عثمان اول
| عثمان اول | |
|---|---|
| قرہ، غازی، ابو المُلوک، فخرُ الدین | |
| عثمانی سلطان (1) | |
| 687ھ - 726ھ/1299ء - 1324ء | |
| پیشرو | منصب کا قیام ہوا |
| ولی عہد | اورخان بن عُثمان |
| جانشین | اورخان اول |
| زوجہ | رابعہ بالا خاتون، مال خاتون |
| نسل | ملاحظہ کریں |
| خاندان | آلِ عُثمان |
| والد | ارطُغرُل بن سلیمان شاہ |
| والدہ | حلیمہ خاتون |
| پیدائش | عُثمان بن ارطغرل بن سُلیمان شاہ 656ھ / 1258ء سُکود، اناطولیہ، |
| وفات | 726ھ/1326ء سكود، اناطولیہ، |
| تدفین | تُرْبَہ عثمان غازی، بورصہ، |
| مذہب | سُنّی مُسَلْمان |
| پیشہ | ترک قایی قبیلے کے سردار اور سلطنتِ سلاجقہ روم کے سرحدی علاقوں کے امیر |
اَبُو المُلوک غازی سُلطان فخرُ الدین قرہعُثمان خان بن ارطُغرُل بن سُلیمان شاہ قایوی تُرکمانی (عُثْمانی تُرْکی میں: أبو المُلوك غازى سُلطان عُثمان خان بن ارطُغرُل)، جو اختصارًا ”عُثْمان اوَّل“ کے نام سے معروف ہیں اور عثمان بیگ (ترکی زبان: Osman Bey) اور قرہعثمان (ترکی زبان: Kara Osman) کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں؛ وہ ترک قایی قبیلے کے سردار، سلاجقہ روم کی جانب سے اناطولیہ میں ایک سرحدی بیگ لِک (امارت) کے عامل اور عثمانی خاندان کے بانی تھے۔ انھوں نے ایسی سلطنت کی بنیاد رکھی جس نے بلقان، اناطولیہ، مشرق عربی اور مغربِ ادنیٰ و مغربِ اوسط کے وسیع علاقوں پر تقریباً چھ سو برس تک حکومت کی یہاں تک کہ 1922ء میں جمہوریۂ ترکیہ کے قیام کے اعلان کے ساتھ اس کا خاتمہ ہوا۔
عثمان اوّل 656ھ (1258ء) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد امیر ارطغرل غازی تھے (جو رومی سلجوقیوں کی جانب سے بحیرہ مرمرہ کے ساحلی علاقوں میں ایک سرحدی امارت کے عامل تھے) جبکہ ان کی والدہ حلیمہ خاتون تھیں۔ اتفاقاً ان کی ولادت اسی دن کے قریب ہوئی جب منگولوں نے عباسی دار الخلافت بغداد پر حملہ کیا، جس امر نے بعد کے عثمانی مورخین کو ان دونوں واقعات کو ڈرامائی انداز میں باہم مربوط کرنے کی ترغیب دی۔ عثمان نے اپنے والد کے انتقال کے بعد امارت اور قبیلے کی قیادت سنبھالی اور رومی سلجوقی سلطنت کے ساتھ وفاداری برقرار رکھی حالانکہ یہ سلطنت اس وقت شدید سیاسی و عسکری بحرانوں سے دوچار تھی۔ سنہ 1295ء میں عثمان نے رومیوں کے سرحدی علاقوں پر حملے شروع کیے، عباسی خلیفہ اور سلجوقی سلطان کے نام پر متعدد قلعے فتح کیے اور اپنے قبیلے کو بحیرہ مرمرہ اور بحیرہ اسود کے ساحل تک پھیلا دیا۔ جب منگولوں نے رومی سلجوقوں پر قبضہ کر کے ان کی سلطنت کا خاتمہ کر دیا تو عثمان نے خود کو سلجوقوں کی اطاعت سے آزاد قرار دیتے ہوئے ایک خود مختار ریاست کا اعلان کیا، جو بعد ازاں ”عثمانیہ“ کے نام سے مشہور ہوئی۔[1]عثمان نے نئی ریاست پر بطور سلطان حکومت کی یہاں تک کہ 1326ء میں وفات پائی۔ اسی برس ان کے بیٹے اورخان غازی نے شہر بورصہ فتح کیا، جہاں عثمان کا انتقال ہوا تھا اور انھیں وہیں سپردِ خاک کیا گیا، جس کے باعث بورصہ عثمانیوں کے لیے ایک نہایت اہم علامتی اور تاریخی مقام بن گیا۔[1] ان کے خلفا اور جانشینوں نے ان کی عسکری مہمات کو سترھویں صدی عیسوی کے وسط تک جاری رکھا اور اس نسبتاً چھوٹی امارت (جس کی بنیاد عثمان نے رکھی تھی) کو ایک عظیم عالمی سلطنت میں تبدیل کر دیا۔[لط 1]
اگرچہ عثمان اوّل کے ساتھ ”سلطان“ یا ”پادشاہ“ کا لقب منسلک کیا جاتا ہے، تاہم وہ اپنے عہد میں عملی طور پر سلطان کے رسمی لقب کے حامل نہیں تھے بلکہ یہ لقب بعد ازاں انھیں بطور بانیِ سلطنت عثمانیہ تفویض کیا گیا۔ عثمان اوّل سادگی، زہد اور درویشی طرزِ زندگی کے لیے معروف تھے؛ وہ عیش و عشرت سے اجتناب کرتے، درويش اور صوفی روایات پر عمل پیرا رہتے اور قائی قبیلے کے بزرگ کی مانند سادہ زندگی بسر کرتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ قدیم تُرک روایات کو بھی برقرار رکھتے تھے، جو اسلام سے قبل کے زمانے سے چلی آ رہی تھیں اور جنھیں ترکوں نے اس لیے ترک نہیں کیا تھا کہ وہ شریعت کے اصولوں سے متصادم نہیں تھیں۔[2]
تاریخی پس منظر
[ترمیم]زیادہ تر تحقیقات اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ عثمانی ترکوں کا نسب ترک غُزّی (اوغوزی) قبیلے قائی سے ملتا ہے، جسے تیرھویں صدی عیسوی کے اوائل میں منگولوں کی پیش قدمی نے مغرب کی جانب ہجرت پر مجبور کیا۔ یہ قبیلہ اناطولیہ پہنچ کر سلاجقہ روم کی سلطنت کے زیرِ نگیں ایک علاقے میں آباد ہوا۔[3] جبکہ بعض دیگر تحقیقات کے مطابق قائی قبیلہ اس تاریخ سے تقریباً دو صدی قبل بنو سلجوق کے ساتھ ما ورا النہر سے خراسان منتقل ہوا، قریب 1040ء میں مرو کے نواح میں آباد رہا پھر 1071ء کے بعد دوبارہ مشرقی اناطولیہ کی جانب ہجرت کر گیا۔[4] یہ قبیلہ اور دیگر خانہ بدوش ترک قبائل سلطان علاء الدین کیقباد ثانی کی فوج میں شامل ہوئے اور ان کے ساتھ مل کر اپنی ریاست پر ہونے والے خوارزمی، منگولی اور رومی حملوں کا مقابلہ کرتے رہے۔ قائی قبیلہ اپنے سردار ارطغرل بن سلیمان شاہ کی قیادت میں ہمیشہ سلجوقی لشکروں کے اگلے حصے میں رہتا تھا اور متعدد مواقع پر اسی کے سبب فتح حاصل ہوتی رہی۔ اس بنا پر سلطان علاء الدین نے انھیں ”مقدمة السلطان“ یعنی سلطان کے لشکر کے اگلے دستے کا لقب دیا اور ارطغرل کو انقرہ کے قریب زرخیز اراضی عطا کیں۔[5][6] اس کے بعد سلطان اپنی جنگوں میں انھین اور ان کے آدمیوں پر انحصار کرتے رہے اور ہر فتح کے بعد مزید زمینیں اور کثیر دولت عطا کرتے رہے۔[5] ارطغرل سلجوقیوں کے حلیف رہے یہاں تک کہ سلجوقی سلطان نے انھیں اناطولیہ کے انتہائی شمال مغرب میں رومی سرحدوں کے قریب ”سُکود“ کے نام سے معروف علاقے میں اِسکی شہر کے اطراف زمین عطا کی جہاں قبیلے نے ایک نئی زندگی کا آغاز کیا۔[7] غالباً سلجوقی سلطان نے رومیوں کے ساتھ سرحدوں کی حفاظت کے لیے اس قبیلے کی عسکری مہارت اور اعلٰی جنگی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کا ارادہ کیا، اسی لیے یہ زمینیں عطا کی گئیں تاکہ رومی حملوں کو روکا جا سکے اور مسلمانوں کے علاقوں کا دفاع کیا جا سکے۔[لط 2] ارطغرل کو اوج بیگ یعنی ”محافظِ سرحد“ کا لقب ملا، جو سلجوقی حکومت کی اس روایت کے مطابق تھا کہ جس قبیلے کا سردار نمایاں ہو اور اس کے زیرِ اثر کئی چھوٹے قبائل آ جائیں، اسے محافظِ سرحد کا منصب دیا جاتا تھا۔ تاہم ارطغرل کے سیاسی عزائم دور رس تھے؛ وہ نہ اس محدود علاقے پر قانع رہے، نہ محض اس لقب اور سرحدی نگرانی کی ذمہ داری پر اکتفا کیا بلکہ انھوں نے سلطان کے نام پر اناطولیہ میں رومی املاک پر حملے شروع کیے، متعدد دیہات اور قصبے فتح کیے اور تقریباً نصف صدی تک ایک سرحدی صوبے کے امیر کی حیثیت سے اپنی قلمرو کو وسعت دیتے رہے۔ ارطغرل کا انتقال 680ھ مطابق 1281ء میں ہوا اور ان کی عمر قریب نوّے برس تھی۔[8]
آغازِ زندگی
[ترمیم]ولادت اور نسب
[ترمیم]
عثمان اول کی پیدائش کی صحیح تاریخ یقینی طور پر معلوم نہیں ہے تاہم بعض مصادر کے مطابق وہ 8 صفر 656ھ مطابق 13 فروری 1258ء کو پیدا ہوئے۔ یہ وہی دن تھا جب منگولوں نے شہر بغداد پر حملہ کیا اور اس کے باشندوں کو قتل کر کے عمارتوں اور تہذیب کو تباہ کیا۔[9] ان کی ابتدائی زندگی کے بارے میں زیادہ معلومات دستیاب نہیں ہیں تاہم موجود چند مصادر سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی ولادت سُکود شہر میں ہوئی، جسے ان کے والد نے اپنی امارت کا مرکز بنایا تھا۔[لط 3][لط 4] معلومات کی کمی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس دور کے ابتدائی مصادر عثمان اول کی وفات کے تقریباً سو سال بعد لکھے گئے تھے۔ ان میں ”داستانِ تواریخِ ملوک آل عثمان“ مصنفہ عثمانی شاعر و درباری حکیم احمد بن خضر تاج الدین المعروف بہ لقب ”احمدی“ (1334ء–1413ء)، ”بهجة التواریخ“ مصنفہ مورخ شکر اللہ (متوفی 1464ء) اور ”تاریخ آل عثمان“ مصنفہ مؤرخ درویش احمد عاشق پاشا زادہ (1400ء–1484ء) شامل ہیں۔ یہ موجودہ نسخے اصل نسخوں کی جگہ ہیں جو بعد میں کئی مرتبہ دوبارہ نقل کیے گئے، لہٰذا ممکن ہے کہ کچھ معلومات حذف ہو چکی ہوں تاہم بعض مؤرخین کے مطابق کچھ مواد اپنی اصل صورت میں محفوظ رہا ہے۔[لط 5] حقیقت یہ ہے کہ عثمانی، یورپی اور رومی مصادر بھی عثمان اول کی اصل اور ان کے قبیلے کے نسب کے بارے میں مکمل طور پر قابلِ اعتماد نہیں ہیں۔ جو اصل عثمانی دستاویزات باقی ہیں، وہ سب قسطنطنیہ کی فتح کے بعد کی ہیں۔ رومی مؤرخین بھی اپنی تحریروں میں عثمانیوں کی اصل کا کوئی واضح ذکر نہیں کرتے۔ ابتدائی یورپی مؤرخین نے اس ترک قوم اور اس کی اصل میں اس وقت دلچسپی لینا شروع کی جب یہ یورپ کے لیے سنجیدہ خطرہ بننے لگی یعنی عثمان اول کی وفات کے تقریباً سو سال بعد یا اس سے بھی زیادہ عرصے کے بعد۔[10]

امام احمد بن سلیمان بن کمال پاشا حنفی (متوفی 940ھ / 1534ء) اپنی تصنیف ”تأریخ آل عثمان“ میں لکھتے ہیں کہ عثمان اول ارطغرل کے سب سے چھوٹے لڑکے تھے اور ان کی ولادت سُکود میں ہوئی جو ان کے والد کے زیرِ قیادت تھا۔ تاہم ان کے مطابق ولادت 652ھ میں ہوئی اور یہ ماہِ تمام کی رات تھی۔ ان کی والدہ حلیمہ خاتون تھیں (بعض مصادر میں انھیں دادی قرار دیا گیا ہے)۔ ابن کمال کے مطابق عثمان اول نے نوجوانی میں ہجرت کرنے والے ترک قبائل کی تربیت حاصل کی، کم عمری میں کشتی، تلوار بازی، گھڑ سواری، تیر اندازی اور باز بازی سیکھی نیز مذہبی تعلیم بھی حاصل کی۔ وہ صوفی مشائخ خصوصاً استاد شیخ اِدہ بالی سے متاثر رہے، جن کا ان کی شخصیت اور طرزِ زندگی پر نمایاں اثر پڑا۔
نسب کے اعتبار سے سب سے زیادہ معروف اور رائج کلاسیکی روایت کے مطابق عثمان ’سلیمان شاہ‘ کے پوتے تھے جو دریائے فرات کو گھوڑے پر عبور کرتے ہوئے ڈوب کر ہلاک ہو گئے تھے۔ تاہم ترک مؤرخ یلماز اوزتونا کے نزدیک اس سلسلے میں موجود روایات کمزور ہیں اور ان کے مطابق عثمان کے دادا اور ارطغرل کے والد کا نام ’گندز الپ‘ تھا۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ غالب امکان یہ ہے کہ ’سلیمان شاہ‘ کا نام دراصل اناطولیہ کے فاتح سلیمان بن قتلمش کی یادگار کے طور پر ہے، جو خاندانِ سلاجقہ روم کے بانی تھے اور اس نام سے نسبت قائم کرنے کا دعویٰ شاید عثمانیوں اور سلاجقہ کے درمیان تعلق جوڑنے کی خواہش سے پیدا ہوا، خاص طور پر اس لیے کہ بنو عثمان تاریخ کے منظر نامے پر اس دعوے کے ساتھ ابھرے کہ وہ بنو سلاجقہ کے جائز جانشین ہیں۔ اس بنا پر عثمان کا مفروضہ نسبی شجرہ یوں بنتا ہے: عثمان بن ارطغرل بن گندز الپ بن قایا الپ بن گوک الپ بن صارقوق الپ بن قائی الپ،[4] یہ سب قائی قبیلے کے بیگ (امرا) شمار ہوتے ہیں جن کا عثمانی مصادر میں ذکر ملتا ہے۔ رسمی عثمانی نسب نامے کے مطابق عثمان اول کو ’متہ‘ کی نسل سے مانا جاتا ہے، جنھیں ترک ’اوغوز خان‘ (متوفی: 174 ق م) کے نام سے یاد کرتے ہیں اور وہ اس شجرۂ نسب کی چھیالیسویں پشت میں شمار ہوتے ہیں۔[4] دوسری جانب بعض عثمانی مصادر عثمان کے ایک زیادہ بعید نسب کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور اوغوز ترک کی اصل کے بارے میں ایسی معلومات پیش کرتے ہیں جو حقیقت سے زیادہ اساطیر سے قریب معلوم ہوتی ہیں۔ ان روایات کے مطابق ترک یافث بن نوح کی نسل سے ہیں اور عثمان کا شجرۂ نسب 52 یا اس سے زیادہ اسلاف پر مشتمل ہے، جو بالآخر جنابِ نوح تک جا پہنچتا ہے۔ اس نسب نامے میں گوک الپ، اوغوز خان (جنھیں گوک الپ کا والد قرار دیا جاتا ہے) اور غُز ترکمان شامل ہیں، جن میں سلاجقہ بھی تھے جنھوں نے فارس اور اناطولیہ پر حکومت کی اور جنگِ ملازگرد میں رومیوں کو زبردست شکست دی۔[10] اس طرح یلماز اوزتونا کے اس نظریے کی بعض جھلکیاں نمایاں ہوتی ہیں کہ بنو عثمان ہمیشہ اپنے آپ کو سلاجقہ سے جوڑنے اور ان کے وارث کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ ادھر مؤرخ ابن ایاس اپنی تصنیف ’بدائع الزهور في وقائع الدهور‘ میں عثمان کے ایک بالکل مختلف نسب کا ذکر کرتے ہیں، جسے جدید مؤرخین مسترد کرتے ہیں۔ اس روایت کے مطابق عثمان 658ھ میں پیدا ہوئے اور ان کی اصل حجاز کے عربوں سے تھی نیز وہ مدینہ منورہ کے قریب وادی صفرا میں مقیم تھے۔ جب مدینہ میں قحط پڑا تو عثمان وہاں سے نکل کر بنی قرمان کی امارت کی طرف روانہ ہوئے، قونیہ میں قیام کیا، وہاں کے لوگوں کا لباس اختیار کیا اور ان کے رسم و رواج اپنا لیے۔ بعد ازاں وہ امیر علاء الدین علی بن خلیل قرمانی کی خدمت میں داخل ہوئے، جہاں ان کا اثر و رسوخ بڑھا، وہ ترکوں کے طریقے پر چلنے لگے، ترکی زبان بولنے لگے اور ان کے بہت سے پیروکار اور مددگار بن گئے۔[11]
نام
