تاریخ ہند

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
تاریخ ہندوستان
سانچی پہاڑی پر بابِ تورن

جدید علم جینیات کی رو سے بالاتفاق برصغیر کی سرزمین پر تہتر ہزار سے پچپن ہزار ق م کے درمیان انسانی وجود کا سراغ ملتا ہے جو افریقا سے وارد ہوئے تھے،[1] لیکن اثریاتی نقطۂ نظر سے جنوبی ایشیا میں انسانی وجود کے اولین آثار تیس ہزار برس پرانے ہیں جبکہ خوارک کی فراہمی، کاشت کاری اور گلہ بانی وغیرہ کے ہنگاموں سے معمور باقاعدہ انسانی زندگی کا آغاز سات ہزار ق م کے آس پاس ہوا۔ مہر گڑھ کے مقام پر جو اور گیہوں کی پیداوار کے آثار ملتے ہیں اور ساتھ ہی ایسے قرائن پائے گئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے فوراً بعد بھیڑ بکریوں اور گائے بیل وغیرہ مویشیوں کے پالنے کا رجحان پیدا ہو چکا تھا۔[2] پینتالیس سو ق م تک انسانی زندگی مختلف شعبوں تک پھیل گئی[2] اور بتدریج وادیٔ سندھ کی تہذیب کی صورت میں دنیا کے نقشے پر ابھری۔ اس تہذیب کا شمار عہد قدیم کی اولین تہذیبوں میں ہوتا ہے، یہ قدیم مصر اور میسوپوٹیمیا کی تہذیبوں کی ہم عصر تھی۔ وادی سندھ کی تہذیب 2500 ق م سے 1900 ق م تک برصغیر کے اُس خطہ میں پھلتی پھولتی رہی جو آج پاکستان اور شمال مغربی ہندوستان میں واقع ہے۔ یہ تہذیب شہری منصوبہ بندی، پکی اینٹوں کے مکانات، نکاسیِ آب کے پختہ بندوبست اور آب رسانی کے بہترین انتظام کی بنا پر خصوصیت سے قابل ذکر ہے۔[3]

قبل مسیح کے دوسرے ہزارے کے اوائل میں مسلسل قحط اور خشک سالی نے وادی سندھ کی آبادی کو منتشر ہونے پر مجبور کر دیا اور یہاں کے باشندے متفرق طور پر بڑے شہروں سے دیہی مقامات پر منتقل ہو گئے۔ عین اسی دور میں ہند۔آریائی قبائل وسط ایشیا سے نکل کر خطۂ پنجاب میں وارد ہوئے۔ یہاں سے ویدک دور کا آغاز ہوتا ہے۔ اس عہد کا قابل ذکر انسانی کارنامہ ویدوں کی تدوین ہے جن میں ان قبیلوں کے دیوی دیوتاؤں کی حمدیہ نظمیں مرتب کی گئی ہیں۔ ان قبیلوں میں وَرَن کا نظام بھی رائج تھا جو بعد میں چل کر ذات پات کی شکل میں سامنے آیا۔ اس نظام کے تحت ہند۔آریائی قبیلوں نے ہندوستانی معاشرے کو پنڈتوں، جنگجوؤں (سرداروں) اور کسانوں (عوام) میں بانٹ دیا جس کے بعد مقامی آبادی کو ان کے پیشے کے ناموں سے بلایا اور حقیر سمجھا جانے لگا۔ یہ آوارہ گرد، خانہ بدوش اور گلہ بان ہند آریائی قبائل پنجاب سے بڑھ کر دریائے گنگا کے میدانی علاقہ تک پھیل گئے اور کاشت کاری کی غرض سے اس خطہ کے جنگلوں کو مسطح میدانوں میں تبدیل کر دیا۔ ویدک متون کی تدوین تقریباً 600 ق م تک انجام کو پہنچی اور اسی کے ساتھ ایک نئی بین علاقائی ثقافت کا ظہور ہوا۔ چھوٹے چھوٹے سردار (یا جن پد) آپس میں مل کر بڑی ریاستوں (یا مہا جن پد) کی شکل اختیار کرنے لگے اور یوں وادی سندھ کی تہذیب کے خاتمہ کے بعد دوبارہ برصغیر میں شہری آبادکاری کا آغاز ہوا۔ دوسری طرف اسی دور میں متعدد مذہبی تحریکیں برپا ہوئیں جن میں جین مت اور بدھ مت قابل ذکر ہیں۔ ان تحریکوں نے برہمنیت کے بڑھتے اثرات کی سخت مخالفت کی اور ان ویدک رسوم کی افضلیت پر سوال اٹھانے لگے جنھیں صرف برہمن پنڈت کے ہاتھوں انجام دیا جاتا تھا۔[4] برصغیر کے معاشرہ میں ان تحریکوں کے مخالفانہ افکار کا نفوذ بڑھا تو نئے مذہبی تصورات پروان چڑھنے لگے[5] اور ان کی کامیابی نے برہمنیت کو برصغیر میں پہلے سے موجود ثقافتوں اور تہذیبوں کو باہم ملا کر ایک نیا آمیزہ تیار کرنے پر مجبور کر دیا جو آگے چل کر ہندومت کہلایا۔

