جموں و کشمیر (یونین علاقہ)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
جموں و کشمیر (یونین علاقہ)
(انگریزی میں: Jammu and Kashmir ویکی ڈیٹا پر باضابطہ نام (P1448) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ تاسیس 31 اکتوبر 2019  ویکی ڈیٹا پر تاسیس (P571) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
IN-JK (2019).svg  نقشہ

انتظامی تقسیم
ملک Flag of India.svg بھارت  ویکی ڈیٹا پر ملک (P17) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دارالحکومت سری نگر، جموں  ویکی ڈیٹا پر دارالحکومت (P36) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تقسیم اعلیٰ بھارت  ویکی ڈیٹا پر انتظامی تقسیم میں مقام (P131) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جغرافیائی خصوصیات
متناسقات 33°30′N 75°00′E / 33.5°N 75°E / 33.5; 75  ویکی ڈیٹا پر متناسقاتی مقام (P625) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رقبہ 42241 مربع کلومیٹر  ویکی ڈیٹا پر رقبہ (P2046) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آبادی
کل آبادی 12258433 (2011)  ویکی ڈیٹا پر آبادی (P1082) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مزید معلومات
اوقات متناسق عالمی وقت+05:30  ویکی ڈیٹا پر منطقہ وقت (P421) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آیزو 3166-2 IN-JK  ویکی ڈیٹا پر آئی ایس او 3166-2 کوڈ (P300) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
باضابطہ ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  ویکی ڈیٹا پر باضابطہ ویب سائٹ (P856) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جیو رمز {{#اگرخطا:|}}
نحوی غلطی

جموں و کشمیر بھارت کا ایک یونین علاقہ ہے۔[1] یہ ملک کے بعید شمال مغربی حصے میں واقع اور ہمالیائی پہاڑوں سے گھرا ہوا ہے۔ اس کی سرحدیں شمال سے ہماچل پردیش و پنجاب اور مشرق سے یونین علاقے لداخ سے ملتی ہیں۔ لائن آف کنٹرول جموں و کشمیر کو پاکستان کے زیر انتظام آزاد کشمیر (مغرب) اور گلگت بلتستان (شمال) سے جدا کرتی ہے۔

جموں و کشمیر کی اپنی قانون ساز اسمبلی ہوگی اور وہاں لیفٹیننٹ گورنر تعینات کیا جائے گا جسے صدر نامزد کرے گا۔[2]

حکومت اور سیاست[ترمیم]

یونین کے ماتحت جموں و کشمیر کے علاقے کا انتظام بھارت کے آئین کی شق 239 کے تحت چلایا جائے گا۔ شق 239 اے — جو اصل میں یونین کے ماتحت پونڈیچری کے لیے تشکیل دی گئی، اس کا بھی اطلاق جموں و کشمیر پر ہو گا۔[3]

یونین کے ماتحت علاقے کی قیادت لیفٹیننٹ گورنر کے پاس ہو گی، جس کا تقرر بھارت کا صدر کرے گا۔[3] اس کی مجلسِ قانون ساز 107 سے 114 اراکین پر مشتمل ہو گی، جن کی مدّت پانچ سال ہو گی۔ مجلسِ قانون ساز ریاستی فہرست میں "عوامی نظم و ضبط" اور "پولیس" کے علاوہ کسی بھی معاملے کے حوالے سے قانون سازی کر سکتی ہے۔ "عوامی نظم و ضبط" اور "پولیس" یونین حکومت کے دائرۂ اختیار میں ہوں گے۔[3]

وزراء کی کابینہ بشمول وزیر اعلیٰ جو مجلس قانون ساز کے رکن ہوں گے، کے تقرر کا اختیار لیفٹیننٹ گورنر کے پاس ہو گا۔ ان کا کردار لیفٹیننٹ گورنر کو مشاورت فراہم کرنے پر مبنی ہو گا، تاکہ ان معاملات سے متعلق اختیارات کو استعمال کیا جا سکے، جو مجلسِ قانون ساز کے تحت آتے ہیں۔ دیگر معاملات میں لیفٹیننٹ گورنر کو اپنی صوابدید پر فیصلے کرنے کا اختیار حاصل ہو گا۔ لیفٹیننٹ گورنر کو آرڈیننس سب جاری کرنے کا بھی اختیار حاصل ہو گا؛ جن کو اتنی ہی قوت حاصل ہو گی، جتنی مجلس قانون ساز کے تحت نافذ ہونے والے قوانین کو حاصل ہوتی ہے۔[3]

انتظامی تقسیم[ترمیم]

یونین علاقہ جموں و کشمیر دو حصوں میں ہوگا: جموں ڈویژن اور کشمیر ڈویژن اور مزید 20 اضلاع میں منقسم ہوگا۔[4]

ڈویژن نام صدر مقام رقبہ (کم²) آبادی
2001 مردم شماری
آبادی
2011 مردم شماری
جموں ضلع کٹھوعہ کٹھوعہ 2,651 550,084 615,711
ضلع جموں جموں 3,097 1,343,756 1,526,406
ضلع سامبا سامبا 904 245,016 318,611
ضلع ادھم پور ادھم پور 4,550 475,068 555,357
ضلع ریاسی ریاسی 1,719 268,441 314,714
ضلع راجوری راجوری 2,630 483,284 619,266
ضلع پونچھ، بھارت پونچھ 1,674 372,613 476,820
ضلع ڈوڈہ ڈوڈہ 11,691 320,256 409,576
ضلع رام بن رام بن 1,329 180,830 283,313
ضلع کشتواڑ کشتواڑ 1,644 190,843 231,037
کُل برائے ڈویژن جموں 26,293 4,430,191 5,350,811
کشمیر ضلع اننت ناگ اننتناگ 3,984 734,549 1,069,749
ضلع کولگام کولگام 1,067 437,885 423,181
ضلع پلوامہ پلوامہ 1,398 441,275 570,060
ضلع شوپیاں شوپیاں 612.87 211,332 265,960
ضلع بڈگام بڈگام 1,371 629,309 755,331
ضلع سرینگر سری نگر 2,228 990,548 1,250,173
ضلع گاندربل گاندربل 259 211,899 297,003
ضلع بانڈی پورہ بانڈی پورہ 398 316,436 385,099
ضلع بارہ مولہ بارہمولہ 4,588 853,344 1,015,503
ضلع کپواڑہ کپواڑہ 2,379 650,393 875,564
کُل برائے ڈویژن سری نگر 15,948 5,476,970 6,907,622
کل 42,241 ' 12,258,433

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Jammu and Kashmir to be split into 2 union territories — Ladakh and J&K"۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  2. "انڈیا کا کشمیر کی 'نیم خود مختار' حیثیت ختم کرنے کا اعلان"۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  3. ^ ا ب پ ت Jammu & Kashmir Reorganisation Bill passed by Rajya Sabha: Key takeaways, The Indian Express, 5 August 2019.
  4. "Ministry of Home Affairs:: Department of Jammu & Kashmir Affairs"۔ مورخہ 8 December 2008 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 28 August 2008۔ نامعلوم پیرامیٹر |deadurl= ignored (معاونت); نادرست |=مردہ ربط (معاونت)