تعزیرات ہند

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
تعزیرات ہند، 1860
Council of the Governor General of India
حوالہ Act No. 45 of 1860
علاقائی وسعت بھارت (سوائے جموں و کشمیر)
واضع قانون Legislative Council
تاریخ وضع قانون 6 اکتوبر 1860
تاریخ توثیق 6 اکتوبر 1860
تاریخ نفاذ 1 جنوری 1862
مقننہ ترجمان First Law Commission
اصلاحی ترمیم
دیکھیں Amendments
متعلقہ قانون
Code of Criminal Procedure, 1973
موجودہ صورت: Substantially amended

تعزیرات ہند سے بھارت کا اہم ضابطہ فوجداری مراد ہے۔ یہ فوجداری قوانین کا ایک جامع مجموعہ ہے جس کا مقصد قانون فوجداری کے تمام اہم مسائل کا احاطہ کرنا ہے۔ اس قانون کا مسودہ 1860ء میں تیار کیا گیا تھا جس کے پیچھے برطانوی بھارت کے پہلے قانونی کمیشن کی سفارشات کارفرما تھیں۔ یہ کمیشن 1834ء میں چارٹر ایکٹ 1833ء کے تحت تھامس باربنگٹن میکالے کی صدارت میں قائم ہوا تھا۔[1][2][3] یہ فوجداری قانون برطانوی بھارت میں 1862ء نافذ کیا گیا تھا۔ تاہم یہ قوانین نوابی ریاستوں میں نافذ نہیں کئےگئے ، ان کے پاس 1940ء کی دہائی تک ان کی اپنی عدالتیں اور قانونی نظام قائم تھے۔ تعزیرات ہند ہی پر مبنی جموں و کشمیر میں ایک علاحدہ ضابطہ فوجداری نافذ کیا گیا جسے رنبیر ضابطہ تعزیرات کہا جاتا ہے۔

انگریزوں کی واپسی کے بعد، تعزیرات ہند پاکستان کو ورثے میں ملا، جس کا زیادہ تر حصہ سابقہ برطانوی بھارت کا حصہ تھا، وہاں اسے مجموعہ تعزیرات پاکستان کا نام دیا گیا۔ بنگلہ دیش کی پاکستان سے علیحدگی کے بعد (سابقہ مشرقی پاکستان) میں یہی قانون وہاں بھی نافذ رہا۔

تعزیرات ہند برطانوی استعماری ارباب مجاز کی جانب سے برما (اب میانمار)، سیلون (موجودہ سری لنکا)، مستعمرات آبنائے (اب ملیشیا کا حصہ)، سنگاپور اور برونائی دار السلام میں بھی نافذ کیا گیا اور ان ممالک کے فوجداری قوانین کی اساس بنا ہوا ہے۔ جموں و کشمیر میں نافذ رنبیر ضابطہ تعزیرات اسی ضابطے پر مبنی ہے۔[2]

تاریخ[ترمیم]

تعزیرات ہند کا مسودہ پہلے قانونی کمیشن کی جانب سے1834 میں تیار کیا گیا تھا جس کی صدارت تھامس بابنگٹن میکالے کی تھی اور یہ ہندوستانی کونسل کے گورنر کو 1837 میں پیش کیا گیا تھا۔ اس کی بنیاد انگلستان کا قانون ہے جس میں اس کی منفردات، طرزیات اور مقامی پیچیدگیوں کو دور رکھا گیا تھا۔ اس کے کچھ عناصر نپولینی ضابطہ اور ایڈورڈ لیونگسٹون کے 1825 کے لوزیانا ضابطہ دیوانی سے بھی لیے گئے تھے۔ تعزیرات ہند کا حتمی مسودہ ہندوستان کے گورنر جنرل کو 1837 میں پیش کیا گیا تھا، مگر مسودے پر نظرثانی کی گئی تھی۔ مسودے کی نئے سرے سے تیاری 1850 میں مکمل ہوئی اور اس ضابطے کو قانون ساز کونسل میں 1856 کو پیش کیا گیا تھا۔ مگر مسودہ کو اس کا مقام نہیں ملا کیونکہ جنگ آزادی ہند 1857ء کا شورش زدہ دور چل رہا تھا۔ بالآخر یہ مسودہ بارنیس پی کاک کی نظرثانی سے گزرا جو بعد میں کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بنے اوراس کے بعد مستقبل میں اسی کورٹ کے پوئسنے جج حضرات نے،جو قانون سازکونسل کے ارکان بھی تھے، 6 اکتوبر 1860 کو اسے منظور کردیا۔[4] اس ضابطے کو یکم جنوری 1862 سے روبہ عمل لایا گیا تھا۔ تاہم میکالے اپنا قانونی شاہکار عملی شکل میں دیکھنے کے لیے زندہ نہیں رہے۔ ان کا انتقال 1859 میں ہو گیا تھا۔[1][3]

