تاریخ ہند

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
يہ مضمون برصغير / ہند / جنوبی ايشيا کی تاريج کے بارے ميں ہے۔ اس خطے کی معلوم تاريخ کم از کم پانچ ہزار سال پر پھيلی ہوئی ہے۔

قديم سندھ طاس دور[ترمیم]

تقريبا 2500 سال قبل مسيح سے لے کر 1500 سال قبل مسيح تک درياۓ سندھ اور سرسوتی کی واديوں ميں ايک بہت بڑی تہذيب بستی تھی۔ اس کو سندھ طاس تہذيب کہا جاتا ہے۔اپنے زمانے ميں يہ دنيا ميں سب سے وصيع رقبے پر پھيلی ہوئی تہذيب تھی۔

ويدک دور[ترمیم]

سندھ طاس تہذيب کے آخری دنوں ميں يا اس کے ذرا بعد وسطی ايشيا سے آريا بر صغير ميں داخل ہوۓ۔ مقامی لوگوں کے ساتھ ميل جول ہوا اور ايک نئ تہذيب نے جنم ليا۔ اس زمانے ميں مہابھارت، راماءن اور ويد لکھے گۓ۔ يہ دور ہندو تہذيب کی شروعات کا دور تھا۔

موريا دور[ترمیم]

بر صغير سے سکندر اعظم کے جانے کے بعد موريا دور کا آغاز ہوا۔ اس کی بنياد چانكيہ جى مہاراج نے ركھى بادشاہ گر چانكيہ جى نے چندرگپت كو راجہ بنا كر اس كو ارتھ شاستر نام كے كتاب لكھ كر دى جس ميں سلطنتوں كو بنانے كے گر لكھے۔ اس ہی خاندان کا ايک مشہور بادشاہ اشوک تھا۔ يہ راجہ گوتم بدھ كا ماننے والا تھا اس دور ميں بدھ مت بہت تيزی سے پھيلا۔ اس دور کے دوران اور اس کے بعد يونانيوں اور کشانوں کا اثر برقرار رہا۔

گپتا دور[ترمیم]

تيسری صدی سے لے کر پانچويں صری تک شمالی ہند ميں گپتا خاندان کی حکومت تھی۔ اس دور کو ايک سنہری دور کہا جا سکتا ہے جس ميں علوم و فنون اور ادب کو بہت فروغ ملا۔ يہ دور ہندو نشات ثانيہ کا دور تھا۔

اس دوران دکن ميں چولا سلطنت قاءم تھی۔ اس کے جنوب مشرقی ايشيا سے بہت گہرے تعلقات تھے۔

ہن لوگ[ترمیم]

ہن 450ء سے 528ء تک گپت خاندان کی تباہی ان منگول قوموں کے ہاتھوں ہوئی جو ہن کہلاتی تھیں اور 450ء کے قریب پنجاب میں آکر آباد ہوئیں۔ یہاں سے چل کر یہ لوگ جمنا کی تلہٹی میں پہنچے اور اس وقت کے گپت راجہ پر غالب آئے۔ ان کے سردار کا نام تورمان تھا۔ اس نے 500ء کے قریب اپنے آپ کو مالوے کا راجہ بنایا اور مہاراجہ کہلوایا۔ اس کے بعد اس کا بیٹا مہر گل گدی پر بیٹھا۔ یہ بڑا بیرحم تھا۔ اس نے اتنے آدمی قتل کرائے کہ آخرکار مگدھ کا راجہ بالا دتیہ وسط ہند کے ایک راجہ یسودھرمن کی مدد سے بڑی بھاری فوج لے کر اس کے مقابلے پر آیا۔ اور 528ء میں ملتان کے قریب کہروڑ کے مقام پر شکست دے کر اس کو اور اس کی فوج کو ہند سے نکال دیا۔ ہن ہند میں سو برس کے قریب رہے۔ بعض ہن کہیں آباد ہوگئے۔

سلطنت دہلی دور[ترمیم]

تيرہويں صدی ميں شمالی ہند ميں دہلی سلطنت قاءم ہوئی۔ اس کا آغاز خاندان غلاماں نے رکھا۔ اس کے بعر شمالی ہند کا تاج خلجی، تغلق، سيد اور پھر لودھی خاندانوں کے پاس گيا۔

اس دوران ميں جنوبی ہند ميں باہمنی سلطنت اور وجے نگر سلطنت قاءم تھيں۔

مغل دور[ترمیم]

سن 1526 ميں شاہنشاہ بابر نے دہلی پر قبضہ کر کہ بر صغير ميں مغل سرکار کی بنياد رکھی۔ اس کے بعد تاج ہمايوں، اکبر، جہاں گير، شاہ جہاں اور اورنگزيب کے پاس گيا۔ يہ دو سو سال بر صغير کا ايک سنہری دور تھے۔ اس دور ميں علم و ادب اور فن نے بہت ترقی کی۔

اس دوران جنوبی ہند ميں ايک ايک کر کہ مغلوں نے کئ علاقوں پر قبضہ کر ليا۔

برطانوی دور[ترمیم]

بر صغير ميں يورپی اثر سولہويں صدی سے بڑھتا جا رہا تھا۔ انگريزوں نے کئ علاقوں ميں حکومت کرنا شروع کر دی تھی۔ سن 1857 ميں بر صغير کے لوگوں نے انگريزوں کے خلاف ايک جنگ آزادی لڑی جس ميں وہ ہار گ‎ۓ۔

موجودہ دور[ترمیم]

سن 1947 ميں پاکستان اور ہندوستان کو آزادی ملی۔ 1971 ميں بنگلہ ديش پاکستان سے عليحده ہو گيا۔ 1972 ميں سری لنکا کو مکمل آزادی مل گئ۔