رابندر ناتھ ٹیگور

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
رابندر ناتھ ٹیگور
Late-middle-aged bearded man in white robes looks to the left with serene composure.
ٹیگور 1915ء میں۔ ٹیگور کو اس سال جارج پنجم کے ہاتھوں نائٹ ہوڈ دیا گیا۔ لیکن 1919ء میں جالیاں والا باغ حادثہ کے احتجاج میں اسے واپس کر دیا۔[1]
پیدائش رویندر ناتھ ٹھاکر
7 مئی 1861(1861-05-07)ء
کلکتہ، بنگال ایوان صدر، برطانوی ہند
وفات 7 اگست 1941(1941-80-07) (عمر  80 سال)
کلکتہ، بنگال ایوان صدر، برطانوی ہند
پیشہ شاعر، افسانہ نگار، نغمہ نگار، ناول نگار، مکالمہ نگار، انشائیہ نگار، پیئنٹر
زبان بنگالی زبان، انگریزی
قومیت برٹش انڈیا
نسل بنگالی
نمایاں کام گیتانجلی، Gora، Ghare-Baire، جن گن من، Rabindra Sangeet، امر شونار بنگلہ (دیگر کام)
اہم اعزازات نوبل انعام برائے ادب
1913ء
شریک حیات Mrinalini Devi (شادی. 1883–1902)
اولاد 5 بچے، دو کم عمری میں مر گئے
رشتہ دار Tagore family

دستخط Close-up on a Bengali word handwritten with angular, jaunty letters.

رابندرناتھ ٹیگور : بنگالی زبان کے نوبل انعام یافتہ شاعر، فلسفی اور افسانہ و ناول نگار رابندر ناتھ ٹیگور کا اصل نام رویندر ناتھ ٹھاکر۔ ٹیگور ٹھاکر کا بگاڑ ہے۔ آپ 1861ء میں کلکتہ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کلکتہ میں ہی حاصل کی۔ ان کی پہلی کتاب صرف 17 برس کی عمر میں منصہ شہودپر آئی۔ پھر قانون کی تعلیم حاصل کرنے کی خاطر 1878ء میں انگلستان گئے، ڈیڑھ سال بعد ڈگری لیے بغیر لوٹ آئے اور اپنے طور پر پڑھنے لکھنے اور اپنی شخصیت کو پروان چڑھانے میں مصروف ہو گئے۔ اس دوران میں کئی افسانے لکھے اور شاعری کی جانب بھی توجہ دی۔ ٹیگور نے زیادہ تر چیزیں بنگالی زبان میں لکھیں۔ 1901ء میں بولپور بنگال کے مقام پر شانتی نکتین کے نام سے مشرقی اور مغربی فلسفے پر ایک نئے ڈھنگ کے مدرسہ کی بنیاد ڈالی، جس نے 1921ء میں یونیورسٹی کی شکل اختیار کی۔ شانتی نکیتن میں اپنی بنگالی تحریروں کا انگریزی میں ترجمہ کیا، جس کے باعث ان کی مقبولیت دوسرے ملکوں میں پھیل گئی۔ یورپ، جاپان، چین ،روس ،امریکا کا کئی بار سفر کیا ۔1913ء میں ادب کے سلسلے میں نوبل پرائز ملا۔ اور 1915ء میں برطانوی حکومت ہند کی طرف سے ’’سر‘‘ کا خطاب دیا گیا۔ لیکن برطانوی راج میں پنجاب میں عوام پر تشدد کے خلاف احتجاج کے طور پرانہوں نے ’’سر‘‘ کا خطاب واپس کر دیا۔ ٹیگور نے اپنی زندگی کے آخری حصہ میں کم و بیش پوری متمدن دنیا کا دورہ کیا اور لیکچر بھی دیے۔ 1930ء میں ’’انسان کا مذہب‘‘ کے عنوان سے لندن میں کئی بلند پایہ خطبات ممالک اورنیویارک میں اپنی ان تصاویر کی نمائش کی۔ جو 68 برس کی عمر کے بعد بنائی تھیں۔ تین ہزار گیت مختلف دھنوں میں ترتیب دیے۔ بے شمار نظمیں لکھیں، مختصر افسانے لکھے۔ چند ڈرامے بھی لکھے۔ ہندوستان کی کئی جامعات اور آکسفورڈ یونیورسٹی نے آپ کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری دی۔ آپ کو بنگالی زبان کا شکسپیئر بھی کہتے ہیں۔

1934ء کے بعد ٹیگور کی صحت خراب ہو گئی اور 1941ء کو یہ عظیم افسانہ نگار بمقام کلکتہ انتقال کر گئے۔

شانتی نکیتن: 1901–1932[ترمیم]

Posed group black-and-white photograph of seven Chinese men, possibly academics, in formal wear: two wear European-style suits, the five others wear Chinese traditional dress; four of the seven sit on the floor in the foreground; another sits on a chair behind them at center-left; two others stand in the background. They surround an eighth man who is robed, bearded, and sitting in a chair placed at center-left. Four elegant windows are behind them in a line.
Tsinghua University, 1924.