[ترمیم]تمام تاریخی مصادر اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ارطغرل نے اپنے سب سے چھوٹے بیٹے کا نام ’عثمان‘ تیسرے خلیفۂ راشد عثمان بن عفان کے نام پر تبرکاً رکھا جو رسولِ محمد کے قریبی صحابہ میں سے تھے اور اہلِ سنت کے عقیدے کے مطابق عشرۂ مبشرہ میں شامل ہیں۔ تاہم بازنطینی تحقیقات کے ایک معاصر ماہر مؤرخ ڈاکٹر لاوند قایا پینار کا کہنا ہے کہ آلِ عثمان کے بانی کا اصل نام درحقیقت ’اتومان‘ یا ’اتمان‘ تھا۔ وہ اس دعوے کی بنیاد رومی مؤرخ جرجس پاخیمرس (1242ء – تقریباً 1310ء) کی تحریروں پر رکھتے ہیں، جو عثمان اول کے عہد کے معاصر تھے۔ پاخیمرس نے عثمان کے نام کو ایسے حروف سے نقل نہیں کیا جو عربی حرفِ ’ع‘ سے مماثلت رکھتے ہوں بلکہ اسے لاطینی میں ”Ottomanus“ اور یونانی میں ”Асман“ کے طور پر درج کیا۔ ان کی ایک اور دلیل یہ ہے کہ عثمان کے والد، بھائیوں اور چچاؤں میں سے کسی کا بھی نام عربی یا اسلامی نہیں تھا تو پھر وہ اپنے تمام رشتہ داروں میں اس اعتبار سے منفرد کیوں ہوتے۔[لط 6] اس دعوے کا جواب یہ ہے کہ اگر عثمان کے دادا واقعی ”سلیمان شاہ“ کہلاتے تھے تو یہ ظاہر کرتا ہے کہ قائی قبیلے میں عربی اور اسلامی نام عام تھے اور عثمان کے زمانے سے پہلے بھی رائج تھے۔ عثمان نے اپنے بچوں کے لیے عربی اسلامی اور ترک نام دونوں رکھے؛ ان کا بڑا بیٹا ”علاء الدین“ اور چھوٹا ”اورخان“ کہلایا جو ظاہر کرتا ہے کہ وہ پیدائشی مسلمان ہیں۔ یلماز اوزتونا مزید بتاتے ہیں کہ کچھ لوگ جو دعویٰ کرتے ہیں کہ ارطغرل اور عثمان اول ہی پہلے افراد تھے جنھوں نے اسلام قبول کیا یہ ایک من گھڑت کہانی ہے جو شاید خاندان کی عظمت بڑھانے کے لیے تخلیق کی گئی۔[4]
عُثْمانِی اِمارَت کا قِیام
[ترمیم]

عثمان نے اپنے والد ارطغرل کی وفات کے بعد ان کی جگہ سنبھالی اور غالباً چوبیس برس کی عمر میں نوخیز امارت اور قائی قبیلے کی قیادت سنبھالی۔[12] متعدد مؤرخین کے اتفاق کے مطابق عثمان کا اقتدار سنبھالنا پُر امن نہ تھا بلکہ کہا جاتا ہے کہ انھوں نے اپنے رشتہ داروں کے ساتھ اقتدار کی کشمکش میں حصہ لیا تاکہ انھیں راستے سے ہٹا سکیں۔ اس معرکے کی نوعیت، فریقین اور اس کی تفاصیل مؤرخین کے درمیان اختلاف کا موضوع رہی ہیں اور اس بارے میں مختلف تاریخی روایات ملتی ہیں۔ اکثر روایات کے مطابق اس کشمکش کا ایک فریق عثمان کے چچا ”دوندار غازی“ تھے، جنھیں دیگر قبائل عثمان کے مقابلے میں امارت کا زیادہ حق دار سمجھتے تھے جبکہ جنگجوؤں اور گھڑ سواروں نے عثمان کی حمایت کی۔ یہ بات یقینی طور پر معلوم نہیں کہ یہ لڑائی کس طرح شروع ہوئی، کیسے آگے بڑھی یا اس نے کیسی صورت اختیار کی تاہم روایت ہے کہ عثمان اس میں غالب آئے اور اپنے معمر چچا کو تیر مار کر ہلاک کر دیا۔
اس کے برعکس سید محمد بن ابراہیم خراسانی المعروف ”حاجی بکتاش ولی“ اپنی تصنیف ”ولایت نامه“ میں ایک دوسری روایت نقل کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ارطغرل کی وفات کے بعد قبیلے کی امارت عثمان کے چھوٹے چچا گندز الپ کے حصے میں آئی۔ اس دوران عثمان اور قبیلے کے سواروں نے سُکود کے نواحی رومی علاقوں جیسے یار حصار، بیلہ جک، اینہ گول اور ازنیق پر حملے منظم کرنا شروع کر دیے۔ ان حملوں کے جواب میں بورصہ کے بازنطینی عامل تکفور نے سلجوقی سلطان علاء الدین کیقباد ثالث کو شکایت بھیجی۔ سلطان نے گندز الپ کو حکم دیا کہ وہ اپنے بھتیجے عثمان کو اس کے سامنے پیش کریں، چنانچہ عثمان کو گرفتار کر کے قونیہ بھیج دیا گیا۔ اس روایت کے مطابق سلطان عثمان کی جرات، شجاعت اور دلیری سے متاثر ہوا اور انھیں حاجی بکتاش ولی کے پاس بھیج دیا جنھوں نے عثمان کا پُر تپاک استقبال کیا اور رہائی کا حکم دیتے ہوئے کہا: ”میں برسوں سے ایسے شخص کا منتظر تھا۔“[13] انھوں نے عثمان کے سر پر صوفی مشائخ کی دستار باندھی، گویا انھیں ایک روحانی تاج پہنایا اور ان کے ساتھ قونیہ سلطان کے نام ایک خط روانہ کیا جس میں عثمان کی تعریف کی گئی اور ان کی قبائلی قیادت کی توثیق کی درخواست کی گئی۔[13] سلطان نے خط پڑھنے کے بعد عثمان کو باقاعدہ طور پر ان کے والد کی امارت پر برقرار رکھا۔[لط 7] تاہم حاجی بکتاش ولی کی کتاب میں اس کے بعد عثمان اور گندز الپ کے باہمی تعلق کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔[14]
عُثْمانِی اِمارَت کے مَحَلّ وُقُوع کِی اَہْمِیَت
[ترمیم]عثمان اوّل کے عہد میں ترک عثمانیوں کی عسکری اور سیاسی حیثیت واضح طور پر متعین ہو چکی تھی جبکہ ان کی مذہبی شناخت اس سے قبل ہی دینِ اسلام کے اثر سے تشکیل پا چکی تھی جو وسط اور مغربی ایشیا کے ترک ماحول میں رائج تھا۔ تاہم جو چیز انھیں ہمسایہ اسلامی سلطنتوں سے ممتاز کرتی تھی وہ دو بڑے اسلامی مسالک کے درمیان ایک خاص توازن تھا۔ اگرچہ وہ فقہی طور پر سنی حنفی مسلک سے وابستہ تھے لیکن انھوں نے شیعہ جعفری مسلک کے بعض پہلوؤں سے بھی اثر قبول کیا کیونکہ سنی اور اثنا عشری شیعہ عقائد ترکمان قبائل میں ایک مشترکہ اسلامی رنگ اختیار کر چکے تھے خصوصاً ان قبائل میں جو وسط ایشیا سے اناطولیہ ہجرت کر کے آئے تھے اور جن میں سلاجقہ روم سر فہرست تھے جن کی خدمت میں آلِ عثمان بھی وابستہ رہے۔[10] عسکری نقطۂ نظر سے عثمان کے مرکزِ اقتدار کا محلِ وقوع ان کی کامیابی میں نہایت اہم ثابت ہوا۔ شہر سُکود بلند مقام پر واقع تھا جس کا دفاع نسبتاً آسان تھا اور ساتھ ہی یہ قسطنطنیہ سے قونیہ جانے والی مرکزی شاہراہ پر واقع تھا۔ خطے کی سیاسی تقسیم نے چھوٹی سیاسی اکائیوں کو غیر معمولی اہمیت دی جس سے اس مرکز کی قدر و قیمت میں مزید اضافہ ہوا۔[8] بازنطینی سلطنت کی سرحد سے قربت نے عثمان کو جنگ اور جہاد کی طرف متوجہ کیا تاکہ سلجوقی رومی سلطنت کے مشن کو جاری رکھتے ہوئے تمام رومی علاقوں کو فتح کر کے انھیں اسلامی اراضی اور خلافتِ عباسیہ میں شامل کیا جائے۔ بازنطینی سلطنت کی اندرونی کمزوری اور انتظامی زوال نے عثمان کو مغربی اناطولیہ میں آسانی سے وسعت دینے اور در دانیال کی آبنائے عبور کر کے جنوب مشرقی یورپ تک پہنچنے کا موقع فراہم کیا جبکہ ان کی مسلم ہمسایوں کی جانب توجہ نسبتاً کم رہی خصوصاً اس لیے کہ رومی یورپ کی جنگوں میں الجھے ہوئے تھے۔[8]

اس کے باوجود اس خطے میں رومی طاقت کی کمزوری کو حد سے زیادہ بڑھا چڑھا کر بیان نہیں کیا جا سکتا کیونکہ میخائیل ہشتم اور اندرونیقوس ثانی کے عہد (681ھ–728ھ / 1282ء–1328ء) میں رومیوں نے بتونیہ کے سرحدی علاقے کو مضبوط قلعہ بندیوں سے محفوظ کیا تھا تاکہ اسلامی حملوں کو روکا جا سکے جنھیں دریائے صقاریہ عبور کر کے ان شہروں تک پہنچنا پڑتا تھا۔ تاہم عثمانی افواج کی دریا کے ساتھ ساتھ شمال و مغرب کی جانب پیش قدمی نے ان دفاعی بند و بستوں کو غیر مؤثر بنا دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ سلجوقی سلطنت اور بازنطینی سلطنت دونوں طویل باہمی جنگوں کے باعث شدید کمزوری کا شکار ہو چکی تھیں۔ سلجوقی سلطنت منگول یلغار سے متاثر ہوئی جبکہ بازنطینی سلطنت چوتھی صلیبی جنگ کے دوران لاطینی حملے سے زخم خوردہ ہوئی۔ ان حالات نے اناطولیہ میں ایک سیاسی اور عسکری خلا پیدا کر دیا جس نے ایک نئی طاقت کے ابھرنے کی راہ ہموار کی، جو بعد میں انہی کمزور ہوتی ہوئی ریاستوں کی باقیات پر قائم ہوئی۔[15]
سیاسی اعتبار سے عثمان نے اپنی امارت کے لیے مؤثر انتظامی نظام قائم کرنے میں غیر معمولی مہارت کا مظاہرہ کیا۔ ان کے دور میں عثمانیوں نے قبائلی خانہ بدوش نظام سے نکل کر مستحکم ریاستی انتظام کی جانب نمایاں پیش رفت کی، جس نے ان کی قوت کو مضبوط کیا اور انھیں تیزی سے ایک بڑی سلطنت میں تبدیل ہونے کا موقع فراہم کیا۔ مزید برآں شمال مغربی اناطولیہ میں واقع امارت (جو عالمِ مسیحی سے متصل تھی) نے عثمانیوں کو ایک خاص سرحدی عسکری پالیسی اپنانے پر مجبور کیا۔ اناطولیہ کی تاریخ میں یہ معروف ہے کہ سرحدی علاقوں میں قائم ہونے والی امارات کو داخلی علاقوں کی نسبت زیادہ ترقی کے مواقع حاصل ہوتے تھے۔[15] عثمانی امارت کی جغرافیائی اہمیت اس بات سے بھی نمایاں ہوتی ہے کہ وہ منگولی حملوں کے مراکز اور جنوبی و جنوب مغربی اناطولیہ کی طاقتور ترکمانی امارات سے قدرے دور تھی جبکہ شاہراہِ ریشم کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے اسے نمایاں اسٹریٹجک اور معاشی فوائد حاصل تھے۔ مزید یہ کہ یہ امارت اُن رومی علاقوں کے سامنے واحد اسلامی محاذ تھی جو ابھی فتح نہیں ہوئے تھے، جس کے باعث یہاں بڑی تعداد میں ترکمان غازی، جہاد کے خواہاں مجاہدین، صوفی درویش اور منگولوں سے فرار ہو کر آنے والے کسان آ بسے، جنھوں نے اس خطے کی زرخیز زمینوں میں زرعی سرگرمیاں شروع کیں۔[16]
عُثمان کا خواب
[ترمیم]
عثمانی مصادر ایک ایسے واقعے کا ذکر کرتے ہیں جو عُثمان کے عہد کے آغاز میں پیش آیا جسے قدیم مسلم مؤرخین (خصوصًا ترک مؤرخین) نے اس کی علامتی حیثیت کے باعث بڑی اہمیت دی ہے۔[لط 8] تاہم جدید مؤرخین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ داستان دراصل سلطنتِ عثمانیہ کے ظہور اور عروج کی توجیہ اور اس کے گرد ایک روحانی فضا قائم کرنے کا ذریعہ تھی، خاص طور پر اس لیے کہ عثمان کے جانشینوں نے غیر معمولی کارنامے انجام دیے چنانچہ انھوں نے صدیوں کے انتشار کے بعد عالمِ اسلامی کو دوبارہ متحد کیا اور اس خلافت کو از سرِ نو حقیقی حیثیت دی جو بغداد میں بنی عباس کے آخری خلیفہ المستعصم باللہ کی منگولوں کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد صرف نام کی خلافت رہ گئی تھی اور مصر کی مملوک سلطنت کی سرپرستی میں قائم تھی۔ مزید یہ کہ انھوں نے وہ کارنامہ سر انجام دیا جو کسی دوسری اسلامی سلطنت کے نصیب میں نہ آیا یعنی قسطنطنیہ کی فتح اور وہاں سے مشرقی یورپ تک پیش قدمی کی۔ مزید برآں یہ قصہ حیرت انگیز طور پر سلطنتِ عثمانیہ کی آئندہ دو صدیوں کی تاریخ کے اہم واقعات کو پیشگی سموئے ہوئے دکھائی دیتا ہے۔[لط 9]
اس داستان کی تفصیل کے مطابق عثمان اپنے استاد شیخ ”اِده بالی“ کے تکیہ میں قیام کیا کرتے تھے تاکہ ان سے قربت حاصل کریں اور ان کے علم سے استفادہ کریں۔ ایک مرتبہ انھوں نے اتفاقًا شیخ کی بیٹی مال خاتون کو دیکھا، جس سے وہ دل بستہ ہو گئے اور نکاح کی خواہش ظاہر کی لیکن شیخ نے اس رشتے کی اجازت نہ دی۔ عثمان نے صبر و استقامت کا مظاہرہ کیا اور کسی اور سے شادی نہ کی یہاں تک کہ شیخ نے رضا مندی ظاہر کی جب عثمان نے انھیں ایک خواب سنایا۔ خواب میں دیکھا کہ شیخ کے سینے سے ہلال بلند ہوا، پھر بدر بن کر عثمان کے سینے میں اتر گیا اور ان کی نسل سے ایک عظیم درخت اُگا جو دنیا پر سایہ فگن ہو گیا۔ اس کے نیچے تین پہاڑ قائم تھے اور اس کے تنے سے نیل، دجلہ، فرات اور طونہ (دانوب) کے دریا جاری ہوئے۔ درخت کے پتے تلواروں اور نیزوں کی مانند تھے جنھیں ہوا قسطنطنیہ کی سمت موڑ رہی تھی۔ شاخوں کے نیچے سنہرے بالوں والے نصرانی بچے کھڑے تھے، جن کے سروں پر سفید ٹوپیاں تھیں اور وہ کلمۂ شہادت پڑھتے ہوئے سلطان سے وفاداری کا عہد دہرا رہے تھے۔ اردگرد بے شمار لوگ دریا کے کناروں اور خلیجوں کے اطراف آباد تھے، جو پیتے، کاشت کاری کرتے اور فوارے تعمیر کرتے تھے۔ وہ نسل در نسل بڑھ رہے تھے اور ان کے علاقوں میں خیر و برکت پھیل رہی تھی جبکہ بچے درخت کی چھاؤں میں کھڑے ہو کر مسلسل شعر خوانی کرتے رہتے تھے۔[5]
اس خواب سے شیخ کو مسرت ہوئی، انھوں نے اپنی بیٹی کا نکاح عثمان سے منظور کر لیا اور بشارت دی کہ ان کا خاندان دنیا پر حکمرانی کرے گا۔ پھر عثمان کو ایک عادل حکمران کی صفات بیان کرتے ہوئے نصیحت کی:
| ” | اے میرے بیٹے! اب تم امیر بن چکے ہو؛ پس اب سے غضب ہم پر ہو گا اور حِلم تم پر… خطا ہم پر ہو گی اور دل جوئی تم پر… الزام ہم پر ہو گا اور برداشت تم پر… کمزوری اور لغزش ہم پر ہو گی اور درگزر تم پر… نزاع، تصادم اور اختلاف ہم پر ہو گا اور عدل تم پر… بد گمانی، بد کلامی اور غلط تاویل ہم پر ہو گی اور معافی تم پر…
اے میرے بیٹے! اب ہم منتشر ہوں گے اور تم متحد کرو گے؛ ہم سستی کریں گے اور تم ہمت جگاؤ گے؛ صبر کرو کیونکہ پھول اپنے وقت سے پہلے نہیں کھلتا۔ اپنی رعایا کا خیال رکھو، تمھاری سلطنت ترقی کرے گی۔ تمھارا بوجھ بھاری ہے، تمھارا کام مشکل ہے اور تمھاری سلطنت ایک بال پر معلق ہے؛ تمام جہانوں کا پالنے والا خُدا تمھاری مدد فرمائے! |
“ |
بکتاشی روایت کے مطابق جس کی صحت پر قطعی فیصلہ ممکن نہیں کیونکہ یہ روایت صرف بکتاشی مصادر میں ملتی ہے، کسی مستقل مصدر سے اس کی تصدیق نہیں ہوئی اور بیشتر محققین کی جانب اسے وسیع تائید حاصل نہ ہوئی؛ عثمان کے والد کی زوجہ حاجی بکطاش ولی کے ساتھ رہتی تھیں، جو طریقت وفائیہ کے درویش اور خاص طور پر شیخ بابا الیاس خراسانی کے مرید تھے[17] جو طریقت بابائیہ کے شیخ تھے۔ جب بابا الیاس کا انتقال ہوا تو حاجی بکطاش ولی اور شیخ اِده بالی ان کے ساٹھ خلفاء میں شامل ہو گئے۔ وہ آخیہ جماعتوں کی سرپرستی کرتے تھے، جو جنگجو نوجوانوں اور صنعت و زراعت سے وابستہ افراد پر مشتمل تھیں اور عوام میں خاصا اثر رکھتی تھیں۔ چنانچہ جب عثمان نے شیخ اِده بالی کی بیٹی سے نکاح کیا تو اس رشتے کے ذریعے انھوں نے آخیہ جماعتوں پر اپنا اثر قائم کر لیا اور انھیں اپنی اطاعت میں لے آئے۔ اس دامادی کے نتیجے میں آخیہ کے مشائخ عثمانیوں کے ما تحت آ گئے اور غالب امکان ہے کہ یہی امر عثمان کے بعد ان کے فرزند اورخان کے دور میں امارتِ عثمانیہ کے قیام اور استحکام میں ایک اہم محرک بنا۔[18]
عثمان کے ابتدائی دور میں سیاسی تعلقات
[ترمیم]