ہندوستان کے تمدنی اثرات (عظیم تر ہندوستان)

چوتھی اور تیسری صدی ق م کے دوران میں برصغیر ہند کے بیشتر حصہ کو موریا سلطنت نے فتح کر لیا۔ تیسری صدی ق م سے شمالی ہندوستان میں پراکرت اور پالی ادب کا اور جنوبی ہند میں تمل اور سنگم ادب کا ارتقا شروع ہوا[6][7] اور ان زبانوں کا ادب اپنے جغرافیائی سرحدوں سے نکل کر ممالکِ غیر تک جا پہنچا۔[8][9][10] کلاسیکی عہد میں اگلے پندرہ سو برس تک ہندوستان کے مختلف خطوں پر متفرق بادشاہوں کا تسلط رہا جن میں گپتا سلطنت کا عہد گوناگوں وجوہ سے ممتاز ہے۔ اس عہد میں ہندو مت اور اس کے مفکرین از سر نو ابھر کر سامنے آئے، ان کی سرگرمیاں بڑھیں اور برہمنیت کو پھر سے فروغ نصیب ہوا۔ انھی وجوہ کی بنا پر یہ عہد "ہندوستان کا عہد زریں" کہلاتا ہے۔ اسی دور میں ہندوستانی تہذیب و ثقافت اور مذہب و تمدن کے مختلف پہلوؤں سے ایشیا کا بڑا خطہ متعارف ہوا، نیز جنوبی ہند کی مملکتوں نے بحری راستوں کے ذریعہ مشرق وسطیٰ اور بحیرہ روم سے اپنے تجارتی روابط قائم کیے۔ چنانچہ اب جنوب مشرقی ایشیا کا بڑا حصہ ہندوستان کی تہذیب و ثقافت سے متاثر ہونے لگا اور اسی صورت حال نے آگے چل کر جنوب مشرقی ایشا میں خالص ہندوستانی مملکتوں (عظیم تر ہندوستان) کے قیام کی راہ ہموار کی۔[11][12]

ساتویں اور گیارھویں صدی عیسوی کے درمیان پیش آنے والے حوادث و واقعات میں سب سے اہم واقعہ سہ گانہ مقابلہ ہے جس کا مرکز قنوج تھا۔ یہ مقابلہ پال سلطنت، راشٹر کوٹ سلطنت اور گرجر پرتیہار خاندان کے مابین دو صدیوں سے زائد عرصہ تک جاری رہا۔ پانچویں صدی عیسوی کے وسط سے جنوبی ہند مختلف شاہانہ رزم آرائیوں کا مرکز توجہ بن گیا جن میں بالخصوص چالوکیہ، چول، پَلّو، چیر، پانڈیہ اور مغربی چالوکیہ قابل ذکر ہیں۔ گیارھویں صدی عیسوی میں چول حکمران جنوبی ہند فتح کرنے کے بعد جنوب مشرقی ایشیا کے بعض حصوں سمیت سری لنکا، مالدیپ اور بنگال پر بھی حملہ آور ہوئے۔[13][14][15] قرون وسطیٰ کے اوائل میں ہندوستانی ریاضیات (ہندی -عربی نظام عدد) نے عرب دنیا میں جاری فلکیات اور ریاضیات کی ترقی پر گہرے اثرات مرتب کیے۔[16]