خاکہ[ترمیم]

1860ء کا تعزیرات ہند 23 ابواب اور 511 دفعات پر محیط ہے۔ ضابطہ کا آغاز تمہید سے ہوتا ہے، یہ تمہید قوانین میں شامل تشریحات ومستثنیات، اور متفرق نوعیت کے جرائم پر محیط ہے۔ اس کا اجمالی خاکہ حسب ذیل جدول میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے:[5]

تعزیرات ہند، +1860

(دفعات 1 تا 511)

باب شامل دفعات
باب اول دفعات 1 تا 5 تمہید
باب دوم دفعات 6 تا 52 عمومی تشریحات
باب سوم دفعات 53 تا 75 سزاؤں سے متعلق
باب چہارم دفعات 76 تا 106 عمومی مستثنیات

خود کے دفاع کے حق کے متعلق (دفعات 96 تا 106)

باب پنجم دفعات 107 تا 120 جرم کے ساتھ دینے سے متعلق
باب پنجم اے دفعات 120A تا 120B مجرمانہ سازش
باب ششم دفعات 121 تا 130 ریاست کے خلاف جرائم سے متعلق
باب ہفتم دفعات 131 تا 140 فوج، بحریے اور فضائیے سے جڑے جرائم سے متعلق
باب ہشتم دفعات 141 تا 160 عوامی امن سے جڑے جرائم سے متعلق
باب نہم دفعات 161 تا 171 عوامی خدمت گزاروں کے یا ان سے جڑے جرائم سے متعلق
باب نہم اے دفعات 171 اے تا 171 آئی انتخابات سے جڑے جرائم سے متعلق
باب دہم دفعات 172 تا 190 عوامی خدمت گزاروں کے قانونی موقف کی توہین سے متعلق
باب یزدہم دفعات 191 تا 229 جھوٹی گواہی اور عوامی انصاف سے جڑے جرائم سے متعلق
باب دوازدہم دفعات 230 تا 263 سکہ جات اور سرکاری ڈاک ٹکٹوں سے جڑے جرائم سے متعلق
باب سیزدہم دفعات 264 تا 267 وزن اور پیمائش سے متعلق جرائم
باب چہارازدہم دفعات 268 تا 294 عوامی صحت، حفاظت، سہولت، نفاست اور اخلاق سے جڑے جرائم سے متعلق
باب باب پنج ازدہم دفعات 295 تا 298 مذہب سے جڑے جرائم جرائم سے متعلق
باب شش از دہم دفعات 299 تا 377 انسانی جسم پر اثرانداز ہو نے والے جرائم سے متعلق
  • زندگی پر اثرانداز ہونے والے جرائم سے متعلق بہ شمول قتل، قابلِ مؤاخذہ قتل انسان (دفعات 299 تا 311)
  • غیرمولود ا بچوں، شیرخواروں کا افشا، ولادت کی پردہ پوشی سے لے کر اسقاط حمل کروانے یا زخموں سے متعلق (دفعات 312 تا 318)
  • زخم پہنچنے سے متعلق (دفعات 319 تا 338)
  • بے جا رکاوٹ اور بے جا اسیری (دفعات 339 تا 348)
