عثمان اول

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
عثمان اول
(تركية عثمانية میں: عثمان غازىخاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
BASA-516K-1-2080-1-Osman I.JPG 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1258  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
بیلیجک صوبہ،سوگوت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 1324 (65–66 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
بیلیجک صوبہ،سوگوت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مدفن بورصہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Ottoman flag.svg سلطنت عثمانیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
زوجہ مال خاتون
رابعہ بالا خاتون  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شریک حیات (P26) ویکی ڈیٹا پر
اولاد اورخان اول  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
والد ارطغرل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
والدہ خیمہ خاتون  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والدہ (P25) ویکی ڈیٹا پر
مناصب
سلطان سلطنت عثمانیہ   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
مدتِ منصب
1299  – 1324 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png  
اورخان اول  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
عثمان اول
عثمان اول کا مقبرہ

عثمان خان (عثمان بن ارطغرل، عثمان اول یا عثمان خان غازی) (عثمانی ترکی زبان: عثمان غازى) (پیدائش 1258ء، وفات 1326) سلطنت عثمانیہ کا بانی تھا۔

خودمختاری[ترمیم]

عثمان کے والد ارطغرل کی وفات کے بعد سلاجقہ روم کے دارالحکومت قونیہ پر منگولوں کے قبضے اور سلجوقی سلطنت کے خاتمے کے بعد عثمان کی جاگیر خودمختار ہوگئی جو بعد میں سلطنت عثمانیہ کہلائی۔

عثمان خان کی جاگیر کی سرحد قسطنطنیہ کی بازنطینی سلطنت سے ملی ہوئی تھی۔ یہ وہی بازنطینی حکومت تھی جو عربوں کے زمانے میں رومی سلطنت کے نام سے مشہور تھے جسے الپ ارسلان اور ملک شاہ کے زمانے میں سلجوقیوں نے باجگزار بنالیا تھا اب یہ بازنطینی سلطنت بہت کمزور اور چھوٹی ہوگئی تھی لیکن پھر بھی عثمان خان کی جاگیر کے مقابلے میں بہت بڑی اور طاقتور تھی۔ بازنطینی قلعہ دار عثمان کی جاگیر پر حملے کرتے رہتے تھے جس کی وجہ سے عثمان خان اور بازنطینی حکومت میں لڑائی شروع ہوگئی۔ عثمان نے ان لڑائیوں میں بڑی بہادری اور قابلیت کا ثبوت دیا اور بہت سے علاقے فتح کرلیے جن میں بروصہ کا مشہور شہر بھی شامل تھا۔ بروصہ کی فتح کے بعد عثمان کا انتقال ہوگیا۔

کردار[ترمیم]

عثمان بڑا بہادر اور عقلمند حکمران تھا۔ رعایا کے ساتھ عدل و انصاف کرتا تھا۔ اس کی زندگی سادہ تھی اور اس نے کبھی دولت جمع نہیں کی۔ مال غنیمت کو یتیموں اور غریبوں کاحصہ نکالنے کے بعد سپاہیوں میں تقسیم کردیتا تھا۔ وہ فیاض، رحم دل اور مہمان نواز تھا اور اس کی ان خوبیوں کی وجہ سے ہی ترک آج بھی اس کا نام عزت سے لیتے تھے۔ اس کےبعد یہ رواج ہوگیا کہ جب کوئی بادشاہ تخت پر بیٹھتا تو عثمان کی تلوار اس کی کمر سے باندھی جاتی تھی اور دعا کی جاتی تھی کہ خدا اس میں بھی عثمان ہی جیسی خوبیاں پیدا کرے۔

عثمان کا صدر مقام اسکی شہر تھا لیکن بروصہ کی فتح کے بعد اسے دارالحکومت قرار دیا گیا۔

خواب[ترمیم]

عثمان نے ایک خواب دیکھا کہ

"ایک زبردست درخت اس کے پہلو سے نمودار ہوا جو بڑھتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ اس کی شاخیں بحر و بر پر چھاگئیں۔ درخت کی جڑ سے نکل کر دنیا کے 4 بڑے دریا بہہ رہے تھے اور 4 بڑے بڑے پہاڑ اس کی شاخوں کو سنبھالے ہوئے تھے۔ اس کے بعدنہایت تیز ہوا چلی اور اس درخت کی پتیوں کا رخ ایک عظیم الشان شہر کی طرف ہوگیا۔ یہ شہر ایک ایسی جگہ واقع تھا جہاں دو سمندر اور دو براعظم ملتے تھے اور ایک انگوٹھی کی طرح دکھائی دیتا تھا۔ عثمان اس انگوٹھی کو پہننا چاہتا تھا کہ اس کی آنکھ کھل گئی"۔

عثمان کے اس خواب کو بہت اچھا سمجھا گیا اور بعد کے لوگوں نے اس کی تعبیر یہ بتائی کہ 4 دریا دریائے دجلہ، دریائے فرات، دریائے نیل اور دریائے ڈینیوب تھے اور 4 پہاڑ کوہ طور، کوہ بلقان، کوہ قاف اور کوہ اطلس تھے۔ بعد میں عثمان کی اولاد کے زمانے میں چونکہ سلطنت ان دریاؤں اور پہاڑوں تک پھیل گئی تھی اس لیے یہ خواب دراصل سلطنت عثمانیہ کی وسعت سے متعلق ایک پیشن گوئی تھی۔ شہر سے مطلب قسطنطنیہ کا شہر جسے عثمان تو فتح نہ کرسکا لیکن بعد ازاں فتح ہوگیا۔

عثمان کے بعد اس کی اولاد میں بڑے بڑے بادشاہ ہوئے جنہوں نے اس کے خواب کو سچا کر دکھایا۔ تاریخ اسلام میں کسی خاندان کی حکومت اتنے عرصے نہیں رہی جتنے عرصے تک آل عثمان کی حکومت رہی اور نہ کسی خاندان میں آل عثمان کے برابر قابل حکمران پیدا ہوئے۔ ان بادشاہوں کی مکمل فہرست دیکھنے کے لیے فہرست سلاطین عثمانی دیکھیں۔

بیرونی روابط[ترمیم]

عثمان اول
پیدائش: 1258 وفات: 1326
شاہی القاب
پیشرو 
ارطغرل
قایی قبیلے کے سردار
1281–1299
سلطان بنے
'
سلاطین عثمانی
17 جنوری 1299ء29 جولائی 1326ء
جانشین 
اورخان اول

سانچہ:عثمانی شجرہ نسب