آٹھویں صدی کے آغاز میں برصغیر میں عربوں کی آمد ہوئی اور انھوں نے افغانستان اور سندھ میں اپنی حکومت قائم کر لی۔[17] پھر دسویں صدی کے اواخر اور گیارھویں صدی کے اوائل میں محمود غزنوی کا ورود ہوا۔[18] سنہ 1206ء میں وسط ایشیائی ترکوں نے سلطنت دہلی کی بنیاد رکھی اور چودھویں صدی عیسوی کے اوائل تک شمالی ہند کے ایک بڑے حصہ پر اپنا اقتدار مستحکم کر لیا لیکن چودھویں صدی کے ختم ہوتے ہوتے ان کا زوال شروع ہو گیا۔[19] سلطنت دہلی کے زوال سے دکن سلطنتیں ابھریں۔[20] سلطنت بنگالہ بھی ایک اہم قوت کے طور پر نمودار ہوئی اور تین صدیوں تک مسلسل تخت اقتدار پر متمکن رہی۔[21] سلطنت دہلی کے اسی عہد زوال میں وجے نگر سلطنت اور مملکت میواڑ کے پہلو بہ پہلو دیگر مختلف طاقت ور ہندو اور راجپوت ریاستیں بھی قائم ہوئیں۔ پندرھویں صدی عیسوی میں سکھ مت کا ظہور ہوا۔ سولھویں صدی عیسوی سے عہد جدید کی ابتدا ہوتی ہے جب مغلیہ سلطنت نے برصغیر ہند کے بڑے رقبہ کو اپنے زیر نگین کر کے[22] دنیا میں صنعت کاری کے ابتدائی نمونے پیش کیے اور عالمی سطح پر عظیم ترین معیشت بن گئی۔[23] سلطنت مغلیہ کے عہد میں ہندوستان کی مجموعی گھریلو پیداوار دنیا کی چوتھائی گھریلو پیداوار تھی جو یورپ کی کل گھریلو پیداوار سے زیادہ ہے۔[24][25] اٹھارویں صدی کے اوائل میں مغلوں کا تدریجاً زوال شروع ہوا جس کی بنا پر مرہٹوں، سکھوں، میسوریوں، نظاموں اور نوابان بنگالہ کو برصغیر ہند کے بہت بڑے رقبے پر زور آزمائی کا موقع مل گیا اور جلد ہی متفرق طور پر ان کی علاحدہ علاحدہ ریاستیں وجود میں آگئیں۔[26][27]

اٹھارویں صدی کے وسط سے انیسویں صدی کے وسط تک ہندوستان کے بیشتر علاقوں پر بتدریج ایسٹ انڈیا کمپنی قابض و متصرف ہو گئی جسے سلطنت برطانیہ نے ہندوستان کی سرزمین پر اپنا خود مختار عامل و نائب قرار دے رکھا تھا۔ لیکن ہندوستان کے باشندے کمپنی راج سے سخت بیزار اور بد دل تھے۔ نتیجتاً 1857ء میں تحریک آزادی کی زبرست لہر اٹھی اور شمالی ہند سے لے کر وسطی ہند تک اس لہر نے حصول آزادی کی روح پھونک دی لیکن یہ تحریک کامیاب نہ ہو سکی۔ اس کے بعد سلطنت برطانیہ نے کمپنی کو تحلیل کر دیا اور ہندوستان براہ راست تاج برطانیہ کے ماتحت آگیا۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد محمد علی جوہر، ابو الکلام آزاد، موہن داس گاندھی اور دیگر ہندو مسلم رہنماؤں نے اپنی تحریروں، تقریروں اور رسائل و جرائد کے ذریعہ پورے ہندوستان میں حصول آزادی کی تحریک چھیڑی۔ اول اول تحریک خلافت نے، پھر انڈین نیشنل کانگریس نے ہندوستان کے باشندوں کے اس جذبہ کو ایک مہم کی شکل میں مہمیز کیا۔ کچھ عرصہ کے بعد اس جد و جہد میں آل انڈیا مسلم لیگ بھی شامل ہو گئی۔ تھوڑی ہی مدت گذری تھی کہ مسلم لیگ کے رہنماؤں نے بوجوہ علاحدہ مسلم اکثریتی ریاست کا مطالبہ رکھا اور آہستہ آہستہ یہ مطالبہ زور پکڑتا چلا گیا۔ بالآخر کانگریسی قیادت کی رضامندی کے بعد سلطنت برطانیہ نے ہندوستان کو دو لخت کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلہ کے نتیجے میں ہندوستان بھارت ڈومینین اور ڈومنین پاکستان کے ناموں سے دو حصوں میں تقسیم ہو گیا اور اسی کے ساتھ ہندوستان کو برطانوی استعمار سے آزادی مل گئی۔

