استنبول

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search


استنبول
Istanbul
İstanbul
میٹروپولیٹن بلدیہ
See caption
Turkey, with Istanbul pinpointed at the northwest along a thin strip of land bounded by water
Turkey, with Istanbul pinpointed at the northwest along a thin strip of land bounded by water
استنبول
Turkey, with Istanbul pinpointed at the northwest along a thin strip of land bounded by water
Turkey, with Istanbul pinpointed at the northwest along a thin strip of land bounded by water
استنبول
Turkey, with Istanbul pinpointed at the northwest along a thin strip of land bounded by water
Turkey, with Istanbul pinpointed at the northwest along a thin strip of land bounded by water
استنبول
Turkey, with Istanbul pinpointed at the northwest along a thin strip of land bounded by water
Turkey, with Istanbul pinpointed at the northwest along a thin strip of land bounded by water
استنبول
Location within Turkey##Location within Europe
متناسقات: 41°00′49″N 28°57′18″E / 41.01361°N 28.95500°E / 41.01361; 28.95500متناسقات: 41°00′49″N 28°57′18″E / 41.01361°N 28.95500°E / 41.01361; 28.95500
ملکترکی
ترکی کے علاقےمرمرہ علاقہ
ترکی کے صوبےاستنبول
صوبائی نشست[ا]Cağaloğlu, Fatih
اضلاع39
حکومت
 • ناظم شہراکرم امام اوغلو (ریپبلکن پیپلز پارٹی)
 • والیAli Yerlikaya
رقبہ[1][2][ب]
 • شہری2,576.85 کلو میٹر2 (994.93 مربع میل)
 • میٹرو5,343.22 کلو میٹر2 (2,063.03 مربع میل)
بلندی39 میل (128 فٹ)
آبادی (31 دسمبر 2019)[3]
 • میٹروپولیٹن بلدیہ15,519,267
 • درجہترکی کے شہر
 • شہری15,214,177
 • شہری کثافت5,904/کلو میٹر2 (15,290/مربع میل)
 • میٹرو کثافت2,904/کلو میٹر2 (7,520/مربع میل)
نام آبادیIstanbulite
(ترکی: İstanbullu)
منطقۂ وقتترکی میں وقت (UTC+3)
رمزِ ڈاک34000 to 34990
ٹیلی فون کوڈ212 (یورپی حصہ)
216 (ایشیائی حصہ)
گاڑی کی نمبر پلیٹ34
خام ملکی پیداوار2018 [4][5]
 - کلامریکی ڈالر 244.757 بلین [6]
- 31.02 % ترکی کا –
 - فی کسامریکی ڈالر 16,265
انسانی ترقیاتی اشاریہ (2017)0.812[7]انتہائی اعلیٰ
جغرافیائی اعلیٰ ترین ڈومین نیم۔ist، ۔istanbul
ویب سائٹibb.istanbul
www.istanbul.gov.tr
یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ
باضابطہ ناماستنبول کے تاریخی علاقے
معیارثقافتی: (i)(ii)(iii)(iv)
حوالہ356bis
کندہ کاری1985 (9 اجلاس)
توسیع2017
علاقہ765.5 ha (1,892 acre)

استنبول (انگریزی: Istanbul) (تلفظ: /ˌɪstænˈbʊl/،[8][9] ترکی: İstanbul [isˈtanbuɫ] ( سنیے)) جسے سابقہ طور پر بازنطیوم اور قسطنطنیہ کے نام سے بھی جابا جاتا تھا ترکی کا سب سے زیادہ آبادی والا شہر اور ملک کا معاشی ، ثقافتی اور تاریخی مرکز ہے۔ استنبول یوریشیا کا بین براعظمی شہر ہے جو بحیرہ مرمرہ اور بحیرہ اسود کے درمیان میں آبنائےباسفورس کر دونوں کناروں پر واقع ہے جو ایشیا کو یورپ سے جدا کرتی ہے۔ اس کا تجارتی اور تاریخی مرکز یوروپی طرف ہے اور اس کی آبادی کا ایک تہائی حصہ آبنائے باسفورس کے ایشیائی کنارے کے مضافاتی علاقوں میں رہتا ہے۔ [10] اس کے میٹروپولیٹن علاقہ کی تقریباْ 15 ملین کی مجموعی آبادی کے ساتھ [3] استنبول کا شمار دنیا کے سب سے بڑے شہروں میں ہوتا ہے۔ عالمی طور پر یہ دنیا کا پانچوں سب سے بڑا شہر جبکہ یہ یورپ کا سب سے بڑا شہر ہے۔ شہر استنبول میٹروپولیٹن بلدیہ کا انتظامی مرکز ہے۔

سرائے بورنو کے مقام پر 600 ق م [11] بازنطیوم کے نام سے آباد ہوانے والے شہر کا اثر و رسوخ، آبادی اور رقبہ میں اضافہ ہوا اور یہ تاریخ کا سب سے اہم شہر بن گیا۔ 330ء [12] میں قسطنطنیہ کے نام سے از سر نو آباد ہونے کے بعد یہ تقریباْ 16 صدیوں تک دار الحکومت کی حیثیت سے قائم رہا جس میں رومی سلطنت/بازنطینی سلطنت (330ء–1204ء)، لاطینی سلطنت (1204ء–1261ء)، فالیولوجی بازنطین (1261ء–1453ء) اور سلطنت عثمانیہ (1453ء–1922ء) شامل ہیں۔ رومی سلطنت اور بازنطینی دور میں شہر نے مسیحیت کی ترقی میں اہم کردار تھا تاہم 1453ء میں فتح قسطنطنیہ کے بعد یہ ایک اسلامی گڑھ اور خلافت عثمانیہ کا دارالخلافہ بنا۔ [13] قسطنطنیہ کے نام سے یہ 1923ء تک یہ سلطنت عثمانیہ دار الحکومت رہا۔ اس کے بعد دار الحکومت کو انقرہ منتقل کر دیا گیا اور اس شہر کا نام استنبول رکھ دیا گیا۔

شہر کو بحیرہ اسود اور بحیرہ روم کے درمیان میں تزویراتی مقام حاصل ہے۔ یہ تاریخی شاہراہ ریشم پر بھی موجود تھا۔ [14] اس سے بلقان اور مشرق وسطی کے درمیان میں ریل نیٹ ورک کو کنٹرول کیا جاتا تھا اور یہ بحیرہ اسود اور بحیرہ روم کے درمیان میں واحد سمندری راستہ تھا۔ 1923ء میں ترک جنگ آزادی کے بعد انقرہ کو جمہوریہ ترکی کا نیا دار الحکومت بنانے کا فیصلہ ہوا اور تب ہی شہر کا نام قسطنطنیہ سے تبدیل کر کے استنبول رکھا گیا۔ تاہم شہر نے جغرافیائی، سیاسی اور ثقافتی امور میں اپنی اہمیت کو برقرار رکھا۔ 1950ء کی دہائی سے اس شہر کی آبادی دس گنا بڑھ چکی ہے کیونکہ اناطولیہ سے آنے والے تارکین وطن بڑی تعداد میں یہاں نقل مکانی کر چکے ہیں اور ان کی رہائش کے لئے شہر کی حدود میں اضافہ ہوا ہے۔ [15][16] بیسویں صدی کے اواخر میں فن، موسیقی، فلم اور ثقافتی میلوں کا انعقاد شروع ہوا اور آج بھی اس شہر ان کی میزبانی کر رہا ہے۔ بنیادی ڈھانچے کی بہتری نے شہر میں نقل و حمل کا ایک پیچیدہ نیٹ ورک تیار کیا ہے۔

یورپی دار الحکومت ثقافت نامزد ہونے کے پانچ سال بعد 2015ء میں 12 ملین سے زیادہ غیر ملکی زائرین استنبول آئے، جو کہ شہر کو دنیا کا پانچواں مقبول ترین سیاحتی مقام بناتا ہے۔ [17] شہر کا سب سے بڑا کشش مقام اس کا تاریخی مرکز ہے جو کہ جزوی طور پر یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ مقامات کے طور پر درج ہے۔ اس کا ثقافتی اور تفریحی مرکز ضلع بےاوغلو میں شہر کی قدرتی بندرگاہ شاخ زریں ہے۔ عالمی شہر [18] تصور ہونے کی وجہ سے اس میں متعدد ترک کمپنیوں اور میڈیا آؤٹ لیٹس کا صدر مقام ہے۔ یہ ملک کی مجموعی خام ملکی پیداوار کا ایک چوتھائی سے زیادہ حصہ بنتا ہے۔ [19] اس کی ترقی اور تیزی سے توسیع کا فائدہ اٹھانے کے لئے استنبول نے گرمائی اولمپک کھیلوں کے لئے بیس سالوں میں پانچ بار بولی لگائی ہے۔ [20]

تسمیہ مقام[ترمیم]

شہر کا پہلا معلوم نام بازنطیوم ہے (یونانی: Βυζάντιον، Byzántion) جو کہ اسے میگارا کے آباد کاروں نے اندازاْ 600 ق م میں دیا تھا۔ [21] خیال کیا جاتا ہے کہ یہ نام ذاتی نام بیزاس سے ماخوذ ہے جو کہ یونانی اساطیر میں ایک کردار ہے۔

تاریخ[ترمیم]

قبل از تاریخ[ترمیم]

قسطنطنیہ کا عروج و زوال اور بازنطینی سلطنت[ترمیم]

سلطنت عثمانیہ اور ترک جمہوریہ کا دور[ترمیم]

عثمانی دور میں شہر کی تین پینٹنگز
برج غلطہ سے عثمانی دور کے استنبول کا نظارہ، انیسویں صدی (نوٹس کے ساتھ تصویر)

جغرافیہ[ترمیم]

آب و ہوا[ترمیم]

