ہنری برگساں

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search


Henri-Louis Bergson
(فرانسیسی میں: Henri Bergson ویکی ڈیٹا پر مقامی زبان میں نام (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Bergson in 1927
Bergson in 1927

معلومات شخصیت
پیدائش 18 اکتوبر 1859(1859-10-18)
پیرس[1][2]  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 4 جنوری 1941(1941-10-40) (عمر  81 سال)
پیرس[3][2]  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجۂ وفات قصباتس  ویکی ڈیٹا پر وجۂ وفات (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of France.svg فرانس  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رکن رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز، امریکی اکادمی برائے سائنس و فنون  ویکی ڈیٹا پر رکن (P463) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی École Normale Supérieure
تعلیمی اسناد ڈاکٹریٹ[4]  ویکی ڈیٹا پر تعلیمی اسناد (P512) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تلمیذ خاص مارسل پروست  ویکی ڈیٹا پر شاگرد (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ فلسفی[5]، مصنف، پروفیسر[6]، ماہرِ عمرانیات  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان فرانسیسی[7]  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل فلسفہ، ماوراء الطبیعیات، علمیات  ویکی ڈیٹا پر شعبۂ عمل (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مؤثر افلاطون[8]، ارسطو[8]، رینے دیکارت[8]، سپینوزا[8]، گوٹفریڈ ویلہم لائبنیز[8]، امانوئل کانٹ[8]، ڈارون[8]، آئن سٹائن[8]، پاسکل، شوپنہائر  ویکی ڈیٹا پر مؤثر (P737) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
نوبل انعام برائے ادب (1927)
دستخط
LeagueOfNations HenriBergson.JPG 
ہنری برگساں

ہنری برگساں(انگریزی:Henri Bergson)فرانسیسی فلسفی اور مشہور حکیم تھا

ولادت[ترمیم]

18 اکتوبر 1859ء کو پیرس فرانس میں پیدا ہوا

وفات[ترمیم]

برگساں کا انتقال 1941ء میں ہوا۔

فلسفے کا استاد[ترمیم]

ہنری برگساں 1900ء سے 1921ء تک کالج ڈی فرانس میں فلسفے کا پروفیسر رہا۔

نوبل انعام[ترمیم]

فلسفیانہ تحریروں کی بنا پر 1927 میں ادبیات کا نوبل انعام پایا۔[12]

عقائد[ترمیم]

ہنری برگساں ثنویت کا قائل تھا۔ یعنی عالم میں دو مستقل جوہر زندگی اور مادہ ہیں جو آپس میں بر سر پیکار رہتے ہیں۔ زندگی ہمیشہ رواں دواں رہتی ہے۔ اور ہمیشہ اوپر کی سمت جاتی ہے۔ وہ ایک فعال اور متحرک قوت ہے جو بیک وقت مادے کے اندر اور مادے سے ماورا رہ کر گہرائی، لطافت، تنوع اور پیچیدگی کے لیے تڑپتی ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اجازت نامہ: CC0
  2. ^ ا ب مدیر: الیکزینڈر پروکورو — عنوان : Большая советская энциклопедия — اشاعت سوم — باب: Бергсон Анри — ناشر: Great Russian Entsiklopedia, JSC
  3. اجازت نامہ: CC0
  4. اجازت نامہ: CC0
  5. یو ایل اے این - آئی ڈی: https://www.getty.edu/vow/ULANFullDisplay?find=&role=&nation=&subjectid=500255390 — اخذ شدہ بتاریخ: 14 مئی 2019 — خالق: گیٹی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ — شائع شدہ از: 25 جولا‎ئی 2011
  6. مکمل کام یہاں دستیاب ہے: http://www.college-de-france.fr/media/chaires-et-professeurs/UPL3451746530003663772_LISTE_DES_PROFESSEURS.pdf
  7. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb11891433v — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  8. ISBN 978-0-415-06043-1
  9. John Ó Maoilearca, Beth Lord (eds.), The Continuum Companion to Continental Philosophy, Bloomsbury Academic, 2009, p. 204.
  10. Curtis L. Hancock (مئی 1995)۔ "The Influence of Plotinus on Berson's Critique of Empirical Science"۔ بہ R. Baine Harris۔ Neoplatonism and Contemporary Thought۔ Congress of the International Society for Neoplatonic Studies held in May 1995 at Vanderbilt University۔ Albany: State University of New York Press۔ صفحہ 139ff۔ آئی ایس بی این 978-0-7914-5275-2۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2010-05-10۔ That the philosophy of Henri Bergson is significantly influenced by the doctrines of Plotinus is indicated by the many years Bergson devoted to teaching Plotinus and the many parallels in their respective philosophies. This influence has been discussed at some length by Bergson's contemporaries, such as Emile Bréhier and Rose-Marie Rossé-Bastide. [...]
  11. R. William Rauch, Politics and Belief in Contemporary France: Emmanuel Mounier and Christian Democracy, 1932–1950, Springer, 2012, p. 67.
  12. تلمیحات حصہ اول صفحہ 136، اقبال اکیڈمی لاہور پاکستان