ماقبل تاریخ کا عہد (تقریباً 3300 ق م تک)[ترمیم]

درمیانی سنگی دور بھیمبیٹکا میں سنگی فن، مدھیہ پردیش، ایک جنگلی جانور دکھا رہا ہے۔، شاید ایک افسانوی، انسانی شکاریوں پر حملہ۔ اگرچہ راک آرٹ کو براہ راست تاریخ نہیں دی گئی ہے، [28] یہ حالات کی بنیاد پر استدلال کیا گیا ہے کہ بہت سی پینٹنگز 8000 قبل مسیح تک مکمل ہو چکی تھیں۔[29][30] اور کچھ قدرے پہلے۔[31]
ایک ڈولمین جسے نئے سنگی دور کے لوگوں نے بنایا تھا۔ مرایور، کیرلا۔
سنگی دور (6,000 ق م) کیرالہ، ہندوستان میں ایدکل غاروں کی تحریریں

قدیم سنگی دور[ترمیم]

جب براعظم افریقہ سے انسان نما انواع کا پھیلاؤ شروع ہوا تو ایک اندازے کے مطابق انھوں نے تقریباً بیس لاکھ یا شاید بائیس لاکھ برس قبل برصغیر ہند کی زمین پر قدم رکھا۔ ان اندازوں کی بنیاد وہ دریافتیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ کھڑے آدمی کی نسل انڈونیشیا میں اٹھارہ لاکھ برس قبل اور مشرقی ایشیا میں تیرہ لاکھ ساٹھ ہزار برس قبل موجود تھی۔ نیز رائیوات میں واقع وادی سوانی اور موجودہ پاکستان میں واقع پبی پہاڑیوں سے ملنے والے سنگی آلات بھی کھڑے آدمی کی موجودگی کا پتا دیتے ہیں۔ یہ سنگی آلات نسل انسانی کے بالکل ابتدائی ایام کے ہیں۔ گو کہ بعض مزید پرانے انکشافات بھی ہوئے ہیں اور ان کی مدد سے آبی رسوبات کی بنیاد پر زمانے کا تعین کرنے کی کوشش بھی کی گئی ہے لیکن دیگر آزاد ذرائع سے ان کی اب تک تصدیق نہیں ہو سکی۔

برصغیر ہند ميں پائے جانے والے انسان نما انواع کے قدیم ترین متحجرات یا ڈھانچے کھڑے آدمیوں یا ہائیڈل برگ انسانوں کے ہیں۔ یہ متحجرات وسطی ہندوستان میں واقع وادی نرمدا سے ملے ہیں اور تخمیناً پانچ لاکھ برس پرانے ہیں۔ نیز ایسے متحجرات بھی ملے ہیں جن کے متعلق یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ مذکورہ محتجرات سے زیادہ قدیم ہیں لیکن انھیں نا معتبر سمجھا جاتا ہے۔ اثریاتی شہادتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ سات لاکھ برس پہلے تک برصغیر ہند میں یہ انواع کہیں کہیں آباد تھیں اور اندازاً ڈھائی لاکھ برس قبل تک یہ برصغیر کے بڑے رقبے پر پھیل گئیں۔ چنانچہ اسی عہد سے قدیم انسانوں کے وجود کی اثریاتی شہادتیں وافر تعداد میں ملتی ہیں۔

جنوبی ایشیا کی آبادیات کے ایک ماہر جِم ڈائسن لکھتے ہیں:

موجودہ نسل انسانی کا ظہور افریقا کی سرزمین سے ہوا۔ اُس وقت یعنی ساٹھ ہزار سے اسّی ہزار سال قبل وقفے وقفے سے اس نسل کے چھوٹے چھوٹے گروہ برصغیر ہند کی شمال مغربی سمت سے داخل ہوئے۔ ایسا لگتا ہے کہ ابتدا میں ان کے قافلے ساحلی راستوں سے چل کر پہنچے۔ ۔۔۔۔اور یہ تقریباً طے ہے کہ موجودہ نسل انسانی برصغیر میں پچپن ہزار برس پہلے سے موجود ہے، گو کہ ان کے قدیم ترین آثار محض تیس ہزار برس ق ح پرانے ملے ہیں۔