آب ہوا معلومات برائے استنبول(سارییر)، 1929–2017
مہینا جنوری فروری مارچ اپریل مئی جون جولائی اگست ستمبر اکتوبر نومبر دسمبر سال
بلند ترین °س (°ف) 22.0
(71.6)
24.7
(76.5)
29.3
(84.7)
33.6
(92.5)
34.5
(94.1)
40.2
(104.4)
41.5
(106.7)
40.5
(104.9)
39.5
(103.1)
34.2
(93.6)
27.8
(82)
25.5
(77.9)
41.5
(106.7)
اوسط بلند °س (°ف) 8.4
(47.1)
9.0
(48.2)
10.9
(51.6)
15.4
(59.7)
20.0
(68)
24.6
(76.3)
26.6
(79.9)
26.8
(80.2)
23.7
(74.7)
19.1
(66.4)
14.8
(58.6)
10.8
(51.4)
17.5
(63.5)
یومیہ اوسط °س (°ف) 6.0
(42.8)
6.1
(43)
7.7
(45.9)
12.0
(53.6)
16.7
(62.1)
21.4
(70.5)
23.8
(74.8)
23.8
(74.8)
20.1
(68.2)
15.7
(60.3)
11.7
(53.1)
8.3
(46.9)
14.4
(57.9)
اوسط کم °س (°ف) 3.1
(37.6)
3.1
(37.6)
4.2
(39.6)
7.6
(45.7)
12.1
(53.8)
16.5
(61.7)
19.4
(66.9)
20.1
(68.2)
16.8
(62.2)
12.9
(55.2)
8.9
(48)
5.5
(41.9)
10.8
(51.4)
ریکارڈ کم °س (°ف) −13.9
(7)
−16.1
(3)
−11.1
(12)
−2.0
(28.4)
1.4
(34.5)
7.1
(44.8)
10.5
(50.9)
10.2
(50.4)
6.0
(42.8)
0.6
(33.1)
−7.2
(19)
−11.5
(11.3)
−16.1
(3)
اوسط عمل ترسیب مم (انچ) 106.0
(4.173)
77.7
(3.059)
71.4
(2.811)
45.9
(1.807)
34.4
(1.354)
36.0
(1.417)
33.3
(1.311)
39.9
(1.571)
61.7
(2.429)
88.0
(3.465)
100.9
(3.972)
122.2
(4.811)
817.4
(32.181)
اوسط عمل ترسیب ایام (≥ 0.1 mm) 17.3 15.2 13.8 10.3 8.0 6.2 4.3 5.0 7.6 11.2 13.0 17.1 129.0
ماہانہ اوسط دھوپ ساعات 89.9 101.7 142.6 195.0 272.8 318.0 356.5 328.6 246.0 176.7 120.0 83.7 2,431.5
اوسط روزانہ دھوپ ساعات 2.9 3.6 4.6 6.5 8.8 10.6 11.5 10.6 8.2 5.7 4.0 2.7 6.64
ماخذ: ترکی ریاستی موسمیاتی خدمت[22] and Weather Atlas[23]
استنبول کے آب و ہوا کے اعداد و شمار
مہینا Jan Feb Mar Apr May Jun Jul Aug Sep Oct Nov Dec Year
اوسط سمندری درجہ حرارت °س (°ف) 8.4
(47.1)
7.7
(45.9)
8.3
(46.9)
10.2
(50.4)
15.5
(59.9)
21.3
(70.3)
24.6
(76.3)
24.9
(76.8)
22.8
(73.0)
18.4
(65.1)
13.8
(56.8)
10.5
(50.9)
15.5
(60.0)
مطلب روزانہ کی روشنی کے اوقات 10.0 11.0 12.0 13.0 14.0 15.0 15.0 14.0 12.0 11.0 10.0 9.0 12.2
Source: Weather Atlas [23]

موسمیاتی تبدیلی[ترمیم]

شہر کا نظارہ[ترمیم]

فن تعمیر[ترمیم]

انتظامیہ[ترمیم]

استنبول کے اضلاع

2004ء کے بعد سے استنبول کی بلدیاتی حدود اس کے صوبے کی حدود کے موافق ہیں۔ [26] یہ شہر جو کہ استنبول صوبہ کا دارالحکومت سمجھا جاتا ہے، کا انتظام استنبول میٹروپولیٹن بلدیہ (ایم ایم آئی) کے زیر انتظام ہے، جو شہر-صوبے کے 39 اضلاع کا انتظام کرتا ہے۔ [ب]

موجودہ شہر کا ڈھانچہ انیسویں صدی میں تنظیمات کی اصلاحی دور سے ملتا ہے جس سے قبل قاضی اور امام صدر اعظم کی قیادت میں شہر کا انتظام سنبھالتے تھے۔ فرانسیسی شہروں کے نمونے پر اس مذہبی نظام کی جگہ ایک میئر اور شہر کے نمائندوں پر مشتمل (ملت) ایک شہر گیر کونسل شہر کا انتظام سنبھالتے تھے۔

آبادیات[ترمیم]

Two maps comparing the size of urban areas in Istanbul (indicated as the grey zones) in 1975 and 2011
قبل جمہوریہ
سالآبادی.
10036,000
361300,000
500400,000
ساتویں صدی150–350,000
آٹھویں صدی125–500,000
نویں صدی50–250,000
1000150–300,000
1100200,000
1200150,000
لاطینی سلطنت100,000
135080,000
فتح قسطنطنیہ45,000
1500200,000
1550660,000
1700700,000
1815500,000
1860715,000
1890874,000
1900942,900
جمہوریہ
سالآبادی.±% پی.اے.
1925881,000—    
1927691,000−11.44%
1935740,800+0.87%
1940793,900+1.39%
1945845,300+1.26%
1950983,000+3.06%
19601,459,500+4.03%
19651,743,000+3.61%
19702,132,400+4.12%
19752,547,400+3.62%
19802,853,500+2.30%
19855,494,900+14.00%
19906,620,200+3.80%
19947,615,500+3.56%
19978,260,400+2.75%
20008,831,800+2.25%
200711,174,200+3.42%
201514,657,434+3.45%

مذہبی اور نسلی گروہ[ترمیم]

سیاست[ترمیم]

معیشت[ترمیم]

ثقافت[ترمیم]

استنبول تاریخی طور پر ایک ثقافتی مرکز کے طور پر جانا جاتا تھا لیکن جمہوریہ ترکی کے قیام کے بعد دار الحکومت کی انقرہ منتقلی سے ثقافتی منظر نامہ کا رخ منتقل ہو گیا۔


فلم اور مقبول ثقافت[ترمیم]

ترکی میں پہلی فلم کی نمائش یلدز محل میں 1896ء میں ہوئی پیرس میں اس ٹیکنالوجی کے عوامی آغاز کے ایک سال بعد۔ [27] بےاوغلو میں سینما گھر اور تھیٹر تیزی پھیلنا شروع ہو گئے، سینما گھروں کی بڑی تعداد سڑک کے کنارے مرکوز تھی جسے اب شارع استقلال کہا جاتا ہے۔ [28] استنبول ترکی کی جدید فلم انڈسٹری کا دل بن گیا، حالانکہ 1950 کی دہائی تک ترک فلمیں مستقل طور پر تیار نہیں کی گئیں۔ [29] تب سے استنبول ترکی ڈراموں اور مزاح نگاروں کی فلم بنانے کا سب سے مقبول مقام رہا ہے۔ [30] صدی کے دوسرے نصف حصے میں ترک فلمی صنعت میں تیزی آگئی، اور اوزاک (2002) اور میرے والد اور میرے بیٹے (2005) دونوں کی عکسبندی استنبول میں کی گئی۔ ملکی فلموں میں بین الاقوامی سطح پر کافی کامیابی نظر آتی ہے۔ [31] استنبول اور اس کی دلکش عمارتوں نے متعدد غیر ملکی فلموں کے پس منظر کے طور پر بھی کام کیا ہے۔ چند مشہور بین الاقوامی فلموں میں فرام رشیا ود لوو، دا ورلڈ از ناٹ اینف، مشن استنبول اور توپ قابی شامل ہیں۔ استنبول میں فلمائی گئی دیگر فلموں میں جوانی پھر نہیں آنی 2، دل دھڑکنے دو، ایک تھا ٹائیگر اور وار شامل ہیں۔

اس ثقافتی بازگشت کے ساتھ مربوط استنبول فیسٹیول کا قیام تھا، جس نے 1973ء میں ترکی اور دنیا بھر سے مختلف فنون کی نمائش شروع کی۔ اسی فلیگ شپ فیسٹیول سے سن 1980 کی دہائی کے اوائل میں بین الاقوامی استنبول فلم فیسٹیول اور استنبول انٹرنیشنل جاز فیسٹیول شہر میں منعقد ہونا شروع ہوا۔ اپنی پوری توجہ صرف موسیقی اور رقص پر مرکوز ہونے کی وجہ سے استنبول فیسٹیول کو 1994ء سے استنبول انٹرنیشنل میوزک فیسٹیول کے نام سے جانا جاتا ہے۔ [32]

خریداری اور تفریح[ترمیم]

تاریخی سے جدید تک استنبول میں متعدد خریداری مراکز ہیں۔ بڑا بازار 1461ء کے بعد سے چل رہا ہے یہ دنیا کے قدیم ترین اور چھتے بازاروں میں سے ایک ہے۔ [33][34] محمود پاشا بازار ایک کھلا ہوا بازار ہے جو بڑا بازار اور مصری بازار کے مابین پھیلا ہوا ہے جو 1660ء سے استنبول کی مسالا کی بڑی منڈی ہے۔ 1987ء میں جب گیلریا اتاکوئے کا افتتاح ہوا تو ترکی میں جدید شاپنگ مالز کے زمانے کا آغاز ہوا۔ [35] اس کے بعد سے تاریخی جزیرہ نما کے باہر بڑے شاپنگ سینٹرز بن گئے ہیں۔

استنبول اپنے تاریخی سمندری غذا والے ریستورانوں کے لئے جانا جاتا ہے۔ شہر کے بہت سے مشہور اور اعلیٰ سمندری غذا والے ریستوراں باسفورس کے کنارے واقع ہیں خاص طور پر اورتاکوئے، بیبک، ارناوتکوئے، ینی کوئے، بےلربئی اور چنگال کوئے میں۔ بحیرہ مرمرہ کے ساحل کے ساتھ قوم قاپی پیدل چلنے والا زون ہے جس میں پچاس کے قریب مچھلی والے ریستوراں ہیں۔ [36] جزائر پرنس شہر کے مرکز سے 15 کلومیٹر (9 میل) ، سمندری غذا والے ریستوراں کے لئے بھی مشہور ہیں۔ ان ریستوراںوں، موسم گرما کی تاریخی حویلیوں اور کار سے پاک سڑکوں کی وجہ سے جزائر پرنس استنبول اور غیر ملکی سیاحوں کے درمیان میں چھٹیوں کا ایک مقبول مقام ہے۔ [37]

استنبول عثمانی کھانوں کی جدید ترین اور وسیع پیمانے پر پکے پکوان کے لئے بھی مشہور ہے۔ 1960ء کی دہائی میں شروع ہونے والے جنوب مشرقی اور مشرقی ترکی سے آنے والے تارکین وطن کی آمد کے بعد صدی کے آخر تک اس شہر کے کھانے کا نظارہ یکسر تبدیل ہوچکا ہے۔ مشرق وسطی کے کھانا جیسے کباب کھانے کے منظر میں ایک اہم جگہ لینے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ غیر ملکی کھانوں والے ریستوراں بنیادی طور بےاوغلو، بیشکتاش، شیشلی اور قاضی کوئے اضلاع میں مرتکز ہیں۔

استنبول فعال رات کی زندگی اور تاریخی ٹیورنز کے لیے بھی مشہور ہے جو صدیوں سے شہر کی ایک خصوصیت ہے۔ شارع استقلال پر چیچک پاسجی اب شراب خانوں پب اور ریستوراںوں کا گھر ہے۔ [38] استقلال ایوینیو جو اصل میں اپنے طعام خانوں کے لئے جانا جاتا ہے، خریداری کی طرف بڑھ گیا ہے، لیکن قریب کی نیویزادے اسٹریٹ اب شراب خانوں اور پبوں سے بھری ہے۔ [39][40] استقلال ایونیو کے آس پاس کے کچھ دوسرے محلوں کو بےاوغلو کی رات کی زندگی کے لئے نئے سرے سے تشکیل دیا گیا ہے، اب تجارتی گلیوں میں پب، کیفے اور ریستوراں موجود ہیں جن میں لائیو موسیقی ایک خاص خصوصیت ہے۔ [41] استنبول کی رات کی زندگی کے دیگر فوکل پوائنٹ میں نشان تاشی، اورتاکوئے، بیبک، اور قاضی کوئے شامل ہیں۔ [42]

