رابندر ناتھ ٹیگور

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
رابندر ناتھ ٹیگور
(بنگالی میں: রবীন্দ্রনাথ ঠাকুর)[1]،(برطانوی انگریزی میں: Rabindranath Tagore)[2][1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
Late-middle-aged bearded man in white robes looks to the left with serene composure.

معلومات شخصیت
پیدائش 7 مئی 1861[3][4][5][6][1][7]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
کولکاتا[8][9][10][1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 7 اگست 1941 (80 سال)[3][9][4][11][5][12][6][1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
کولکاتا[13][9][10][1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
قومیت برٹش انڈیا
نسل بنگالی
مذہب ہندومت[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مذہب (P140) ویکی ڈیٹا پر
والد دیویندر ناتھ ٹیگور[14][1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
بہن/بھائی
عملی زندگی
مادر علمی یونیورسٹی کالج لندن[1]
کلکتہ یونیورسٹی[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ شاعر، افسانہ نگار، نغمہ نگار، ناول نگار، مکالمہ نگار، انشائیہ نگار، پیئنٹر
مادری زبان بنگلہ[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مادری زبان (P103) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان انگریزی[1]،  بنگلہ[15][10][1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
ملازمت کلکتہ یونیورسٹی[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں نوکری (P108) ویکی ڈیٹا پر
کارہائے نمایاں گیتانجلی[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں کارہائے نمایاں (P800) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
نوبل انعام برائے ادب
1913ء
دستخط
رابندر ناتھ ٹیگور
ویب سائٹ
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی (P345) ویکی ڈیٹا پر
P literature.svg باب ادب

رابندرناتھ ٹیگور : بنگالی زبان کے نوبل انعام یافتہ شاعر، فلسفی اور افسانہ و ناول نگار رابندر ناتھ ٹیگور کا اصل نام رویندر ناتھ ٹھاکر۔ ٹیگور ٹھاکر کا بگاڑ ہے۔ آپ 1861ء میں کلکتہ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کلکتہ میں ہی حاصل کی۔ ان کی پہلی کتاب صرف 17 برس کی عمر میں منصہ شہودپر آئی۔ پھر قانون کی تعلیم حاصل کرنے کی خاطر 1878ء میں انگلستان گئے، ڈیڑھ سال بعد ڈگری لیے بغیر لوٹ آئے اور اپنے طور پر پڑھنے لکھنے اور اپنی شخصیت کو پروان چڑھانے میں مصروف ہو گئے۔ اس دوران میں کئی افسانے لکھے اور شاعری کی جانب بھی توجہ دی۔ ٹیگور نے زیادہ تر چیزیں بنگالی زبان میں لکھیں۔ 1901ء میں بولپور بنگال کے مقام پر شانتی نکتین کے نام سے مشرقی اور مغربی فلسفے پر ایک نئے ڈھنگ کے مدرسہ کی بنیاد ڈالی، جس نے 1921ء میں یونیورسٹی کی شکل اختیار کی۔ شانتی نکیتن میں اپنی بنگالی تحریروں کا انگریزی میں ترجمہ کیا، جس کے باعث ان کی مقبولیت دوسرے ملکوں میں پھیل گئی۔ یورپ، جاپان، چین ،روس ،امریکا کا کئی بار سفر کیا ۔1913ء میں ادب کے سلسلے میں نوبل پرائز ملا۔ اور 1915ء میں برطانوی حکومت ہند کی طرف سے ’’سر‘‘ کا خطاب دیا گیا۔ لیکن برطانوی راج میں پنجاب میں عوام پر تشدد کے خلاف احتجاج کے طور پرانہوں نے ’’سر‘‘ کا خطاب واپس کر دیا۔ ٹیگور نے اپنی زندگی کے آخری حصہ میں کم و بیش پوری متمدن دنیا کا دورہ کیا اور لیکچر بھی دیے۔ 1930ء میں ’’انسان کا مذہب‘‘ کے عنوان سے لندن میں کئی بلند پایہ خطبات ممالک اورنیویارک میں اپنی ان تصاویر کی نمائش کی۔ جو 68 برس کی عمر کے بعد بنائی تھیں۔ تین ہزار گیت مختلف دھنوں میں ترتیب دیے۔ بے شمار نظمیں لکھیں، مختصر افسانے لکھے۔ چند ڈرامے بھی لکھے۔ ہندوستان کی کئی جامعات اور آکسفورڈ یونیورسٹی نے آپ کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری دی۔ آپ کو بنگالی زبان کا شکسپیئر بھی کہتے ہیں۔

