بھارت کی زبانیں

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بھارت کی زبانیں
South Asian Language Families.png
بر صغیر کے خاندانہائے السنہ۔
نہالی، کسندا اور تائی زبانوں کو نہیں دکھائی ہے۔
دفتری زبانیں
اشاراتی زبانیںہندوستانی و پاکستانی اشاراتی زبان
علی پوری اشاراتی زبان
ناگا اشاراتی زبان (معدوم)

بھارت ایسا ملک ہے جہاں دنیا کے سب سے زیادہ زبانیں بولی جاتی ہے۔ بھارت میں 75 فیصد ہند-آریائی زبانیں بولی جاتے ہیں، باقی 20 فیصد دراوڑی زبانیں بولی جاتی ہیں اور 5 فیصد کچھ اور زبانیں بولی جاتی ہیں۔[1][2]

تاریخ[ترمیم]

کلہیا

فہرست دفتری زبانیں[ترمیم]

آئین کی شقیں[ترمیم]

آئین کے آرٹیکل 343 کی شق نمبر 1 کے تحت: بھارتی یونین کی سرکاری زبان دیوناگری رسم الخط میں ہندی ہوگی۔ اعداد کی بین الاقوامی صورت استعمال کی جائے گی ۔ شق نمبر 2 کے تحت اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ آئین کے نفاذ کے پندرہ برس تک انگریزی بطور دفتری زبان رائج رکھی جائے گی جس کے بعد صدارتی حکم کے ذریعے دیوناگری رسم الخط میں ہندی رائج کر دی جائے گی۔ شق نمبر 3 یہ کہتی ہے کہ اس عرصے کے بعد پارلمنٹ قانون سازی کے ذریعے انگریزی جاری رکھنے کا فیصلہ کر سکتی ہے۔ آئین کا آرٹیکل 344 کہتا ہے کہ ایک کمیشن اور پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے گی جو ہندی کو ملک بھر رائج کرنے کے سفارشات مرتب کر کے صدر جمہوریہ کو پیش کرے گی۔ کمیشن کے ارکان بھارت کی ثقافتی، صنعتی اور سائنسی ترقی کے پیش نظر ہندی نہ بولنے والے علاقوں کے لوگوں کی آراء کا خیال بھی رکھیں گے۔ آرٹیکل 345 کے تحت ریاستوں کو اپنی مقامی اایک یا ایک زائد اور ہندی کو بطور سرکاری زبان اختیار کرنے کا حق دیا گیا ہے۔ آرٹیکل 346 کے مطابق ریاستیں آپس میں اور وفاق سے رابطے کے لیے وقتی طور پر انگریزی اور بعد ازاں ہندی کا استعمال کریں گی یا اس زبان کا جس پر ریاستیں اور وفاق باہم متفق ہوں۔ آرٹیکل 347 کے تحت صدر جمہوریہ کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ کسی علاقے کے لوگوں (کثیر تعداد) کی خواہش پر کسی زبان کو شیڈولڈ زبانوں شامل کر سکتے ہیں۔ آرٹیکل 348 میں پارلیمانی کارروائی اور سپریم کورٹ و ہائیکورٹس کی عدالتی کارروائی انگریزی میں رکھنے کی ہدایے جب تک کہ پارلیمنٹ اس کے مخالف قانون منظور نہ کر لے۔ آرٹیکل 349 میں آئین کے نفاذ کے پندرہ برس کے دوران زبان کے متعلق بنائے کمیشن کی قانونی کارروائی کی وضاحت ہے۔ آرٹیکل 350 کے تحت تنازعات کی صورت میں کوئی بھی شخص ریاستی یا وفاقی افسر یا ادارے کے خلاف شکایت وفاق یا ریاست کے زیر استعمال کسی زبان میں بھی دائر کر سکتا ہے۔ آرٹیکل 351 زبان کے معاملے کو مکمل کرتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ وفاقی حکومت کا فرض ہوگا کہ وہ ہندی زبان کی ترویج، ترقی اور حفاظت کے لیے اقدامات کو یقینی بنائے تاکہ پورے بھارت میں یہ زبان رابطے کے لیے ایک موثر کردار ادا کر سکے۔ اس آئین کے آرٹیکل 345 کے تحت بھارت میں 22 زبانیں شیڈولڈ لینگوایجز قرار دی گئی ہیں جو مختلف ریاستوں میں دفتری زبانوں کے طور بھی رائج ہیں۔

ہندی اور گاندھی[ترمیم]

پورے ہندوستان کی ایک بھاشا ہونی چاہیے ۔۔۔۔ اور وہ ہے ہندی : گجرات ایجوکیشن کانفرنس 1917، بھروچ میں گاندھی کا خطاب۔

جب تک ہم سب ہندی بھاشا کو نہیں اپنائیں گے، سوراج نہیں مل سکے گا: ہندی ساہتیہ سمیلن 1918، اندور میں گاندھی کا صدارتی حطبہ۔ یہ ہندی کو پورے برصغیر کی زبان بنانے کے متعلق گاندھی کی خواہش اور کوشش کا نقطہ آغاز تھا۔ اس کے بعد 29 ستمبر 1919، 24 مارچ 1920، 5 اپریل 1921، 25 اکتوبر 1921 کو انہی خیالات کا اظہار کیا جو ان کی وفات تک قائم رہے۔ اس سلسلے میں کم از کم 28 حوالہ جات موجود ہیں ۔ گاندھی کی "ایک دیش، ایک بھاشا" مہم تا عمر یعنی قریباً 31 برس تک جاری رہی۔

حوالہ جات[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Indo-Aryan languages". Encyclopædia Britannica Online. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 10 دسمبر 2014. 
  2. "Dravidian languages". Encyclopædia Britannica Online. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 10 دسمبر 2014.