کھیل[ترمیم]

1. سنان ایردم ڈوم
2. اولکر اسپورٹس ایرینا

استنبول میں ترکی کے سب سے قدیم اسپورٹس کلبوں کا گھر ہے۔ "بیشکتاش جے کے" جو 1903ء میں قائم ہوا ان کھیلوں کے کلبوں میں سب سے قدیم سمجھا جاتا ہے۔ غلطہ سرائے اپورٹس کلب اور فنارباہچے اپورٹس کلب بین الاقوامی مقابلوں میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور بالترتیب 22 اور 19 مرتبہ سوپر لیگ ٹائٹل اپنے نام کیا ہے۔ [43][44][45] استنبول میں باسکٹ بال کی سات ٹیمیں ہیں جو ترک باسکٹ بال سپر لیگ میں کھیلنی ہیں۔ [46]

سنان ایردم ڈوم یورپ کے سب سے بڑے انڈور کھیلوں کے میدانوں میں سے ایک ہے۔ اس نے 2010ء فیبا ورلڈ چیمپینشپ کے فائنل کی میزبانی، 2012ء آئی اے اے ایف ورلڈ انڈور چیمپین شپ، اس کے ساتھ ساتھ 2011ء–12ء یورو لیگ اور 2016ء–17ء یورو لیگ فائنل فور کی بھی میزبانی کی۔ [47] اولکر اسپورٹس ارینا جو فنارباہچے باسکٹ بال ٹیم کا ہوم کورٹ ہے 2012ء میں کھلا۔ تعمیراتی عروج کے باوجود گرمائی اولمپکس کے لئے شہر نے پانچ بولیاں دیں جس میں 2000ء گرمائی اولمپکس، 2008ء گرمائی اولمپکس، 2012ء گرمائی اولمپکس، 2020ء گرمائی اولمپکس اور اس کے علاوہ یوئیفا یورو 2016ء شامل ہیں تاہم یہ کامیاب نہ ہو سکیں۔ [48]

2005ء اور 2011ء کے درمیان میں استنبول پارک ریسنگ سرکٹ نے سالانہ فارمولا ون ترک گراں پری کی میزبانی کی۔ [49] 1952ء میں قائم ہونے والا استنبول کشتی رانی کلب ہر سال استنبول کے آس پاس کی آبی گزرگاہوں پر ریس اور دوسرے کشتی رانی کے پروگرام منعقد کرتا ہے۔ [50][51] ترکی کے ساحل سمندر ریسنگ کلب میں بڑی کشتیاں بھی شامل ہیں جیسے کہ سالانہ نیول فورس ٹرافی۔ [52]

اتاترک اولمپک اسٹیڈیم استنبول کے مغربی مضافات میں ترکی کا سب سے بڑا اسٹیڈیم ہے۔ اس کا نام جمہوریہ ترکی کے بانی اور پہلے صدر مصطفٰی کمال اتاترک کے نام پر ہے۔ اس کی تعمیر 1999ء میں شروع ہوئی اور 2002ء میں مکمل ہوئی۔ یہ 2008ء کے اولمپک کھیلوں کے لئے ترکی کی ناکام بولی کے لئے تعمیر کیا گیا تھا جو بالآخر بیجنگ کو دیا گیا تھا۔ اس پر تقریباً 140 ملین امریکی ڈالر لاگت آئی۔ [53]

ترک ٹیلی کام اسٹیڈیم استنبول، ترکی کے یورپی حصے کے ضلع سارییر میں ایک ایسوسی ایشن فٹ بال اسٹیڈیم ہے۔ [54] کل نشستی اسٹیڈیم میں 52،223 میزبانی کرنے کی گنجائش ہے۔ [55] ترک ٹیلی کام اسٹیڈیم ترکی کا پہلا اسٹیڈیم تھا جو یوئیفا یورپی چیمپئن شپ کی میزبانی کے لئے یوئیفا یورو 2016ء کے معیار پر پقرا اترا۔ [56]

شکرو سراج اوغلو اسٹیڈیم استنبول، ترکی کے ضلع قاضی کوئے میں ایک کثیر المقاصد اسٹیڈیم ہے۔ اس اسٹیڈیم کا افتتاح سن 1908ء میں ہوا اور 1929ء سے 1932ء، 1965ء سے 1982ء، اور 1999ء سے 2006ء کے درمیان میں اس کی تزئین و آرائش کی گئی۔ اسٹیڈیم کا انتخاب 2009ء کے یوئیفا کپ فائنل کی میزبانی کے لئے کیا گیا تھا۔ [57][58][59]

ووڈافون پارک استنبول، ترکی کے ضلع بیشکتاش میں ایک کل نشستی کثیر المقاصد اسٹیڈیم ہے۔ [60][61] یہ "بیشکتاش جے کے" سب سے قدیم کلب کا گھر ہے۔ اس میں تقریباْ 41،188 شائقین کی گنجائش ہے۔ اسٹیڈیم نے یوئفا سپر کپ 2019ء کی میزبانی کی تھی۔

میڈیا[ترمیم]

1948ء سے شائع ہونے والا حریت (ترکی اخبار) سب سے زیادہ پڑھا جانے والا اخبار ہے۔

زیادہ تر سرکاری سطح پر چلنے والے ریڈیو اور ٹیلی ویژن اسٹیشن انقرہ میں قائم ہیں، لیکن استنبول ترک میڈیا کا بنیادی مرکز ہے۔ سابقہ دار الحکومت میں اس صنعت کی جڑیں یہاں موجود ہیں۔ باب عالی اسٹریٹ تیزی سے شاخ زریں ترکی بھر میں پرنٹ میڈیا کا مرکز بن گیا۔ [62] استنبول میں اب کئی طرح کے رسالے موجود ہیں۔ زیادہ تر ملک گیر اخبارات بیک وقت انقرہ، ازمیر اور استنبول سے شائع ہوتے ہیں۔ [63] حریت، صباح، پوستا اور سوزجو ملک کے اعلیٰ چار اخبارات ہیں، سب کا صدر دفتر استنبول میں ہے، جس میں ہر ایک میں 275،000 سے زیادہ ہفتہ وار فروخت ہوتے ہیں۔ [64] استنبول میں آرمینیائی زبان میں بھی اخبارات شائع ہوتے ہیں۔ حریت 1948ء میں قائم ہونے والا ایک ترکی اخبار ہے۔ جنوری 2018ء میں ترکی میں اس کی گردش کسی بھی اخبار سے زیادہ تھی جس کہ 3193،000 کے قریب تھی۔ [65]

ترک ریڈیو وٹیلی ویژن کارپوریشن ترکی میں "عوامی نشریات "کا ذکر کرنے پر جو اولین اور واحد ادارہ ذہن میں آتا ہے وہ ٹی آر ٹی ہے جس کا قیام یکم مئی 1964 میں عمل میں آیا۔ 5 مئی 1927 کو اپنی نشریات کا آغاز کرنے والا ریڈیو کا ادارہ بھی اسی تاریخ سے ٹی آر ٹی کے ساتھ منسلک ہو گیا۔ بٹن دبانے یا پھر چینل گھمانے پر ہمیں ایک نئی دنیا میں لے جانے والے ریڈیو کے ساتھ 1960 کی دہائی کے آخر میں ایک نیا دوست اس کے ساتھ شامل ہوا یعنی ٹیلی ویژن۔ ترکی میں ٹیلی ویژن پہلی دفعہ 31 جنوری 1968 میں ٹی آر ٹی کے وسیلے سے متعارف ہوا۔ 81 سالہ ریڈیو اور 40 سالہ ٹیلی ویژن نشریات کے ساتھ ٹی آر ٹی جمہوریت کی تاریخ کا حافظہ بننے کے ساتھ ساتھ مہارت، تعمیر اور ذمہ داری کے نقۡطہ نظر سے ایک بااعتماد اخوت اور اتحاد کا نشان بن گیا۔ اپنے کارکنوں کے عزم اور فداکاری کی وجہ سے ٹی آر ٹی نے ترک قوم کے دلوں مین کبھی نہ ختم ہونے والا مقام حاصل کیا ہے۔ ترکی کے نشرو اشاعت کی درس گاہ بننے کے ساتھ ساتھ سب سے زیادہ قابل اعتماد ادارے کی حیثیت سے آج کے دور تک پہنچنے والے ٹی آر ٹی نے ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے شعبہ نشریات ٰ٘ن کامیاب ترین پروگراموں کو بھی پروان چڑھایا۔ اس صورتِ حال میں قدرتی طور پر ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت اور رنگین پروگرام ترکی ٹیلی ویژن کی رونق بنا۔ ٹی آر ٹی نے ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے شعبے میں صرف ایک نشریاتی ادارے ہونے پر ہے انحصار نہیں کیا بلکہ ایک گہری بنیادوں کے حامل تعلیمی ادارے کا کردار بھی ادا کیا ہے۔ اور یہ زیر بحث کردار صرف نشریات سے وابستہ عملے کی ہی تعلیم و تربیت کے حوالے سے نہیں بلکہ فراہم کردہ خبروں اور معلومات کے ذریعے اپنے ناظرین کی تعلیم و تربیت کے نقطہ نظر سے بھی ایک ناقابلِ فراموش اہمیت کا حامل ہے۔ اس طرح کے با معنی اور اہم مشن کے حامل ٹی آر ٹی نے غیر جانبدار ،قابلِ اعتماد خبر فراہم کرنے کے نقطہ نظر اور عوامی نشریات کے اصول کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے انمول معیار کے پروگراموں کے ذریعے دنیا کے گنے چنے نشریاتی اداروں میں جگہ حاصل کر لی ہے۔ اس کامیابی کا سبب بننے والی سرگرمیوں کو ان عنوانات کے تحت پیش کیا جا سکتا ہے۔

تعلیم[ترمیم]