  • مجرمانہ زورآوری اور حملے سے متعلق (دفعات 349 تا 358)
  • اغوا، غلامی اور بندھؤا مزدوری سے متعلق (دفعات 359 تا 374)
  • جنسی جرائم بہ شمول آبروریزی (دفعات 375 تا 376)
  • غیرفطری جرائم سے متعلق (دفعہ 377)
باب ہفت از دہم دفعات 378 تا 462 جائداد کے خلاف جرائم سے متعلق
  • سرقے سے متعلق (دفعات 378 تا 382)
  • جبری حصول (دفعات 383 تا 389)
  • قزاقی سے متعلق (دفعات 390 تا 402)
  • جائداد کے مجرمانہ غلط استعمال سے متعلق (دفعات 403 تا 404)
  • مجرمانہ اعتماد شکنی کے متعلق (دفعات 405 تا 409)
  • مسروقہ جائداد کے حصول کے متعلق (دفعات 410 تا 414)
  • دھوکادہی کے متعلق (دفعہ 415 تا 420)
  • جعلی عہدناموں اور جائداد کی منتقلی کے متعلق (دفعات 421 تا 424)
  • شرانگیزی کے متعلق (دفعات 425 تا 440)
  • مجرمانہ مجرمانہ طور پر جائداد کے ناجائز قبضے کے متعلقہ (دفعات 441 تا 462)
باب ہشت از دہم دفعہ 463 تا 489 دستاویز اور مالکانہ نشانات سے متعلق
  • دستاویزوں سے جڑے جرائم سے متعلق (دفعہ 463 تا 477-اے)
  • مالکانہ اور دیگر نشانات سے جڑے جرائم سے متعلق (دفعات 478 تا 489)
  • رواں نوٹوں اور بینک نوٹوں سے جڑے جرائم (دفعات 489A تا 489E)
باب نیزدہم دفعات 490 تا 492 مجرمانہ خدمات سے جڑے معاہدوں کی خلاف ورزی کے جرم کے متعلق
باب بستم دفعات 493 تا 498 شادی سے جڑے جرائم سے متعلق
باب بستم دفعہ 498 (اے) شوہر یا اس کے عزیز و اقارب کی قساوت قلبی کے متعلق
باب بست و یکم دفعات 499 تا 502 ہتک عزت کے متعلق
باب بست و دوم دفعات 503 تا 510 مجرمانہ دھمکی، بے عزتی اور ایذارسانی
باب بست و سوم دفعہ 511 جرم کرنے کی مساعی سے متعلق

تنازعات[ترمیم]

غیر فطری جرائم - دفعہ 377[ترمیم]

جو کوئی، بہ رضا جنسی اختلاط قدرتی قانون کے خلاف کسی مرد، عورت یا جانور کے ساتھ اختلاط کرتا ہے، اسے تاحیات قید، یا کوئی طے شدہ میعاد کی قید جو دس سال تک کی ہوسکتی ہے، ملے گی اور اس پر جرمانہ بھی عائد ہوسکتا ہے۔

توضیح - دخول اس بات کےلیے کافی ہے کہ جنسی مباشرت جس کا اس دفعہ میں تذکرہ ہے وقوع ہو چکا ہے۔[6]

