راجیہ سبھا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
راجیہ سبھا
نشان ہند
قسم
قسم
بھارتی پارلیمان کا ایوان بالا
مدت
6 برس
قیادت
صدر نشین
(نائب صدر)
وینکائیا نائیڈو (بھارت)
از 11 اگست 2017
ساخت
نشستیں 245 (233 + 12 نامزد شدہ)
راجیہ سبھا
سیاسی گروہ

حکومت (102)
قومی جمہوری اتحاد

حزب اختلاف (143)
متحدہ ترقی پسند اتحاد (66)

دیگر (77)

انتخابات
سنگل ٹرانسفرایبل ووٹ
پچھلے انتخابات
16 جنوری، 23 مارچ 2018ء اور 21 جون 2018ء
اگلے انتخابات
مئی – جون 2019ء
مقام ملاقات
view of Sansad Bhavan, seat of the Parliament of India
راجیہ سبھا چیمبر، سنسد بھون،
سنسد مارگ، نئی دہلی، بھارت – 110 001
ویب سائٹ
rajyasabha.nic.in
پاورقی حواشی
^† 73 میں سے 65 بی جے پی ارکان منتخب شدہ اور 8 نامزد شدہ ہیں۔

راجیہ سبھا بھارتی پارلیمان کا ایوان بالا ہے۔ لوک سبھا کو ایوان زیریں کہا جاتا ہے۔ راجیہ سبھا میں کل 250 نشستیں ہیں جبکہ حالیہ قانون محض 245 اراکین کی اجازت دیتا ہے۔ 12 اراکین بھارت کے صدر کی طرف سے نامزد ہوتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کو نامزد رکن کہاں جاتا ہے۔ ریاستوں و یونین علاقوں کے دیگر اراکین واحد قابل انتقال ووٹ کے ذریعے منتخب ہو کر آتے ہیں۔ راجیہ سبھا میں ہر رکن 6 سال کے لیے منتخب کیا جاتا ہے، جن میں ایک تہائی ارکین ہر 2 سال میں سبکدوش ہوتے ہیں۔[1]

راجیہ سبھا کا اجلاس مسلسل ہوتا رہتا ہے اور لوک سبھا کے برخلاف راجیہ کبھی تحلیل نہیں ہوتی ہے۔ لوک سبھا کے مقابلے راجیہ سبھا کم طاقتور ہے کیونکہ لوک سبھا کے اراکین کی تعداد زیادہ ہے مگر اختیارات کے معاملے دونوں یکساں ہیں البتہ سپلائی کے میدان میں لوک سبھا کے اختیارات بڑھے ہوئے ہیں۔ اگر دونوں ایوانوں کے درمیان میں کسی بل کو لیکر اختلاف ہوجائے تو مشترک اجلاس منعقد کیا جاتا ہے مگر ایسا خال خال ہی ہوتا ہے۔اب تک محض تین مرتبہ ہی مشترک اجلاس ممکن ہو سکا ہے۔

نائب صدر بھارت راجیہ سبھا کا چیئرمین ہوتا ہے۔ اور وہی تمام اجلاس کی صدارت کرتا ہے۔راجیہ سبھا کا نائب چیرمین (راجیہ سبھا کے نائب چیرمین) موجودہ ارکان میں سے منتخب ہوتا ہے اور وہ چیرمین کی غیر موجودگی میں اس کا کام دیکھتا ہے۔ راجیہ سبھا کا پہلا سیشن 13 مئی 1952ء کو ہوا تھا۔[2] 18 کولائی 2018ء کے بعد سے راجیہ سبھا کے اراکین 22 زبانیں بول سکتے ہیں تاکہ بھارت کی 22 سرکاری زبانوں کی نمائندگی ہو سکے۔[3]

اہلیت[ترمیم]

آئین ہند کی دفعہ 84 رکن راجیہ بننے کی اہلیتیں مندرجہ ذیل ہیں:[4]

  • بھارت کا شہری ہو۔
  • بھارتی الیکشن کمیشن کی موجودگی میں آئین کے تیسرے فہرست بند کے مطابق حلف لے۔
  • 30 سال کی عمر مکمل کر چکا ہو۔
  • ودھان سبھا میں منتخب ہوچکا ہو [5]
  • کوئی مجرمانہ الزام نہ ہو۔
  • ذہنی طور پر بیمار نہ ہو۔
  • آفس آف پرافٹ نہ رکھتا ہو۔
  • بھارتی پارلیمان کے بنائے ہوئے دیگر قوانین کی پاسداری کرتا ہو۔

12 دیگر اراکین جن کو صدر منتخب کرتا ہے ان میں کوئی خاص صلاحیت ہو یا کسی خاص میدان کا اچھا خاصا تجربہ ہو۔ آئین ہند کی دفعہ 55 کے تحت ان 12 ارکان کو صدر کے انتخاب میں ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں ہوتی ہے۔

پابندیاں[ترمیم]