عثمان کے سیاسی میدان میں ابھرنے اور انھیں ’جہاد کے رہنما‘ کے طور پر پہچانے جانے کو شیخ اِدہ بالی سے ان کے تعلق سے جوڑا جاتا ہے، جو بعد میں رشتہ داری میں بدل گیا۔ بعض مؤرخین کے نزدیک عثمان کا اس شیخ کی بیٹی سے نکاح ان کا ایک نہایت ہوشیار سیاسی قدم تھا کیونکہ یہ شیخ بابا اسحاق کے بابائی گروہ کے سربراہ تھے، وہی بابا اسحاق جنھوں نے تقریباً 1239ء میں سلاجقہ روم کے خلاف بغاوت کی تھی اور انھیں 1241ء میں گرفتار کر کے پھانسی دی گئی۔[لط 10][لط 11] عثمانیوں اور اس شیخ کے درمیان خاندانی رشتہ، عثمانیوں اور امارت گرمیان کے درمیان دشمنی کی ایک وجہ بھی سمجھا جاتا ہے کیونکہ گرمیان کے خاندان کو بابائی بغاوت کو کچلنے میں مدد دینے پر سلاجقہ نے انعام دیا تھا۔[19] عثمان نے اپنے ابتدائی دور میں ہمسایہ علاقوں سے تعلقات قائم کرنے میں غیر معمولی سیاسی سمجھ بوجھ دکھائی۔ وہ قبیلوں، نسلوں اور مذاہب کی تفریق سے بالا تر ہو کر اتحاد کرتے تھے اور مستقبل کے نتائج کو بھی مد نظر رکھتے تھے۔ انھوں نے سلاجقہ روم کی سیاسی روایت کو اپنی امارت کی ضروریات کے مطابق ڈھالا اور ترک، اسلامی اور رومی روایات کو کامیابی سے یکجا کیا۔ عثمان نے رومی شہروں اور دیہات کے حکام سے بھی تعاون کیا۔ جب ان کا قبیلہ گرمیوں میں چراگاہوں کی طرف جاتا تو اپنا سامان رومی قلعہ ”بيلہ جک“ میں محفوظ چھوڑ دیتا اور واپسی پر وہاں کے حکام کو پنیر، مکھن اور عمدہ قالین تحفے میں دیتا۔ یہ اس دور میں چرواہوں، کسانوں اور شہری آبادی کے درمیان اچھے تعلقات کی علامت تھا۔[20] عثمان اور ”کوسہ میخائل“ جو ”ہرمنکایہ“ گاؤں کے حاکم تھے، ان کی دوستی مسلمانوں اور رومیوں کے درمیان ہم آہنگی کی ایک نمایاں مثال تھی۔ اس کے برعکس عثمان کے منگولوں اور گرمیانیوں سے تعلقات دشمنانہ تھے۔ ترک عام طور پر منگولوں کے مخالف تھے اور گرمیانی غالباً اوغوز نسل سے نہیں تھے۔ عثمان کا منگول رہنما ”جغدار“ سے ٹکراؤ بھی ہوا اور ابتدائی دور میں ان گروہوں کے ساتھ جھڑپیں زیادہ شدید تھیں۔[20]
عثمان نے ’آخی‘ نوجوانوں کی جماعات کے ساتھ اتحاد قائم کیا۔ یہ منظم جماعتیں تھیں جن کے افراد ایک ہی پیشے سے وابستہ ہوتے تھے اور ان کا فرض تھا کہ انصاف قائم رکھیں، ظلم روکیں، ظالم کو حد میں رکھیں، اسلامی شریعت اور اعلٰی اخلاق کی پیروی کریں اور ضرورت پڑنے پر فوجی فرائض انجام دیں تاکہ اپنے اور مسلمانوں کے حقوق کا دفاع کر سکیں۔[21][22] اسی طرح عثمان نے ان ترکمانی قبائل سے بھی اتحاد کیا جو اناطولیہ میں آ کر آباد ہو رہے تھے۔ یہ قبائل عام طور پر سرحدی علاقوں کی اصل قوت تھے اور خاص طور پر عثمانی امارت کے لیے نہایت اہم ثابت ہوئے کیونکہ وہ شہروں میں بسنے والے ترکوں کے مقابلے میں زیادہ سر گرم اور جنگجو تھے۔ عثمان نے مندریس کی وادی اور پفلاگونیا کے علاقوں میں رہنے والے بہت سے ترکمانوں کو بھی اپنی فوج میں شامل ہونے پر آمادہ کیا۔[23] یہ ترکمان اچھے جنگجو تھے، جہاد اور فتوحات کے شوقین تھے اور اکثر کسی نہ کسی صاحبِ طریقت شیخ یا خانقاہ سے وابستہ ہوتے تھے، جہاں وہ اللہ کی راہ میں جہاد اور اسلامی شرعی اصول سیکھتے تھے۔ تاہم ان میں سے کچھ ترکمان دین سے مضبوط تعلق نہیں رکھتے تھے، لہٰذا عثمان نے علما اور درویشوں کو ذمہ داری دی کہ وہ ان کی اسلامی تربیت کریں اور ان میں نئی سر زمینوں کی فتح اور دار الاسلام کے پھیلاؤ کی اہمیت اجاگر کریں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ علما اور درویش ’اولیائے خراسان‘ کی طریقتوں کی ترویج میں سرگرم تھے۔[24] سیاسی درجہ بندی کے لحاظ سے عثمان ابتدا میں بنو شیان کے امیر (جو قسطمونی میں حکمران تھے) کے تابع تھے، اس کے بعد وہ كوتاہیہ میں گرمیان کے امیر کے ذریعے سلجوقی سلطان کے تابع ہوئے جبکہ گرمیان کا امیر خود تبريز میں ایلخان منگول کے زیرِ اثر تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دور میں سلجوقی سلطان عملی طور پر اقتدار کھو چکا تھا اور اصل اختیار ایلخان کے پاس تھا، جو اپنے مقرر کردہ گورنروں کے ذریعے اناطولیہ کے معاملات چلاتا تھا۔ سرحدی علاقوں کے امیروں (جن میں عثمان بھی شامل تھے) کو ایلخان کے مطالبے پر فوج فراہم کرنا لازم تھا۔[25] اسی مناسبت سے مساجد کے خطبات میں سب سے پہلے مصر میں مقیم عباسی خلیفہ کا نام لیا جاتا تھا، پھر تبریز میں ایلخان منگول کا، اس کے بعد قونیہ میں سلجوقی سلطان کا اور آخر میں مقامی امیر کا ذکر کیا جاتا تھا۔[25]
عُثْمانِی اِمارَت کِی تَوْسِیْع
[ترمیم]ابتدائی جنگیں اور قلعۂ قرہجہ حصار کی فتح
[ترمیم]
عثمان کو اپنی امارت مستحکم کرنے کے بعد دو محاذوں پر مقابلہ کرنا پڑا: ایک رومی محاذ اور دوسرا ترکمانی امارات کا، جو ان کی مخالفت کر رہی تھیں خصوصاً امارتِ گرمیان۔ عثمان نے سب سے پہلے رومی علاقوں کی قیمت پر اپنی امارت کو وسعت دینے کو اپنا ہدف بنایا اور اسی دور سے عثمانی امارت کی بنیادی پالیسی فتح و توسیع بن گئی جو رومی سر زمین کے خلاف جنگ اور جہاد کے تصور پر مبنی تھی۔[26] کچھ روایات کے مطابق عثمان نے رومیوں کے خلاف اپنی پہلی بڑی مہم اس شکست کا بدلہ لینے کے لیے کی جو انھیں اس سے پہلے ”ارمنی - بلی“ (یعنی ’آرمینیوں کا ٹیلہ‘) کے علاقے میں ہوئی تھی۔ یہ واقعہ موسمِ بہار میں سنہ 683ھ یا 684ھ یعنی 1284ء یا 1285ء میں پیش آیا۔ اس موقع پر بورصہ کے حاکم تکفور کی قیادت میں رومیوں نے عثمان کے لیے گھات لگا رکھی تھی۔ اگرچہ عثمان کو ایک جاسوس کے ذریعے اس گھات کی اطلاع ہو گئی تھی پھر بھی انھوں نے رومیوں سے براہِ راست مقابلہ کرنے کو ترجیح دی۔ نتیجتاً انھیں شکست کا سامنا کرنا پڑا، پسپا ہونا پڑا اور ان کے چند ساتھی مارے گئے، جن میں ان کے بھتیجے ”صاروخان بیگ خوجہ“ (جو ”صاووجی بیگ“ کے بیٹے تھے) بھی شامل تھے۔[لط 12] اس کے بعد قریب 685ھ مطابق 1286ء عثمان تین سو جنگجوؤں پر مشتمل ایک فوج کے ساتھ قلعہ ”قولاجہ حصار“ کی طرف روانہ ہوئے جو شہر ”اینہگول“ سے دو فرسخ کے فاصلے پر جبلِ ”امیرطاغ“ کے دائرے میں واقع تھا۔ انھوں نے رات کے وقت اس پر حملہ کیا اور اسے فتح کرنے میں کامیاب ہو ہو گئے، یوں ان کی امارت شمال کی سمت ازنیق جِھیل کے کنارے تک پھیل گئی۔ قولاجہ حصار میں عثمانیوں کی اس فتح نے شہر کے رومی عامل کو سخت برہم کر دیا کیونکہ وہ کسی مسلمان سرحدی امیر کی اطاعت اور تابع داری قبول کرنے پر آمادہ نہ تھا۔ چنانچہ اس نے قلعہ ”قرہجہ حصار“ کے عامل سے اتحاد کیا اور دونوں نے مسلمانوں سے جنگ کرنے اور ان سے چھینے گئے رومی علاقوں کو واپس لینے پر اتفاق کیا۔ دونوں افواج ”اِکزجہ“ (جو ”بيلہجک“ اور ”اینہگول“ کے درمیان واقع ہے) کے مقام پر آمنے سامنے ہوئیں جہاں ایک شدید معرکہ برپا ہوا۔ اس جنگ میں عثمان کے بھائی ”صاووجی بیگ“ مارے گئے لیکن نتیجتاً مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی، وہ قلعہ ”قرہجہ حصار“ میں داخل ہوئے اور رومی افواج کا قائد ”پیلاطُس“ مارا گیا۔ روایت ہے کہ عثمانیوں نے پہلی مرتبہ اس بستی کے گرجا گھر کو مسجد میں تبدیل کیا جہاں پہلا خطبہ پڑھا گئا اور وہاں شہر کے لیے پہلا قاضی اور صوباشی (حاکم) مقرر کیا گیا۔ اس شہر کی فتح کی تاریخ کے تعین میں مؤرخین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے تاہم کسی نے بھی اسے 685ھ (1286ء) سے پہلے یا 691ھ (1291ء) کے بعد قرار نہیں دیا۔ عثمان نے اپنے اس نئے شہر کو دیارِ روم کی طرف پیش قدمی کے لیے اپنا مرکز بنایا اور اپنے نام سے خطبہ دینے کا حکم دیا، جو اقتدار اور خود مختاری کی پہلی علامت تھا۔[لط 13][27]

عثمان کی یہ فتح اُس وقت تک کی ان کی سب سے عظیم کامیابی تھی۔ چنانچہ سلجوقی سلطان علاء الدین کیقباد ثالث نے سلاجقہ اور اسلام کے نام پر عثمان کی ان کامیابیوں کو سراہتے ہوئے گہری قدر دانی کا اظہار کیا اور نہیں یہ لقب عطا کیا: ”حضرت عثمان غازی مرزبان عالی جاہ عثمان شاہ“ (عثمانی ترکی زبان میں: عُثمان غازى حضرتلرى مرزبان عاليجاه عُثمان شاه)،[28] اسی طرح اس نے انھیں ”بیگ“ (عثمانی ترکی زبان: بك) کا لقب بھی دیا اور اس کے علاوہ تمام فتح شدہ اراضی کے ساتھ ساتھ اسکی شہر اور اِینونو کے شہر بھی ان کے حوالے کیے۔ سلطان نے ایک فرمان جاری کیا جس کے تحت عثمان کو ہر قسم کے محصول سے مستثنا قرار دیا گیا اور انھیں امارت اور ان کے بلند مرتبے کی علامت کے طور پر متعدد تحائف بھی بھیجے، جن میں ایک سنہری جنگی پرچم، مہتر (بڑا ڈھول)، طُوغ (اُمرا کی سر پر رکھی جانے والا نشانِ امتیاز)، پُھندنے،[25][29] سنہری تلوار، چاندی جڑا ہوا زِین اور ایک لاکھ درہم شامل تھے۔ یہ تمام تحائف سلجوقی وزیر عبد العزیز، ”قراجہ بلبان چاوش“ اور ”آق تیمور“ کے ذریعے عثمان تک پہنچائے گئے۔ فرمان میں یہ بھی شامل تھا کہ سلجوقی سلطان نے عثمان کے اس حق کو تسلیم کیا کہ ان کے زیرِ اقتدار علاقوں میں جمعہ کے خطبے میں اس کا نام لیا جائے اور انھیں اپنے نام سے سکہ جاری کرنے کی بھی اجازت دی گئی۔[30] اس طرح عثمان عملی طور پر بادشاہ بن گئے بس لقب کی کمی باقی رہ گئی۔[31] روایت ہے کہ جب عثمان کے سامنے طبل (ڈھول) بجایا گیا تو انھوں نے سلطان کے احترام میں کھڑے ہو کر تعظیم کی اور اسی حالت میں رہے یہاں تک کہ لشکر ڈھول یا نقارے بجانے سے فارغ ہو گیا۔ اسی دن سے عثمانی افواج میں یہ روایت قائم ہو گئی کہ سفر اور عیدین کے مواقع پر سلطنت کے نقارے کے بجنے کے وقت سلطانِ وقت کے احترام میں کھڑا ہوا جائے۔[32][33]
قلعۂ بيلہجک، يار حصار اور اینہگول کی فتح
[ترمیم]”قرہجہ حصار“ قلعہ کو فتح کرنے کے بعد عثمان اپنے لشکر کے ساتھ شمالی صقاریہ کی سمت روانہ ہوئے جہاں انھوں نے ”گوینوک“ اور ”ینیجہ طاراقلی“ کے قلعوں پر یلغار کی اور مال غنیمت کے ساتھ واپس لوٹے۔ اسی عرصے میں عثمانی روایات کے مطابق عثمان کو اپنے رومی دوست”کوسہ میخائل“ (جو گاؤں ’ہرمنکایہ‘ کا حاکم تھا) کی جانب سے ایک انتباہ ملی کہ ”بيلہجک“ اور ”یار حصار“ کے قلعوں کے صاحبان نے ان کے خلاف ایک خفیہ سازش تیار کی ہے جس کا مقصد یہ تھا کہ انھیں پہلے قلعے میں اپنے بیٹوں کی شادی کی دعوت دے کر گرفتار کیا جائے اور قتل کر دیا جائے۔ چنانچہ عثمان نے ایک جنگی تدبیر اختیار کی اور اپنے چالیس سواروں کو عورتوں کے لباس میں ملبوس کر کے اس شادی میں بھیجا۔ جیسے ہی یہ افراد قلعہ ’بيلہجک‘ میں داخل ہوئے انھوں نے اپنی شناخت ظاہر کر دی اور تمام مدعو افراد (بشمول دلہا دلہن) کو گرفتار کر کے قلعہ علانیہ فتح کر لیا۔ قابلِ ذکر ہے کہ اسی واقعے میں ایک عورت گرفتار ہوئی جسے بعض روایات کے مطابق تکفور کی بیٹی کہا جاتا ہے، اس کا نام ”ہولوفیرہ“ تھا جسے بعد میں ”نیلوفر خاتون“ کہا گیا[لط 14][34] اور عثمان نے اسے اپنے بیٹے اورخان کے لیے منتخب کیا۔ اورخان نے اس سے شادی کی اور اس سے مراد پیدا ہوا یوں وہ آلِ عثمان کے محلات میں داخل ہونے والی پہلی غیر ملکی خاتون بنی۔ قلعۂ بيلہجک اور یار حصار کو فتح کرنے کے بعد عثمان نے اینہگول کے حاکم کے خاتمے کا ارادہ کیا (جو اس سے قبل قراجہ حصار کے عامل کے ساتھ مل کر عثمانیوں کے خلاف متحد ہوا تھا) تاکہ اناطولیہ میں باقی ماندہ رومی امارات کے مابین کسی نئے اتحاد کو روکا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے اپنے ایک سپہ سالار ”طُورغُود الپ“ کو قلعۂ اینہگول کے محاصرے کے لیے بھیجا پھر خود بھی اس سے آ ملے اور بالآخر قلعہ فتح کر لیا۔ ایک روایت کے مطابق عثمان نے یہ قلعہ طورغود الپ کو جاگیر کے طور پر دے دیا اسی لیے بعد میں اس بستی کو ”طُورغُود“ کہا جانے لگا اور یہ نام وہاں کے پہلے مسلمان امیر کی نسبت سے رکھا گیا۔[34]
سلطنتِ سلاجقہ روم کا سقوط اور عثمانی امارت کی آزادی
[ترمیم]عثمان نے اپنی متعدد فتوحات کے بعد دو محاذوں پر توسیع کی طرف رخ کیا تاکہ وہ رومی شہروں کو الگ تھلگ کر دیں جو فتح کرنا چاہتے تھے۔ انھوں نے مشرق کی سمت سے ازنیق جانے والی شاہراہ منقطع کر دی اور مغرب کی جانب لوبادیون (اولوباط) اور اورانوس کی طرف پیش قدمی کی۔ پھر انھوں نے سلسلۂ کوہِ اولوطاغ کو شمال اور جنوب سے گھیرتے ہوئے قلعہ بند شہر بورصہ میں داخل ہونے سے گریز کیا اور جنوب مشرق میں اپنے مسلمان ہمسایوں سے جا ملے۔[لط 15] چونکہ بازنطینی سلطنت دار الحکومت اور بلقان میں شورشوں اور فتنوں کو دبانے میں مصروف تھی اور اناطولیہ میں اپنے طاقتور دشمنوں جیسے قرمانیوں اور ساحلی امارات کے ساتھ مسلسل تصادم میں الجھی ہوئی تھی، اس لیے وہ طویل عرصے تک عثمان کے خلاف کوئی مؤثر اقدام نہیں کر پائی۔ یوں عثمان کو اپنی اراضی میں آزادانہ توسیع کا موقع ملا۔[35] اسی دوران سلجوقی رومی سلطنت اپنے آخری ایام گزار رہی تھی اور ترکمانی امارات پر اس کی گرفت بتدریج کمزور ہو رہی تھی۔ منگول ایلخان محمود غازان، سلطان علاء الدین کیقباد ثالث پر اپنے ما تحتوں کی شکایات کی وجہ سے ناراض تھے کیونکہ اس سلطان نے اپنے پیش رو سلطان غیاث الدین مسعود بن کیکاوس کے درباریوں اور حاشیہ نشینوں کو سختی سے صاف کرنا شروع کر دیا تھا۔ اس طرز عمل کے نتیجے میں فوجی اور سیاسی سلجوقی حلقوں میں اس کی مقبولیت کم ہو گئی۔ چنانچہ ایلخان نے انھیں تبریز طلب کیا جہاں ایک روایت کے مطابق انھیں قتل کر دیا گیا اور اس کی جگہ سلطان غیاث الدین مسعود دوبارہ تخت پر بیٹھے۔[لط 16] ایک دوسری روایت کے مطابق منگولوں اور تاتاریوں کے لشکروں نے ایشیائے کوچک پر 699ھ (تقریباً 1300ء) میں یلغار کی اور سلطان علاء الدین کیقباد کو قونیہ میں قتل کر دیا۔ بعض روایتوں کے مطابق غیاث الدین مسعود نے خود انھیں قتل کیا تاکہ اقتدار دوبارہ حاصل کر سکیں۔[31] یہ بھی کہا گیا ہے کہ علاء الدین کیقباد جان بچا کر بازنطینی شہنشاہ کے پاس پناہ لے گئے اور وہاں قیام کیا یہاں تک کہ وفات پا گئے۔ بہرحال غیاث الدین مسعود کی سلطنت مختصر رہی اور چار سے چھ برس تک قائم رہی۔ ان کی وفات کے ساتھ ہی سلاجقہ روم کی سلطنت ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی۔ بعض کے مطابق منگولوں نے انھیں بھی قتل کر دیا جس سے ترکمانی امارات کے لیے آزادی کی راہ ہموار ہو گئی۔[31]

