کوسم سلطان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ماہ پیکر کوسم سلطان
(عثمانی ترک میں: كوسم سلطانخاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
کوسم سلطان کی اپنے فرزند کے ہمراہ تصویر
کوسم سلطان کی اپنے فرزند کے ہمراہ تصویر

دور حکومت 10 ستمبر 1623ء18 مئی 1632ء
(8 سال 8 ماہ 8 دن)
سلطنت مراد رابع
ساتھی ملکہ
(دوسرا عہد حکومت)
دور 8 اگست 1648ء2 ستمبر 1651ء
(3 سال 25 دن)
سلطنت محمد رابع
والدہ سلطان سلطنت عثمانیہ
دور 10 ستمبر 1623ء2 ستمبر 1651ء
(27 سال 11 ماہ 23 دن)
خاصکی سلطان سلطنت عثمانیہ
(زوجہ سلطان، شاہی ملکہ)
دور 26 نومبر 1605ء22 نومبر 1617ء
(11 سال 11 ماہ 27 دن)
معلومات شخصیت
پیدائشی نام اناستاسیا
پیدائش 1589ء

یونانی جزائر، تینوس، جمہوریہ وینس،
موجودہ جنوبی ایجیئن، یونان
وفات 2 ستمبر 1651ء
(عمر: 62 سال)

توپ قاپی محل، استنبول، سلطنت عثمانیہ، موجودہ ترکی
مدفن سلطان احمد مسجد، ضلع فاتح، استنبول، ترکی
شہریت Ottoman flag.svg سلطنت عثمانیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب سنی اسلام (سابقہ آرتھوڈوکس عیسائی)
شوہر سلطان احمد اول
(1610ء22 نومبر 1617ء)
اولاد مراد چہارم[1]،ابراہیم اول[1]،فاطمہ سلطان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
نسل شہزادہ محمد
مراد رابع
شہزادہ قاسم
شہزادہ سلیمان
ابراہیم اول
عائشہ سلطان (دختر احمد اول)
فاطمہ سلطان (دختر احمد اول)
گوہرخان سلطان
خانزادہ سلطان
دیگر معلومات
وجۂ شہرت والدہ سلطان، نائب السلطنت

ماہ پیکر کوسم سلطان (انگریزی زبان: Kösem Sultan) سلطنت عثمانیہ کی ملکہ اور والدہ سلطان تھیں۔ کوسم سلطان عثمانی تاریخ کی طاقتور و با اقتدار خواتین میں سے ایک تھیں۔ کوسم نے اقتدار کی یہ قوت تب حاصل کی جب وہ 1610ء میں عثمانی سلطان احمد اول کی محبوب زوجہ بنیں اور بعد ازاں قانونی بیوی ہونے کا درجہ حاصل ہوگیا۔ 1623ء میں وہ عثمانی سلطان مراد رابع کی تخت نشینی پر والدہ سلطان بنیں اور بعد ازاں اپنے دوسرے بیٹے سلطان ابراہیم اول کی تخت نشیں ہونے پر 1640ء میں دوبارہ اِسی عہدے پر فائز ہوئیں۔ ستمبر 1651ء تک وہ سلطنت عثمانیہ کی بااَثر ترین خواتین اور طاقتور والدہ سلطان کے طور پر جانی جاتی تھیں۔[2] عثمانی تاریخ میں سلطنت خواتین کے عہد میں کوسم سلطان تقریباً 46 سال تک سیاسی و انتظامی معاملات میں دخل انداز رہیں۔ کوسم سلطان نے تقریباً 9 عثمانی سلاطین کا عہد حکومت دیکھا۔ سترہویں صدی عیسوی کے نصفِ اول تک وہ سلطنت عثمانیہ کا طاقتور ستون اور بنیاد خیال کی جاتی تھیں۔2 ستمبر 1651ء کو ینی چری بغاوت میں اُنہیں قتل کردیا گیا۔ قتل کے بعد اُنہیں عثمانی تاریخ میں والدہ معظمہ، والدہ مقتولہ، والدہ شہیدہ کے نام سے یاد کیا گیا۔[3] عثمانی مؤرخین اُنہیں کوسم والدہ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔

ابتدائی حالات[ترمیم]

