اورخان پاموک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
اورخان پاموک
Orhan Pamuk 2009 Shankbone.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 7 جون 1952 (66 سال)[1][2][3][4]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
استنبول  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
رہائش استنبول
نیویارک شہر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رہائش (P551) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Turkey.svg ترکی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
رکن امریکی اکادمی برائے سائنس و فنون  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رکن (P463) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ مصنف،  ناول نگار،  منظر نویس،  مضمون نگار،  صحافی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان ترک زبان[5]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
ملازمت جامعہ کولمبیا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں نوکری (P108) ویکی ڈیٹا پر
کارہائے نمایاں سرخ میرا نام  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں کارہائے نمایاں (P800) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
ویب سائٹ
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں باضابطہ ویب سائٹ (P856) ویکی ڈیٹا پر
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی (P345) ویکی ڈیٹا پر
P literature.svg باب ادب

اورخان پاموک ترک ناول نگار، (اصل نام: فرید اورخان پاموک ہے، او رہان یا اورحان پاموک غلط تلفظ ہے۔ اس غلط فہمی کی بنیادی وجہ ان کا ترک زبان میں نام "Orhan" ہے، کیونکہ ترک زبان میں H "خ" کا متبادل ہے اس لیے یہ او رہان/اورحان نہیں بلکہ اورخان کہلائے گا) جنہوں نے 2006ء میں ادب کا نوبل انعام حاصل کیا۔ وہ اپنے افسانوں اور ناولوں میں جدید ناول اور مشرِق کی صوفیانہ روایات کو آپس میں جوڑتے ہیں۔ مشرِق و مغرب کے درمیان میں پل تعمیر کرنے والے اس ترک ادیب کی کتابوں کے دُنیا کی 35 زبانوں میں تراجم ہوچکے ہیں اور یہ کتابیں سو سے زیادہ ممالک میں شائع ہو چکی ہیں۔ اورخان پاموک کی مشہور تصانیف میں The White Castle, Snow اور My Name is Red شامل ہیں۔ 1990ء سے اُن کی 6 تصانیف جرمن زبان میں بھی ترجمہ ہو کر شائع ہو چکی ہیں۔ اُن کی تازہ ترین کتاب”استنبول۔ ایک شہر کی یادیں “ہے۔ استنبول ہی پاموک کا آبائی شہر ہے، جہاں وہ 7 جون 1952ء کو پیدا ہوئے۔ پاموک نے کئی سال نیویارک میں بھی گزارے، جہاں اُنہوں نے تعمیرات اور صحافت کی تعلیم حاصل کی۔ ناول لکھنے کا سلسلہ اُنہوں نے بیس سال کی عمر میں شروع کیا۔ 54 سالہ پاموک نے ادب کا نوبل انعام 10 دسمبر 2006ء کو وصول کیا۔ پاموک کو جرمن بک ڈیلرز ایسوسی ایشن کے امن انعام سے بھی نوازا گیا تھا۔ ادب کے شعبے میں نوبل اعزاز جیتنے پر انہیں تقریباً ڈیڑھ ملین امریکی ڈالر کا انعام ملا۔ حالانکہ وہ نوبل انعام حاصل کرنے والی پہلی ترک شخصیت ہیں لیکن اس اعزاز کو حاصل کرنے کے باوجود ترک باشندے ان کے لیے کوئی نرم گوشہ نہیں رکھتے جس کی وجہ ان کی متنازع شخصیت ہے۔ پاموک نے اپنے ناولوں میں متنازع مسائل سے نمٹنے کی وجہ سے مغربی دنیا میں مقبولیت حاصل کی۔ ترکی کے حکام نے پہلی جنگ عظیم میں ترکوں کے ہاتھوں لاکھوں آرمینیائی باشندوں کے مبینہ قتل عام کا ذکر کرنے پر ان کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔ پاموک نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ پہلی جنگ عظیم کے دوران میں ان کے ملک میں 30 ہزار کرد اور 10 لاکھ آرمینیائی باشندوں کا قتل عام ہوا تھا لیکن ان کے علاوہ اس بارے میں کوئی بات کرنے کو تیار نہیں۔ ترکی کے قانون کے مطابق کسی کے لیے بھی ترکی کی ریاست اور قومی اسمبلی کی توہین کرنا غیر قانونی ہے۔ پاموک کے خلاف اسی قانون کے تحت مقدمہ دائر کیا گیا۔ لیکن جنوری 2006ء میں شدید بین الاقوامی تنقید کے پیش نظر ان کے خلاف یہ الزامات ترک کر دیے گئے۔

ناقدین نے پاموک کو نوبل انعام دینے کے فیصلے کو سیاسی قرار دے دیا۔ اورخان اسلامی دنیا کے پہلے ادیب ہیں جنہوں نے ایران کی جانب سے سلمان رشدی کے قتل کے فتوے کی مذمت کی تھی۔ وہ تھامس مین، مارسل پروسٹ، لیو ٹالسٹائی اور فیودور دوستوفسکی سے متاثر ہیں۔

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی: https://tools.wmflabs.org/wikidata-externalid-url/?p=345&url_prefix=https://www.imdb.com/&id=nm0658988 — اخذ شدہ بتاریخ: 16 اکتوبر 2015
  2. ایس این اے سی آرک آئی ڈی: http://snaccooperative.org/ark:/99166/w648786g — بنام: Orhan Pamuk — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  3. دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Orhan-Pamuk — بنام: Orhan Pamuk — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  4. Discogs artist ID: https://www.discogs.com/artist/656347 — بنام: Orhan Pamuk — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  5. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12093134m — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  6. https://www.nobelprize.org/nobel_prizes/literature/laureates/2006/
  7. https://www.nobelprize.org/nobel_prizes/about/amounts/

سانچہ:ہنری برگساں