مائیکل پیٹراگلیا اور برجیٹ آل چین لکھتے ہیں:

وائے کروموزوم اور ایم ٹی۔ڈین این اے سے ملنے والی معلومات بتاتی ہیں کہ جنوبی ایشیا میں بسنے والی نسل انسانی کا آغاز سرزمین افریقا سے ہوا تھا۔ ۔۔۔۔بیشتر غیر یورپی گروہوں کے اتصال کی تاریخیں اوسطاً تہتر ہزار سے پچپن ہزار برس قبل کی ہیں۔

نیا سنگی دور[ترمیم]

برنجی دور - پہلی آباد کاری (3300 - 1800 ق م)[ترمیم]

وادیٔ سندھ کی تہذیب[ترمیم]

دھولویرا، وادی سندھ کی تہذیب کا ایک شہر، مصنوعی طور پر بنائے گئے آبی ذخائر میں پانی کی سطح تک پہنچنے کے لیے باؤلی [32]

تقريبا 2500 سال قبل مسيح سے لے کر 1500 سال قبل مسيح تک دریائے سندھ اور سرسوتی کی واديوں ميں ايک بہت بڑی تہذيب بستی تھی۔ اس کو سندھ طاس تہذيب کہا جاتا ہے۔ اپنے زمانے ميں يہ دنيا ميں سب سے وسيع رقبے پر پھيلی ہوئی تہذيب تھی۔

لوتھل میں حمام کے نکاسی آب کے نظام کے آثار قدیمہ

گیرو رنگ کی مٹی کے برتنوں کی ثقافت[ترمیم]

آہنی دور (1500 – 200 ق م)[ترمیم]

ويدک دور (1500 – 600 ق م)[ترمیم]

سندھ طاس تہذيب کے آخری دنوں ميں يا اس کے ذرا بعد وسط ایشیا سے آريہ بر صغير ميں داخل ہوئے۔ مقامی لوگوں کے ساتھ ميل جول ہوا اور ايک ن‏‏ئی تہذيب نے جنم ليا۔ اس زمانے ميں ويد لکھے گئے۔ يہ دور ہندو تہذيب کی شروعات کا دور تھا۔

ویدک معاشرہ[ترمیم]

انیسویں صدی کا ایک ابتدائی نسخہ رگ وید کے دیوناگری رسم الخط میں، اصل میں مخلصی کے ساتھ زبانی طور پر منتقل کیا گیا تھا۔[33]

جن پد[ترمیم]

دوسری آباد کاری (600-200 ق م)[ترمیم]

بدھ مت اور جین مت[ترمیم]

سنسکرت رزمیے[ترمیم]

مہا جن پد[ترمیم]

مہا جن پد ان سولہ مملکتوں کو کہا جاتا ہے جو قدیم شمالی ہندوستان میں چھٹی سے چوتھی صدی ق م میں دوسری شہری آباد کاری کے دور میں موجود تھیں۔[34]

چھٹی-پانچویں صدی ق م کو ابتدائی ہندوستانی تاریخ میں عموماً ایک اہم موڑ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اس عرصے میں ہندوستان کے پہلے بڑے شہر وادئ سندھ کی تہذیب کے خاتمے کے بعد پیدا ہوئے۔ یہ شرمن تحریکوں کے عروج کا بھی وقت تھا (بشمول بدھ مت اور جین مت) جس نے ویدک دور کے مذہبی عقائد کو چیلنج کیا۔

ابتدائی مگدھ شاہی سلسلے[ترمیم]

نندا سلطنت اور سکندر کی مہم[ترمیم]

موریا سلطنت[ترمیم]