سلجوقی رومی سلطنت کے زوال نے عثمان کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ اپنی تمام زیرِ اقتطاع زمینوں میں خود مختار ہو جائیں اور انھوں نے اپنے آپ کو ”ادشاہِ آلِ عثمان“ کا لقب دیا۔[31] انھوں نے رومی سرحدی علاقوں، قلعوں اور محفوظ مقامات کے باقیات کو دیارِ اسلام میں ضم کرنے کا ہدف رکھا۔ کچھ روایتوں کے مطابق جب سلجوقی سلطان علاء الدین قونیہ میں وفات پا گئے اور ان کی کوئی اولاد نہ تھی، تو وزرا اور اعیان نے جمع ہو کر فیصلہ کیا کہ عثمان غازی اس سلطنت کے لیے سب سے موزوں ہیں۔ انھوں نے یہ معاملہ عثمان کے سامنے پیش کیا، جس نے ان کی درخواست قبول کی اور اسی تاریخ سے سلطان قرار پائے۔ بہت سی عثمانی روایات اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ عثمان کی خود مختاری 687ھ بمطابق 1299ء میں قائم ہوئی۔ تاہم معاصر مؤرخین کا ایک طبقہ اسے غیر دقیق سمجھتا ہے کیونکہ سلاجقہ روم کی سلطنت درحقیقت سلطان غیاث الدین مسعود کی وفات (1306ء) تک ختم نہیں ہوئی تھی۔ غالب امکان ہے کہ عثمانی تاریخ میں مذکور استقلال سے مراد یہ ہے کہ جب سلجوقی انتظامیہ کمزور پڑ گئی تو اس نے سرحدی امارات پر اپنی بالادستی کھو دی۔ جبکہ عثمانی امارت کی حقیقی خود مختاری اس وقت حاصل ہوئی جب منگول ایلخان ابو سعید بہادر خان 736ھ (مطابق 1335ء) میں بغیر جانشین وفات پا گئے۔ اس کے نتیجے میں ایلخانی ریاست میں اقتدار کی کشمکش شروع ہوئی اور اناطولیہ کی امارات فعلی طور پر خود مختار ہو گئیں۔ سلطان علاء الدین کی وفات نے اس علاقے کو ابتری اور انتشار میں دھکیل دیا جہاں بے امنی عام ہو گئی۔ ان کی فوج کے بیشتر سپاہی عثمان اول کے ساتھ جا ملے،[36] جس سے عثمان کو غیر معمولی تقویت ملی اور اہم عسکری تجربات حاصل ہوئے جو انھوں نے اپنی فوج میں شامل کیے۔
معرکہ بافيوس
[ترمیم]جب عثمان کے لیے اقتدار مستحکم ہو گیا اور انھوں نے اپنی فتوحات اور ان علاقوں پر جہاں انھیں ولایت سونپی گئی تھی، مکمل خود مختاری قائم کر لی تو انھوں نے ان خطوں کی تنظیم اور انتظام پر خصوصی توجہ دی۔ جب وہ وہاں کے حالات سے مطمئن ہو گئے تو انھوں نے ایشیائے کوچک کے تمام رومی اُمرا کو پیغام بھیجا اور انھیں تین امور میں سے ایک اختیار کرنے کی دعوت دی: اسلام یا جزیہ یا جنگ۔ چنانچہ بعض نے اسلام قبول کر لیا، جن میں نمایاں نام عثمان کے پرانے دوست ”کوسه میخائل“ (یا كوسه ميخال) کا تھا جو بعد میں ان کے قریبی رفقا میں شامل ہو گئے اور جن کی اولاد عثمانی تاریخ میں ”ميخائيل أوغلي“ (ترکی زبان: Mihaloğlu) کے خاندان کے نام سے معروف ہوئی۔[37] بعض نے خراج ادا کرنا قبول کر لیا جبکہ دیگر نے جنگ کا راستہ اختیار کیا۔ ان رومی امرا نے 700ھ مطابق 1301ء میں بورصہ، مادانوس، ادرہنوس، کتہ اور کستلہ میں ایک دوسرے کو جمع کیا تاکہ عثمان کے خلاف ایک صلیبی اتحاد قائم کیا جا سکے کیونکہ یہ واضح ہو چکا تھا کہ عثمان اناطولیہ کے طاقتور ترین رومی شہر بورصہ کا محاصرہ سخت کر رہے ہیں اور اسے فتح کر کے اپنی ریاست میں شامل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ مزید برآں عثمانیوں نے نیکومیڈیا کو شدید دباؤ میں رکھا اور اس کے نواحی گندم کے کھیتوں پر قبضہ کر لیا، جس کے نتیجے میں وہ ایک اہم معاشی وسیلے سے محروم ہو گئی۔[لط 17] رومیوں نے اس پکار پر لبیک کہا اور باقی ماندہ اناطولی رومی امارات اس نوخیز ریاست کے خاتمے کے لیے متحد ہو گئیں۔[38] 1302ء کے موسمِ بہار میں بازنطینی شہنشاہ میخائیل نہم اپنی فوج کے ساتھ پیش قدمی کرتے ہوئے مغنیشیہ کے جنوب تک پہنچ گئے اور ان کا ارادہ عثمانیوں سے ٹکر لے کر انھیں سرحدی علاقوں سے بے دخل کرنا تھا۔ تاہم ان کے سپہ سالاروں نے عثمانیوں کی تیاریوں اور بلند جنگی صلاحیت کو دیکھتے ہوئے انھیں براہِ راست اقدام سے روک دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ عثمانیوں نے رومیوں کے عظیم لشکر کو دیکھ کر براہِ راست تصادم سے گریز کیا مگر وہ چھوٹے رومی قصبوں اور علاقوں پر مسلسل حملے کرتے رہے اور انھیں ایک ایک کر کے اپنے قبضے میں لیتے گئے یہاں تک کہ انھوں نے بازنطینی شہنشاہ کو مغنیشیہ میں گھیر کر الگ تھلگ کر دیا۔ اس کے نتیجے میں ان کی فوج بغیر کسی بڑی جنگ کے منتشر ہو گئی اور رومی واپس قسطنطنیہ لوٹ گئے جبکہ بعض نے وہیں قیام کر کے ایشیائے کوچک میں رومیوں کے باقی ماندہ آخری قلعوں کے دفاع کو ترجیح دی۔[لط 18][لط 19][لط 20]

بازنطینی شہنشاہ کی عسکری سرگرمیوں نے سرحدی اسلامی دیہات اور قصبوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی اور اس حقیقت کو واضح کر دیا کہ جب تک یہ علاقے متحد ہو کر کسی مضبوط قائد کے پرچم تلے جمع نہ ہوں، ان کا وجود مستقل خطرے میں رہے گا۔ جب عوام نے عثمان کی اعلیٰ قیادت، عسکری مہارت اور دینِ اسلام سے ان کے اخلاص کو محسوس کیا تو انھوں نے ان کی مدد اور تائید کی تاکہ ایک ایسی اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی جا سکے جو منتشر گروہوں کو یکجا کرے اور رومیوں کے مقابل ایک مضبوط دفاعی دیوار بن سکے۔[39] عثمان کے ساتھ بعض رومی سردار بھی آ ملے جنھوں نے اپنے وطن واپس جانے کی بجائے ان کے زیرِ قیادت خدمات انجام دینا بہتر سمجھا اور ان میں سے بعض وہ تھے جو پہلے جنگی قیدی رہ چکے تھے اور بعد میں آزاد کیے گئے تھے۔ اسی طرح متعدد اسلامی گروہ بھی عثمانیوں کے پرچم تلے جمع ہو گئے، جیسے جماعت ”غُزاةُ الروم“ یا ”غازیاروم“ جیسا کہ عثمانی ترکی میں کہا جاتا تھا۔ یہ ایک اسلامی جماعت تھی جو عباسی دور سے بازنطینی سرحدوں پر متعین تھی اور مسلمانوں کو رومی حملوں سے محفوظ رکھتی تھی اور اس طویل سرحدی تجربے نے انھیں رومیوں کے خلاف جنگ میں خاص مہارت عطا کی تھی۔[40] عثمان کے رفقا یعنی جماعتِ آخیہ کے سردار بھی تیزی سے ان کے ساتھ آ ملے اور اپنی خدمات پیش کیں۔ ان میں ”غازی عبد الرحمٰن“، ”آقچہ خوجہ“، ”قونور الپ“، ”درغوث الپ“، ”حسن الپ“، ”صالتوق الپ“، ”آیکود الپ“، ”آق تیمور“، ”قرہمرسل“، ”قرہتکین“، ”صمصمہ جاویش“، ”شیخ محمود“ اور دیگر آخی رہنما اور تجربہ کار مجاہد شامل تھے، جو عثمان اور ان کے والد ارطغرل کی قیادت میں جنگیں لڑ چکے تھے۔ اسی طرح ”حاجیّاتِ روم“ یعنی سر زمینِ روم کے حجاج نامی جماعت بھی ان کے ساتھ آ ملی، جو شرعی علوم کی تدریس اور مسلمانوں کی دینی تربیت سے وابستہ تھی اور جس کا ایک ضمنی مقصد مجاہدین کی عملی اور عسکری معاونت بھی تھا۔[41] اسی دوران بازنطینی شہنشاہ ”اندرونیقوس دوم“ نے اپنے لشکروں کو مسلمانوں سے لڑنے کے لیے جمع کیا کیونکہ ان کا بیٹا ”ميخائيل“ نیکومیڈیا سے مسلمانوں کو نکالنے میں ناکام رہا تھا۔ انھوں نے چند چھوٹے دستے بھیجے جن میں تقریباً 2،000 فوجی شامل تھے، جن میں نصف تقريبًا ”آلانیّ“ کرائے کے سپاہی تھے اور ان کی قیادت ”جرجس موزالون“ کر رہا تھا۔ یہ لشکر آبنائے بُسفور عبور کر کے سہلِ بافيوس تک پہنچا، جو شہر کے نواح میں واقع ہے۔[لط 21][لط 22][لط 23] دونوں فوجیں مذکورہ سہل میں 1 ذو الحجہ 701ھ (مطابق 27 جون 1302ء) آمنے سامنے آئیں۔ عثمانیوں نے تقریباً پانچ ہزار سواروں پر مشتمل لشکر جمع کیا، جس کی قیادت خود عثمان کر رہے تھے۔ فوراً دونوں فوجیں آمنے سامنے ہو گئیں، رومیوں کی پہلی محاذ ٹوٹ گئی اور ان کی پیش قدمی شکست کھا گئی۔ نتیجتاً موزالون اپنے فوجیوں کے ساتھ نیکومیڈیا کی جانب واپس گیا اور آلانیوں کی سرپرستی میں محفوظ ہوا۔[لط 24] یہ معرکہ اسلامی تاریخ کے لیے اور خاص طور پر عثمانی تاریخ کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے کیونکہ کئی مؤرخین اسے عثمانی ریاست کی حقیقی ولادت کا سبب قرار دیتے ہیں۔ پروفیسر خلیل اینالجک کے مطابق اس معرکے نے عثمانی امارت کو ایسی خصوصیات عطا کیں جو ایک آزاد اور زندہ ریاست کے لیے ضروری ہیں اور اس نے اس کے ہمسایوں کو یہ واضح کر دیا کہ عثمانیوں کی فوجیں بڑے دشمنوں کو شکست دینے اور ان کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔[لط 25] اس فتح کے بعد عثمان نے بعد میں ازنیق اور نیقیہ کے علاوہ شہر بورصہ پر بھی قبضہ کر لیا۔[42][43]
رومیوں اور ایلخانیوں کے درمیان تقارب
[ترمیم]

عثمان نے اپنی فتوحات کے بعد مفتوحہ علاقوں کو اپنے اقربا اور فوجی سرداروں میں جاگیریں تقسیم کر کے نئی سر زمینوں پر اسلامی اقتدار کو مستحکم کیا اور وہاں رومی عہد کے اثرات کو تدریجاً ختم کر دیا۔ چنانچہ اس نے اسکی شہر اپنے بھائی ”گندز بیگ“ کے سپرد کیا، قراجہ حصار اپنے بیٹے ”اورخان“ کو عطا کیا جبکہ يار حصار حسن الپ کے حصے میں آیا اور اینہگول درغوث الپ کے حوالے کیا گیا۔ اسی دوران رومی آبادی کا ایک بڑا حصہ ایشیائے کوچک کی سرحدی بستیوں سے نقل مکانی کر کے قسطنطنیہ اور یورپ کے اُن علاقوں کی طرف منتقل ہو گیا جو بدستور سلطنتِ بازنطینیہ کے زیرِ اقتدار تھے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ عثمانیوں نے مقامی باشندوں کو امان دی اور انھیں یہ اختیار دیا کہ وہ یا تو نوخیز اسلامی ریاست کے زیرِ اقتدار رہیں یا اپنے ہم قوم علاقوں کی طرف ہجرت کر جائیں۔ نتیجتاً ایک بڑی تعداد نے ہجرت کو ترجیح دی جبکہ کچھ لوگ وہیں مقیم رہے، جس کے باعث عثمانی اقتدار کے تحت رہنے والی رومی رعایا کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ بازنطینی شہنشاہ اندرونیقوس ثانی نے عثمانی توسیع کے دباؤ کو شدت سے محسوس کیا۔ جب اس نے اناطولیہ میں رونما ہونے والی آبادیاتی تبدیلی کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھا اور اسے روکنے سے قاصر رہا تو اسے اپنے اقتدار کے لیے سنگین خطرے کا احساس ہوا۔ اس نے عثمانیوں کی پیش قدمی روکنے کی کوشش کی، مگر براہِ راست عسکری مقابلے میں ناکامی اور بلقان میں جاری مسائل کے باعث اس نتیجے پر پہنچا کہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے اناطولیہ کے وسطی اور مشرقی حصوں پر قابض مغولوں سے اتحاد قائم کرنا زیادہ مؤثر ہوگا۔ چنانچہ اس نے ایلخان محمود غازان کو پیغام ارسال کیا، جس میں خاندانی رشتے (ازدواجی تعلق) کے ذریعے ایلخانی اور بازنطینی ریاستوں کے درمیان اتحاد کی تجویز پیش کی۔[26] حقیقت یہ ہے کہ اس دور میں منگول مملوکوں کے ساتھ مصر اور شام میں شدید سیاسی و عسکری کشیدگی کا شکار تھے اور یہی کشیدہ تعلقات رومیوں کے ساتھ ان کے روابط پر بھی اثر انداز ہوئے۔ غازان دمشق اور پورے شام پر دوبارہ حملے کی تیاری کر رہا تھا، اپنی پہلی مہم کے بعد جو 699ھ مطابق 1299ء میں انجام پائی تھی، جس کے دوران اہلِ شام کی بڑی تعداد ہلاک ہوئی اور وسیع پیمانے پر قتلِ عام ہوا کیونکہ معرکہ وادی خزندار کے قریب حمص میں مملوک فوج کو سخت شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس کے مقابلے میں مملوک بھی منگولوں سے انتقام لینے اور اپنی سابقہ شکست کا ازالہ کرنے کی تیاری کر رہے تھے۔ بالآخر 2 رمضان 702ھ مطابق 20 اپریل 1303ء کو دمشق کے نواح میں ایک بڑا معرکہ پیش آیا، جو معرکہ شقحب یا معرکہ مرج الصفر کے نام سے معروف ہوا جس میں مملوکوں نے فیصلہ کن فتح حاصل کی اور منگولوں کو سخت شکست سے دوچار ہونا پڑا۔[44] اس شکست کا مغولی سیاسی اور عسکری قیادت پر گہرا اثر پڑا۔ اس کے نتیجے میں غازان دیگر امور سے کنارہ کش ہو گیا اور روایت ہے کہ وہ شدید رنج و غم میں مبتلا ہوا، یہاں تک کہ بیمار پڑ گیا اور اس کی ناک سے خون بہنے لگا۔ اس نے اپنے بعض فوجی سرداروں کو قتل کروا دیا اور بعض کو معزول و رسوا کیا۔ زیادہ عرصہ نہ گذرا کہ وہ 6 شوَّال 703ھ مطابق 11 مئی 1304ء کو وفات پا گیا،[45] جس کے ساتھ ہی کسی بھی ممکنہ منگول رومی اتحاد کی تمام امیدیں دم توڑ گئیں۔
رومی قطلونی گٹھ جوڑ
[ترمیم]
غازان خان کے ساتھ اتحاد کی ناکامی کے بعد بازنطینی شہنشاہ نے عثمانیوں کے خلاف ان کے جانشین محمد خدابندہ اولجایتو کے ساتھ اتحاد قائم کرنے کی کوشش کی تاہم یہ کوشش بھی ناکام رہی۔ اسی دوران روجر ووتلور (جو قطلونی کرایہ دار فوج کے ایک دستے کا قائد تھا اور صلحِ کالتابیلوتا کے بعد، جب آرگون اور فرانس کے درمیان امن قائم ہوا، بے روزگار ہو گیا) نے مسلمانوں کے خلاف اپنی اور اپنے ساتھیوں کی خدمات پیش کیں۔ شہنشاہ نے اس پیشکش کو قبول کیا اور قطلونی فوجی 1303ء میں قسطنطنیہ پہنچے، جہاں شہنشاہ نے ان کے قائد کا پرتپاک استقبال کیا۔ روجر کے ہمراہ تقریباً 6،500 افراد تھے اور انھیں چار ماہ کی تنخواہ ادا کرنے اور روجر ووتلور کو ’قیصر‘ کا لقب دینے کا وعدہ کیا گیا۔[46][لط 26] 1304ء کے آغاز میں قطلونی فوج ایشیائے کوچک میں داخل ہوئی اور شہر فیلاڈلفیہ تک پہنچ گئی، جو عثمانیوں کے محاصرے میں تھا۔ وہاں انھوں نے عثمانیوں کو شکست دی اور شہر کا محاصرہ ختم کر دیا۔ اس کامیابی سے یہ ظاہر ہوا کہ اگر بازنطینی ریاست کے پاس مناسب فوجی طاقت اور مالی وسائل ہوتے تو وہ ابھرتی ہوئی عثمانی قوت کو روک سکتی تھی تاہم حقیقت یہ تھی کہ اس کے پاس نہ کافی وسائل تھے اور نہ مؤثر افواج۔ جلد ہی قطلونی فوج نے مسلمانوں کے خلاف جنگ ترک کر دی اور رومی مغنیشیہ پر حملہ کر دی کیونکہ وہاں کے باشندوں نے قطلونیوں کے مالِ غنیمت اور ان کے قائد روجر کے خزانے پر قبضہ کر لیا تھا۔ قطلونی حملوں کے باعث رومی آبادی میں شدید خوف پھیل گیا اور وہ دفاع میں مصروف ہو گئے، جس کے نتیجے میں اتحادی قوتوں کے درمیان تصادم شروع ہو گیا۔ اس صورتِ حال نے سلطان عثمان کو رومیوں کے خلاف اپنی فتوحات کا دائرہ مزید وسیع کرنے کا موقع فراہم کیا۔[46]
