018-08-23 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-08-31
- ↑ demolish the kashmir freedom movement -ram-madhav-4542011.html "BJP-PDP alliance ends in Jammu and Kashmir LIVE updates: Mehbooba Mufti resigns as chief minister; Governor's Rule in state"۔ فرسٹ پوسٹ۔ 19 جون 2018۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-06-19
{{حوالہ ویب}}:|یوآرایل=پیرامیٹر کو جانچ لیجیے (معاونت)[مردہ ربط] - ↑ Mridu Rai (2004). Hindu Rulers, Muslim Subjects: Islam, Rights, and the History of Kashmir. C. Hurst & Co. Publishers.
- ↑ Prem Nath Bazaz "Inside Kashmir" (1941)
- 1 2 3 4 5 6 7 Christopher Snedden (2015). Understanding Kashmir and Kashmiris. Oxford University Press
- ↑ Copland, Ian (1991), "The Abdullah Factor: Kashmiri Muslims and the Crisis of 1947", pp.237-238, in D. A. Low (ed.), Political Inheritance of Pakistan, Palgrave Macmillan
- ↑ "Jammu Kashmir Article 370: Govt revokes Article 370 from Jammu and Kashmir, bifurcates state into two Union Territories". The Times of India (بزبان انگریزی). 5 Aug 2019. Retrieved 2019-08-05.
{{حوالہ ویب}}: اس حوالہ میں نامعلوم یا خالی پیرامیٹر موجود ہے:|dead-url=(help)
| ویکی ذخائر پر جموں وکشمیر سے متعلق سمعی و بصری مواد ملاحظہ کریں۔ |
- جموں و کشمیر
- 1947ء میں قائم ہونے والے ممالک اور علاقے
- 1954ء میں قائم ہونے والے ممالک اور علاقے
- 2019ء میں تحلیل ہونے والی ریاستیں اور عملداریاں
- اردو بولنے والے ممالک اور علاقہ جات
- ایشیا کے متنازع علاقے
- بھارت کی سابقہ ریاستیں اور علاقہ جات
- بھارت میں 1947ء کی تاسیسات
- بھارت میں 1954ء کی تاسیسات
- بھارت میں 2019ء کی تحلیلات
- پاکستان کے علاقائی تنازعات
- پاکستان کے علاقوں پر قبضہ
- خود مختار بھارت
- شمالی بھارت
- کشمیری زبان بولنے والے ممالک اور علاقے
- 1952ء میں قائم ہونے والے ممالک اور علاقے
- بھارت میں 1952ء کی تاسیسات
- مسئلہ کشمیر
- زلزلۂ کشمیر 2005ء
- منقسم خطہ جات
- 1950ء میں قائم ہونے والے ممالک اور علاقے
- تاریخ لداخ
- ہمالیہ
- تاریخ جموں و کشمیر