1901ء میں ٹیگور، ایک آشرم بنانے کے لیے شانتی نکیتن منتقل ہوئے۔ اس میں سنگ مرمر کا ایک عبادت خانہ اور ایک مندر، ایک تجربہ گاہیاسکول، پیڑوں سے لدا علاقہ، باغات، ایک کتب خانہ ہیں۔ اس جگہ ان کی اہلیہ اور دو بچوں کا انتقال ہوا تھا۔ ان کے والد بھی 1905ء میں یہیں پر انتقال کر گئے۔ تری پورہ کے مہاراجہ کی جانب سے ماہانہ وراثتی تنخواہ ملا کرتی تھی۔ انہوں نے اپنے خاندانی گہنے فروخت کردئے جس سے کچھ پیسے ملے۔ شہر پوری کے اپنے ایک بنگلہ کو بھی فروخت کر دیا۔ اور پھر اپنی کتابوں کی رائلٹی بھی 2000 روپیوں تک ملی اور انہیں کافی اچھے بنگالی اور غیر ملکی قارئین بھی ملے۔

اداکاری[ترمیم]

بہت کم لوگوں کو یہ معلوم ہے کہ بنگالی۔ انگریزی کے ادبی نوبل انعام یافتہ ادیب،شاعر اور ڈراما نگار رابند ناتھ ٹیگور اسٹیج کے اداکار بھی تھے۔ 1881ء میں کھینچی گئی اس تصویر میں ٹیگور اپنے لکھے ھوئے ڈرامے “ولمکی پرتیھبا“(عقل مند ولمکی) میں اندرا دیوی کے ساتھ اداکاری کے جوہر دکھا رہے ہیں۔ ٹیگور نے تین (3) ہزرا گیت لکھے۔ سات (٧) ڈرامے ان کے ذخیرہ تحریر میں ہیں۔ ان کے مشہور ڈراموں میں ‘ڈاک گھر‘، ‘راجا ‘اور ‘گورا‘ کے نام لیے جاتے ہیں۔

بنگالی تصانیف[ترمیم]

شاعری[ترمیم]

  • بھانو سمہہ ٹھاکرر پدولی (بھانو سمہہ ٹھاکرکے نغمے )۔.۔.(1884ء)
  • مانسی (مثالی)۔.۔. (1884ء)
  • سونار تاری (سونے کی کشتی)۔.۔. (1890ء)
  • گیتانجلی (نغموں کے نذرانے)۔.۔. (1910ء)
  • گیت مالا (نغموں کی مالا)۔.۔. (1914ء)
  • بلاکا (کرین کی اُڑان)۔.۔. (1916ء)

ڈرامے[ترمیم]

  • والمیکی پرتیبھا (والمیکی کی ذہانت)۔.۔. (1881ء)
  • وِسرجن (چڑھاوا)۔.۔. (1890ء)
  • راجا (اندھیرے کمرے کا بادشاہ)۔.۔. (1910ء)
  • ڈاک گھر (ڈاک خانہ)۔.۔. (1912ء)
  • اچلیاتان (بے حرکت/ساکن)۔.۔. (1912ء)
  • مُکتادھارا (آبشار)۔.۔. (1922ء)
  • رکتاکاروی (سُرخ کنیر)۔.۔. (1926ء)

ناول[ترمیم]

  • نسترنِرھ(ٹوٹا گھونسلا)۔.۔. (1901ء)
  • گورا (گوری رنگت والا)۔.۔. (1910ء)
  • گھرویار (گھر اور دنیا)۔.۔. (1916ء)
  • یوگا یوگ (عمل رد عمل)۔.۔. (1929ء)

یادداشتیں[ترمیم]

  • جیون سمرتی (میری یادیں)۔.۔. (1912ء)
  • چھلبیلا (میرے لڑکپن کے دن)۔.۔. (1940ء)

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Tagore renounced his Knighthood in protest for Jalianwalla Bagh mass killingThe Times of India (ممبئی: Bennett, Coleman & Co. Ltd.)۔ 13 اپریل 2011۔ http://articles.timesofindia.indiatimes.com/2011-04-13/india/29413338_1_knighthood-protest-honour۔ اخذ کردہ بتاریخ 17 فروری 2012۔