آئین ہند کے راجیہ سبھا پر کچھ پابندیاں عائد کی ہیں جن کی وجہ سے لوک سبھا کے اختیارات اور طاقت میں اضافہ ہوتا ہے۔

رقمی بل[ترمیم]

آئین ہند کی دفعہ 110 میں رقمی بل کومتعارف کرایا گیا ہے۔

اگر کسی بل میں مندرجہ ذیل خاصیتیں پائی جائیں تو وہ رقمی بل(Money bill) کہلائے گا
  1. کسی ٹیکس کو عائد کرنا، برخواست کرنا، معاف کرنا بدلنا یا منضبط کرنا۔
  2. بھارت کی حکومت کے رقم ادھار لینے یا کسی ضمانت کے دینے کو منضبط کرنایا ایسے مالیاتی وجوب کی بابت قانون میں ترمیم کرنا کو بھارت کی حکومت نے قبول کیے ہوں یا اس کو قبول کرنے ہوں۔
  3. بھارت کے مجتمعہ فنڈ یا اتفاقی مصارف فنڈ کی تحویل کسی ایسے فنڈ میں رقوم جمع کرنا یا اس سے رقوم نکالنا۔
  4. بھارت کے مجتمعہ فنڈ سے رقوم کا تصرف۔
  5. کسی خرچ کی بابت قرار دینا کہ وہ خرچ ایسا ہے جو بھارت کے مجتمعہ فنڈ پر عائد ہو گا، ایسے کسی خرچ کی رقم میں اضافہ کرنا۔
  6. بھارت کے مجتمعہ فنڈ یا بھارت کے سرکاری کھاتے کی بابت رقم کی وصولی یا ایسی رقم کی تحویل یا اس کا اجراء کا یونین یا کسی ریاست کے حسابات کی جانچ؛ یا
  7. کوئی ایسا امر جو ذیلی فقرات میں سے کسی کا ضمنی امر ہو۔[6]

رقمی بل کو صرف لوک سبھا میں ہی پیش کیا جا سکتا ہے جس کے لیے صدر کی سفارش بھی ضروری ہے۔اگر لوک سبھا میں رقمی بل منظور ہو جائے تب وہ راجیہ سبھا میں بھیجا جاتا ہے جہاں اسے 14 دنوں سے زیادہ نہیں رکھا جا سکتا ہے۔اس دوران میں راجیہ سبھا اپنی سفارشات دے سکتا ہے۔ اگر 14 دنوں کے اندر راجیہ سبھا لوک سبھا کو بل نہیں بھیجتا ہے تو اسے پاس مانا جاتا ہے۔ لوک سبھا کو راجیہ کی تمام یا کچھ سفارشات کو نا منظور کرنے کا مکمل اختیار ہے۔راجیہ سبھا کی حیثیت صرف تجویز دینے کی ہے۔[7]

مشترک اجلاس[ترمیم]

آئین ہند کی دفعہ 108 مشترک اجلاس کے بارے میں بتاتی ہے۔دونوں ایوانوں میں سے ایک اگر کسی بل کو مسترد کر دے یا چھ ماہ تک روکے رکھے یا راجیہ سبھا لوک سبھا کی تجویزوں کو نہ مانے تو لوک سبھا اسپیکر کی صدارت میں مشترک اجلاس کی نوبت آتی ہے۔ چونکہ لوک سبھا میں اکثریت حکومت کے ارکان کی ہوتی ہے اور دونوں ایوانوں میں سے لوک سبھا میں ارکان زیادہ ہوتے ہیں لہذا مشترک اجلاس میں عموما حکومت کی جیت ہوتی ہے حالانکہ راجیہ سبھا میں حکومت میں اقلیت میں ہو۔ بھارتی پارلیمان کی تاریخ میں اب تک تین مرتبہ مشترک اجلاس ہوئے ہیں:

  • 1961ء: دہیز مخالف ایکٹ، 1958ء
  • 1978ء: بینکنگ سروس کمیشن ایکٹ، 1977ء
  • 2002ء: سد دہشت گردی ایکٹ، 2002ء

تحریک عدم اعتماد[ترمیم]

لوک سبھا کے برخلاف راجیہ سبھا میں کوئی بھی رکن حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد نہیں لا سکتا ہے۔

اختیارات[ترمیم]

بھارت ایک فیڈرک حکومت ہے اور اس کے فیڈرل نظام میں راجیہ سبھا ریاستوں کی نمائندگی کرتی ہے جسے کونسل آف اسٹیٹ بھی کہا جاتا ہے۔ اسی لیے راجیہ سبھا کو یونین کے خلاف ریاستوں کے تحفظ کے لیے اختیارات دیے گئے ہیں۔

یونین ریاست تعلقات[ترمیم]

آئین ہند پارلیمان کو ریاست کے خصوصی امور میں قانون بنانے کی اجازت دیتا ہے۔ ایسا صرف راجیہ سبھا میں ممکن ہے جہاں دو تہائی اکثریت سے بل کو پاس کیا جاتا ہے۔ مرکزی حکومت کو راجیہ سبھا کی منظوری کے بغیر ریاست کے معاملے میں کسی قانون کے بنانے کی اجازت نہیں ہے۔