1934ء کے بعد ٹیگور کی صحت خراب ہو گئی اور 1941ء کو یہ عظیم افسانہ نگار بمقام کلکتہ انتقال کر گئے۔

شانتی نکیتن: 1901–1932[ترمیم]

Posed group black-and-white photograph of seven Chinese men, possibly academics, in formal wear: two wear European-style suits, the five others wear Chinese traditional dress; four of the seven sit on the floor in the foreground; another sits on a chair behind them at center-left; two others stand in the background. They surround an eighth man who is robed, bearded, and sitting in a chair placed at center-left. Four elegant windows are behind them in a line.
Tsinghua University, 1924.

1901ء میں ٹیگور، ایک آشرم بنانے کے لیے شانتی نکیتن منتقل ہوئے۔ اس میں سنگ مرمر کا ایک عبادت خانہ اور ایک مندر، ایک تجربہ گاہیاسکول، پیڑوں سے لدا علاقہ، باغات، ایک کتب خانہ ہیں۔ اس جگہ ان کی اہلیہ اور دو بچوں کا انتقال ہوا تھا۔ ان کے والد بھی 1905ء میں یہیں پر انتقال کر گئے۔ تریپورہ کے مہاراجا کی جانب سے ماہانہ وراثتی تنخواہ ملا کرتی تھی۔ انہوں نے اپنے خاندانی گہنے فروخت کردئے جس سے کچھ پیسے ملے۔ شہر پوری کے اپنے ایک بنگلہ کو بھی فروخت کر دیا۔ اور پھر اپنی کتابوں کی رائلٹی بھی 2000 روپیوں تک ملی اور انہیں کافی اچھے بنگالی اور غیر ملکی قارئین بھی ملے۔

اداکاری[ترمیم]

بہت کم لوگوں کو یہ معلوم ہے کہ بنگالی۔ انگریزی کے ادبی نوبل انعام یافتہ ادیب،شاعر اور ڈراما نگار رابند ناتھ ٹیگور اسٹیج کے اداکار بھی تھے۔ 1881ء میں کھینچی گئی اس تصویر میں ٹیگور اپنے لکھے ھوئے ڈرامے “ولمکی پرتیھبا“(عقل مند ولمکی) میں اندرا دیوی کے ساتھ اداکاری کے جوہر دکھا رہے ہیں۔ ٹیگور نے تین (3) ہزرا گیت لکھے۔ سات (٧) ڈرامے ان کے ذخیرہ تحریر میں ہیں۔ ان کے مشہور ڈراموں میں ‘ڈاک گھر‘، ‘راجا ‘اور ‘گورا‘ کے نام لیے جاتے ہیں۔

بنگالی تصانیف[ترمیم]

شاعری[ترمیم]

  • بھانو سمہہ ٹھاکرر پدولی (بھانو سمہہ ٹھاکرکے نغمے )۔.۔.(1884ء)
  • مانسی (مثالی)۔.۔. (1884ء)
  • سونار تاری (سونے کی کشتی)۔.۔. (1890ء)
  • گیتانجلی (نغموں کے نذرانے)۔.۔. (1910ء)
  • گیت مالا (نغموں کی مالا)۔.۔. (1914ء)
  • بلاکا (کرین کی اُڑان)۔.۔. (1916ء)

ڈرامے[ترمیم]