  • دفعہ 377 کے متعلق دہلی ہائی کورٹ نے 2 جولائی 2009 کی آزادخیالی پر مبنی تعبیر دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس دفعہ کو باہمی رضامندی سے وقوع ہونے والے دو ایک ہی جنس کے لوگوں میں مباشرت کو سزا دینے کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ [7]
  • دسمنر 11، 2013 کو بھارت کے سپریم کورٹ نے دہلی ہائی کورٹ کے 2009 کے فیصلے کی نفی کرتے ہوئے وضاحت کی کہ "دفعہ 377 جو ہم جنسی تعلقات کو غیرفطری قرار دیتی ہے، غیردستوری موقف کی حامل نہیں ہے"۔ بینچ نے کہا: "ہم یہ رائے دیتے ہیں کہ دفعہ 377 غیردستوری موقف کی حامل نہیں ہے… غیردستوری موقف اور ہائی کورٹ کے ڈیویژن بینچ کا فیصلہ قانونی طور پر قائم نہیں رہ سکتا"۔ تاہم یہ بھی کہا گیا کہ اس فیصلے کے باوجود، بااختیار مقننہ آزادانہ طور پر دفعہ 377 کی بقا اور قانونی کتابوں سے اس کا حذف کیا جانا یا اس کی ترمیم جیساکہ اٹارنی جنرل جی ای واہن وتی نے سفارش کی ہے، کرسکتی ہے۔[8]

خودکشی کرنے کی کوشش[ترمیم]

تعزیرات ہند کی دفعہ 309 ناکام خودکشی کی کوشش سے متعلق ہے۔ خودکشی کی کوشش کرنا اور کوئی ایسا عمل کرنا جس سے اس عمل کو تقویت ملے قابل سزا ہے۔ اس کے لیے ایک سال تک کی سزا یا جرمانہ یا دونوں ہو سکتے ہیں۔ چونکہ بھارت کا قانونی کمیشن ایک طویل عرصے سے مسلسل اس دفعہ کی تنسیخ کی وکالت کرتا آیا ہے، حکومت ہند نے دسمبر 2014 میں خودکشی کو جرائم کے زمرے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا جس کے لیے قانونی کتاب سے دفعہ 309 کو ہٹایا جانا تھا۔ حالانکہ زیادہ تر ریاستوں نے اس فیصلے کی حمایت کی، کچھ نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس سے قانون کا نفاذ کرنے والی ایجنسیاں ان لوگوں کے آگے بے بس ہوجائیں گی جو مرن برت (fast unto death)، خودسوزی، وغیرہ پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔ ایک خاص معاملہ جس کا اشارہ کیا گیا وہ مخالف اے ایف ایس پی اے کارکن ایروم چانو شرمیلا (Irom Chanu Sharmila) کا ہے۔[9] فروری 2015 میں وزارت قانون و انصاف کو حکومت نے اس ضمن میں ایک ترمیمی بل تیار کرنے کو کہا تھا۔[10]

اگست 2015 میں ایک فیصلہ سناتے ہوئے راجستھان ہائی کورٹ نے جینوں میں موجود رضاکارانہ طور پر فاقہ کشی کے ذریعے موت کو گلے لگانے کی رسم جسے سنتھرا کہتے ہیں، 306 اور 309 کی دفعات کے تحت قابل سزا قرار دیا۔ اس سے تنازع پیدا ہوا جس میں جین برادری کے کچھ گوشے وزیراعظم سے درخواست کرنے لگے کہ وہ سپریم کورٹ سے اس حکم کے خلاف رجوع ہوں۔ [11][12]

دفعہ 497[ترمیم]

تعزیرات ہند کی دفعہ 497 موضوع تنقید بن چکی ہے کیونکہ اس کی رو سے عورت اپنے شوہر کی ذاتی ملکیت قرار پاتی ہے جبکہ دوسری جانب عورتوں کو زنا کی سزا سے مکمل تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔[13][14]

جرائم و انصاف کی اصلاحات[ترمیم]

2003 میں مالی مٹھ کمیٹی نے ایک جامع روداد پیش کی جس میں کئی وسیع النظر اصلاحات بہ شمول تحقیقات اور جرح کو علاحدہ کرنا، اور جرح کو برطانیہ کی کراؤن پراسی کیوشن سروس کے طرز پر بنانا تاکہ جرائم سے متعلق انصاف صحیح خطوط پر آسکے۔ [15] روداد کا خلاصہ یہی تھا کہ ایک ضرورت محسوس کی گئی تھی کہ معاندانہ انصاف کے برعکس عدل ومساوات پر مبنی انصاف کا نظام ہو جیساکہ براعظم یورپ میں ہے-