ینی شہر اور اس کے گرد و نواح کی فتح
[ترمیم]
جب شمال میں حالات مستحکم ہو گئے تو عثمان نے اپنی امارت کی جنوبی سرحدوں کی طرف توجہ مبذول کی۔ وہ بحیرہ اسود اور بحیرہ مرمرہ تک پہنچ چکے تھے، بازنطینی سلطنت کی افواج سے مؤثر مقابلہ کر چکے تھے اور اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے کہ بازنطینی اب ان کا بھرپور سامنا کرنے کے قابل نہیں رہے۔ چنانچہ انھوں نے شہر ”ینی شہر“ کے گرد و نواح میں واقع رومی بستیوں، دیہات اور قلعوں پر حملے شروع کیے تاکہ اس شہر کی فتح کی راہ ہموار کی جا سکے۔ انھوں نے ایک بڑی مہم قلعہ ”یوند حصار“ کی طرف روانہ کی، جسے فتح کر کے اپنی قلمرو میں شامل کر لیا پھر ینی شہر پر یلغار کی، اسے فتح کیا اور عارضی طور پر اپنا دار الحکومت بنایا[47][48] اور اس کی فصیلوں کو مضبوط اور مستحکم کیا۔ اس کے بعد انھوں نے رومی شہروں کے خلاف مزید لشکر کشیاں جاری رکھیں اور متعدد قلعے فتح کیے، جن میں لفکہ، آق حصار، قوج حصار، حِصْن کَتّہ، حصن کبوه، حصن یکیجہ طراقلو اور حصن تکرر بیکاری شامل تھے،[47] نیز قلعہ مرمرہ جق اور قلعہ کوپری (تلفظ کوپرو) حصار بھی ان کے قبضے میں آ گئے۔ درحقیقت ان فتوحات کا مقصد ینی شہر کے گرد ایک دفاعی دائرہ قائم کرنا تھا چنانچہ عثمان نے اس کے اطراف میں اگلے مورچوں پر مشتمل قلعہ جاتی سلسلہ قائم کر کے اسے ممکنہ خطرات سے محفوظ بنا دیا۔ اسی دوران انھوں نے بحیرۂ مرمرہ میں خلیج مودانیا کے قریب واقع جزیرہ کالولیمنی پر بھی قبضہ کر لیا، جس کے نتیجے میں عثمانیوں کو اس آبی راستے پر کنٹرول حاصل ہو گیا جو بورصہ کو قسطنطنیہ سے ملاتا تھا۔ مزید برآں انھوں نے قلعہ تریکوکا پر بھی قبضہ کر لیا، جو بورصہ اور ازنیق کے درمیان واقع تھا اور ازنیق اور ازمید کے درمیان مواصلاتی راستے پر نظر رکھتا تھا، یوں عثمانیوں کی رسائی بُسفور تک ممکن ہو گئی۔[35] عثمانی فتوحات نے بورصہ کے رومی حاکم کو تشویش میں مبتلا کر دیا چنانچہ اس نے اپنی افواج جمع کیں اور ’اَترانوس‘، ’مادنوس‘، ’تَکہ‘ اور ’کستل‘ کے امرا سے اتحاد قائم کیا اور عثمان سے مقابلے کے لیے روانہ ہوا۔ دونوں افواج کے درمیان ایک معرکہ پیش آیا جسے ”دینباز“ یا ”دیمباز“ کہا جاتا ہے، جس میں عثمانیوں کو فتح حاصل ہوئی اور وہ ’کستل‘ اور ’مادنوس‘ پر قابض ہو گئے جبکہ ان دونوں کے امرا جنگ میں مارے گئے۔ قلعہ کَتّہ کا امیر قید ہو گیا اور اس کے انجام کے بارے میں روایات مختلف ہیں۔ ایک روایت کے مطابق اسے اپنے قلعے کے سامنے قتل کر دیا گیا جس کے بعد اس کی فوج نے عثمانیوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیے؛ جبکہ دوسری روایت کے مطابق وہ میدانِ جنگ سے فرار ہو کر ’اولوباط‘ چلا گیا۔ عثمانیوں نے اس کا تعاقب کیا اور وہاں اس کا محاصرہ کر لیا۔ جب مقامی امیر کو یقین ہو گیا کہ وہ عثمانیوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا تو اس نے ہتھیار ڈال دیے اور عثمان کے ساتھ امارتِ عثمانیہ کی تاریخ کا پہلا عسکری معاہدہ طے پایا، جس کے تحت قلعہ حوالے کر دیا گیا بشرطیکہ شہر کے سامنے واقع پل سے کوئی بھی مسلمان عثمانی شہر میں داخل نہ ہو۔ عثمان نے اس شرط کو قبول کر لیا۔[49] ایک روایت یہ بھی بیان کرتی ہے کہ اسی عرصے میں عثمان نے جزیرہ رودوش پر اسپتالیہ کے سورماؤں (نائٹوں) سے جنگ کے لیے حملہ کیا جو صلیبی جنگوں کے اختتام کے بعد وہاں مقیم ہو گئے تھے اور اسلامی ساحلوں پر چھاپے مارنے اور مسلمانوں کے تجارتی جہازوں پر حملے کرنے لگے تھے تاہم وہ اس جزیرے کو فتح کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ اس کے باوجود عثمانی مصادر میں ایسی کسی مہم کا واضح ذکر نہیں ملتا۔
فتحِ بورصہ
[ترمیم]
عُثمان نے اس کے بعد اپنی توجہ بڑے اور اہم شہروں کی طرف مرکوز کی اور شہرِ بورصہ کی فتح سے آغاز کرنے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ انھوں نے شہر کے نزدیک دو قلعے تعمیر کروائے تاکہ شہر پر نظر رکھی جائے اور اس کے گھیراؤ میں مدد ملے[50] اگرچہ بعض روایات میں تین حِصنوں کا ذکر بھی ملتا ہے۔ ان میں سے ایک حصن ”قابلجہ“ میں تعمیر کیا گیا جبکہ دوسرا جبلِ اولوطاغ کی ڈھلان پر قائم کیا گیا۔ پہلے حصن کی ذمہ داری آق تیمور کے سپرد کی گئی جبکہ دوسرے حصن کا انتظام اس کے ایک امیر ”بلبان“ یا ”بلبانجق بیگ“ کے حوالے کیا گیا۔ بورصہ کا عثمانی محاصرہ دس سے گیارہ برس تک جاری رہا اور اس کے طویل ہونے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اس زمانے میں عثمانیوں کے پاس محاصرے کے مؤثر آلات موجود نہ تھے۔ اس کے علاوہ خود شہر نہایت مضبوط اور مستحکم تھا؛ اسے ایک فصیل بند قلعہ محفوظ رکھتا تھا، جس کی دیواروں کی مجموعی لمبائی تقریباً 3400 میٹر تھی، اس میں 14 نگرانی کے برج اور 6 بڑے دروازے موجود تھے جبکہ جبلِ اولوطاغ کے دامن میں واقع علاقے میں دو موٹی دفاعی دیواریں بھی قائم تھیں۔[51]

محاصرے کے دوران عُثمان اور ان کے سالاروں نے امارت کے گرد و نواح کو باقی رہ جانے والے رومی حصنوں سے پاک کرنے کا عمل جاری رکھا چنانچہ متعدد حصن یکے بعد دیگرے فتح کیے گئے۔ ان قلعوں کے بعض حکام اپنی چھاؤنیوں سمیت عثمان کی اطاعت میں داخل ہو گئے، جن میں سے کچھ نے دینِ مسیحیت پر قائم رہتے ہوئے خدمت قبول کی جبکہ بعض نے اسلام اختیار کر لیا۔ اسی عرصے میں عُثمان مِرْگِی (صرع) میں مبتلا ہو گئے جس سے واضح ہو گیا کہ اب وہ بنفسِ نفیس محاصرے کی قیادت کے قابل نہیں رہے۔ چنانچہ انھوں نے یہ ذمہ داری اپنے بیٹے اورخان کے سپرد کر دی اور خود لشکری مہمات میں شرکت ترک کر کے گھر میں قیام پزیر ہو گئے۔ اورخان نے شہر کا محاصرہ بغیر کسی براہِ راست بڑے معرکے کے جاری رکھا مگر انھوں نے شہر کو اس کے گرد و نواح سے مکمل طور پر الگ رکھنے کی حکمتِ عملی برقرار رکھی۔ انھوں نے مودانیا کو فتح کر کے شہر کا بحری رابطہ منقطع کر دیا پھر اِزمید کے جنوبی ساحل پر واقع قصبہ ’پرونتکوس‘ فتح کیا اور اس کا نام اس کے فاتح ”قرهمُرسل بیگ“ کے نام پر ’قرهمُرسل‘ رکھ دیا۔ اسی طرح انھوں نے بورصہ کے جنوب میں جبل الوطاغ کی چوٹی پر واقع قصبہ ’اَدرانوس‘ یا ’اَدرنوس‘ بھی فتح کیا جسے شہر کی کنجی سمجھا جاتا تھا اور اس کا نام ’اورخان الی‘ رکھ دیا۔[52]
عثمانیوں نے شہر پر محاصرہ اس حد تک سخت کر دیا کہ اس کے حاکم اور فوجی دستوں میں مایوسی پھیل گئی اور بازنطینی شہنشاہ کو یقین ہو گیا کہ مسلمانوں کے ہاتھوں شہر کا سقوط اب محض وقت کی بات ہے۔ چنانچہ اس نے ایک مشکل فیصلہ کیا اور اپنے عامل کو حکم دیا کہ شہر خالی کر دیا جائے۔ عامل نے اس حکم پر عمل کیا، رومی فوج شہر سے نکل گئی اور اورخان 2 جمادی الاول 726ھ مطابق 6 اپریل 1326ء کو شہر میں داخل ہوئے۔ اورخان نے اہلِ شہر کے ساتھ کوئی بدسلوکی نہ کی کیونکہ انھوں نے عثمانی اقتدار کو تسلیم کر لیا تھا اور جزیہ ادا کرنے کا عہد کر لیا تھا۔[53][54][55]
شہر کا حاکم (جس کا نام ’اقرینوس‘ تھا) اورخان کے سامنے حاضر ہوا پھر اس نے ان کے رو برو اسلام قبول کیا اور عثمان کی بیعت کر کے ان کی اطاعت میں داخل ہو گیا۔ اسے اعزاز و تکریم کے طور پر ”بیگ“ کا لقب عطا کیا گیا اور طویل محاصرے کے دوران اس کی ثابت قدمی اور وفاداری کے اعتراف میں اسے نوازا گیا۔ بعد ازاں وہ امارتِ عثمانیہ کے نمایاں قائدین میں شمار ہونے لگا۔ اس سے متاثر ہو کر رومیوں کے متعدد دیگر قائدین (جو شہر اور اس کے نواحی حِصْنوں میں باقی رہ گئے تھے) بھی اسلام لے آئے اور عثمانی پرچم تلے شامل ہو گئے۔[52][56] یوں بورصہ طویل انتظار کے بعد فتح ہوا اور اورخان فوراً سُکود واپس روانہ ہوئے تاکہ اپنے والد کو اس عظیم فتح کی خبر دے سکیں۔
وفات
[ترمیم]عُثمان اپنی آخری عمر میں گٹھیا یا نقرس کے ساتھ ساتھ مرگی میں بھی مبتلا ہو گئے تھے۔ غالب امکان یہی ہے کہ ان کی وفات نقرس کے سبب ہوئی۔[57] اس بات کی تائید عاشق پاشا زادہ کے بیان سے بھی ہوتی ہے، جنھوں نے عثمان اول کی زندگی کے آخری ایام کا ذکر کرتے ہوئے لکھا: ”عثمان کے پاؤں میں خرابی تھی اور وہ اس کی تکلیف سہہ رہے تھے“۔[57] اسی مصنّف نے سلطان محمد فاتح کی وفات کے بارے میں بھی بعینہٖ یہی تعبیر استعمال کی: ”اُن کی وفات کا سبب پاؤں کی بیماری تھی“۔[57] یہ بات معروف ہے کہ نقرس آلِ عثمان میں ایک موروثی مرض تھا اور متعدد سلاطین اس میں مبتلا رہے۔ جب اورخان سُکود پہنچے تو انھیں فوراً اپنے والد کے پاس بلایا گیا، جہاں اُنھوں نے عُثمان کو حالتِ نزع میں پایا اور کچھ ہی دیر بعد وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ وفات سے قبل انھوں نے اپنے بعد حکومت اورخان کے سپرد کرنے کی وصیت کی جو ان کے دوسرے نمبر کے بیٹے تھے کیونکہ اورخان کو اپنے بڑے بیٹے ’علاء الدین‘ کے مقابلے میں امارت کی قیادت اور ریاست کے نظم و نسق کے لیے زیادہ موزوں پایا گیا۔ علاء الدین زہد و تقویٰ اور گوشہ نشینی کی طرف مائل تھے۔[58] مؤرخین میں عثمان کی وفات کی تاریخ کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض کے نزدیک وہ 21 رمضان 726ھ مطابق 21 اگست 1326ء کو وفات پا گئے اور اس وقت اُن کی عمر ستر برس تھی۔ عثمانی مؤرخ ’روحی چلبی‘ (جو پندرھویں صدی عیسوی میں گذرے ہیں اور جنھوں نے 1481ء تک تاریخِ عثمانیہ کو اپنی کتاب ”تورایخ آلِ عثمان“ میں قلم بند کیا) کے مطابق عُثمان غازی کی وفات 1320ء میں ہوئی۔ جبکہ مؤرخ ’عروج بن عادل‘ (جو سلطان محمد فاتح اور بایزید ثانی کے عہد 1502ء تک زندہ رہے) کے نزدیک عثمان کی وفات 1327ء میں ہوئی۔ معاصر ترک مؤرخ ’نجدت سقّا اوغلی‘ (ترکی زبان: Necdet Sakaoğlu) کے مطابق اگرچہ 1320ء کے بعد عثمان کے نام سے کوئی دستاویز دستیاب نہیں تاہم ایسی دستاویزات موجود ہیں جو 1324ء میں اورخان کے امیر بننے کی تصدیق کرتی ہیں لہٰذا اس رائے کے مطابق عُثمان غازی کی وفات اسی سال واقع ہوئی۔ یہ بات طے شدہ ہے کہ عثمان کی وفات اُن کے سُسر ”شیخ اده بالی“ کے انتقال کے تین یا چار ماہ بعد اور زوجہ ”مال خاتون“ کی وفات کے دو ماہ بعد ہوئی۔ انھوں نے دونوں کو اپنے ہاتھوں سے ’بیلہجک‘ میں دفن کیا تھا۔ وفات کے وقت انھیں ابتدا میں سُکود میں دفن کیا گیا پھر سلطان اورخان نے اُن کی میّت کو بورصہ منتقل کروایا جسے انھوں نے اپنی سلطنت کا دار الحکومت بنایا تھا اور وہیں دفن کیا۔[59] آج اُن کی قبر محلہ ’طوبخانہ‘ میں واقع ہے۔ جسدِ خاکی کی منتقلی کی وجہ وہ وصیت تھی جو عثمان نے اپنی وفات سے قبل لکھی تھی: ”اے میرے بیٹے! جب میں مر جاؤں تو مجھے بورصہ میں اُس چاندی کے قبہ کے نیچے دفن کرنا“۔ تاہم موجودہ قبر سلطان ’عبد العزيز اول‘ کے عہد سے تعلق رکھتا ہے کیونکہ اصل قبر 1855ء میں آنے والے شدید زلزلے میں مکمل طور پر منہدم ہو گئی تھی،[60] جس کے بعد مذکورہ سلطان نے اسے دوبارہ تعمیر کروایا۔ اسی طرح سلطان عبد الحمید ثانی نے سُکود میں اُس مقام پر ایک یادگاری مزار تعمیر کروایا جہاں عُثمان کو پہلی مرتبہ دفن کیا گیا تھا۔[57]
وصیّت
[ترمیم]عثمانی مصادر کے مطابق عثمان نے اپنے بیٹے اورخان کے لیے ایک تحریری وصیّت چھوڑی تھی، جس میں انھوں نے انھیں روم کے خلاف جنگ اور جہاد کا سلسلہ جاری رکھنے، اسلامی شریعت کی تعلیمات کی پابندی کرنے، علما کی صحبت اختیار کرنے، رعایا کے ساتھ عدل کرنے اور اسلام و اس کے پیغام کے ساتھ اخلاص برتنے کی تلقین کی۔ اسی طرح ان کی وصیت میں ان کے دیگر بیٹوں اور ان رفقا کے لیے بھی چند نصیحتیں شامل تھیں، جنھوں نے ان کے ساتھ تمام یا اکثر فتوحات میں شرکت کی تھی۔ رہا وصیت کا متن، تو وہ یہ ہے:

اے میرے بیٹے: خبردار! کسی ایسے کام میں مشغول نہ ہونا جس کا اللہ ربُّ العالمین نے حکم نہ دیا ہو اور اگر حکومت کے معاملات میں تمھیں کوئی مشکل درپیش ہو تو دین کے علما کے مشورے کو اپنا سہارا بنانا۔ اے میرے بیٹے: جو تمھاری اطاعت کرے، اس کے ساتھ عزت و اکرام کا برتاؤ کرنا اور سپاہیوں پر انعام و احسان کرنا اور شیطان تمھیں تمھارے لشکر اور مال کے ذریعے دھوکے میں نہ ڈال دے اور خبردار! اہلِ شریعت سے دُور نہ ہونا۔ اے میرے بیٹے: تم جانتے ہو کہ ہماری غایت اللہ ربُّ العالمین کی رضا ہے اور یہ کہ جہاد کے ذریعے ہمارے دین کا نور تمام آفاق میں پھیلتا ہے اور یوں اللہ
کی رضا حاصل ہوتی ہے۔ اے میرے بیٹے: ہم اُن لوگوں میں سے نہیں ہیں جو حکومت کی خواہش یا افراد کی بالا دستی کے لیے جنگیں کرتے ہیں؛ بلکہ ہم اسلام کے ساتھ جیتے ہیں اور اسلام ہی کے لیے مرتے ہیں اور اے میرے بیٹے! تم اسی کے اہل ہو۔[61] اے میرے بیٹے! جان لو کہ اسلام کی اشاعت، لوگوں کی ہدایت اور مسلمانوں کی عزت و آبرو اور ان کے اموال کی حفاظت ایک امانت ہے جو تمھاری گردن میں ہے اور اللہ