بر صغير سے سکندر اعظم کے جانے کے بعد موريا دور کا آغاز ہوا۔ اس کی بنياد چانكيہ جى مہاراج نے ركھى بادشاہ گر چانكيہ جى نے چندرگپت كو راجا بنا كر اس كو ارتھ شاستر نام کی كتاب لكھ كر دى جس ميں سلطنتوں كو بنانے كے گر لكھے۔ اس ہی خاندان کا ايک مشہور بادشاہ اشوک تھا۔ يہ راجا گوتم بدھ كا ماننے والا تھا اس دور ميں بدھ مت بہت تيزی سے پھيلا۔ اس دور کے دوران اور اس کے بعد يونانيوں اور کشانوں کا اثر برقرار رہا۔کشان راجہ گجر قوم سے تھا-جس پورا نام مہاراجہ کنشک کسانہ تھا۔ اس کی اولاد آگے چل کر کسانہ کہلائی اور اس کا دارلخلافہ قنوج تھا۔ جس کے کھنڈرات آج بھی شمالی بھارت میں ہیں۔

سنگم کا دور[ترمیم]

کلاسیکی اور ابتدائی قرون وسطی کے ادوار (200 ق م - 1200 عیسوی)[ترمیم]

ابتدائی کلاسیکی دور (200 ق م - 320 عیسوی)[ترمیم]

شونگا سلطنت[ترمیم]

ساتواہن سلطنت[ترمیم]

تجارت اور ہندوستان کا سفر[ترمیم]

کوشان سلطنت[ترمیم]

کلاسیکی دور: گپتا سلطنت (320 - 650 عیسوی)[ترمیم]

تيسری صدی سے لے کر پانچويں صدی تک شمالی ہند ميں گپتا خاندان کی حکومت تھی۔ اس دور کو ايک سنہرا دور کہا جا سکتا ہے جس ميں علوم و فنون اور ادب کو بہت فروغ ملا۔ يہ دور ہندو نشات ثانيہ کا دور تھا۔

اس دوران میں دکن ميں چولا سلطنت قائم تھی۔ اس کے جنوب مشرقی ايشيا سے بہت گہرے تعلقات تھے۔

ہن لوگ[ترمیم]

ہن 450ء سے 528ء تک گپتا خاندان کی تباہی ان منگول قوموں کے ہاتھوں ہوئی جو ہن کہلاتی تھیں یہ لوگ سفید رنگت کی وجہ سے سفید ہن کہلائے۔ ان کی ایک شاخ ایران میں مقیم ہو گئی جبکہ ایک گروہ ترکی چلا گیا جبکہ ہن قبائل کی ایک شاخ یورپ جا کر آباد ہو گئی اور 450ء کے قریب پنجاب میں آکر آباد ہوئیں۔ یہاں سے چل کر یہ لوگ جمنا کی تلہٹی میں پہنچے اور اس وقت کے گپت راجا پر غالب آئے۔ ان کے سردار کا نام تورمان تھا۔ اس نے 500ء کے قریب اپنے آپ کو مالوے کا راجا بنایا اور مہاراجا کہلوایا۔ اس کے بعد اس کا بیٹا مہر گل گدی پر بیٹھا۔ یہ بڑا بے رحم تھا اور ظالم حکمران تھا۔ اس نے لاتعدادآدمی قتل کرائے ان کے ظلم وستم اس حد تک بڑھ گئے کہ ہندوستان کے راجاؤں نے مہر گل کے خلاف اتحاد کر لیا آخرکار مگدھ کا راجا بالا دتیہ وسط ہند کے ایک راجا یسودھرمن کی مدد سے بڑی بھاری فوج لے کر اس کے مقابلے پر آیا۔ اور 528ء میں ملتان کے قریب کہروڑ کے مقام پر شکست دے کر اس کو اور اس کی فوج کو ہند سے نکال دیا۔ مہر گل کشمیر چلا گیا وہاں کے راجا نے اسے پناہ دی۔ ہن ہند میں سو برس کے قریب رہے۔ روایات کے مطابق ہن قبائل نے خود کو چرواہوں اور کاشت کاروں میں بدل دیا یہ لوگ زیادہ تر گائے کی افزائش نسل کرتے تھے اس لیے انہیں "گاؤ چر " کا خطاب ملا جو کثرت استعمال سے گجر بن گیا انہیں نے ہندوستان میں گجرات،گوجرہ اور گوجرانوالہ کے شہر آباد کیے۔ موجودہ پاکستان اور بھارت کی سیاست میں ان کا اہم مقام ہے۔

واکاٹاکا سلطنت[ترمیم]

کاماروپا سلطنت[ترمیم]

پالوا سلطنت[ترمیم]

کدامبا سلطنت[ترمیم]