ترامیم[ترمیم]

اس ضابطے کو کئی بار ترمیم کیا گیا تھا۔ [16][17]

شمار سلسلہ ترمیمی قانون کا مختصر عنوان شمار سال
1 The Repealing Act, 1870 14 1870
2 The Indian Penal Code Amendment Act, 1870 27 1870
3 The Indian Penal Code Amendment Act, 1872 19 1872
4 The Indian Oaths Act, 1873 10 1873
5 The Indian Penal Code Amendment Act, 1882 8 1882
6 The Code of Criminal Procedure, 1882 10 1882
7 The Indian Criminal Law Amendment Act, 1886 10 1886
8 The Indian Marine Act, 1887 14 1887
9 The Metal Tokens Act, 1889 1 1889
10 The Indian Merchandise Marks Act, 1889 4 1889
11 The Cantonments Act, 1889 13
12 The Indian Railways Act, 1890 9
13 The Indian Criminal Law Amendment Act, 1891 10
14 The Amending Act, 1891 12
15 The Indian Criminal Law Amendment Act, 1894 3
16 The Indian Criminal Law Amendment Act, 1895 3
17 The Indian Penal Code Amendment Act, 1896 6 1896
18 The Indian Penal Code Amendment Act, 1898 4 1898
19 The Currency-Notes Forgery Act, 1899 12 1899
20 The Indian Penal Code Amendment Act, 1910 3 1910
21 The Indian Criminal Law Amendment Act, 1913 8 1913
22 The Indian Elections Offences and Inquiries Act, 1920 39 1920
23 The Indian Penal Code (Amendment) Act, 1921 16
24 The Indian Penal Code (Amendment) Act, 1923 20
25 The Indian Penal Code (Amendment) Act, 1924 5
26 The Indian Criminal Law Amendment Act, 1924 18
27 The Workmen’s Breach of Contract (Repealing) Act, 1925 3
28 The Obscene Publications Act, 1925 8
29 The Indian Penal Code (Amendment) Act, 1925 29
30 The Repealing and Amending Act, 1927 10
31 The Criminal Law Amendment Act, 1927 25
32 The Repealing and Amending Act, 1930 8
33 The Indian Air Force Act, 1932 14
34 The Amending Act, 1934 35
35 The Government of India (Adaptation of Indian Laws) Order, 1937 دستیاب نہیں 1937
36 The Criminal Law Amendment Act, 1939 22
37 The Offences on Ships and Aircraft Act, 1940 4
38 The Indian Merchandise Marks (Amendment) Act, 1941 2
39 The Indian Penal Code (Amendment) Act, 1942 8
40 The Indian Penal Code (Amendment) Act, 1943 6
41 The Indian Independence (Adaptation of Central Acts and Ordinances) Order, 1948 دستیاب نہیں 1948
42 The Criminal Law (Removal of Racial Discriminations) Act, 1949 17
43 The Indian Penal Code and the Code of Criminal Procedure (Amendment) Act, 1949 42 1949
44 The Adaptation of Laws Order, 1950 دستیاب نہیں 1950
45 The Repealing and Amending Act, 1950 35
46 The Part B States (Laws) Act, 1951 3
47 The Criminal Law Amendment Act, 1952 46
48 The Repealing and Amending Act, 1952 48
49 The Repealing and Amending Act, 1953 42
50 The Code of Criminal Procedure (Amendment) Act, 1955 26
51 The Adaptation of Laws (No.2) Order, 1956 دستیاب نہیں 1956
52 The Repealing and Amending Act, 1957 36
53 The Criminal Law Amendment Act, 1958 2
54 The Trade and Merchandise Marks Act, 1958 43
55 The Indian Penal Code (Amendment) Act, 1959 52
56 The Indian Penal Code (Amendment) Act, 1961 41
57 The Anti-Corruption Laws (Amendment) Act, 1964 40
58 The Criminal and Election Laws Amendment Act, 1969 35
59 The Indian Penal Code (Amendment) Act, 1969 36
60 The Criminal Law (Amendment) Act, 1972 31
61 The Employees’ Provident Funds and Family Pension Fund (Amendment) Act, 1973 40
62 The Employees’ State Insurance (Amendment) Act, 1975 38
63 The Election Laws (Amendment) Act, 1975 40
64 The Criminal Law (Amendment) Act, 1983 43
65 The Criminal Law (Second Amendment) Act, 1983 46
66 The Dowry Prohibition (Amendment) Act, 1986 43
67 The Employees’ Provident Funds and Miscellaneous Provisions (Amendment) Act, 1988 33
68 انسداد رشوت قانون، 1988 49
69 The Criminal Law (Amendment) Act, 1993 42
70 The Indian Penal Code (Amendment) Act, 1995 24
71 معلوماتی طرزیات قانون، 2000 21 2000
72 The Election Laws (Amendment) Act, 2003 24 2003
73 The Code of Criminal Procedure (Amendment) Act, 2005 25 2005
74 The Criminal Law (Amendment) Act, 2005 2 2006
75 The Information Technology (Amendment) Act, 2008 10 2009
76 فوجداری (ترمیمی) قانون 2013 13 2013