استنبول یونیورسٹی ترکی کی ایک مشہور و معروف یونیورسٹی ہے جو استنبول میں واقع ہے۔ اس کا مرکزی کیمپس ضلع فاتح میں بایزید چوک سے ملحق ہے۔ 1453ء میں قائم یہ شہر کا سب سے قدیم کا تعلیمی ادارہ ہے۔ ابتدا میں یہ ایک اسلامی مدرسہ تھا۔ انیسویں صدی میں جمہوریہ ترکی کے قیام کے بعد اسے سیکولر کر دیا گیا اور قانون، طب اور سائنس کے شعبے قائم کیے گئے۔ [66] استنبول ٹیکنیکل یونیورسٹی استنبول، ترکی میں واقع ایک بین الاقوامی تکنیکی یونیورسٹی ہے۔ یہ دنیا کی تیسری قدیم ترین ٹیکنیکل یونیورسٹی ہے جو انجینئرنگ علوم کے لئے مختص ہے۔ [67][68][69] یہ دونوں عوامی جامعات شہر کی آٹھ جامعات میں سے دو ہیں۔ [70] دیگر ممتاز جامعات میں معمار سنان فائن آرٹس یونیورسٹی فنون لطیفہ کی اعلیٰ تعلیم کے لئے ترکی کی ایک ریاستی یونیورسٹی ہے۔ یہ ترکی کے شہر کے ضلع بےاوغلو میں واقع ہے۔ [71] جامعہ کا سلطنت عثمانیہ کے مایہ ناز معمار معمار سنان پاشا کے نام پر ہے۔ یہ 1970ء کے عشرے تک ترکی کا بنیادی ادارہ فن تھا۔ [72] مرمرہ یونیورسٹی استنبول، ترکی کے ضلع فاتح میں ایک عوامی جامعہ ہے۔ یہ 124 سالوں سے یہ ترکی میں اعلیٰ تعلیم کے بہترین اداروں میں سے ایک ہے۔ موجودہ صدر ترکی رجب طیب ایردوان نے اسی جامعہ سے معاشیات اور انتظامی علوم کی فیکلٹی سے گریجویشن کی۔ [73][74][75][76][پ]

استنبول میں قائم بہترین جامعات حکومت کے زیر انتطام ہیں تاہم اس شہر میں متعدد ممتاز نجی ادارے بھی ہیں۔ استنبول میں پہلی جدید نجی یونیورسٹی، جو ریاستہائے متحدہ سے باہر اس کا سب سے قدیم امریکی اسکول ہے رابرٹ کالج تھا جس کے بانی ایک امریکی سماجی کارکن کرسٹوفر رابرٹ تھے۔ 1971ء میں یہ بوغازچی یونیورسٹی بن گیا۔ جبکہ اس کا باقی حصہ آج بھی رابرٹ کالج کے نام سے کا کر رہا ہے۔ [77][78] 1982ء کے آئین سے قبل نجی جامعات کو ترکی میں باضابطہ طور پر کالعدم قرار دیا گیا تھا۔ لیکن 1970ء تک استنبول میں پہلے ہی پندرہ نجی "ہائی اسکول" موجود تھے ، جو مؤثر طریقے سے یونیورسٹیاں تھیں۔ 1982ء کے بعد استنبول میں قائم پہلی نجی یونیورسٹی کوچ یونیورسٹی تھی جس کا قیام 1992ء میں عمل میں آیا اور اگلی دہائی کے میں ایک درجن جامعات بنیں۔ [77] آج شہر میں کم از کم 30 نجی جامعات ہیں۔ [79][80][81]

عوامی خدمات[ترمیم]

فراہمی آب[ترمیم]

استنبول میں پانی کی فراہمی کا پہلا نظام شہر کی ابتدائی تاریخ سے ملتا ہے جب شہر کو آبراہوں سے پانی فراہم کیا جاتا تھا مثلاً والنس آبراہ ایک رومی آبراہ ہے جو مشرقی رومی سلطنت کے دار الحکومت قسطنطنیہ (جدید استنبول، ترکی) کو پانی فراہم کرنے والا سب سے بڑا نظام تھا۔ اسے چوتھی صدی عیسوی کے آخر میں رومی شہنشاہ والنس نے مکمل کیا۔ اس کا انتظام بازنطینیوں اور بعد میں عثمانیوں نے کیا اور اسے استعمال کیا گیا۔ اب یہ شہر کے سب سے اہم مقامات میں سے ایک ہے۔ ان آبراہوں سے پانی شہر کے متعدد تالابوں میں جمع کر دیا جاتا تھا۔ [82] سلیمان اول کے حکم پر کرک چشمہ (Kırkçeşme) پانی کی فراہمی کے نیٹ ورک تعمیر کیا گیا۔ 1563ء تک یہ نیٹ ورک 158 مقامات کو ہر روز 4،200 مکعب میٹر (150،000 مکعب فٹ) پانی فراہم کرتا تھا۔ [82] بعد کے برسوں میں عوامی طلب کے بڑھنے پر مختلف چشموں سے پانی کو عوامی سبیلوں جیسے سبیل احمد ثالث سپلائی لائنوں کے ذریعہ شہر کو پانی فراہم کرتے تھے۔ [83] آج استنبول میں ایک کلورینیٹڈ اور فلٹر پانی کی فراہمی اور نکاسی کا نظام کو استنبول واٹر اینڈ سیوریج انتظامیہ کے زیر انتطام ہے۔ [84]

بجلی[ترمیم]

شاخ زریں کے ساتھ کوئلہ سے چلنے والا بجلی گھر، صلاحترآغا پاور اسٹیشن ، 1914ء اور 1952ء درمیان میں استنبول کا واحد بجلی کا ذریعہ تھا۔ [85] جمہوریہ ترکی کی تشکیل کے بعد اس پلانٹ کو بہتر بنایا گیا تاکہ شہر کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کیا جا سکے۔ اس کی گنجائش 1923ء میں 23 میگا واٹ سے بڑھ کر 1956ء میں 120 میگا واٹ کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی۔ [85][86] صلاحیت میں کمی ہوتی رہی یہاں تک کہ پاور اسٹیشن اپنی معاشی زندگی کے اختتام کو پہنچا اور 1983ء میں بند ہو گیا۔ [85] سرکاری طور پر چلنے والی ترک الیکٹریکل اتھارٹی (ٹی ای کے) 1970ء سے 1984ء کے دوران اپنی بجلی کی پیداوار اور تقسیم پر اجارہ داری تھی۔ لیکن اب اتھارٹی دو حصوں "ترکی بجلی کی پیداوار ٹرانسمیشن کمپنی" (TEAŞ) اور "ترک بجلی تقسیم کار کمپنی" (TEDAŞ) کے درمیان تقسیم ہوگئی ہے۔ [86]

ڈاک اور مواصلات[ترمیم]

استنبول کا مرکزی پوسٹ آفس 1909 کا ہے

عثمانی وزارت ڈاک اور ٹیلی گراف 1840ء میں قائم کیا گیا اور پہلا ڈاکخانہ ینی مسجد کے صحن کے قریب کھلا۔ 1876ء تک استنبول اور سلطنت عثمانیہ سے باہر کے علاقوں کے مابین پہلا بین الاقوامی ڈاک نیٹ ورک قائم ہوچکا تھا۔ [87] عبد المجید اول نے 1847ء میں ٹیلی گراف کے لئے سموئیل مورس کے کوڈ استعمال کرتے ہوئے پہلا سرکاری ٹیلی گراف بھیجا۔ استنبول اور ادرنہ کے مابین پہلی ٹیلی گراف لائن کی تعمیر 1856ء میں ہوئی جس پر جنگ کریمیا کے خاتمے کا اعلان کیا گیا۔ [88]

استنبول میں 1881ء میں ٹیلیفون کا ایک نیا نظام ابھرنا شروع ہوا اور 1909ء میں استنبول میں پہلا دستی ٹیلیفون ایکسچینج چلنے کے بعد، ڈاک اور ٹیلی گراف کی "وزارت ڈاک، ٹیلی گراف اور ٹیلیفون" کی وزارت بن گئی۔ [87][89] جی ایس ایم سیلولر نیٹ ورک 1994ء میں ترکی پہنچا جہاں استنبول اس کی خدمت حاصل کرنے والے پہلے شہروں میں شامل ہے۔ [90] موجودہ دور میں نجی کمپنیوں کے ذریعہ موبائل اور لینڈ لائن سروس مہیا کی جاتی ہے کیونکہ "ترک ٹیلی کام" 1995ء میں "وزارت ڈاک، ٹیلی گراف اور ٹیلیفون" الگ ہو گئی اور 2005ء میں اس کی نجکاری کر دی گئی۔ [87][90] ڈاک سروسز اب بھی اسی دائرہ کار میں ہیں تاہم اس اس کا نام "پوسٹ اور ٹیلی گراف آرگنائزیشن" ہے۔ [87]

صحت[ترمیم]

استنبول میں ایک ہسپتال

2000ء میں استنبول میں 137 اسپتال تھے جن میں سے 100 نجی تھے۔ [91] ترک شہری سرکاری سطح پر چلائے جانے والے اسپتالوں میں امدادی صحت کی دیکھ بھال کے حقدار ہیں۔ [63] چونکہ سرکاری اسپتالوں میں بھیڑ ہوتی ہے یا زیادہ وقت لگتا ہے اس لیے نجی اسپتال ان لوگوں کے لئے افضل ہیں جو ان کی استطاعت رکھتے ہیں۔ پچھلی دہائی کے دوران ان کے پھیلاؤ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، چونکہ 2005ء سے 2009ء کے درمیان نجی اسپتالوں میں علاج کروانے والے مریضوں کی شرح 6 فیصد سے بڑھ کر 23 فیصد ہو گئی ہے۔ [63][92] ان میں سے بہت سے نجی اسپتالوں کے ساتھ ساتھ کچھ سرکاری اسپتال ہائی ٹیک آلات سے لیس ہیں۔ [93] صحت کی دیکھ بھال کے اعلی معیار خاص طور پر نجی اسپتالوں میں، ترکی میں طبی سیاحت میں حالیہ اضافے میں مدد ملی ہے (2007ء اور 2008ء کے درمیان 40 فیصد اضافے کے ساتھ)۔ [94] طبی سیاحوں میں لیزر سے آنکھوں سرجری خاص طور پر عام ہے، کیونکہ ترکی اس طریقہ کار میں مہارت کے لئے جانا جاتا ہے۔ [95]

نقل و حمل[ترمیم]

بری[ترمیم]

استنبول ترکی کا سب سے بڑا شہر اور تجارتی مرکز ہے۔ یہ ترکی کی شاہراہوں سے ملک کے دیگر علاقوں سے منسلک ہے۔ موٹر وے او-1 شہر کے گرد رنگ روڈ بناتی ہے۔ یورپی روٹ ای 80 ترکی کو یورپ کے دیگر ملکوں سے منسلک کرتی ہے۔ [96]

سڑکیں / شاہراہیں[ترمیم]

استنبول کی بنیادی موٹر وے (اوتویول) او-1، او-2، او-3 اور او-4 ہیں۔ او-1 شہر کی اندرونی رنگ روڈ جبکہ او-2 فاتح سلطان محمد پل سے ہوتے ہوئے بیرونی رنگ روڈ بناتی ہے۔ او-2 مغرب میں ادرنہ سے ملتی ہے جبکہ او-4 مشرق میں شہر کو انقرہ سے ملاتی ہے۔ او-2، او-3 اور او-4 یورپی روٹ ای 80 کا حصہ بھی ہیں۔ [96][97]

پل[ترمیم]

استنبول ایک بین براعظمی شہر ہے اور آبنائے باسفورس شہر کو ایشیائی اور پورپی حصوں میں تقسیم کرتی ہے۔ یہ بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے استعمال ہونے والی دنیا کی سب سے تنگ آبنائے ہے جو بحیرہ اسود کو بحیرہ مرمرہ سے ملاتی ہے۔ بری نقل و حمل کے لیے آبنائے پر پل بنائے گئے ہیں۔ اسی طرح شاخ زریں آبنائے باسفورس کی ایک قدرتی خلیج ہے جو شہر کے یورپی حصے کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے ایک قدرتی بندرگاہ بناتی ہے۔ آبنائے باسفورس کی طرح شاخ زریں پر بھی بری نقل حمل کے لیے پل موجود ہیں۔ استنبول کی بری نقل و حمل میں یہ پل انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔

باسفورس پل[ترمیم]

باسفورس پل استنبول، ترکی میں آبنائے باسفورس پر قائم ایک پل ہے۔ یہ شہر کے یورپی علاقے اورتاکوئے اور ایشیائی حصے بےلربئی کو ملاتا ہے اور باسفورس پر قائم ہونے والا پہلا پل ہے۔ یہ پل 1510 میٹر طویل ہے جبکہ اس کی عرصے کا عرض 39 میٹر ہے۔ اس کے دونوں برجوں کے درمیان میں فاصلہ 1074 میٹر ہے اور سڑک کی سطح سے بلندی 105 میٹر ہے۔ یہ سطح سمندر سے 64 میٹر بلند ہے اور 1973ء میں تکمیل کے بعد دنیا کا چوتھا سب سے بڑا سسپنشن پل بن گیا تاہم یہ ریاستہائے متحدہ امریکا سے باہر دنیا کا سب سے بڑا سسپنشن پل ہے۔

آبنائے باسفورس پر پل کی تعمیر کا فیصلہ پہلی بار 1957ء میں عدنان میندریس کے دور حکومت میں کیا گیا۔ اس کے نقشے کے لیے برطانیہ کے ادارے فری مین فاکس اینڈ پارٹنرز کے ساتھ 1968ء میں معاہدے پر دستخط کیے گئے۔ پل کا نقشہ معروف برطانوی ماہر تعمیرات سر گلبرٹ رابرٹس نے تیار کیا۔ تعمیر کا آغاز فروری 1970ء میں ہوا جس میں اُس وقت کے صدر جودت سونے اور وزیر اعظم سلیمان ڈیمرل نے بھی شرکت کی۔ تعمیراتی کام ترک ادارے انکا انسات و صناعی نے انجام دیا۔ اس کام میں برطانیہ اور جرمنی کے دو ادارے میں شامل تھے۔ منصوبے پر 35 مہندسین اور 400 افراد نے کام کیا۔ پل کی تعمیر جمہوریہ ترکی کے قیام کی 50 ویں سالگرہ کے صرف ایک روز بعد 30 اکتوبر 1973ء کو مکمل ہوئی۔ اس کا افتتاح صدر فہری کوروترک اور وزیر اعظم نعیم تولو نے کیا۔ باسفورس پل کی تعمیر پر 200 ملین امریکی ڈالر کی لاگت آئی۔

فاتح سلطان محمد پل[ترمیم]

فاتح سلطان محمد پل استنبول، ترکی میں آبنائے باسفورس پر واقع ایک پل ہے۔ یہ پل پندرہویں صدی کے عثمانی سلطان محمد ثانی المعروف محمد فاتح سے موسوم ہے جنہوں نے 1453ء میں استنبول فتح کیا تھا۔ یہ پل استنبول کے یورپی علاقے حصارشتو اور ایشیائی علاقے کاواجک کے درمیان میں واقع ہے۔ یہ پل 1510 میٹر طویل ہے اور اس کے عرشے کا عرض 39 میٹر ہے۔ برجوں کے درمیان میں فاصلہ 1090 میٹر ہے اور سڑک کی سطح سے اس کی بلندی 105 میٹر ہے۔ یہ پل سطح سمندر سے 64 میٹر بلند ہے۔ فاتح پل کو 1988ء میں اپنی تکمیل کے بعد دنیا کے چھٹے طویل ترین سسپنشن پل کا اعزاز ملا۔

تین جاپانی، ایک اطالوی اور ایک ترک ادارے کے مشترکہ بین الاقوامی منصوبے سے اس پل کی تعمیرات کا کام انجام دیا۔ اس کا نقشہ فری مین فاکس اینڈ پارٹنرز نے بنایا۔ پل 3 جولائی 1988ء کو مکمل ہوا اور اس کا افتتاح اس وقت کے ترک وزیر اعظم ترغت اوزال نے کیا جو اپنی گاڑی کے ذریعے اس پل کو پار کرنے والے پہلے شخص بھی تھے۔ پل پر 130 ملین امریکی ڈالر کی لآگت آئی۔

یاووز سلطان سلیم پل[ترمیم]
یاووز سلطان سلیم پل

یاووز سلطان سلیم پل آبنائے باسفورس پر ریل اور گاڑیوں کی نقل و حمل کے لیے استنبول، ترکی میں ایک پل ہے جو کہ پہلے سے موجود دو پلوں کے شمال میں واقع ہے۔ ابتدا میں اس کا نام تیسرا باسفورس پل تھا، پہلا پل باسفورس پل اور دوسرا فاتح سلطان محمد پل تھا تاہم بعد میں اس کا نام تبدیل کر دیا گیا۔ یہ آبنائے باسفورس کے بحیرہ اسود میں داخلے کے قریب ہے۔ یورپی طرف یہ سارییر میں غریبچے اور ایشیائی طرف میں یہ بیکوز میں پویرازکوئے کے مقام پر ہے۔ [98]

یوریشیا سرنگ[ترمیم]

یوریشیا سرنگ استنبول، ترکی میں ایک زمین دوز سرنگ ہے جو آبنائے باسفورس کے نیچے بنائی گئی ہے۔ سرنگ کا باضابطہ افتتاح 20 دسمبر 2016ء کو ہوا [99][100][101] اور 22 دسمبر 2016ء کو اسے ٹریفک کے لئے کھولا گیا۔ 5.4 کلومیٹر (3.4 ملی میٹر) دو منزلہ سرنگ استنبول کے یورپی حصے قوم قاپی کو ایشیائی حصے قاضی کوئے سے جوڑتی ہے [102] کل راستہ 14.6 کلومیٹر (9.1 میل) ہے جس میں سرنگ تک جانے والی سڑکیں بھی شامل ہیں۔ [103] یہ سمندری فرش کے نیچے باسفورس کو 106 میٹر کی زیادہ سے زیادہ گہرائی میں پار کرتا ہے۔ [104][105][106] دونوں براعظموں کے مابین سفر میں 5 منٹ لگتے ہیں۔ [101][103][105][107]

غلطہ پل[ترمیم]

غلطہ پل شاخ زریں، استنبول، ترکی میں واقع ایک پُل ہے۔ جو زمانۂ قدیم سے مختلف صورتوں میں اس کھاڑی پر مختلف صورتوں میں موجود رہا ہے اور آج جو پل اس مقام پر قائم ہے وہ پانچواں پل ہے۔ غلطہ پل خصوصاً انیسویں صدی کے اواخر سے ترک ادب، تھیٹر، شاعری اور ناولوں کا حصہ بنتا رہا ہے۔ شاخ زریں پر قائم قدیم ترین پل کے شواہد چھٹی صدی عیسوی میں ملتے ہیں جب جسٹینین اعظم نے شہر کے مغربی کنارے پر تھیوڈیسیائی دیواروں کے قریب ایک پل تعمیر کیا تھا۔ 1453ء میں فتح قسطنطنیہ کے موقع پر ترکوں نے کشتیوں سے ایک متحرک پل قائم کیا تاکہ افواج کو شاخ زریں کے دوسرے کنارے پر پہنچایا جا سکے۔

سلطان بایزید ثانی کے عہد میں 1502ء میں موجودہ مقام پر ایک پل کی تعمیر کا منصوبہ بنایا گیا اور اس امر کے لیے معروف اطالوی مصور لیونارڈو ڈا ونچی نے 240 میٹر طویل اور 24 میٹر عریض پل کا نقشہ پیش کیا۔ جو تعمیر کی صورت میں اپنے وقت کا دنیا کا سب سے طویل پل ہوتا۔ اور ایک اطالوی مصور مائیکل اینجلو کو بھی پل کی تعمیر کے لیے نقشہ بنانے کے لیے مدعو کیا گیا تھا لیکن انہوں نے یہ پیشکش ٹھکرادی اور اس طرح انیسویں صدی تک شاخ زریں پر پل کی تعمیر کا خیال شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔

اتاترک پل[ترمیم]

اتاترک پل جسے آنکاپانی پل بھی کہا جاتا ہے استنبول، ترکی میں شاخ زریں پر ایک ہائی وے پل ہے۔ یہ جمہوریہ ترکی کے بانی اور پہلے صدر مصطفٰی کمال اتاترک کے نام پر ہے۔

شاخ زریں میٹرو پل[ترمیم]

شاخ زریں میٹرو پل استنبول، ترکی میں استنبول میٹرو کی ایم2 لائن کے لیے شاخ زریں پر ایک پل ہے۔ یہ استنبول کے یورپی حصے میں اضلاع بےاوغلو اور فاتح کو آپس میں ملاتا ہے۔ یہ غلطہ پل اور اتاترک پل کے درمیان میں اتاترک پل سے تقریباْ 200 میٹر (660 فٹ) مشرق میں واقع ہے۔ [105][108][109] یہ شاخ زریں پر چوتھا پل ہے۔ [109][110] اس کا افتتاح 15 فروری 2014ء کو ہوا۔ [103]

خلیج پل[ترمیم]

خلیج پل شاخ زریں (ترکی: Haliç خلیج) پر استنبول، ترکی میں ہائی وے پل ہے۔ یہ جنوب مغرب میں ایوان سرائے کو شمال مغرب میں ہاسکوئے سے ملاتا ہے۔ یہ 1971ء اور 1974ء کے درمیان میں تعمیر کیا گیا۔ پل کی لمبائی 995 میٹر (3،264 فٹ)، چوڑائی 32 میٹر (105 فٹ)اور سطح سمندر سے بلندی 22 میٹر (72 فٹ) ہے۔

بحری[ترمیم]

استنبول میں بحری کے کیے دو بندرگاہیں موجود ہیں۔ حیدر پاشا بندرگاہ ایک عمومی کارگو بندرگاہ ہے جو حیدر پاشا، استنبول، ترکی میں واقع ہے جبکہ دوسری استنبول بندرگاہ استنبول، ترکی کے ضلع بےاوغلو کے محلے قرہ کوئے میں واقع یک مسافر بندرگاہ ہے۔

فیری بوٹ[ترمیم]

آبنائے باسفورس پر ایک فیری بوٹ

فیری بوٹس کی 15 لائنیں استنبول میں خدمت فراہم کر رہی ہیں جو آبنائے باسفورس اور بحیرہ مرمرہ کی 27 بندرگاہوں پر خدمات فراہم کرتی ہیں۔

بحری بس[ترمیم]

16 اپریل 1987ء کو بلدیہ استنبول نے تیزرفتار سمندری نقل و حمل کی فراہمی کے لئے ایک کمپنی قائم کی۔ پہلی دس بحری بسیں ناروے سے خریدی گئیں جس سے استنبول کی سمندری نقل و حمل کو جدید بنا دیا گیا۔ آج کمپنی آئی ڈی او کے 29 ٹرمینلز میں 28 بحری بسوں کا بیڑا خدمات انجام دے رہا ہے، جس میں چھ تیز کار فیری بھی شامل ہیں۔