آل انڈیا سروسز کی تخلیق[ترمیم]

دو تہائی اکثریت کی منظوری سے راجیہ سبھا ایسا بل منظور کرسکتی ہے جس کی رو سے حکومت کو مرکز اور ریاست کے لیے مزید آل انڈیا سروسز کی تخلیق کا جواز مل جاتا ہے۔ اس میں جوڈیشیل سروسز بھی شامل ہیں۔

ساخت[ترمیم]

راجیہ سبھا میں نشستوں کا الاٹمنٹ ریاستوں اور یونین علاقوں کی آبادی کے تناسب سے بقایا تماسب کے تحت کیا جاتا ہے۔ [8] تمام ارکان ریاستی کونسل سے منتخب ہو کر آتے ہیں لہذا جن یونین علاقوں میں ریاستی کونسل ہیں ہے راجیہ سبھا میں ان کی نمائندگی نہیں ہے جیسے جزائر انڈمان و نکوبار، چندی گڑھ، دادرا و نگر حویلی، دمن و دیو اور لکشادیپ۔ 12 ارکان صدر بھارت نامزد کرتا ہے۔ آئین ہند کے چوتھے درج فہرست کے مطابق راجیہ سبھا میں 216 نشستیں تھیں جن میں سے 12 کو صدر نامزد کرتا ہے اور 204 ریاستوں سے منتخب ہو کر آتے ہیں۔[9] موجودہ وقت میں 245 نشستیں ہیں جن میں 233 ارکان ریاستوں کی نمنائندگی کرتے ہیں اور 12 کو صدر منتخب کرتا ہے۔[10]

ریاست/یونین علاقہ کی راجیہ سبھا میں نمائندگی[ترمیم]

ریاست/یونین علاقہ نشستیں
آندھرا پردیش[11] 11
اروناچل پردیش 1
آسام 7
بہار (بھارت) 16
چھتیس گڑھ 5
گوا 1
گجرات (بھارت) 11
ہریانہ 5
ہماچل پردیش 3
جموں و کشمیر 4
جھارکھنڈ 6
کرناٹک 12
کیرلا 9
مدھیہ پردیش 11
مہاراشٹر 19
منی پور 1
میگھالیہ 1
میزورم 1
ناگالینڈ 1
دہلی 3
نامزد 12
اوڈیشا 10
پدوچیری 1
پنجاب، بھارت 7
راجستھان 10
سکم 1
تمل ناڈو 18
تلنگانہ[11] 7
تریپورہ 1
اتر پردیش 31
اتراکھنڈ 3
مغربی بنگال 16
Total 245

مزید دیکھیے[ترمیم]

  1. Yashwant Deshmukh (11 جون 2016)۔ "Crucial polls today: A guide to calculus of Rajya Sabha for dummies"۔ Firstpost۔ مورخہ 19 جون 2016 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 جون 2016۔
  2. "OUR PARLIAMENT"۔ Indian Parliament۔ مورخہ 17 مئی 2011 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 11 مئی 2011۔
  3. "Rajya Sabha MPs can now speak in 22 Indian languages in House"۔
  4. "Council of States (Rajya Sabha) – rajyasabha.in"۔ مورخہ 18 جون 2012 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  5. "HANDBOOK FOR RETURNING OFFICERS – FOR ELECTIONS TO THE COUNCIL OF STATES AND STATE LEGISLATIVE COUNCILS" (پی‌ڈی‌ایف)۔ Election Commission of India۔ 1992۔ صفحات 400–426۔ مورخہ 10 جنوری 2017 کو اصل سے آرکائیو شدہ (پی‌ڈی‌ایف)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2 اگست 2017۔
  6. آئین ہند، دفعہ 110،
  7. "Website of the Rajya Sabha – Legislation"۔
  8. "642 Sidharth Chauhan, Bicameralism: comparative insights and lessons"۔ مورخہ 18 مئی 2015 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 15 مئی 2015۔
  9. "Composition of Rajya Sabha – Rajya Sabha At Work" (پی‌ڈی‌ایف)۔ rajyasabha.nic.in۔ Rajya Sabha Secretariat, New Delhi۔ مورخہ 5 مارچ 2016 کو اصل (پی‌ڈی‌ایف) سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 اکتوبر 2015۔
  10. "Composition of Rajya Sabha – Rajya Sabha At Work" (پی‌ڈی‌ایف)۔ rajyasabha.nic.in۔ Rajya Sabha Secretariat, New Delhi۔ مورخہ 5 مارچ 2016 کو اصل (پی‌ڈی‌ایف) سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 اکتوبر 2015۔
  11. ^ ا ب "Rajya Sabha members alloted [sic] to Telangana, Andhra Pradesh"۔ The Economic Times۔ 30 مئی 2014۔ مورخہ 9 فروری 2014 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 اکتوبر 2015۔