اعتراف[ترمیم]

اس ضابطے کی بہ نظر غائر ترتیب اور ماورائے زمانہ ہونے کا دنیا بھر میں اعتراف کیا گیا ہے۔ یہ کئی معاملوں میں بڑی حد تک من حیث المجموع کسی بڑی ترمیم کے بغیر 150 سال باقی رہا۔[18]  [حوالہ درکار] جدید جرائم جو میکالے کے وقت اَن سنے تھے، وہ بھی بڑی حد تک اس قانون کی گرفت میں آتے ہیں کیونکہ ضابطہ کے مسسودے کی تیاری میں ان کا احاطہ کیا گیا تھا۔

تعزیرات ہند میں مجوزہ ترامیم کے بارے میں نریندر مودی کا موقف[ترمیم]

بھارت کی نریندر مودی حکومت نے 2015 میں وضاحت کی کہ فوجداری قانون کی دفعہ 320 اور تعزیرات ہند کی دفعات 375 اور 376 میں مخصوص قسم کی عصمت دری جیسے شادی شدہ زندگی میں بیوی کی عصمت دری اور شادی کا جھوٹا وعدہ کرکے رضامندی حاصل کرنے کی حرکت کو قابل سزا جرم بنانے کیلئے ترمیم کی کوئی تجویز اس کے زیر غور نہیں ہے۔ اسی طرح حکومت نے کہا کہ ہم جنس پرستی کو جرم نہ گردانے جانے کیلئے تعزیرات ہند کی دفعہ 377 کو منسوخ کرنے کی بھی کوئی تجویز نہیں ہے۔[19]