ہرش سلطنت[ترمیم]

ابتدائی قرون وسطی کا دور (وسط چھٹی صدی تا 1200 عیسوی)[ترمیم]

چالوکیہ سلطنت[ترمیم]

راشٹرکوٹا سلطنت[ترمیم]

گرجر پرتیہار سلطنت[ترمیم]

گہداوالا خاندان[ترمیم]

کھیاروالا خاندان[ترمیم]

پالا سلطنت[ترمیم]

چولا سلطنت[ترمیم]

مغربی چالوکیہ سلطنت[ترمیم]

قرون وسطی کا آخری دور (1200-1526 عیسوی)[ترمیم]

سلطنت دہلی[ترمیم]

تيرہويں صدی ميں شمالی ہند ميں دہلی سلطنت قائم ہوئی۔ اس کا آغاز خاندان غلاماں نے رکھا۔ اس کے بعد شمالی ہند کا تاج خلجی، تغلق، سيد اور پھر لودھی خاندانوں کے پاس گيا۔

اس دوران جنوبی ہند ميں باہمنی اور وجے نگر سلطنتیں قائم تھيں۔

وجے نگر سلطنت[ترمیم]

میواڑ خاندان (728-1947)[ترمیم]

بھکتی تحریک اور سکھ مت[ترمیم]

ابتدائی جدید دور (1526-1858 عیسوی)[ترمیم]

مغلیہ سلطنت[ترمیم]

سن 1526ء ميں شہنشاہ بابر نے دہلی پر قبضہ کر کے بر صغير ميں مغل سرکار کی بنياد رکھی۔ اس کے بعد تاج ہمايوں، اکبر، جہانگیر، شاہ جہاں اور اورنگزيب کے پاس گيا۔ يہ دو سو سال بر صغير کا ايک سنہرا دور تھا۔ اس دور ميں علم و ادب اور فن نے بہت ترقی کی۔

اس دوران جنوبی ہند ميں ايک ايک کر کے مغلوں نے کئی علاقوں پر قبضہ کر ليا۔

مرہٹے اور سکھ[ترمیم]

مرہٹہ سلطنت[ترمیم]

سکھ سلطنت[ترمیم]

دیگر مملکتیں[ترمیم]

یورپی نوآبادیاتی دور[ترمیم]

ایسٹ انڈیا کمپنی کا راج[ترمیم]

بر صغير ميں یورپی اثر سولہويں صدی سے بڑھتا جا رہا تھا۔ انگريزوں نے کئی علاقوں ميں حکومت کرنا شروع کر دی تھی۔ سن 1857ء ميں بر صغير کے لوگوں نے انگريزوں کے خلاف سب سے پہلی جنگ آزادی لڑی جس ميں وہ ہار گئے۔

سنہ 1947ء ميں برطانوی ہند کی تقسیم کے ساتھ پاکستان اور ہندوستان کو آزادی ملی۔ 1971ء ميں بنگلہ ديش پاکستان سے عليحدہ ہو گيا۔ 1972ء ميں سری لنکا کو مکمل آزادی مل گئی۔

جدید دور اور آزادی (1850 عیسوی کے بعد)[ترمیم]

جنگ آزادی ہند 1857ء اور نتائج[ترمیم]

برطانوی راج (1858-1947ء)[ترمیم]

ہندوستانی نشاۃ ثانیہ[ترمیم]

قحط[ترمیم]

پہلی جنگ عظیم[ترمیم]

دوسری جنگ عظیم[ترمیم]

ہندوستانی تحریک آزادی (1885-1947ء)[ترمیم]

دوسری جنگ عظیم کے بعد (1946-1947)[ترمیم]

آزادی اور تقسیم (1947 تا حال)[ترمیم]