  • والمیکی پرتیبھا (والمیکی کی ذہانت)۔.۔. (1881ء)
  • وِسرجن (چڑھاوا)۔.۔. (1890ء)
  • راجا (اندھیرے کمرے کا بادشاہ)۔.۔. (1910ء)
  • ڈاک گھر (ڈاک خانہ)۔.۔. (1912ء)
  • اچلیاتان (بے حرکت/ساکن)۔.۔. (1912ء)
  • مُکتادھارا (آبشار)۔.۔. (1922ء)
  • رکتاکاروی (سُرخ کنیر)۔.۔. (1926ء)

ناول[ترمیم]

  • نسترنِرھ(ٹوٹا گھونسلا)۔.۔. (1901ء)
  • گورا (گوری رنگت والا)۔.۔. (1910ء)
  • گھرویار (گھر اور دنیا)۔.۔. (1916ء)
  • یوگا یوگ (عمل رد عمل)۔.۔. (1929ء)

یادداشتیں[ترمیم]

  • جیون سمرتی (میری یادیں)۔.۔. (1912ء)
  • چھلبیلا (میرے لڑکپن کے دن)۔.۔. (1940ء)

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ ر​ ڑ​ ز ژ س https://www.culturalindia.net/indian-art/painters/rabindranath-tagore.html — اخذ شدہ بتاریخ: 12 دسمبر 2018
  2. ^ ا ب https://www.thehindu.com/features/friday-review/history-and-culture/rabindranath-tagore-a-life/article3399778.ece
  3. ^ ا ب مکمل کام یہاں دستیاب ہے: http://feb-web.ru/feb/kle/ — عنوان : Краткая литературная энциклопедия — ناشر: Great Russian Entsiklopedia, JSC
  4. ^ ا ب http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb11925917p — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  5. ^ ا ب ایس این اے سی آرک آئی ڈی: http://snaccooperative.org/ark:/99166/w6gb24fv — بنام: Rabindranath Tagore — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  6. ^ ا ب ISFDB author ID: http://www.isfdb.org/cgi-bin/ea.cgi?262568 — بنام: রবীন্দ্রনাথ ঠাকুর — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  7. InPhO ID: https://www.inphoproject.org/3980.html — بنام: Rabindranath Tagore — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  8. اجازت نامہ: CC0
  9. ^ ا ب پ مدیر: الیکزینڈر پروکورو — عنوان : Большая советская энциклопедия — اشاعت سوم — باب: Тагор Рабиндранат — ناشر: Great Russian Entsiklopedia, JSC نقص حوالہ: نادرست <ref> ٹیگ؛ نام "5ef91fddc4f132752c558297137277676e617b90" مختلف مواد کے ساتھ کئی بار استعمال ہوا ہے۔ نقص حوالہ: نادرست <ref> ٹیگ؛ نام "5ef91fddc4f132752c558297137277676e617b90" مختلف مواد کے ساتھ کئی بار استعمال ہوا ہے۔
  10. ^ ا ب پ مکمل کام یہاں دستیاب ہے: http://feb-web.ru/feb/kle/ — عنوان : Краткая литературная энциклопедия — ناشر: Great Russian Entsiklopedia, JSC
  11. Benezit ID: http://oxfordindex.oup.com/view/10.1093/benz/9780199773787.article.B00179069 — بنام: Rabindranath Tagore — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — ISBN 978-0-19-977378-7
  12. فائنڈ اے گریو میموریل شناخت کنندہ: https://www.findagrave.com/cgi-bin/fg.cgi?page=gr&GRid=10397981 — بنام: Rabindranath Tagore — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  13. اجازت نامہ: CC0
  14. The Telegraph — شائع شدہ از: 1 جولا‎ئی 2017
  15. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb11925917p — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  16. "Tagore renounced his Knighthood in protest for Jalianwalla Bagh mass killing"۔ The Times of India۔ ممبئی: Bennett, Coleman & Co. Ltd.۔ اخذ شدہ بتاریخ 17 فروری 2012۔