فضائی[ترمیم]

استنبول ساری دنیا کے سیاحوں کے لیے ایک مقبول مقام ہے اور زیادہ تر سیاح فضائی راستے سے استنبول آتے ہیں۔ اس کے علاوہ سامان اور تجارت کے لیے بھی فضائی راستہ مقبول ہے خاص طور پر جب وقتی طور پر شہر ریل کے نظام سے منسلک نہیں۔

استنبول ہوائی اڈا[ترمیم]

استنبول ہوائی اڈا

استنبول ہوائی اڈا [111] استنبول، ترکی کا بنیادی بین الاقوامی ہوائی اڈا ہے۔ یہ ضلع ارناوتکوئے شہر کے یورپی حصے میں واقع ہے۔ تمام شیڈول تجارتی مسافر پروازیں 6 اپریل، 2019ء کو استنبول اتاترک ہوائی اڈا سے استنبول ہوائی اڈے پر منتقل کردی گئیں۔ [112]

استنبول اتاترک ہوائی اڈا[ترمیم]

اتاترک ہوائی اڈا

استنبول اتاترک ہوائی اڈا استنبول، ترکی کا اہم بین الاقوامی ہوائی اڈا ہے۔ یہ ترکی کا سب سے بڑا ہوائی اڈا اور ترکش ایئر لائنز کا صدر دفتر بھی ہے۔

استنبول صبیحہ گوکچن بین الاقوامی ہوائی اڈا[ترمیم]

صبیحہ گوکچن ہوائی اڈا

استنبول صبیحہ گوکچن بین الاقوامی ہوائی اڈا ترکی کے سب سے بڑے شہر استنبول کے دو بین الاقوامی ہوائی اڈوں میں سے ایک ہے۔ یہ شہر کے وسط سے 32 کلومیٹر (20 میل) جنوب مشرق میں واقع ہے۔ صبیحہ گوکچن ترکی کی پہلی خاتون ہوا باز تھیں۔ وہ دنیا کی پہلی خاتون ہوا باز تھیں جنہوں نے کسی جنگ میں حصہ لیا۔ وہ ترکی کے پہلے صدر مصطفٰی کمال اتاترک کے گود لیے گئے آٹھ بچوں میں سے ایک تھیں۔

استنبول ہزارفن ایئرفیلڈ[ترمیم]

استنبول ہزارفن ایئرفیلڈ استنبول، ترکی کے ضلع چاتالجا میں ایک نجی ملکیت کا ہوائی اڈا ہے۔

استنبول سماندرا فوجی ایئر بیس[ترمیم]

استنبول سماندرا فوجی ایئر بیس استنبول، ترکی کے ضلع کارتال میں ایک فوجی ہوائی اڈا ہے۔

ریل[ترمیم]

سلطنت عثمانیہ کے دور سے ہی ترکی میں ریل کا اعلیٰ نظام موجود تھا۔ بغداد ریلوے برلن کو اس وقت کے سلطنت عثمانیہ کے شہر بغداد سے مربوط کرنے کے لئے 1903ء سے 1940ء کے درمیان میں تعمیر کی گئی۔ اس کے راستے جرمن خلیج فارس میں ایک بندرگاہ قائم کرنا چاہتے تھے۔ یہ جدید دور کے ممالک ترکی، سوریہ اور عراق سے گزرتی تھی اور اس کی لمبائی 1،600 کلومیٹر (1000 میل) تھی۔ حیدر پاشا ریلوے اسٹیشن استنبول میں ایک ریلوے اسٹیشن ہے۔ یہ بغداد ریلوے اور حجاز ریلوے کا ایک اسٹیشن تھا۔ حجاز ریلوے دمشق سے مدینہ تک جاتی تھی۔ اصل منصوبہ میں لائن کو مکہ تک جانا تھا لیکن پہلی جنگ عظیم کے شروع ہونے کی وجہ سے یہ مدینہ منورہ سے آگے نہ جا سکی۔ یہ عثمانی ریلوے نیٹ ورک کا ایک حصہ تھی جس کا مقصد استنبول سے دمشق کی لائن کو آگے تک پھیلانا تھا۔ منصوبہ کا مقصد سلطنت عثمانیہ سے حجاج کرام کو سفری سہولت فراہم کرنا تھا۔ تاہم بغداد ریلوے اور حجاز ریلوے دونوں اب غیر فعال ہیں۔ [113][114][115] استنبول سے بین الاقوامی ریل سروس کا آغاز 1889ء میں ہوا جب بخارسٹ اور استنبول کے سیرکیجی ریلوے اسٹیشن مابین ایک ریلوے لائن بچھائی گئی۔ جو بالآخر پیرس سے اورینٹ ایکسپریس کا مشرقی ٹرمنس کے نام سے مشہور ہوا۔ [116] نئے اسٹیشنوں نے دونوں حیدر پاشا ریلوے اسٹیشن اور سیرکیجی ریلوے اسٹیشن کی جگہ لی ہے اور شہر کے غیر مربعط ریلوے نیٹ ورک کو ملایا ہے امید کی جارہی ہے مرمرائی منصوبے کی تکمیل کے بعد ریلوے خدمات بحال ہوں گی تاہم ابھی استنبول بین شہر ریل سروس کے بغیر ہے۔ [117]

ترک ریاستی ریلوے[ترمیم]

ترک ریاستی ریلوے مخفف ٹی سی ڈی ڈی حکومتی ملکیت کی قومی ریلوے کمپنی ہے جو ترکی میں ریلوے کے بنیادی ڈھانچے کی ملکیت اور دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ نئی لائنوں کی منصوبہ بندی اور تعمیر کی بھی ذمہ دار ہے۔ ترکی میں ریلوے کو قومیائے کے عمل کے طور پر 4 جون 1929ء کو ٹی سی ڈی ڈی تشکیل دی گئی۔ [118] ترکی کی ریاستی ریلوے ترکی میں تمام عوامی ریلوے کی مالک اور ان کی دیکھ بھال کرتی ہے۔ اس میں ریلوے اسٹیشن ، بندرگاہیں ، پل اور سرنگیں ، یارڈ اور دیکھ بحال کی سہولیات شامل ہیں۔ 2016ء میںء ٹی سی ڈی ڈی کے زیر انتظام 12،532 کلومیٹر (7،787 میل) ریلوے کا ایک فعال نیٹ ورک تھا جو اسے دنیا کا بائیسواں سب سے بڑا ریلوے نظام بناتا ہے۔ انقرہ اور ترکی کے دیگر مقامات کو خدمت عام طور پر ترک ریاستی ریلوے کے ذریعہ پیش کی جاتی ہے لیکن مرمرائی اور انقرہ-استنبول تیز رفتار لائن کی تعمیر نے اس اسٹیشن کو 2012ء میں بند کرنے پر مجبور کر دیا۔ [117]

مرمرائی[ترمیم]

مرمرائی استنبول، ترکی میں 76.6 کلومیٹر (47.6 میل) لمبی بین براعظمی مسافر ریل ہے۔

استنبول میٹرو[ترمیم]

استنبول میٹرو استنبول، ترکی میں عاجلانہ نقل و حمل ایک ریلوے نیٹ ورک ہے۔ یہ میٹرو استنبول کے زیر انتظام ہے۔ میٹرو کا سب سے قدیم سیکشن ایم ون لائن ہے جو 1989 میں کھولی تھی، اب اس میں 89 اسٹیشن شامل ہیں اور 64 مزید زیر تعمیر ہیں۔ [119][120]

لائن روٹ افتتاح لمبائی اسٹیشن نوٹس[121]
Istanbul M1 Line Symbol.png
ینی قاپی ↔ اتاترک ایرپورٹ / کیرازلی 1989[122] 26.1 کلومیٹر[122] 23[122] 0.7 کلومیٹر ینی قاپی کو توسیع افتتاح 9 نومبر 2014.[123] اوقات 06:00 صبح تا 00.00 آدھی رات
Istanbul M2 Line Symbol.png
ینی قاپی ↔ حاجی عثمان 2000[124] 23.5 کلومیٹر[124] 16[124] جنوبی توسیع (3.5 کلومیٹر ینی قاپی تک بڑھاو، مع 3 اسٹیشن) تکمیل فروری 2014. اوقات 06:15 صبح تا 00.00 آدھی رات
Istanbul M3 Line Symbol.png
کیرازلی ↔ میٹروکینٹ–اولیمپیات 2013[125] 15.9 کلومیٹر[125] 11[125] ایک جنوبی توسیع (9.0 کلومیٹر باقر کوئے کو، مع 7 اسٹیشن) زیر تعمیر۔ اوقات 06:00 صبح تا 00.00 آدھی رات
Istanbul M4 Line Symbol.png
قاضی کوئے ↔ تاوشان تپہ 2012[126] 26.5 کلومیٹر[126] 19[126] ایک توسیع 7.4 کلومیٹر استنبول صبیحہ گوکچن بین الاقوامی ہوائی اڈا کو مع 4 مزید اسٹیشن زیر تعمیر ہیں۔ اوقات 06:00 صبح تا 00.00 آدھی رات
Istanbul M5 Line Symbol.png
اسکودار ↔ چکمہ کوئے 2017[127] 20 کلومیٹر[127] 16[127] افتتاح 15 دسمبر 2017. اوقات 06:00 صبح تا 00.00 آدھی رات وقت از اسکودار تا چکمہ کوئے 27 منٹ ہے۔
Istanbul M6 Line Symbol.png
لیوینٹ↔ بوغازچی یونیورسٹی/حصار اوستو 2015[128] 3.3 کلومیٹر[128] 4[128] منی میٹرو دراصل ایک ہلکی میٹرو لائن ہے۔
کل: 115.3 کلومیٹر[119] 89[119]

ٹرام[ترمیم]

استنبول یاد ماضی ٹراموے استنبول، ترکی میں دو ثقافتی ورثہ ٹرام کے راستے ہیں، اس کا بنیادی مقصد شہر کے قدیم ثقافتی ورثے کو اجاگر کرنا ہے۔ جدید استنبول ٹرام استنبول کے یورپی حصے ٹرام کا ایک جدید نظام ہے۔ پہلا سیکشن "ٹی 1" 1992ء میں کھولا گیا اس کے بعد "ٹی 2" کا افتتاح 2006ء میں ہوا۔ "ٹی 4" 2007ء میں کھولا گیا۔ [129][130]

بس نظام[ترمیم]

بس کے بیڑے میں کل 4،012 مختلف انوع کی بسیں موجود ہیں۔ [131][132] 2012ء میں روزانہ سواریوں کی تعداد 3،621،908 تھی، جو شہر کی کل یومیہ نقل و حمل کا 30٪ کی نمائندگی کرتی ہے۔ [133][134]

میٹروبس[ترمیم]

میٹروبس استنبول، ترکی میں 50 کلومیٹر (31.1 میل) کا بس ریپڈ ٹرانزٹ راستہ ہے جس کے 45 اسٹیشن ہیں۔ اوجیلار کو استنبول یونیورسٹی سے ملانے والے پہلے حصے کی تعمیر کا آغاز 2005ء میں ہوا۔ بس وے کا افتتاح 17 ستمبر 2007ء کو ہوا۔