تم سے اس کے بارے میں سوال کرے گا۔[62] اے میرے بیٹے: میں اپنے رب کے جوار میں منتقل ہو رہا ہوں اور مجھے تم پر فخر ہے کہ تم رعایا کے ساتھ عادل رہو گے، اللہ کی راہ میں مجاہد بنو گے اور دینِ اسلام کے پھیلاؤ کے لیے کوشاں رہو گے۔ اے میرے بیٹے: میں تمھیں امت کے علما کے بارے میں وصیت کرتا ہوں؛ ان کی سر پرستی کو دوام دینا، ان کی تعظیم میں اضافہ کرنا اور ان کے مشورے پر عمل کرنا کیونکہ وہ بھلائی ہی کا حکم دیتے ہیں۔ اے میرے بیٹے: خبردار! کوئی ایسا کام نہ کرنا جو اللہ
کو ناراض کرے اور اگر کوئی معاملہ دشوار ہو جائے تو شریعت کے علما سے پوچھنا کیونکہ وہ تمھیں خیر کی راہ دکھائیں گے۔ اور جان لو، اے میرے بیٹے کہ اس دنیا میں ہمارا واحد راستہ اللہ کا راستہ ہے اور ہمارا واحد مقصد دینِ اللہ کی اشاعت ہے اور ہم نہ جاہ کے طالب ہیں نہ دنیا کے۔ میری اپنے بیٹوں اور دوستوں کو وصیت ہے: اللہ کی راہ میں جہاد کو جاری رکھ کر عظیم دینِ اسلام کی سربلندی کو قائم رکھنا۔ اسلام کے معزز پرچم کو کامل جہاد کے ساتھ ہمیشہ بلند رکھنا۔ ہمیشہ اسلام کی خدمت کرنا؛ کیونکہ اللہ
نے مجھ جیسے کمزور بندے کو بھی ممالک کی فتح کے لیے مامور فرمایا۔ اپنے جہاد کے ذریعے کلمۂ توحید کو دور دراز علاقوں تک پہنچاؤ اور میری نسل میں سے جو حق اور عدل سے انحراف کرے گا، وہ رسولِ اعظم ﷺ کی شفاعت سے یومِ حشر محروم ہوگا۔ اے میرے بیٹے: دنیا میں کوئی ایسا نہیں جس کی گردن موت کے آگے نہ جھکے اور اللہ
کے حکم سے میرا وقت قریب آ چکا ہے؛ میں یہ ملک تمھارے سپرد کرتا ہوں اور تمھیں اللہ
کے حوالے کرتا ہوں۔ ہر معاملے میں عدل کو لازم پکڑو…[63]
عثمان اوّل کی میراث
[ترمیم]آلِ عُثمان
[ترمیم]
عثمان اوّل کو ہر اعتبار سے عثمانی راج خاندان کا بانی سمجھا جاتا ہے کیونکہ اُنہی کی نسل سے براہِ راست پینتیس سلاطین پیدا ہوئے، جنھوں نے اُن کی قائم کردہ ریاست پر اُس کے استحکام سے لے کر 1918ء میں پہلی جنگ عظیم میں شکست کے بعد زوال تک حکومت کی۔ عُثمان کو اس خاندان کا پہلا سلطان شمار کیا جاتا ہے، اگرچہ اپنی زندگی میں انھوں نے صرف لقب ”بیگ“ (یعنی امیر) اختیار کیا،[25] تاہم یہ بات معروف ہے کہ انھیں دیگر القاب سے بھی یاد کیا گیا۔ چنانچہ فارسی میں تحریر کردہ 1324ء کی ایک وقفیہ دستاویز میں ان کے لیے ”محییُ الدین“ اور ”فخرُ الدین“ کے القاب مذکور ہیں۔[64] آج عُثمان اوّل کی اولاد متعدد یورپی اور عرب ممالک میں پھیلی ہوئی ہے کیونکہ 1924ء میں مصطفی کمال اتاترک کے ہاتھوں جمہوریہ کے قیام کے بعد عثمانی خاندان کو ترکیہ سے جلاوطن کر دیا گیا تھا۔[لط 27] بعد ازاں 1951ء میں خواتین اور شہزادیوں کو اور 1973ء میں شہزادوں کو ترکیہ واپس آنے کی اجازت دی گئی[لط 28] جبکہ خاندان کے بعض افراد اُن ممالک میں ہی مقیم رہے جہاں ان کے آبا نے پناہ لی تھی، جیسے انگلستان، فرانس، ریاستہائے متحدہ امریکا، مصر اور سعودی عرب وغیرہ۔ وہاں وہ ”عُثمان اوغلو“ (ترکی زبان: Osmanoğlu) کے لقب سے معروف ہوئے۔ عصرِ حاضر میں اس خاندان کی نمایاں شخصیات میں عُمر عبد المجید افندی عثمان اوغلو شامل ہیں، جو اسکندریہ میں 10 جمادی الاول 1360ھ مطابق 4 جون 1941ء کو پیدا ہوئے اور ان کے صاحبزادے محمود نامق عثمان اوغلو، جو لندن میں 16 ربیع الثانی 1395ھ مطابق 27 اپریل 1975ء کو پیدا ہوئے۔[لط 29] اسی خاندان سے تعلق رکھنے والی شہزادی عائشہ گلناو سلطان عثمان اوغلو بھی ہیں، جو ہینلی آن ٹیمز، آکسفورڈشائر میں 21 ذی القعدہ 1390ھ مطابق 17 جنوری 1971ء کو پیدا ہوئیں اور ان کے پانچ بچے ہیں۔[لط 30]
بیویاں اور اولاد
[ترمیم]عثمان نے تقریباً 1280ء میں مال خاتون سے شادی کی جو شیخ ادہ بالی کی بیٹی تھیں اور جن سے اُن کے ہاں اورخان پیدا ہوئے۔ بعض مصادر کے مطابق انھوں نے ایک اور خاتون سے بھی شادی کی، جن کا نام رابعہ بالا خاتون تھا اور وہ اُن کے بڑے بیٹے علاء الدین پاشا کی والدہ تھیں۔[65] یہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ بعض مؤرخین نے عثمان کی صرف ایک ہی زوجہ کا ذکر کیا ہے، مگر مختلف ناموں کے ساتھ؛ چنانچہ عروج بن عادل کے مطابق عثمان کی زوجہ کا نام ”رابعہ“ تھا اور وہ شیخ ادہ بالی کی دختر تھیں جبکہ عاشق پاشا زادہ کے نزدیک ان کا نام ”مال خاتون“ تھا اور یہی رائے زیادہ معروف ہے۔ بعض دیگر مؤرخین نے انھیں کسی امیر کی بیٹی قرار دیا ہے، جن کا نام ’عمر عبد العزیز بیگ‘ بتایا جاتا ہے۔ بعض محققین اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ مختلف ناموں کا پایا جانا اس بات کی علامت ہے کہ عثمان کم از کم دو خواتین سے شادی شدہ تھے۔[لط 31] اولاد کے اعتبار سے عثمان کے آٹھ بچے تھے: سات بیٹے اور ایک بیٹی۔ ان کے نام یہ ہیں: اورخان بیگ، بازارلی بیگ، چوبان بیگ، حمید بیگ، علاء الدین پاشا، مالک بیگ، صاووجی بیگ اور فاطمہ خاتون۔[66]
عثمان کی تلوار
[ترمیم]عثمان نے اپنے بعد اپنی مخصوص تلوار چھوڑی جو ”سیفِ عثمان“ (عثمانی ترکی میں: تقليدى سيف؛ اور جدید ترکی میں: Osman Kılıcı، عثمانی قلیجی)،[لط 32] کے نام سے مشہور ہوئی جو اُن کے بعد اُن کے بیٹے اورخان کے حصے میں آئی پھر اُن کے پوتے مراد کے پاس پہنچی اور بعد کے عثمانی سلاطین اسے نسل در نسل منتقل کرتے رہے۔ یہاں تک کہ اس تلوار کو پہنانے کی رسم عثمانی سلاطین کی تاج پوشی اور خلافتِ اسلامیہ کی بیعت کی سب سے نمایاں اور علامتی تقریب بن گئی، جو آلِ عثمان کی سلطنت کے ایک سلطان سے دوسرے سلطان کو منتقل ہونے کی علامت سمجھی جاتی تھی۔[لط 33] مصادر کے مطابق یہ تلوار عثمان کو اُن کے مرشد اور سسر شیخ ”ادہ بالی“ نے پہنائی تھی تاکہ وہ ”کافروں کے خلاف اسلام کی سونتی ہوئی تلوار“ قرار پائیں۔ اس موقع پر قونیہ میں مولویہ درویشوں کے شیخ (جو اُس زمانے میں بمنزلہ امامِ اعظم سمجھے جاتے تھے) نے عثمان کو تلوار اور اس کا پٹکا باندھا۔ عثمانی سلاطین عموماً تخت نشینی کے تقریباً دو ہفتے بعد یہ تلوار پہنا کرتے تھے اور یہ تقریب مغربی یورپ کی شاہی و سلطنتی تاج پوشی کی تقریبات سے نہایت مشابہ سمجھی جاتی تھی۔ یہ رسم جامع ابی ایوب انصاری میں آستانہ میں ادا کی جاتی تھی۔ جہاں تک سلطان کو سیفِ عثمان پہنانے والے کا تعلق ہے تو یہ فریضہ عموماً شیخ الاسلام یا قونیہ کے شریف انجام دیتے تھے اور مؤخر الذکر مولویہ درویشوں کے شیخ ہوتے تھے جنھیں اسی مقصد کے لیے خاص طور پر آستانہ بلایا جاتا تھا۔[لط 34]
صفات و خصوصیات
[ترمیم]جسمانی خد و خال
[ترمیم]

عثمانی دربار کے مؤرخ یحییٰ بُستان زادہ (جنھوں عثمان کی وفات کے کئی صدیوں بعد لکھا ہے) نے بیان کیا ہے کہ عثمان بلند قامت، سفید رنگت والے اور شاہ بلوطی رنگ کی بھنوؤں والے شخص تھے۔ تاہم ”تاریخِ کبیرِ فلکیین“ کے مطابق ان کی رنگت گندمی تھی، بھنویں ملی ہوئی تھیں، چہرہ گول، کندھے چوڑے تھے اور کھڑے ہونے کی حالت میں ان کے ہاتھ گھٹنوں تک پہنچتے تھے۔[64] اس بیان سے اندازہ ہوتا ہے کہ عثمان اوّل کی ٹانگیں نسبتاً چھوٹی تھیں یا ان کے بازو معمول سے زیادہ لمبے تھے۔ یہ جسمانی ساخت کئی صدیوں تک عثمانی سلاطین میں نمایاں رہی حتیٰ کہ آخری عثمانی خلیفہ عبد المجید ثانی تک اس کی مثالیں ملتی ہیں۔[64]
مال و متاع
[ترمیم]عثمان اول اپنی سادہ زندگی، عیش و عشرت اور فضول خرچی سے گریز کے لیے معروف تھے۔ وہ اپنی ذاتی بھیڑوں کی پیداوار (دودھ، دہی، پنیر وغیرہ) پر گزارا کرتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ مال و غنیمت تمام لوگوں کا حق ہے نہ کہ صرف اُمرا کا۔ چنانچہ جب ان کے لشکری سردار انھیں کسی مفتوحہ شہر کے بازار میں لے گئے اور بتایا کہ محصول پر صرف بیگوں کا حق ہوتا ہے تو انھوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا حالانکہ یہ ان کے لیے ایک معقول آمدنی کا ذریعہ ہو سکتا تھا۔ ان کا موقف تھا کہ یہ آمدن یا تو انصاف کے ساتھ تمام لوگوں میں تقسیم کی جائے ورنہ بالکل وصول نہ کی جائے۔ بعض مؤرخین کے مطابق یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ عثمان ان امور کے بارے میں بہت حساس تھے جو ان کا حق نہ تھے۔ ان کے بارے میں یہ معروف نہیں کہ انھوں نے اپنی پوری زندگی میں کبھی طاقت کے زور پر کسی چیز پر قبضہ کیا ہو۔ یہ بات اس بات کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات اور قدیم ترک بدوی رسوم و روایات سے کس قدر متاثر تھے، جو ضروریات پر انفرادی قبضے کی اجازت نہیں دیتیں بلکہ انھیں پورے قبیلے کا حق مانتی ہیں۔[64] عثمان کے زہد اور مادّی چیزوں سے بے رغبتی کی ایک اور دلیل یہ ہے کہ ان کی وفات کے بعد ان کے ترکے میں کوئی سونا یا چاندی موجود نہ تھی۔ تاریخی مصادر کے مطابق ان کے ترکے میں یہ اشیا شامل تھیں: نسبتاً نئے لباس ”صرطاق تكلسي“، گھوڑوں کے پہلو میں لٹکانے والے تھیلے ”يانجغي“، نمک کے برتن، لکڑی کے چمچ کے لیے حمالے (ہولڈر)، لمبی ساقوں والے جوتوں کے جوڑے، چند اعلیٰ نسل کے گھوڑے، بھیڑیں جنھیں وہ مہمان نوازی کے لیے پالتے تھے، دینزلی پارچے کا لفہ، گھوڑوں کی زرہ، آق شہر کے پارچوں سے بنے سرخ جھنڈے، تلواریں، تَرْکَش، نیزے اور اس نوعیت کی دیگر اشیا۔[67] قطب الدین نہروالی لکھتے ہیں: ”… اُنھوں نے نہ کوئی نقدی چھوڑی اور نہ سامان، سوائے زرہ اور تلوار کے جن کے ساتھ وہ کافروں سے لڑتے تھے اور چند گھوڑے اور بھیڑیں جنھیں انھوں نے مہمانوں کے لیے رکھا تھا۔ اُن کی نسلیں آج تک باقی ہیں اور بورصہ کے اطراف چراگاہوں میں چر رہی ہیں، جنھیں لوگوں نے تبرّک اور نیک شگون کے طور پر محفوظ رکھا“۔[68]
جہاں تک عثمان اول کی ذاتی متاع کا تعلق ہے تو اس بارے میں ٹھوس معلومات دستیاب نہیں۔ البتہ یہ بات مستند ہے کہ بڑی دانوں والی لکڑی کی تسبیح اور طبلہ ان کے مزار (شہر بورصہ) میں محفوظ تھے اور یہ دونوں بارھویں صدی ہجری کے اواخر تک (یعنی 1688ء اور 1784ء کے درمیان) دیکھے جاتے رہے۔ یہ دونوں تحائف سلجوقی سلطان کی جانب سے بھیجے گئے تھے۔[69] تاہم 1855ء میں آنے والے شدید زلزلے کے نتیجے میں لگنے والی آگ (جسے مقامی طور پر ”القیامۃ الصغریٰ“ کہا جاتا ہے) میں یہ لکڑی کی تسبیح اور طبلہ جل کر خاکستر ہو گئے اور آج باقی نہیں۔[69] یہ معلوم ہے کہ عثمان سادہ لباس زیب تن کرتے تھے جو شکل و صورت میں درویشوں اور صوفیوں کے لباس کے قریب تھا۔ لیکن عثمانی اور یورپی مصوروں نے انھیں ایسے ملبوسات میں دکھایا جو سلطنتِ عثمانیہ کے کلاسیکی دور میں سلطان محمود ثانی کی اصلاحات سے پہلے سلاطین پہنتے تھے۔ چنانچہ ”قسطنطین قابِضاغلی“ (ترکی زبان: Konstantin Kapıdağlı) نے اٹھارھویں صدی عیسوی کے اواخر میں سلاطین کی نصف قدی تصویروں کے سلسلے میں عثمان کو ایسے کلاسیکی لباس میں دکھایا جو سلیمان قانونی اور مراد ثالث کے لباس سے ممیز نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح جان یَنگ نے اپنے مجموعہ تصاویر ”ترکیہ کے شہنشاہوں کے پورٹریٹ کے سلسلہ“ میں (جو عثمانی میناتوری سے ماخوذ تھی) عثمان کو یہی لباس پہنے دکھایا؛ حالانکہ عثمانیوں نے اس قسم کے مُزَخرَف لباس استعمال نہیں کیے تھے بلکہ حتیٰ کہ اناطولیہ کے امرا نے بھی انھیں اس وقت تک نہیں پہنا جب تک وہ چودہویں صدی عیسوی میں محلات میں آباد نہیں ہو گئے۔ بعض مصادر کے مطابق عثمان ایک لمبی سرخ ٹوپی پہنتے تھے جو ”خُراسانی“ نامی کپڑے سے بنی ہوتی اور اس پر باریک سفید کپڑا لپٹا ہوتا جس میں باریک بنے ہوئے دھاگے شامل ہوتے۔ یہ انداز اس لَفَّے سے مشابہ تھا جو اویغور معاشرے کی اشرافیہ مشرقی ترکستان میں پہنتے تھے۔ جُبّہ لمبا اور چوڑے سرخ کالر والا ہوتا تھا۔ قدیم متن کے مطابق عثمان اپنی سخاوت (خصوصاً فقرا اور بیواؤں کو صدقہ دینے) کے سبب ایک ہی لباس دوبارہ نہیں پہنتے تھے؛ اگر کوئی محتاج ان کی عبا یا جُبّہ دیکھتا تو وہ اسے اتار کر اُسی کو عطا کر دیتے تھے۔[69]
قصیدہ
[ترمیم]معاصر محققین نے ایک قصیدہ عثمان اول سے منسوب پایا جو ابتدا سے انتہا تک بہادری، فُرُوسِیَت اور مخاطب کو نصیحت کرنے کے پہلوؤں سے بھرا ہوا ہے۔ اگرچہ اس قصیدے کی نسبت عثمان کے نام سے مشکوک ہے، کچھ مورخین اسے درست مانتے ہیں۔ قصیدہ (اردو میں ترجمہ شدہ) کچھ یوں ہے:[70]
”ایک نئی بستی اور بازار بساؤ، جو دل سے بنے ہوئے مواد سے ہو · جو چاہو کرو، لیکن کسان پر ظلم نہ کرو · پرانے اور نئے اینہگول کو دیکھو، یہ ہمیشہ قائم رہے · بورصہ کو دوبارہ تعمیر کرو، جہاں میں نے کفار کو شکست دی · بھیڑ کے درمیان بھیڑیا بنو اور شیر کی طرح مضبوط رہو، پیچھے نہ ہٹو · کچھ کرو اور سپاہی بنو، زبان کے تنگ راستے کا محاصرہ کرو · ازنیق کو ہلکا نہ لو، نہ اسے صقاریہ کے دریا کی طرح بہنے دو · ازنیق کو حاصل کرو، پروا نہ کرو اور ہر برج کے لیے فصیل تعمیر کرو · تم عثمان بن ارطغرل ہو، اوغوز اور قراخان کی نسل سے · اپنا حق مکمل کرو، اسلامبول کو فتح کرو اور اسے گلابوں کا باغ بنا دو“
اصول و خصائل