مزید یدیکھے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 Universal's Guide to Judicial Service Examination۔ Universal Law Publishing۔ صفحہ۔2۔ http://books.google.co.in/books?id=D0xQqCxpXhQC&printsec=frontcover&source=gbs_ge_summary_r&cad=0#v=onepage&q&f=false۔ 
  2. ^ 2.0 2.1 Lal Kalla، Krishan۔ The Literary Heritage of Kashmir۔ Jammu and Kashmir: Mittal Publications۔ صفحہ۔75۔ http://books.google.co.in/books?id=mzozRa9wJ9kC&pg=PA75&lpg=PA75&dq=ranbir+penal+code+maharaja+ranbir+singh&source=bl&ots=6yB1cN0cL0&sig=dOkzZdp6_SNGp5_EX0e220oIGIA&hl=en&sa=X&ei=qgocVMnYOYLhuQSikILABQ&ved=0CDsQ6AEwBQ#v=onepage&q=ranbir%20penal%20code%20maharaja%20ranbir%20singh&f=false۔ اخذ کردہ بتاریخ 19 ستمبر 2014۔ 
  3. ^ 3.0 3.1 "Law Commission of India - Early Beginnings"۔ Law Commission of India۔ اخذ کردہ بتاریخ 19 ستمبر 2014۔ 
  4. "history of IPC is provided in comments"۔ 
  5. B.M.Gandhi (Paper Back)۔ Indian Panel Code (2013 ed.)۔ EBC۔ صفحات۔1-832۔ 
  6. B.M.Gandhi۔ Indian Penal Code۔ EBC۔ صفحات۔1-796۔ 
  7. "Delhi High Court reinterprets the Sec. 377"۔ 
  8. "Supreme Court sets aside Delhi HC verdict decriminalising gay sex"۔ 
  9. "Government decriminalizes attempt to commit suicide, removes section 309The Times of India۔ 10 دسمبر 2014۔ http://timesofindia.indiatimes.com/india/Government-decriminalizes-attempt-to-commit-suicide-removes-section-309/articleshow/45452253.cms۔ اخذ کردہ بتاریخ 15 اگست 2015۔ 
  10. "Attempt to Suicide"۔ Press Information Bureau۔ Ministry of Home Affairs, Government of India۔ اخذ کردہ بتاریخ 15 اگست 2015۔ 
  11. "Rajasthan HC says Santhara illegal, Jain saints want PM Modi to move SCThe Indian Express۔ http://indianexpress.com/article/india/india-others/high-court-says-santhara-illegal-jain-saints-want-pm-narendra-modi-to-move-supreme-court/۔ اخذ کردہ بتاریخ 15 اگست 2015۔ 
  12. "Rajasthan HC bans starvation ritual 'Santhara', says fasting unto death not essential tenet of JainismIBN Live۔ CNN-IBN۔ 10 اگست 2015۔ http://www.ibnlive.com/news/india/rajasthan-hc-bans-starvation-ritual-santhara-says-fasting-unto-death-not-essential-tenet-of-jainism-1035893.html۔ اخذ کردہ بتاریخ 15 اگست 2015۔ 
  13. "Wife is private property, so no trespassingThe Times of india۔ 17 جولائی 2015۔ http://timesofindia.indiatimes.com/india/Wife-is-private-property-so-no-trespassing/articleshow/48106882.cms۔ اخذ کردہ بتاریخ 15 August 2015۔ 
  14. "Adultery law biased against men, says Supreme CourtThe Times of India۔ 3 دسمبر 2011۔ http://timesofindia.indiatimes.com/india/Adultery-law-biased-against-men-says-Supreme-Court/articleshow/10964790.cms۔ اخذ کردہ بتاریخ 15 اگست 2015۔ 
  15. "IPC Reform Committee recommends separation of investigation from prosecution powers (pdf)" (PDF)۔ اخذ کردہ بتاریخ 2012-05-23۔ 
  16. Parliament of India۔ "The Indian Penal Code"۔ childlineindia.org.in۔ اخذ کردہ بتاریخ 7 جون 2015۔   یہ متن ایسے ذریعے سے شامل ہے، جو دائرہ عام میں ہے۔
  17. The Indian Penal Code, 1860۔ Current Publications۔ 7 مئی 2015۔ https://books.google.co.in/books?id=DYj9CAAAQBAJ&printsec=frontcover&source=gbs_vpt_reviews#v=onepage&q&f=false۔ اخذ کردہ بتاریخ 8 جون 2015۔ 
  18. "IPC's endurance lauded"۔ http://newindianexpress.com/states/orissa/article466202.ece۔ 
  19. http://www.uniurdu.com/news/national/story/152511.html

خارجی روابط[ترمیم]