ٹریفک سے فضائی آلودگی[ترمیم]

ترکی میں فضائی آلودگی استنبول میں کاروں، بسوں اور ٹیکسیوں کی وجہ سے شدید ہے جس کی وجہ سے اکثر شہر کو اسموگ [135] کا سامنا ہوتا ہے، یہ کم اخراج زون والے یوروپی شہروں میں سے ایک ہے۔ 2019ء میں شہر کی فضائی کوالٹی ایک سطح پر رہی ہے اور ٹریفک کے اوقات کے دوران میں صحتمند لوگوں کے دل اور پھیپھڑوں کو متاثر کیا۔ [136]

جڑواں شہر[ترمیم]

استنبول[137] کے جڑواں شہر مندرجہ ذیل ہیں۔

مشاہیر[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "YETKİ ALANI". Istanbul Buyuksehir Belediyesi. اخذ شدہ بتاریخ 4 فروری 2020. 
  2. İstanbul Province = 5,460.85 km²
    Land area = 5,343.22 km²
    Lake/Dam = 117.63 km²
    Europe (25 districts) = 3,474.35 km²
    Asia (14 districts) = 1,868.87 km²
    Urban (36 districts) = 2,576.85 کلومیٹر² [Metro (39 اضلاع) – (Çatalca+Silivri+Şile)]
  3. ^ ا ب "The Results of Address Based Population Registration System (2019)". Turkish Statistical Institute. 31 دسمبر 2019. اخذ شدہ بتاریخ 4 فروری 2020. 
  4. "Gross Domestic Product by Provinces 2018". Turkstat.gov.tr. 
  5. "Turkey (GDP-Nominal)". Turkstat.gov.tr. 
  6. According to the Turkstat.gov.tr:
    -> US$ / TL = 4.72 (2018)
    -> Turkey = 3,724.388 billion TL (GDP Nominal)
    -> İstanbul = 1,155.254 billion TL (GDP Nominal)
    -> İstanbul = 76,769 TL (GDP Nominal per capita)
  7. "Sub-national HDI – Area Database – Global Data Lab". hdi.globaldatalab.org. 
  8. Wells، John C. (2008). Longman Pronunciation Dictionary (ایڈیشن 3rd). Longman. ISBN 978-1-4058-8118-0. 
  9. Upton، Clive؛ Kretzschmar, Jr.، William A. (2017). The Routledge Dictionary of Pronunciation for Current English (ایڈیشن 2nd). Routledge. صفحہ 704. ISBN 978-1-138-12566-7. 
  10. WCTR Society; Unʼyu Seisaku Kenkyū Kikō 2004، صفحہ۔ 281
  11. Isaac 1986، صفحہ۔ 218
  12. سانچہ:ODB
  13. Masters & Ágoston 2009، صفحات۔ 114–15
  14. Dumper & Stanley 2007، صفحہ۔ 320
  15. Turan 2010، صفحہ۔ 224
  16. "Population and Demographic Structure". Istanbul 2010: European Capital of Culture. Istanbul Metropolitan Municipality. 2008. اخذ شدہ بتاریخ 27 مارچ 2012. 
  17. "London Retains Crown in 2015 MasterCard Global Destinations Cities Index". MasterCard Social Newsroom. 
  18. "The World According to GaWC 2010". Globalization and World Cities (GaWC) Study Group and Network. Loughborough University. اخذ شدہ بتاریخ 8 مئی 2012. 
  19. OECD Territorial Reviews: Istanbul, Turkey. Policy Briefs. The Organisation for Economic Co-operation and Development. مارچ 2008. ISBN 978-92-64-04383-1. 
  20. "IOC selects three cities as Candidates for the 2020 Olympic Games". The International Olympic Committee. 24 مئی 2012. اخذ شدہ بتاریخ 18 جون 2012. 
  21. Room 2006، صفحہ۔ 177
  22. "Resmi İstatistikler (İl ve İlçelerimize Ait İstatistiki Veriler)" [Official Statistics (Statistical Data of Provinces and Districts) – Istanbul] (بزبان التركية). ترکی ریاستی موسمیاتی خدمت. 22 اپریل 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 22 اپریل 2018. 
  23. ^ ا ب "Istanbul, Turkey – Climate data". Weather Atlas. اخذ شدہ بتاریخ 29 مارچ 2017. 
  24. "The Yearly Measurements by Kirecburnu Station Between 1990–1999" (PDF). 
  25. "The Yearly Measurements by Bahcekoy Station Between 1990–1999" (PDF). 
  26. "Büyükşehir Belediyesi Kanunu" [Metropolitan Municipal Law]. Türkiye Büyük Millet Meclisi (بزبان التركية). 10 جولائی 2004. اخذ شدہ بتاریخ 30 نومبر 2010. Bu Kanunun yürürlüğe girdiği tarihte; büyükşehir belediye sınırları، İstanbul ve Kocaeli ilinde, il mülkî sınırıdır. (On the date this law goes in effect, the metropolitan city boundaries, in the provinces of İstanbul and Kocaeli, are those of the province.) 
  27. Göktürk, Soysal & Türeli 2010، صفحات۔ 130–31
  28. Göktürk, Soysal & Türeli 2010، صفحات۔ 133–34
  29. Göktürk, Soysal & Türeli 2010، صفحہ۔ 146
  30. Göktürk, Soysal & Türeli 2010، صفحہ۔ 165
  31. Nikitin، Nikolaj (6 مارچ 2012). "Golden Age for Turkish Cinema". Credit-Suisse. 17 دسمبر 2012 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 6 جولائی 2012. 
  32. "History". The Istanbul Foundation for Culture and Arts. 03 مئی 2011 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 13 اپریل 2012. 
  33. Hensel، Michael; Sungurogl، Defne; Ertaş، Hülya، eds (جنوری–فروری 2010). "Turkey at the Threshold". Architectural Design (London) 80 (1). doi:ڈی او ئي. آئی ایس بی این 978-0-470-74319-5. 
  34. Köse 2009، صفحات۔ 91–92
  35. Taşan-Kok 2004، صفحہ۔ 166
  36. Schäfers، Marlene (26 جولائی 2008). "Managing the Difficult Balance Between Tourism and Authenticity". Hürriyet Daily News. اخذ شدہ بتاریخ 29 اپریل 2012. 
  37. Schillinger، Liesl (8 جولائی 2011). "A Turkish Idyll Lost in Time". The New York Times. اخذ شدہ بتاریخ 29 اپریل 2012. 
  38. Freely 2011، صفحہ۔ 429
  39. Keyder 1999، صفحہ۔ 34
  40. Kugel، Seth (17 جولائی 2011). "The $100 Istanbul Weekend". The New York Times. اخذ شدہ بتاریخ 29 اپریل 2012. 
  41. Knieling & Othengrafen 2009، صفحات۔ 228–34
  42. Tomasetti، Kathryn؛ Rutherford، Tristan (23 مارچ 2012). "A Big Night Out in Istanbul – And a Big Breakfast the Morning After". The Guardian. اخذ شدہ بتاریخ 29 اپریل 2012. 
  43. "Turkey – List of Champions". www.rsssf.com. RSSSF. اخذ شدہ بتاریخ 31 مئی 2018. 
  44. "Galatasaray: The Lions of the Bosporus". FIFA. اخذ شدہ بتاریخ 10 اپریل 2012. 
  45. "UEFA Champions League 2007/08 – History – Fenerbahçe". The Union of European Football Associations. 8 اکتوبر 2011. اخذ شدہ بتاریخ 10 اپریل 2012. 
  46. "Puan Durumu: 2015–2016 Sezonu 30. Hafta" [League Table: 2015–16 Season, Round 30] (بزبان التركية). Turkish Basketball Super League. اخذ شدہ بتاریخ 6 جون 2016. 
  47. "2010 FIBA World Championship Istanbul: Arenas". FIBA. 3 جون 2013 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 10 اپریل 2012. 
  48. Wilson، Stephen (2 ستمبر 2011). "2020 Olympics: Six cities lodge bids for the games". The Christian Science Monitor. اخذ شدہ بتاریخ 29 جون 2012. 
  49. Richards، Giles (22 اپریل 2011). "Turkey Grand Prix Heads for the Scrapyard Over $26m Price Tag". The Guardian. اخذ شدہ بتاریخ 3 جولائی 2012. 
  50. "2012 Yarış Programı ve Genel Yarış Talimatı" [2012 Race Schedule and General Sailing Instructions] (بزبان التركية). The Istanbul Sailing Club. 2012. 4 جون 2012 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 3 جولائی 2012. 
  51. Turkish Daily News (23 اگست 2008). "Sailing Week Starts in Istanbul". Hürriyet Daily News. اخذ شدہ بتاریخ 3 جولائی 2012. 
  52. "About Us". The Turkish Offshore Racing Club. 31 March 2012. 05 ستمبر 2013 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 03 جولا‎ئی 2012. 
  53. "Tekfen Construction – ISTANBUL ATATÜRK OLYMPIC STADIUM". Tekfeninsaat.com. اخذ شدہ بتاریخ 07 اگست 2016. 
  54. "Türk Telekom Stadyumu". اخذ شدہ بتاریخ 14 مارچ 2018. 
  55. http://www.tff.org/Default.aspx?pageID=394&stadID=5018
  56. "Archived copy". 08 مئی 2011 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 23 مئی 2011. 
  57. Ülker Stadium selected for 2009 UEFA Cup Final
  58. "Uefa Cup gets new name in revamp". bbc.co.uk. 2008-09-26. اخذ شدہ بتاریخ 26 ستمبر 2008. 
  59. "UEFA Cup to become UEFA Europa League". uefa.com. ستمبر 29, 2008 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 26 ستمبر 2008. 
  60. "Beşiktaş and Vodafone sign 15-year sponsorship contract worth $145 mln". hurriyetdailynews.com. 20 اگست 2013. 
  61. http://www.hurriyetdailynews.com/Default.aspx?pageID=238&nid=52919
  62. Brummett 2000، صفحات۔ 11, 35, 385–86
  63. ^ ا ب پ "Country Profile: Turkey" (PDF). The Library of Congress Federal Research Division. اگست 2008. اخذ شدہ بتاریخ 8 مئی 2012. 
  64. "Tiraj". Medyatava (بزبان التركية). 25 دسمبر 2016. اخذ شدہ بتاریخ 25 دسمبر 2016. 
  65. "08 Ocak 2018 – 14 Ocak 2018 haftası Tiraj Tablosu". اخذ شدہ بتاریخ 27 مارچ 2018. 
  66. "History". Istanbul University. 11 اگست 2011. 13 نومبر 2012 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 20 اگست 2012. 
  67. World Oldest Universities آرکائیو شدہ جنوری 15, 2008 بذریعہ وے بیک مشین
  68. "History". Istanbul Technical University. 18 جون 2012 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 4 جولائی 2012. 
  69. "University Profile: Istanbul Technical University, Turkey". Board of European Students of Technology. 16 نومبر 2011 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 30 مارچ 2012. 
  70. "State Universities". The Turkish Council of Higher Education. 30 نومبر 2011 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 30 مارچ 2012. 
  71. "Home". Mimar Sinan Fine Arts University. اخذ شدہ بتاریخ 09 جولا‎ئی 2019. Meclis-i Mebusan Caddesi No: 24Fındıklı 34427 İstanbul 