[ترمیم]عثمان قدیم ترک روایات اور رسومات پر عمل پیرا تھے جو شریعتِ اسلامی سے متصادم نہ تھیں۔ ان روایات میں سے ایک قبائلی رواج یہ تھا کہ ہر سال 6 مئی کو قبیلے کے سردار اپنا گھر لوٹنے (نَہب) کے لیے کھول دیتے، یہ دن بعض روایات یا افسانوں کے مطابق اُس وقت کا دن تھا جب خضر نے نبی الیاس سے ملاقات کی تھی اور اسے برکتوں اور خیرات کا دن سمجھا جاتا تھا۔ اس دن سردار اور اس کی زوجہ گھر سے کچھ نہ لے کر باہر نکلتے؛ پھر قبیلے کے افراد گھر پر دھاوا بول کر جو سامان دستیاب ہوتا وہ لے جاتے۔ اس رواج کو ”سردار کے گھر کا کھلنا“ یا ”سردار کے گھر کی لوٹ مار“ کہا جاتا تھا۔ عثمان بھی اس روایت کے پابند رہے اور سال میں ایک مرتبہ اپنا گھر لوٹنے کے لیے کھولتے۔ اس رواج کو شریعت کے منافی نہ سمجھا گیا کیونکہ سردار نے اپنی ملکیت رضاکارانہ طور پر قبیلے کے افراد کے لیے وقف کی تھی تاکہ ہر شخص اپنا حصہ لے سکے۔ شاعر توفيق فكرت نے ”سردار کے گھر کی لوٹ مار“ کے واقعے سے متاثر ہو کر اپنی نظم میں اتحاد و ترقی جماعت کے اراکین پر طنز کیا کیونکہ وہ ریاست لوٹنے میں بہت سرگرم تھے۔[2]
تمام مصادر متفق ہیں کہ عثمان اول نہایت قانع اور سخاوت کرنے والے شخص تھے، جو لینے کی بجائے دینے کو ترجیح دیتے تھے۔ ان کی عادات میں سے ایک یہ تھی کہ وہ ضرورت مندوں کو وہ سب کچھ دیتے جو وہ جنگوں میں حاصل کرتے۔ مورخ قطب الدین نہروالی نے اس کا یوں بیان کیا: ”اور وہ تلوار اور مہمان دونوں کے حق میں کثیر الاطعام تھے، تیز دھار شمشیر رکھنے والے، بے حد سخی اور وسیع العطا، دشمنوں کے مقابلے میں نہایت دلیر اور جری تھے“۔[68][71] عثمان اول کی نمایاں خصوصیات میں سے ایک یہ تھی کہ وہ ہر اُس شخص کو کھانا کھلاتے جو عصر کے وقت ان کے گھر میں موجود ہوتا۔ کھانے سے پہلے موسیقی پیش کی جاتی، کیونکہ ترک قبائل کھانے سے پہلے موسیقی سننا پسند کرتے تھے جبکہ یورپی عادات کے مطابق یہ کھانے کے دوران ہوتی تھی اور عثمانیوں نے یہ رواج صدیوں تک قائم رکھا۔ عثمان ”مِہتَر“ دستے کو (جو سلجوقی سلطان علاء الدین کیقباد سوم نے بھیجا تھا اور یہ بیگوں کی رسموں میں سے ایک تھی) موسیقی بجانے کا حکم دیتے اور کھانا پیش کرنے کے وقت موسیقی روک دی جاتی۔ روایت کے مطابق ہر شخص کو، خواہ وہ امیر ہو یا غریب، مسلمان ہو یا مسیحی، کھانے کی میز پر بلا تفریق بٹھایا جاتا۔[72] آخری نکتہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ عثمان اپنے دینی جوش کے باوجود غیر مسلموں کے ساتھ انتہائی رواداری کا مظاہرہ کرتے تھے[73] جس کے نتیجے میں بہت سے رومیوں نے اسلام قبول کیا۔ ایک مشہور واقعہ یہ ہے کہ عثمان نے جب ”قراجہ حصار“ فتح کیا تو ایک رومی مسیحی کے حق میں حکم دیا جبکہ مقدمہ ایک ترک مسلمان کے خلاف تھا۔ رومی نے عثمان سے پوچھا کہ وہ کیسے کسی ایسے شخص کے حق میں فیصلہ دے سکتے ہیں جو نہ ان کے دین کا ہے اور نہ ان کی قوم کا۔ عثمان نے اسے سورۂ نساء کی ایک آیت سے جواب دیا: ﴿إِنَّ ٱللَّهَ يَأۡمُرُكُمۡ أَن تُؤَدُّواْ ٱلۡأَمَـٰنَـٰتِ إِلَىٰۤ أَهۡلِهَا وَإِذَا حَكَمۡتُم بَيۡنَ ٱلنَّاسِ أَن تَحۡكُمُواْ بِٱلۡعَدۡلِۚ﴾، جس کے نتیجے میں رومی اور اس کے کچھ لوگوں نے اسلام قبول کیا۔[74] عثمان اپنے فتح شدہ قصبوں اور قلعوں کے مسیحی باشندوں (بہ شمول فوجی دستوں کے) کے ساتھ نرم رویہ اختیار کرتے تھے۔ اگر ان کی وفاداری ثابت ہوتی تو وہ انجیں آزاد کر دیتے اور بیواؤں اور یتیموں کی دیکھ بھال کرتے، انھیں اپنی جنگوں کے غنائم اور تحائف دیتے جیسا کہ وہ اپنے قبیلے کے بچوں کے ساتھ کرتے تھے اور بزرگوں کے ساتھ نرمی برتتے، جس کی وجہ سے بہت سے لوگ اسلام قبول کرتے تھے۔[75]
مؤرخین اور محققین اس بات پر متفق ہیں کہ عثمان غیر معمولی اسٹریٹجک عبقریت اور گہری دور اندیشی کے حامل تھے۔ انھوں نے اپنی فتوحات کا رخ رومیوں کی طرف اس بنیاد پر موڑا کہ ان سے حاصل ہونے والی ہر فتح ان کی قوت اور رومی حلقوں میں ان کی شہرت میں اضافہ کرے گی اور ساتھ ہی اسلامی حلقوں میں ان کی مقبولیت بھی بڑھے گی۔ اسی وقت انھوم نے پوری کوشش کے ساتھ اپنے اطراف کے مسلم ہمسایوں سے تصادم سے اجتناب کیا تاکہ ایک ہی دین کے پیروکاروں کے درمیان خانہ جنگی واقع نہ ہو اور اپنی تمام تر توانائیاں رومیوں کے خلاف جنگ میں صَرف کر سکے۔[76] عثمان کی عبقریت کا ایک اور پہلو یہ تھا کہ انھوں نے ایسی ریاست کی بنیاد رکھی جس کے نظم و نسق کو انھوں نے سلطنتِ سلاجقہ روم سے مستعار لیا، خواہ یہ روایات، انتظامی تنظیمات یا اسلامی دنیا کے موروثی تہذیبی عناصر سے متعلق تھیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایسی پُر کشش شخصیت کے مالک تھے جو دوسروں کو ان کی خدمت پر آمادہ کرتی تھی اور وہ صبر و استقلال، ثابت قدمی، ضبطِ نفس اور رعب و ہیبت جیسی صفات سے بھی متصف تھے۔[73] مؤرخ احمد رفیق اپنے موسوعہ ”التاريخ العام الكبير“ میں لکھتے ہیں: ”عثمان نہایت درجہ مُتَدَیّن تھے اور وہ اس بات سے آگاہ تھے کہ اسلام کی نشر و اشاعت اور اس کا عمومی فروغ ایک مقدس فریضہ ہے۔ وہ وسیع اور مضبوط سیاسی فکر کئ حامل تھے اور عثمان نے اپنی ریاست اقتدار کی محبت میں قائم نہیں کی بلکہ اسلام کے فروغ کی محبت میں قائم کی“۔[49] اور قادر مصر اوغلو کہتے ہیں: ”عثمان بن ارطغرل اس بات پر گہرے ایمان کے ساتھ یقین رکھتے تھے کہ زندگی میں ان کی واحد ذمہ داری اللہ کی راہ میں جہاد ہے تاکہ کلمۂ اللہ کو سر بلند کیا جائے۔ وہ اپنے تمام حواس اور قوتوں کے ساتھ اس مقصد کے حصول کی طرف متوجہ تھے۔“.[77] عثمان اول کے تدیّن اور شریعت کی پابندی کی نمایاں مثال یہ ہے کہ وہ جنگوں اور معرکوں کے غنائم میں سے صرف خمس سلجوقی سلطان کو ارسال کرتے تھے اور باقی اپنے مجاہد سپاہیوں میں تقسیم کر دیتے تھے۔ اس طرزِ عمل نے ان کے سپاہیوں کو ان سے محبت اور وفاداری پر آمادہ کیا جبکہ اسی دوران سلطان ان کے اقدامات سے ناخوش ہو گیا۔ جب سلطان نے انھیم لکھ کر پوچھا کہ وہ ان کی اجازت کے بغیر غنیمت کیوں تقسیم کرتے ہیں اور صرف خمس ہی کیوں بھیجتا ہیں؟ تو عثمان نے جواب دیا کہ وہ سلطان کے حکم کی بجائے اللہ کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں، کیونکہ یہی اسلامی شریعت کا حکم ہے۔ چنانچہ سلطان کی طرف سے یہ حکم صادر ہوا کہ وہ جو چاہے کرے مگر اللہ کے احکام سے تجاوز نہ کرے۔[78]
مقبول عام ثقافت میں
[ترمیم]
عُثمان اوّل کی شخصیت فلم ”فتح 1453“ میں پیش کی گئی جو سلطان محمد فاتح کے ہاتھوں فتح قسطنطنیہ پر مبنی ہے۔ فلم میں سلطان محمد فاتح ایک خواب دیکھتے ہیں جس میں عُثمان (جن کا کردار اداکار اوغوز اوقتای نے نبھایا) ظاہر ہو کر انھیں یہ بشارت دیتے ہیں کہ وہ رسول محمد کی اُس بشارت کا حامل ہے جو فصیل دار شہر کی فتح سے متعلق ہے۔ سنہ 2019ء میں ایک ترک ٹیلی وژن سیریز بعنوان عثمان غازی پیش کی گئی، جو عُثمان بن ارطغرل کے ہاتھوں سلطنتِ عثمانیہ کے قیام کی داستان بیان کرتی ہے اور اس میں عُثمان کا کردار اداکار براق اوزچیوید نے ادا کیا۔[لط 35]
عُثمان اوّل کا ایک مومی مجسمہ برجِ سفیر (جو استنبول کے علاقے ”لاوند“ میں واقع ہے) میں زائرین اور سیّاحوں کے لیے نمائش پر رکھا گیا ہے۔ یہ مجسمہ دیگر عالمی رہنماؤں اور عثمانی سلاطین کے متعدد مجسموں کے ساتھ رکھا گیا ہے۔ عُثمان کو خاص طور پر بہت سے مسلم مؤرخین اور روحانی قائدین کے ہاں نمایاں مقام حاصل ہے اور ایک رائج رائے یہ ہے کہ ان کی ولادت کا دن وہی دن تھا جس میں بغداد تباہ ہوا اور اسلامی خلافت سقوط پزیر ہوئی اور یہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک لطفِ الٰہی تھا۔ اس رائے کے حاملین میں ممتاز ماہرِ فلکیات شیخ احمد (مصنفِ ”صحائف الأخبار في وقائع الآثار“)، شیخ الاسلام سعد الدین افندی اور ترک مؤرخ مصطفیٰ ارمغان شامل ہیں، جن کا کہنا ہے کہ عُثمان کی ولادت اور ان کے ہاتھوں ایک نئی سلطنت (جس نے 600 برس تک اسلام کا پرچم بلند رکھا، اس کا دفاع کیا اور عالمِ اسلام کو تفرقے کے بعد متحد کیا) کے قیام نے عالمِ اسلام کو اُس ذلت اور تقسیم سے بچائے رکھا جس کا اسے سنہ 1918ء میں پہلی عالمی جنگ کے بعد سلطنتِ عثمانیہ کے ٹوٹنے کے بعد سامنا کرنا پڑا تھا۔[9]
بعض مؤرخین، علمائے اسلام اور خواب کی تعبیر کے ماہرین عثمان کے خواب کے دفاع میں یہ موقف اختیار کرتے ہیں کہ اس طرح کی رویا کا وقوع ممکن ہے۔ ان کے دلائل میں یہ بات شامل ہے کہ مذکورہ رویا ایک معتبر بنیادی کتاب ”الشقائق النُعمانيَّة في عُلماء الدولة العُثمانيَّة“ میں مذکور ہے[79] اور صدیوں تک متواتر تاریخی مصادر میں نقل ہوتی رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ رویا نہ عقل کے خلاف ہے اور نہ نقل کے، کیونکہ تاریخی مصادر کے مطابق عُثمان اوّل نہایت متقی اور پرہیزگار شخص تھے۔ بعض علمائے اسلام کی تعبیر کے مطابق صالح رویا، لوگوں کی تعریف اور ان کی محبت، انسان کے تَق٘ویٰ کے ثمرات میں سے ہیں۔ اس ضمن میں ان کا استدلال حدیث نبوی سے ہے: «الرُّؤيَا الصَّالِحَةُ مِنَ اللهِ…»(1) اور «لَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ إِلاَّ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ»(2)[80]
حواشی
[ترمیم]- 1: ”اچھا خواب اللہ کی طرف سے ہوتا ہے…“
- 2: ”نبوت کی خوشخبری سنانے والی چیزوں میں سے کوئی چیز باقی نہیں بچی ہے سوائے سچے خواب کے جسے مسلمان دیکھے یا اس کے لیے کسی اور کو دکھایا جائے“۔
حوالہ جات
[ترمیم]فہرست پا وَرَقی
[ترمیم]- عَرَبی، فارِسی اور عُثْمانی تُرْکی
- ^ ا ب جحا وآخرون (1972)، ص. 116.
- ^ ا ب أرمغان (2014)، ص. 15.
- ↑ سعد الدين (1862)، ص. 13-15.
- ^ ا ب پ ت أوزتونا (2010)، ص. 83-84.
- ^ ا ب پ فريد بك (1981)، ص. 115-116.
- ↑ القرماني (1985)، ص. 9-10.
- ↑ الكوبريللي (1967)، ص. 126.
- ^ ا ب پ طقوش (2013)، ص. 25-26.
- ^ ا ب أرمغان (2014)، ص. 11.
- ^ ا ب پ حلاق (2000)، ص. 16-17.
- ↑ ابن إياس (1984)، ص. 364-365.
- ↑ أوزتونا (2010)، ص. 89.
- ^ ا ب يونم (2016)، ص. 4.
- ↑ خراسانی (2011)، ص. 221-226.
- ^ ا ب طقوش (2013)، ص. 27.
- ↑ كولنز (1993)، ص. 26.
- ↑ گُل (2014)، ص. 378.
- ↑ يونم (2016)، ص. 4-5؛ 8.
- ↑ کفادار (1999)، ص. 65-66.
- ^ ا ب کفادار (1999)، ص. 63.
- ↑ الدوري (1952)، ص. 520-523.
- ↑ ابن بطوطة (1997)، ص. 163.
- ↑ طقوش (2013)، ص. 28.
- ↑ أوزتونا (2010)، ص. 88.
- ^ ا ب پ ت أوزتونا (2010)، ص. 91.
- ^ ا ب طقوش (2013)، ص. 29.
- ↑ طقوش (2013)، ص. 29-30.
- ↑ الشناوي (1980)، ص. 39.
- ↑ آق كوندوز وأوزتورك (2008)، ص. 46.
- ↑ دهيش (1995)، ص. 25.
- ^ ا ب پ ت فريد بك (1981)، ص. 118.
- ↑ حاجي خليفة (2009)، ص. 133-134.
- ↑ النهروالي (1996)، ص. 265.
- ^ ا ب منجم باشي (2009)، ص. 229–231.
- ^ ا ب طقوش (2013)، ص. 30.
- ↑ حاجي خليفة (2009)، ص. 136.
- ↑ فريد بك (1981)، ص. 116 و119.
- ↑ أبو غنيمة (1983)، ص. 197.
- ↑ دهيش (1995)، ص. 26.
- ↑ الصلابي (2001)، ص. 23-24.
- ↑ محمود (1994)، ص. 331-332.
- ↑ الكوبريللي (1967)، ص. 163.
- ↑ إينالجك (2002)، ص. 15.
- ↑ المقريزي (1997)، ص. 356.
- ↑ مهدي (2008)، ص. 104.
- ^ ا ب عطا (ب. ت)، ص. 155-156.
- ^ ا ب القرماني (1985)، ص. 11.
- ↑ مانتران (1993)، ص. 23.
- ^ ا ب أبو غنيمة (1983)، ص. 33.
- ↑ القرماني (1985)، ص. 12.
- ↑ كرمان (2015).
- ^ ا ب فريد بك (1981)، ص. 120.
- ↑ سعد الدين (1862)، ص. 28-29.
- ↑ الدوري (2013)، ص. 342.
- ↑ البيطار (ب.ت)، ص. 907.
- ↑ الكوبريللي (1967)، ص. 142.
- ^ ا ب پ ت أرمغان (2014)، ص. 17.
- ↑ فريد بك (1981)، ص. 122.
- ↑ سرهنك (1895)، ص. 487.
- ↑ أرمغان (2014)، ص. 16.
- ↑ أبو غنيمة (1983)، ص. 21.
- ↑ أبو غنيمة (1983)، ص. 3.
- ↑ حرب (1994)، ص. 12.
- ^ ا ب پ ت أرمغان (2014)، ص. 12.
- ↑ آق كوندوز وأوزتورك (2008)، ص. 59.
- ↑ آق كوندوز وأوزتورك (2008)، ص. 60.
- ↑ أرمغان (2014)، ص. 13.
- ^ ا ب العاصمي المكي (1998)، ص. 71.
- ^ ا ب پ أرمغان (2014)، ص. 14.
- ↑ آرمغان (2014)، ص. 15-16.
- ↑ تيمور باشا (1956)، ص. 445.
- ↑ أرمغان (2014)، ص. 64.
- ^ ا ب مصطفى (1986)، ص. 36.
- ↑ أبو غنيمة (1983)، ص. 32.
- ↑ بيومي (1991)، ص. 51-53.
- ↑ أوزتونا (2010)، ص. 92-93.
- ↑ الصلابي (2001)، ص. 27.
- ↑ أكرم (1980)، ص. 166.
- ↑ طاشكبري زاده (1975)، ص. 3.
- ↑ الصلابي (2001)، ص. 36.
- انگریزی اور جدید ترکی
- ↑ Quataert (2005), p. 4.
- ↑ Anooshahr (2009), p. 157.
- ↑ Sakaoğlu (1999), p. 392-395.
- ↑ Shaw (1976), p. 13.
- ↑ Zachariadou (1997), p. 150.
- ↑ Kayapinar (2013).
- ↑ Sakaoğlu (1999a), p. 26, 517.
- ↑ Creasy (1910), p. 15.
- ↑ Finkel (2006), p. xiii.
- ↑ Fossier & Tenison (1986), p. 279.
- ↑ Balcıoğlu (1940), p. 271.
- ↑ Başar (1995), p. 314.
- ↑ Shaw (1976), p. 13-14.
- ↑ Peirce (1993), p. 34.
- ↑ Shaw (1976), p. 14.
- ↑ Cahen (1968), p. 300.
- ↑ Kazhdan (1991), p. 1539–1540.
- ↑ Nicol (1993), p. 125–126.
- ↑ Bartusis (1997), p. 76–77.
- ↑ Laiou (1972), p. 90.
- ↑ Bartusis (1997)، ص. 76.
- ↑ Kazhdan (1991)، ص. 251, 1421.
- ↑ Nicol (1993)، ص. 126.
- ↑ Laiou (1972)، ص. 90–91.
- ↑ NTV Haber (2009).
- ↑ Waley (1984), p. 164.
- ↑ Brookes (2008), p. 278, 285.
- ↑ Opfell (2001), p. 146, 151.
- ↑ Osmanlı Hanedanı (n.d).
- ↑ Pazan (2009).
- ↑ Peirce (1993), p. 106–107.
- ↑ M'Gregor (1854), p. 376.
- ↑ Hasluck (1929), p. 604–622.
- ↑ New York Times (1876), p. 2.
- ↑ Hürriyet (2019).