کوسم کا پیدائشی نام اناستاسیا تھا اور وہ 1589ء میں یونان کے جزائر کے ایک علاقہ یعنی جزیرہ تینوس میں پیدا ہوئیں۔نسلاً یونانی تھیں۔[4] غالباً خیال کیا جاتا ہے کہ کوسم کے والد جزیزہ تینوس کے ایک مسیحی راہب تھے۔[5][6] مؤرخین و محققین کی اکثریت نے اِس بات سے اختلاف کیا ہے کہ کوسم کے ابتدائی حالات پردہ اخفاء میں ہیں جن کے متعلق کچھ بھی جاننا ممکن نہیں ہے۔[7] مؤرخ امیلیا بوترووِچ کے مطابق کوسم یتیم تھی اور اُس کی عمر 15 سال تھی جب اُسے استنبول کے سلطانی حرم میں لایا گیا۔[8] عثمانی بوسنیائی گورنر نے اُسے حرم سلطانی کی خاطر غلام کی شکل میں استنبول روانہ کیا جبکہ وہ محض 15 سال کی تھی۔اگر یہ خیال درست ہو تو اِس لحاظ سے کوسم سلطانی حرم استنبول میں غالباً 1604ء میں لائی گئیں۔اسلام قبول کرلینے کے بعد اُس کا نام ماہ پیکر رکھا گیا جس کا معنی ہے: چاند کی شبیہ والی۔[9] بعد ازاں سلطان احمد اول کی جانب سے اُنہیں کوسم سلطان کا خطاب تفویض کیا گیا۔[10]

خاصکی سلطان[ترمیم]

سلطان احمد اول کے ابتدائی عہدِ حکومت میں حرم سلطانی کی خواتین کا اقتدار زیادہ بڑھا ہوا تھا۔ سابقہ سلطان محمد ثالث کی بیوی ملکہ صفیہ سلطان جو سلطان احمد اول کی دادی بھی تھیں، سلطنت عثمانیہ پر حد درجہ قابض و طاقتور ہوچکی تھیں۔ احمد اول نے اُن کا اثر و رسوخ ختم کرنے کے لیے جنوری 1604ء میں اُنہیں معزول کردیا اور مصطفیٰ اول کی معیت میں پرانے محل (اِیسکی محل، استنبول) بھجوا دیا گیا۔صفیہ سلطان کی معزولی کے بعد سلطان احمد اول کی والدہ خنداں سلطان والدہ سلطان بن گئیں اور حرم سلطانی اور سلطنت عثمانیہ کے حوالہ سے اُن کی سیاسی مشاورت قبول کرلی گئی۔ مگر خنداں سلطان بھی کم عرصہ اِس عہدہ پر فائز رہیں اور 26 نومبر 1605ء کو خنداں سلطان انتقال کرگئیں۔ سلطنت عثمانیہ کی دو با اقتدار ترین خواتین پے در پے حرم سلطانی اور سیاسی و انتظامی مشاورت سے دور ہوگئیں تو کوسم کے لیے اِقتدار میں آنے کا زریں موقع فراہم ہوگیا۔سترہویں صدی عیسوی کے پہلے عشرہ میں (غالباً 1610ء) میں وہ سلطان احمد اول کے حرم سلطانی کی خوبصورت ترین کنیزوں میں شامل ہوچکی تھیں۔ مورخین کے مطابق وہ کنیزوں میں دوسرے یا تیسرے رتبہ پر خیال کی جاتی تھیں۔[11]

بحیثیتِ خاصکی سلطان کوسم سلطان احمد اول کی محبوب زوجہ تھیں اور اُس نے کئی 5 بیٹوں اور 4 بیٹیوں کو جنم دیا۔ اُس کا مقام و مرتبہ حرم سلطانی میں کافی بلند ہوگیا تھا اور اُس کا روزینہ ایک ہزار سلطانی آقچہ تھا۔ اولاد کی مختلف شاہی خاندانوں میں شادی بیاہ سے سیاسی تعلقات اُستوار کیے گئے۔باب عالی کے انگریزی سفیر کونتارینی (Contarini) نے اپنے روزنامچہ میں لکھا ہے کہ:

" اُس (کوسم سلطان) کی اِطلاع پر سلطان احمد اول کی جانب سے ایک خاتون کو سزا دی گئی جو کوسم سے حسد کیا کرتی تھی کیونکہ اُس کا ایک بیٹا سلطان سے تھا جس کے متعلق وہ تخت شاہی کا دعویٰ کرتی تھی" (دراصل یہ ماہ فیروز خدیجہ سلطان تھی جس کا فرزند عثمان ثانی بعد ازاں عثمانی سلطان بنا)۔[11] 1610ء کے بعد سے مختلف سالوں میں کوسم سلطان احمد اول کی مشیر خاص کے طور پر بھی اپنی سیاسی و انتظامی قوت کو بڑھاتی رہی۔ متعدد بار اُس نے اپنا سیاسی مقام خطرے سے بچایا اور متعدد نقصانات برداشت کرنا پڑے۔[11] اُس کے ایک بہترین کاموں میں سے یہ ہے کہ اُس نے مصطفیٰ اول کو سلطان احمد اول کے ہاتھوں محفوظ رکھا کیونکہ عثمانی خاندان میں یہ اُصول رائج تھا کہ سلطان تخت نشینی کے وقت اپنے بھائیوں کو قتل کروا دیتا تھا تاکہ کوئی تخت کا دعویدار باقی نہ رہے۔ مصطفیٰ اول سے متعلق یہ اقدام کوسم کی سیاسی حکمت عملی کے باعث تھا کیونکہ سلطان احمد اول کی 1610ء تک کوئی نرینہ اولاد نہ تھی اور اگر سلطان بقیدِ حیات نہ رہتا اور مصطفیٰ اول قتل کیا جاچکا ہوتا تو عثمانی خاندان میں تخت نشیں ہونے کے لیے کوئی دوسرا شہزادہ نہ تھا۔

کوسم سلطان بحیثیتِ نائب السلطنت[ترمیم]

کوسم سلطان بحیثیتِ والدہ سلطان[ترمیم]

وفات[ترمیم]

کہا جاتا ہے کے کوسم سلطان کو توڑا خان نے زہر دیا تھا جس کی وجہ سے ان کی وفات هوئی

عطیات[ترمیم]

اولاد[ترمیم]

عثمانی شاہی شخصیت
پیشرو 
صفیہ سلطان
خاصکی سلطان
26 نومبر 1605–22 نومبر 1617
جانشین 
عائشہ سلطان (زوجہ مراد رابع)
پیشرو 
عالمہ سلطان
والدہ سلطان
10 ستمبر 1623 – 3 ستمبر 1651
جانشین 
تورخان خدیجہ سلطان

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 http://www.islamansiklopedisi.info/dia/pdf/c26/c260166.pdf
  2. Douglas Arthur Howard, The official History of Turkey, p. 195
  3. Necdet Sakaoğlu (2007)۔ Famous Ottoman women۔ Avea. p. 129.
  4. Finkel, Caroline (2005)۔ Osman's Dream: The Story of the Ottoman Empire, 1300–1923۔ New York: Basic Books. p. 197
  5. A.H. de Groot (1993)۔ s.v. Murad IV in The Encyclopaedia of Islam vol. VII. Brill. p. 597.
  6. Hogan, Christine (2006)۔ The Veiled Lands: A Woman's Journey Into the Heart of the Islamic World۔ Macmillan Publishers Aus. p. 74
  7. Baysun, M. Cavid, s.v. "Kösem Walide or Kösem Sultan" in The Encyclopaedia of Islam vol. V (1986)، Brill, p.272
  8. Amila Buturović; İrvin Cemil Schick (2007)۔ Women in the Ottoman Balkans: gender, culture and history۔ I.B.Tauris. p. 23.
  9. Redhouse Turkish/Ottoman-English Dictionary (14 ed.)۔ SEV Matbaacılık ve Yayıncılık A.Ş۔ 1997. p. 722.
  10. Davis, Fanny (1970)۔ The Palace of Topkapi in Istanbul۔ Scribner. pp. 227–228.
  11. ^ 11.0 11.1 11.2 Peirce, Leslie P. (1993)، The Imperial Harem: Women and Sovereignty in the Ottoman Empire، p.105