  72. "Profile: Recep Tayyip Erdogan". BBC News. 18 جولائی 2007. اخذ شدہ بتاریخ 29 اگست 2008. 
  73. "Erdoğan'ın diploması aslında hangi okuldan" [Which school is Erdoğan's diploma from]. oda TV (بزبان التركية). 25 اپریل 2014. اخذ شدہ بتاریخ 3 دسمبر 2014. 
  74. Cengiz Aldemir (28 اپریل 2014). "Erdoğan'ın diploması Meclis'te" [Erdoğan's diploma in parliament]. Sözcü (بزبان التركية). اخذ شدہ بتاریخ 3 دسمبر 2014. 
  75. "Rektörlük, diplomasını yayınladı; Halaçoğlu yeni belge gösterdi" [Rectorate issues diploma: Halaçoğlu shown the new document]. Zaman (بزبان التركية). 25 اپریل 2014. 26 اپریل 2014 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 3 دسمبر 2014. 
  76. ^ ا ب Doğramacı، İhsan (اگست 2005). "Private Versus Public Universities: The Turkish Experience" (DOC). 18th International Conference on Higher Education. Ankara. اخذ شدہ بتاریخ 30 مارچ 2012. 
  77. "History of RC". Robert College. 2012. 22 اکتوبر 2012 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 15 اکتوبر 2012. 
  78. "Private Universities". The Turkish Council of Higher Education. 30 نومبر 2011 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 30 مارچ 2012. 
  79. "Baraja nazır en akıllı kent". Hürriyet. 4 مئی 2013. اخذ شدہ بتاریخ 5 مئی 2013. 
  80. "Aecom expands role on $2.2bn Istanbul scheme". everythingturkish.com.au. EverythingTurkish. 5 ستمبر 2012. 21 ستمبر 2016 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 31 اگست 2016. 
  81. ^ ا ب "Istanbul and the History of Water in Istanbul". Istanbul Water and Sewerage Administration. 29 ستمبر 2007 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 11 مارچ 2006. 
  82. Tigrek & Kibaroğlu 2011، صفحات۔ 33–34
  83. "İSKİ Administration". Istanbul Water and Sewerage Administration. 29 ستمبر 2007 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 31 مارچ 2012. 
  84. ^ ا ب پ "Silahtarağa Power Plant". SantralIstanbul. 30 جولائی 2012 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 31 مارچ 2012. 
  85. ^ ا ب "Short History of Electrical Energy in Turkey". Turkish Electricity Transmission Company. 2001. 28 نومبر 2009 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 5 جولائی 2012. 
  86. ^ ا ب پ ت "About Us | Brief History". The Post and Telegraph Organization. 7 اگست 2011 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 31 مارچ 2012. 
  87. Masters & Ágoston 2009، صفحہ۔ 557
  88. Shaw & Shaw 1977، صفحہ۔ 230
  89. ^ ا ب "About Türk Telekom: History". Türk Telekom. اخذ شدہ بتاریخ 31 مارچ 2012. 
  90. Sanal 2011، صفحہ۔ 85
  91. Oxford Business Group 2009، صفحہ۔ 197
  92. Oxford Business Group 2009، صفحہ۔ 198
  93. Connell 2010، صفحات۔ 52–53
  94. Papathanassis 2011، صفحہ۔ 63
  95. ^ ا ب گوگل (1 اپریل 2012). "Istanbul Overview" (Map). گوگل نقشہ جات. گوگل. اخذ شدہ بتاریخ 1 اپریل 2012.  Check date values in: |access-date=, |date= (معاونت)
  96. Efe & Cürebal 2011، صفحہ۔ 720
  97. "Turkey Unveils Route for Istanbul's Third Bridge". Anatolian Agency. 29 اپریل 2010. 19 جون 2010 میں اصل سے آرکائیو شدہ. 
  98. "Istanbul's $1.3BN Eurasia Tunnel prepares to open". Anadolu Agency. 19 دسمبر 2016. 
  99. "Eurasia Tunnel opens, linking Europe and Asia in 15 minutes". Daily Sabah. 20 دسمبر 2016. 
  100. ^ ا ب "Eurasia Tunnel Project" (PDF). Unicredit – Yapı Merkezi, SK EC Joint Venture. 20 جنوری 2016 میں اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 13 اپریل 2014. 
  101. While, for both directions, the mouth openings of the tunnel on the Asian side are situated in the Haydarpaşa quarter, the access roads begin or end in the adjacent Koşuyolu quarter.
  102. ^ ا ب پ "Çift katlı Avrasya Tüneli'nde kazı işlemi devam ediyor". حریت (ترکی اخبار) (بزبان التركية). 2013-09-03. اخذ شدہ بتاریخ 13 اپریل 2014. 
  103. "Avrasya tüneli'nin temeli atıldı". Zaman (بزبان التركية). 2011-02-26. 03 نومبر 2013 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 13 اپریل 2014. 
  104. ^ ا ب پ ""Haliç Metro Geçiş Köprüsü" açılışa hazır". Hürriyet (بزبان التركية). 2014-01-17. اخذ شدہ بتاریخ 03 فروری 2014. 
  105. "Environmental and Social Impact Assessment for the Eurasia Tunnel Project Istanbul, Turkey" (PDF). ERM Group, Germany and UK & ELC-Group, Istanbul. جنوری 2011. صفحہ 42. اخذ شدہ بتاریخ 15 اپریل 2014. 
  106. "Haliç metro Hattı" (بزبان التركية). İstanbul Büyükşehir Belediyesi. 13 دسمبر 2013 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 03 فروری 2014. 
  107. ^ ا ب "Low profile". Bridge Design & Engineering. 2013-05-14. 22 فروری 2014 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 03 فروری 2014. 
  108. "Haliç Metro Crossing Bridge". halicmetrokoprusu.com. 26 جنوری 2014 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 04 فروری 2014. 
  109. "Yeni havalimanının adı belli oldu (İstanbul Havalimanı tabelaları asıldı)". NTV. 
  110. "Last flight leaves Ataturk as Istanbul switches airports". Reuters. 
  111. "Haydarpasa Train Station". Emporis. اخذ شدہ بتاریخ 3 اپریل 2012. 
  112. Head، Jonathan (16 فروری 2010). "Iraq – Turkey railway link re-opens". BBC. اخذ شدہ بتاریخ 3 اپریل 2012. 
  113. "Transports to Middle-Eastern Countries". Turkish National Railways. 15 اپریل 2012 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 3 اپریل 2012. 
  114. Harter 2005، صفحہ۔ 251
  115. ^ ا ب Akay، Latifa (5 فروری 2012). "2012 Sees End of Line for Haydarpaşa Station". Today's Zaman. 16 ستمبر 2013 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 3 اپریل 2012. 
  116. TCDD History – Trains and Railways of Turkey
  117. ^ ا ب پ "Raylı Sistemler" [Rail Systems] (بزبان انگریزی). Metro İstanbul. 2019. اخذ شدہ بتاریخ 05 اکتوبر 2019. 
  118. https://www.trtworld.com/turkey/where-is-the-istanbul-subway-system-headed-21715
  119. "Istanbul Railway Network Map (complete, including under construction sections)". Istanbul-ulasim.com.tr. İstanbul Ulaşim A.Ş. 2014. اخذ شدہ بتاریخ 13 اپریل 2014. 
  120. ^ ا ب پ "M1 Yenikapı – Atatürk Havalimanı / Kirazlı Metro Hattı" [M1 Yenikapı – Atatürk Airport / Kirazlı Metro Line]. Istanbul-ulasim.com.tr (بزبان التركية). İstanbul Ulaşim A.Ş. 04 مارچ 2016 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 14 اپریل 2015. 
  121. "PM Davutoğlu inaugurates İstanbul's Aksaray-Yenikapı metro". Today's Zaman. 9 نومبر 2014. اخذ شدہ بتاریخ 9 نومبر 2014. 
  122. ^ ا ب پ "M2 Yenikapı- Hacıosman Metro Hattı" [M2 Yenikapı- Hacıosman Metro Line]. Istanbul-ulasim.com.tr (بزبان التركية). İstanbul Ulaşım. 18 اکتوبر 2015 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 14 اپریل 2015. 
  123. ^ ا ب پ "M3 Başakşehir Metro Hattı" [M3 Başakşehir Metro Line]. Istanbul-ulasim.com.tr (بزبان التركية). İstanbul Ulaşım. اخذ شدہ بتاریخ 14 اپریل 2015. 
  124. ^ ا ب پ "M4 Kadıköy-Kartal Metro Hattı" [M4 Kadikoy-Kartal Metro Line]. Istanbul-ulasim.com.tr (بزبان التركية). İstanbul Ulaşım. 23 اپریل 2015 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 14 اپریل 2015. 
  125. ^ ا ب پ "M5 Üsküdar-Çekmeköy Metro Hattı" [M5 Üsküdar – Çekmeköy Metro Line]. www.metro.istanbul (بزبان التركية). Metro Istanbul. اخذ شدہ بتاریخ 21 اکتوبر 2018. 
  126. ^ ا ب پ "M6 Levent – Boğaziçi Üniversitesi/Hisarüstü Metro Hattı" [M6 Levent – Boğaziçi Üniversitesi/Hisarüstü Metro Line]. Istanbul-ulasim.com.tr (بزبان التركية). İstanbul Ulaşım. اخذ شدہ بتاریخ 20 اپریل 2015. 
  127. "T1 Kabataş-Bağcılar Tramvay Hattı" [T1 Kabataş-Bağcılar Tramway Line]. Istanbul-ulasim.com.tr (بزبان التركية). İstanbul Ulaşim A.Ş. 18 اپریل 2014 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 17 اپریل 2014. 
  128. "T4 Topkapı Habibler Tramvay Hattı" [T4 Topkapi-Habib Tramway Line]. Istanbul-ulasim.com.tr (بزبان التركية). İstanbul Ulaşim A.Ş. اخذ شدہ بتاریخ 17 اپریل 2014. 
  129. http://www.iett.gov.tr/tr/main/pages/otobus-filosu/85
  130. http://www.otobus.istanbul/toplu-ta%C5%9Fima/otobues-filosu.aspx
  131. http://www.iett.gov.tr/tr/main/pages/istanbulda-toplu-tasima/95
  132. "Archived copy". 15 جون 2012 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 30 جون 2012. 
  133. "Fed up with Istanbul traffic". اخذ شدہ بتاریخ 28 ستمبر 2018. 
  134. "Understanding Vehicular Pollution – AQI, Harmful Effects and How to Reduce It?". News18. 1 مارچ 2019. 
  135. "Sister Cities of Istanbul". greatistanbul.com. Istanbul. اخذ شدہ بتاریخ 17 جنوری 2020. 

کتابیات[ترمیم]


  1. TÜİK's address-based calculation from December, 2017.
  2. "December 2013 address-based calculation of the Turkish Statistical Institute as presented by citypopulation.de".