کتابیات (بلحاظ تاریخ اشاعت)
[ترمیم]- عَرَبی میں کتب اور رسائل:
- زبيدة عطا (بلا تاریخ)، بلا التُّرك في العُصُور الوُسطى: بيزنطة وسلاجقة الرُّوم والعُثمانيُّون (PDF) (بزبان عربی)، قاہرہ: دار الفكر العربی، OCLC:235976839، QID: Q119267217
{{حوالہ}}: تحقق من التاريخ في:|تاریخ=(معاونت) - عبد الرحمن البيطار (بلا تاریخ)۔ "العثمانيـون: (699 - 1342هـ/1299 - 1924م)"۔ الموسوعة العربيَّة۔ هيئة الموسوعة العربيَّة۔ ج 12۔ 9 يونيو 2023 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
{{حوالہ موسوعہ}}: تحقق من التاريخ في:|تاریخ=و|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - اسماعیل سرهنک (قریباً 1895)، حقائق الأخبار عن دُول البحار (بزبان عربی) (1 ایڈیشن)، قاہرہ: مطبع امیری، ج 1، QID: Q119269108
{{حوالہ}}: تحقق من التاريخ في:|publication-date=(معاونت) - عبد العزيز الدوري (1371ھ = 1952ء)۔ "الأصناف والحرف الإسلاميَّة"۔ الرسالة۔ القاهرة: دار الرسالة شمارہ 983۔ 2023-06-05 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
{{حوالہ رسالہ}}: تحقق من التاريخ في:|سال=(معاونت) - احمد تیمور (مارچ 1956)، الأمثال العاميَّة: مشروحة ومُرتَّبة على الحرف الأوَّل من المثل (بزبان عربی) (2 ایڈیشن)، لجنة نشر المؤلفات التیمورية، OCLC:4770368955، QID: Q112422252
- محمد فواد کوپرولو (1967)، قيام الدولة العُثمانيَّة (بزبان عربی)، ترجمہ از أحمد السعید سلیمان، قاہرہ: دار الكتاب العربی، OCLC:4770493061، QID: Q119079004
- شفیق جحا؛ منیر البعلبكی؛ بھیج عثمان (1972)، المُصوَّر في التاريخ (بزبان عربی) (1 ایڈیشن)، بیروت: دار العلم للملایین، ج 6، QID: Q119020382
- طاشكبری زاده (1975)، الشقائق النُعمانيَّة في عُلماء الدولة العُثمانيَّة: ويليه العقد المنظوم في ذكر أفاضل الرُّوم (بزبان عربی)، بیروت: دار الكتاب العربی، OCLC:14820694، QID: Q119418883
- السيِّد عبد المُؤمن السيِّد جمال أكرم (قریباً 1980)، أضواء على تاريخ توران (تُركستان) (بزبان عربی)، مکہ: رابطہ عالم اسلامی، OCLC:1227874793، QID: Q119417071
{{حوالہ}}: تحقق من التاريخ في:|publication-date=(معاونت) - عبد العزیز محمد الشناوی (1980)، الدولة العُثمانيَّة: دولة إسلاميَّة مُفترى عليها (بزبان عربی)، قاہرہ: انگلو–مصری لائبریری، ج 1، QID: Q119144757
- محمد فرید (1981)، تاريخ الدولة العليَّة العُثمانيَّة (بزبان عربی) (1 ایڈیشن)، بیروت: دار النفائس، OCLC:14988514، QID: Q113541212
- زیاد محمود ابو غنیمة (1983)، جوانب مُضيئة في تاريخ العُثمانيين الأتراك (بزبان عربی) (1 ایڈیشن)، عمان: دار الفرقان، OCLC:15164443، QID: Q119175215
- ابن ایاس (1984)۔ بدائع الزُهُور في وقائع الدُهُور (بزبان عربی) (2 ایڈیشن)۔ قاہرہ: الهیئة المصریة العامة للكتاب۔ ج 5۔ ISBN:977-01-0293-8۔ OCLC:4771296925۔ QID: Q114442172
- احمد بن یوسف قرمانی (1985)، تاريخ سلاطين آل عُثمان (بزبان عربی) (1 ایڈیشن)، دمشق: دار البصائر، OCLC:4770362328، QID: Q119078151
- احمد عبد الرحیم مصطفى (1986)، في أُصُول التاريخ العُثماني (بزبان عربی) (2 ایڈیشن)، قاہرہ: دار الشروق، OCLC:4771066482، QID: Q119368991
- زکریا سلیمان بیومی (1991)، قراءة جديدة في تاريخ العُثمانيين: التحالف الصليبي الماسوني الإستعماري وضرب الإتجاه الإسلامي (بزبان عربی) (1 ایڈیشن)، جدہ: عالم المعرفة، OCLC:39890141، QID: Q119373870
- پال کولنز (1993)۔ العُثمانيُّون في أورُبَّا (بزبان عربی)۔ ترجمہ از عبد الرحمن عبد الله الشیخ۔ قاہرہ: الهیئة المصریة العامة للكتاب۔ ISBN:977-01-3231-4۔ QID: Q119114178
- روبیر مانتران (1993)۔ تاريخ الدولة العُثمانيَّة (بزبان عربی)۔ ترجمہ از بشیر السباعی (1 ایڈیشن)۔ قاہرہ: دار الفكر للدراسات والنشر والتوزیع۔ ج 1۔ ISBN:977-5091-13-6۔ QID: Q119268097
- علی عبد الحلیم محمود (1994)۔ التراجُع الحضاري في العالم الإسلامي وطريق التغلُّب عليه (بزبان عربی) (1 ایڈیشن)۔ منصورہ، مصر: دار الوفاء۔ ISBN:977-15-0085-6۔ OCLC:31687305۔ OL:13162448M۔ QID: Q119224128
- محمد حرب (1994)، العُثمانيُّون في التاريخ والحضارة (بزبان عربی) (1 ایڈیشن)، نصر شہر: ترکی کی دنیا پر عثمانی مطالعات اور تحقیق کے لیے مصری مرکز، OCLC:4771244672، QID: Q119269538
- عبد اللطیف عبد اللہ بن دہیش (1995)، قيام الدولة العُثمانيَّة (بزبان عربی) (2 ایڈیشن)، مکہ: مكتبة ومطبعة النهضة الحدیثة، OCLC:438041324، QID: Q119145229
- قطب الدین نہروالی (1996)، الإعلام بأعلام بيت الله الحرام (بزبان عربی) (1 ایڈیشن)، مکہ: المكتبة التجارية، OCLC:1301493918، QID: Q119174618
- ابن بطوطہ (1997)۔ تُحفة النُظَّار في غرائب الأمصار وعجائب الأسفار (بزبان عربی)۔ رباط: مراکش کی رائل اکیڈمی۔ ج 2۔ ISBN:9981-46-006-0۔ QID: Q119118228
- تقی الدین المقریزی (1997)، السُلُوك لمعرفة دُول المُلُوك (PDF) (بزبان عربی) (1 ایڈیشن)، بیروت: دار الکتب علمیہ، ج 2، QID: Q119224936
- عبد الملك العصامی (1998)۔ سمط النُجُوم العوالي في أنباء الأوائل والتوالي (بزبان عربی) (1 ایڈیشن)۔ بیروت: دار الکتب علمیہ۔ ج 4۔ ISBN:2-7451-2615-6۔ LCCN:99897203۔ OCLC:44102027۔ OL:12601935M۔ QID: Q119322521
- جمال كفادار (1419ھ = 1999ء)۔ "تكوُّن الدولة العُثمانية"۔ الإجتهاد: مجلَّة مُتخصصِّة تُعنى بقضايا الدين والمُجتمع والتجديد العربي الإسلامي۔ ترجمہ از عبد اللطيف الحارس۔ بيروت: دار الإجتهاد للأبحاث والترجمة والنشر۔ ج 11 شمارہ 41–42۔ 2017-02-28 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 15 ستمبر 2015ء
{{حوالہ رسالہ}}: تحقق من التاريخ في:|تاریخ رسائی=و|تاریخ=(معاونت)اسلوب حوالہ 1 کا انتظام: سال اور تاریخ (link) - حسان حلاق (2000)، تاريخ الشُعُوب الإسلاميَّة الحديث والمُعاصر (بزبان عربی) (1 ایڈیشن)، بیروت: دار النهضة العربية، OCLC:4770535155، QID: Q119079207
- علی الصلابی (2001)۔ السُلطان مُحمَّد الفاتح وعوامل النُهُوض في عصره (بزبان عربی)۔ اسکندریہ: دار الإيمان للطباعة والنشر والتوزيع۔ ISBN:977-331-105-8۔ QID: Q114357988
- خلیل اینالجک (2002)۔ تاريخ الدولة العُثمانيَّة من النُشُوء إلى الانحدار (بزبان عربی)۔ ترجمہ از محمد م. الأرناؤوط (1 ایڈیشن)۔ بیروت: دار المدار الإسلامي۔ ISBN:9959-29-088-3۔ OCLC:4770974758۔ QID: Q43033337
- احمد آق کوندوز؛ سعید اوزتورک (2008)۔ الدولة العُثمانيَّة المجهولة: 303 سُؤال وجواب توضح حقائق غائبة عن الدولة العُثمانيَّة (بزبان عربی)۔ استنبول: وقف البحوث العثمانية۔ ISBN:978-975-7268-39-0۔ OCLC:4770841329۔ QID: Q114411691
- شفیق مہدی (2008)، مماليك مصر والشَّام: نُقودهم، نُقوشهم، مسكوكاتهم، ألقابهم، سلاطينهم، 648-922هـ/1250-1517م (بزبان عربی) (1 ایڈیشن)، بیروت: الدار العربية للموسوعات، OCLC:191763406، QID: Q119248885
- احمد منجم باشی (2009)، جامع الدُّول في التَّاريخ: قسم سلاطين آل عُثمان إلى سنة 1083هـ (بزبان عربی) (1 ایڈیشن)، مکہ: دار الشفق للطباعة والنشر، ج 1، OCLC:543658290، QID: Q119705199
- حاجی خلیفہ (2009)۔ فذلكة أقوال الأخيار في علم التاريخ والأخبار: تاريخ مُلُوك آل عُثمان (بزبان عربی)۔ انقرہ: مؤسسة العالي أتاتورك للثقافة واللغات والتاريخ۔ ISBN:978-975-16-2183-2۔ LCCN:2010449393۔ OCLC:908454327۔ OL:30470281M۔ QID: Q119174278
- یلماز اوزتونا (2010)، موسوعة تاريخ الإمبراطوريَّة العُثمانيَّة السياسي والعسكري والحضاري: 629 - 1341هـ / 1231 - 1922م (بزبان عربی)، ترجمہ از عدنان محمود سلمان (1 ایڈیشن)، بیروت: الدار العربية للموسوعات، ج 1، QID: Q119025953
- رائد سامي حميد الدوري (كانون الثاني 2013)۔ "دوافع التوجُّهات العُثمانيَّة نحو أوربَّا الشرقيَّة 1358 -1299م: دراسة تاريخيَّة"۔ مجلَّة سُرَّ من رأى۔ جامعة سامرَّاء۔ ج 9 شمارہ 32۔ ISSN:1813-1735۔ 2023-06-15 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
{{حوالہ رسالہ}}: تحقق من التاريخ في:|سال=(معاونت) - محمد سهیل طقوش (2013)۔ تاريخ العُثمانيين من قيام الدولة إلى الانقلاب على الخلافة (بزبان عربی) (3 ایڈیشن)۔ بیروت: دار النفائس۔ ISBN:978-9953-18-443-2۔ OCLC:1025663587۔ QID: Q107311111
- محمد زاهد گُل (1435ھ = 2014ء)۔ "الطَّريقة البكطاشيَّة"۔ التحولات الفكريَّة في العالم الإسلامي: أعلام وكتب وحركات وأفكار، من القرن العاشر إلى الثاني عشر الهجري (1 ایڈیشن)۔ هيرندون: المعهد العالمي للفكر الإسلامي۔ ISBN:9781565646216۔ 8 جنوری 2020 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 ستمبر 2018ء
{{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في:|تاریخ رسائی=و|سال=(معاونت) - مصطفٰی ارمغان (2014)۔ التاريخ السرِّي للإمبراطوريَّة العُثمانيَّة: جوانب غير معروفة من حياة سلاطين بني عُثمان (بزبان عربی)۔ ترجمہ از عبد القادر عبد اللی (1 ایڈیشن)۔ بیروت: الدار العربية للعلوم ناشرون۔ ISBN:978-614-01-1122-6۔ OCLC:913807734۔ QID: Q119023002
- زهراء كرمان (18 اگست 2015)۔ "عواصم الدولة العثمانية الثلاث"۔ تُركيا پوست۔ 15 اگست 2018 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 18 اگست 2015ء
{{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في:|تاریخ رسائی=(معاونت) - أحمد يونم (2016ء)۔ "ظُهور البكتاشيَّة والإشراف على الإنكشاريَّة"۔ الإسلام المُوازي في تُركيا: البكتاشيَّة وجدل التأسيس (PDF) (1 ایڈیشن)۔ دبئی: مركز المسبار للدراسات والبحوث۔ 20 ستمبر 2018ء کو اصل (PDF) سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 ستمبر 2018ء
{{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في:|تاریخ رسائی=،|سال=، و|آرکائیو تاریخ=(معاونت)
- عُثْمانی تُرْکی اور فارِسی میں:
- سعد الدين بن حسن جان (١٨٦٢ - ١٨٦٣)۔ تاج التواريخ (بزبان عثمانی ترک)۔ إستانبول: طبعخانۀ عامره۔ ج ١۔ 2023-06-05 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
{{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في:|سال=(معاونت) - سیِّد مُحمَّد بن ابراهیم خراسانی؛ با همكارى: مريم سلطانى (۲۰۱۱)۔ ولايت نامه: گنجينه فرهنگ و عقايد علوى (بزبان فارسی)۔ ترجمہ از اسرا دوغان۔ تهران: انتشارات آراس
{{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في:|سال=(معاونت)
- تُرْکی اور اَن٘گْریزی میں:
- "Current Living Şehzades" (بزبان انگریزی). Official Ottoman Family Website. Archived from the original on 2011-09-16. Retrieved 2011-04-15.
- J. M'Gregor (Jul 1854). "The Race, Religions, and Government of the Ottoman Empire". The Eclectic Magazine of Foreign Literature, Science, and Art (بزبان انگریزی). New York: Leavitt, Trow, & Co. 32. OCLC:6298914. Archived from the original on 2020-02-24. Retrieved 2009-04-25.
{{حوالہ رسالہ}}: اسلوب حوالہ 1 کا انتظام: ref duplicates default (link) - "Girding on the Sword of Osman". New York Times (بزبان انگریزی). 18 Sep 1876. ISSN:0362-4331. Archived from the original on 2023-06-15. Retrieved 2009-04-19.
- Edward Shepherd Creasy (1910). Turkey (بزبان انگریزی). Oakland, California: University of California Libraries.
{{حوالہ کتاب}}: اسلوب حوالہ 1 کا انتظام: ref duplicates default (link) - Tahir Harimî Balcıoğlu (1940). Türk Tarihinde Mezhep Cereyanları (بزبان ترکی) (Birinci ed.). İstanbul: Kanaat Kitabevi.
{{حوالہ کتاب}}: اسلوب حوالہ 1 کا انتظام: ref duplicates default (link) - Claude Cahen (1968). Pre-Ottoman Turkey: a general survey of the material and spiritual culture and history (بزبان انگریزی). Translated by J. Jones-Williams. New York: Taplinger. Archived from the original on 2023-04-05.
{{حوالہ کتاب}}: اسلوب حوالہ 1 کا انتظام: ref duplicates default (link) - Angeliki E. Laiou (1972). Constantinople and the Latins: The Foreign Policy of Andronicus II, 1282–1328 (بزبان انگریزی). Harvard University Press. ISBN:9780674165359.
{{حوالہ کتاب}}: اسلوب حوالہ 1 کا انتظام: ref duplicates default (link) - Stanford Shaw (1976). History of the Ottoman Empire and modern Turkey (PDF) (بزبان انگریزی). New York: Cambridge University Press. Vol. 1. ISBN:9780521291668. Archived from the original (PDF) on 2015-09-25.
{{حوالہ کتاب}}: اسلوب حوالہ 1 کا انتظام: ref duplicates default (link) - Daniel Waley (1984). Later Medieval Europe (بزبان انگریزی). Longman. ISBN:0582492629. Archived from the original on 2019-12-15.
{{حوالہ کتاب}}: اسلوب حوالہ 1 کا انتظام: ref duplicates default (link) - Robert Fossier; Sarah Hanbury Tenison (1986). The Cambridge illustrated history of the Middle Ages. 3, 1250-1520 (بزبان انگریزی). Cambridge: Cambridge University Press. Archived from the original on 2022-04-10.
{{حوالہ کتاب}}: اسلوب حوالہ 1 کا انتظام: سال اور تاریخ (link) - Alexander Kazhdan, ed. (1991). Oxford Dictionary of Byzantium (بزبان انگریزی). Oxford University Press. ISBN:9780195046526.
{{حوالہ کتاب}}: اسلوب حوالہ 1 کا انتظام: ref duplicates default (link) - Donald MacGillivray Nicol (1993). The Last Centuries of Byzantium, 1261–1453 (بزبان انگریزی). Cambridge University Press. ISBN:9780521439916. Archived from the original on 2019-05-11.
- Leslie P. Peirce (1993). The Imperial Harem: Women and Sovereignty in the Ottoman Empire (بزبان انگریزی). Oxford University Press. ISBN:9780195086775. Archived from the original on 2019-07-15.
{{حوالہ کتاب}}: اسلوب حوالہ 1 کا انتظام: ref duplicates default (link) - Fahamettin Başar (1995). "Ertuğrul Gazi". Türkiye Diyanet Vakfı İslâm Ansiklopedisi (بزبان ترکی). Türkiye Diyanet Vakfı İslâm Araştırmaları Merkezi. Vol. 11. Archived from the original (PDF) on 2023-06-12.
{{حوالہ موسوعہ}}: اسلوب حوالہ 1 کا انتظام: ref duplicates default (link) - Mark C. Bartusis (1997). The Late Byzantine Army: Arms and Society 1204–1453 (بزبان انگریزی). University of Pennsylvania Press. ISBN:9780812216202. Archived from the original on 2019-06-05.
{{حوالہ کتاب}}: اسلوب حوالہ 1 کا انتظام: ref duplicates default (link) - Elizabeth A. Zachariadou (1997). Osmanlı Beyliği, 1300-1389 (بزبان ترکی). İstanbul: Türkiye Ekonomik ve Toplumsal Tarih Vakfı. ISBN:9789753330671.
{{حوالہ کتاب}}: اسلوب حوالہ 1 کا انتظام: ref duplicates default (link) - Necdet Sakaoğlu (1999). Bu Mülkün Sultanları (بزبان ترکی). İstanbul: Oglak. ISBN:9753292996.
- Necdet Sakaoğlu (1999). Yaşamları ve Yapıtlarıyla Osmanlılar Ansiklopedisi (بزبان ترکی). Yapı Kredi Kültür Sanat Yayıncılık. Vol. 2. ISBN:9789750800719.
{{حوالہ کتاب}}: اسلوب حوالہ 1 کا انتظام: ref duplicates default (link) - Opfell, Olga (2001). Royalty who wait: the 21 heads of formerly regnant houses of Europe (بزبان انگریزی). McFarland. ISBN:9780786450572. Archived from the original on 2022-04-03. Retrieved 2011-04-14.
- Donald Quataert (2005). The Ottoman Empire, 1700–1922 (بزبان انگریزی). Cambridge: Cambridge University Press. ISBN:9780521547826. Archived from the original on 2017-08-17.
{{حوالہ کتاب}}: اسلوب حوالہ 1 کا انتظام: ref duplicates default (link) - Caroline Finkel (2006). Osman's Dream: The Story of the Ottoman Empire 1300-1923 (بزبان انگریزی). London: John Murray. ISBN:9780719561122. Archived from the original on 2016-04-09.
{{حوالہ کتاب}}: اسلوب حوالہ 1 کا انتظام: ref duplicates default (link) - Frederick William Hasluck (2007) [First published 1929]. "XLVI. The Girding of the Sultan". In Margaret Hasluck (ed.). Christianity and Islam Under the Sultans (بزبان انگریزی). READ BOOKS. Vol. II. ISBN:9781406758870. Archived from the original on 2023-06-15. Retrieved 2009-05-02.
- Brookes, Douglas (2008). The concubine, the princess, and the teacher: voices from the Ottoman harem (بزبان انگریزی). University of Texas Press. DOI:10.7560/718425. ISBN:9780292783355. Archived from the original on 2023-02-16. Retrieved 2011-04-14.
- Necdet Sakaoğlu (2008). Bu mülkün kadın sultanları: Vâlide sultanlar, hâtunlar, hasekiler, kadınefendiler, sultanefendiler (بزبان ترکی). İstanbul: Oğlak Yayıncılık. ISBN:9789753296236. Archived from the original on 2023-02-06.
{{حوالہ کتاب}}: اسلوب حوالہ 1 کا انتظام: ref duplicates default (link) - Ali Anooshahr (2009). The Ghazi sultans and the frontiers of Islam: a comparative study of the late medieval and early modern periods (PDF) (بزبان انگریزی). London ; New York: Routledge. ISBN:9780203886656. Archived from the original (PDF) on 2016-03-05.
{{حوالہ کتاب}}: اسلوب حوالہ 1 کا انتظام: ref duplicates default (link) - "Prof. İnalcık: Osmanlı 1302'de kuruldu. Ünlü tarihçi Prof. Dr. Halil İnalcık, Osmanlı'nın devlet niteliğini 1302 yılında Yalova'daki Bafeus Zaferi sonrası kazandığını söyledi". NTV Haber (بزبان ترکی). 27.07.2009. Archived from the original on 15-12-2019. Retrieved 13 - 9 -2015.
{{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في:|تاریخ رسائی=and|تاریخ=(help) - Pazan, İbrahim (15 Sep 2009). "Osmanoğullarının yeni reisi Osman Bayezid Efendi". Netgazete (بزبان ترکی). Archived from the original on 2012-06-08. Retrieved 2011-04-16.
- Levent Kayapinar (2013). "Osman mı, Atman mı?". YouTube (بزبان ترکی). Haber Türk. Archived from the original on 2019-12-15. Retrieved 2015-09-13.
{{حوالہ ویب}}: اسلوب حوالہ 1 کا انتظام: ref duplicates default (link) - "Kuruluş Osman'ın ilk tanıtım fragmanı yayınlandı! Kuruluş Osman ne zaman başlayacak?". Hürriyet (بزبان ترکی). 9 Ekim 2019. Archived from the original on 1-12-2019. Retrieved 9-10-2019.
{{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في:|تاریخ=(help)
- اس مضمون کا انگریزی زبان میں مترجمہ منصفانہ جائزہ شدہ نسخہ بھی ملاحظہ کریں:
- Bassem Fleifel (30 Jan 2021). Eystein Thanisch (ed.). "Osman I, father of kings" (PDF). WikiJournal of Humanities (بزبان انگریزی). 4 (1): 1. DOI:10.15347/WJH/2021.001. ISSN:2639-5347. OCLC:8897038424. S2CID:233294716. QID: Q99519061. Archived from the original (PDF) on 2021-04-14.
{{حوالہ رسالہ}}: اسلوب حوالہ 1 کا انتظام: غیر نشان زد مفت ڈی او آئی (link)
بیرونی روابط
[ترمیم]| ویکی ذخائر پر عثمان اول سے متعلق سمعی و بصری مواد ملاحظہ کریں۔ |
- ڈاکٹر محمد عزیر (1939)۔ دولتِ عثمانیہ (پہلا ایڈیشن)۔ اعظم گڑھ: معارف پریس۔ ج 1
- ڈاکٹر محمد عزیر (1944)۔ دولتِ عثمانیہ (پہلا ایڈیشن)۔ اعظم گڑھ: معارف پریس۔ ج 2
- دُ لا ژوں کیئر (1938)۔ تاریخ دولت عثمانیہ [Histoire De L'empire Ottoman]۔ ترجمہ از مولوی محمد مارماڈیوک پکھتال؛ سید ہاشمی فریدآبادی (پہلا ایڈیشن)۔ حیدرآباد، دکن: جامعہ عثمانیہ سرکار عالی۔ ج 1
- دُ لا ژوں کیئر (1938)۔ تاریخ دولت عثمانیہ [Histoire De L'empire Ottoman]۔ ترجمہ از مولوی محمد مارماڈیوک پکھتال؛ سید ہاشمی فریدآبادی (پہلا ایڈیشن)۔ حیدرآباد، دکن: جامعہ عثمانیہ سرکار عالی۔ ج 2
عثمان اول پیدائش: 1258ء وفات: 1326ء
| ||
| شاہی القاب | ||
|---|---|---|
| ماقبل | ترک اوغوز قائی قبیلے کے سردار 1281ء–1299ء |
سلطان بنے |
| ' |
عثمانی سلطان 27 ستمبر 1299ء – 21 اگست 1326ء |
مابعد |
- عثمان اول
- 1258ء کی پیدائشیں
- 1320ء کی دہائی کی وفیات
- 1326ء کی وفیات
- 724ھ کی وفیات
- ارطغرل غازی
- ترک حکمران
- تیرہویں صدی کی پیدائشیں
- تیرہویں صدی کے عثمانی سلطان
- چودہویں صدی کے عثمانی سلطان
- سلطنت عثمانیہ
- سوغوت کی شخصیات
- عثمانی بازنطینی جنگوں کی عثمانی شخصیات
- عثمانیہ خاندان
- بانی فرماں روا
- 1250ء کی دہائی کی پیدائشیں
- عمر کے تنازعات