تاریخ نگاری[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Michael D. Petraglia؛ Bridget Allchin (2007). The Evolution and History of Human Populations in South Asia: Inter-disciplinary Studies in Archaeology, Biological Anthropology, Linguistics and Genetics. Springer Science & Business Media. صفحہ 6. ISBN 978-1-4020-5562-1.  Quote: "Y-Chromosome and Mt-DNA data support the colonization of South Asia by modern humans originating in Africa. ... Coalescence dates for most non-European populations average to between 73–55 ka."
  2. ^ ا ب
  3. Wright، Rita P. (2009)، The Ancient Indus: Urbanism, Economy, and Society، Cambridge University Press، صفحات 115–125، ISBN 978-0-521-57652-9 
  4. Flood, Gavin. Olivelle, Patrick. 2003. The Blackwell Companion to Hinduism. Malden: Blackwell. pp. 273–274
  5. Researches Into the History and Civilization of the Kirātas by G. P. Singh p. 33
  6. A Social History of Early India by Brajadulal Chattopadhyaya p. 259
  7. Technology and Society by Menon, R.V.G. p. 15
  8. The Political Economy of Craft Production: Crafting Empire in South India, by Carla M. Sinopoli, p. 201
  9. Science in India by B.V. Subbarayappa
  10. The Cambridge History of Southeast Asia: From Early Times to c. 1800, Band 1 by Nicholas Tarling, p. 281
  11. Flood, Gavin. Olivelle, Patrick. 2003. The Blackwell Companion to Hinduism. Malden: Blackwell. pp. 273–274.
  12. Ancient Indian History and Civilization by Sailendra Nath Sen p. 281
  13. Societies, Networks, and Transitions, Volume B: From 600 to 1750 by Craig Lockard p. 333
  14. Power and Plenty: Trade, War, and the World Economy in the Second Millennium by Ronald Findlay, Kevin H. O'Rourke p. 67
  15. Essays on Ancient India by Raj Kumar p. 199
  16. البدایہ و النہایہ جلد: 7 ص 141، "فتح مکران"
  17. Meri 2005, صفحہ. 146.
  18. The Princeton Encyclopedia of Islamic Political Thought: p. 340
  19. Sohoni، Pushkar (2018). The Architecture of a Deccan Sultanate: Courtly Practice and Royal Authority in Late Medieval India. London: I.B. Tauris. ISBN 9781784537944. 
  20. Richard M. Eaton (31 July 1996). The Rise of Islam and the Bengal Frontier, 1204-1760. University of California Press. صفحات 64–. ISBN 978-0-520-20507-9. 
  21. Parthasarathi، Prasannan (2011)، Why Europe Grew Rich and Asia Did Not: Global Economic Divergence, 1600–1850، Cambridge University Press، صفحات 39–45، ISBN 978-1-139-49889-0 
  22. Maddison, Angus (2003): Development Centre Studies The World Economy Historical Statistics: Historical Statistics, انجمن اقتصادی تعاون و ترقی, آئی ایس بی این 9264104143, pp. 259–261
  23. Lawrence E. Harrison, Peter L. Berger (2006). Developing cultures: case studies. روٹلیج. صفحہ 158. ISBN 978-0415952798. 
  24. Ian Copland؛ Ian Mabbett؛ Asim Roy؛ وغیرہ (2012). A History of State and Religion in India. Routledge. صفحہ 161. 
  25. History of Mysore Under Hyder Ali and Tippoo Sultan by Joseph Michaud p. 143
  26. Taçon، Paul S.C. (2018)، "The Rock Art of South and East Asia"، بہ Bruno David, Ian J. McNiven، The Oxford Handbook of the Archaeology and Anthropology of Rock Art، Oxford University Press، صفحات 181–، ISBN 978-0-19-084495-0 
  27. Mithen، Steven J. (2006)، After the Ice: A Global Human History, 20,000-5000 BC، Harvard University Press، صفحات 411–، ISBN 978-0-674-01999-7 
  28. Upinder Singh 2008, صفحہ. 89.
  29. Meenakshi Dubey-Pathak (2014)، "The Rock Art of the Bhimbetka Area in India" (PDF)، Adoranten: 16, 19 
  30. Takezawa، Suichi. "Stepwells – Cosmology of Subterranean Architecture as seen in Adalaj" (PDF). The Diverse Architectural World of the Indian Sub-Continent. III. اخذ شدہ بتاریخ 18 نومبر 2009. 
  31. Staal، Frits (1986)، The Fidelity of Oral Tradition and the Origins of Science، Mededelingen der Koninklijke Nederlandse Akademie von Wetenschappen, Afd. Letterkunde, NS 49, 8. Amsterdam: North Holland Publishing Company, 40 pages 
  32. Vikas Nain, "Second Urbanization in the Chronology of Indian History", International Journal of Academic Research and Development 3 (2) (March 2018), pp. 538–542 esp. 539.