عبدالحمید اول

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
خلیفۃ الاسلام
امیرالمومنین
سلطان سلطنت عثمانیہ
خادم الحرمین الشریفین
عبدالحمید اول
عبدالحمید اول

خلیفۃ الاسلام
امیرالمومنین
سلطان سلطنت عثمانیہ
خادم الحرمین الشریفین
دور حکومت 21 جنوری 1774ء – 7 اپریل 1789ء
شریک حیات ہاں
سلطان سلطنت عثمانیہ
معلومات شخصیت
مقام پیدائش قسطنطنیہ  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 7 اپریل 1789[1][2]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قسطنطنیہ  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجۂ وفات عَجزِ قلب  ویکی ڈیٹا پر وجۂ وفات (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن استنبول  ویکی ڈیٹا پر مقام دفن (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Turkey.svg ترکی
Flag of the Ottoman Empire.svg سلطنت عثمانیہ  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب اسلام
زوجہ عائشہ سینہ پرور سلطان
نقش دل سلطان  ویکی ڈیٹا پر شریک حیات (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد مصطفی رابع، محمود ثانی  ویکی ڈیٹا پر اولاد (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد احمد ثالث  ویکی ڈیٹا پر والد (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والدہ رابعہ شرمی سلطان  ویکی ڈیٹا پر والدہ (P25) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
خاندان عثمانیہ خاندان
دیگر معلومات
پیشہ حاکم  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دستخط
عبدالحمید اول

عبد الحمید اول (20 مارچ 1725ء7 اپریل 1789ء) سلطنت عثمانیہ کے 27 ویں سلطان تھے۔ وہ سلطان احمد ثالث کے صاحبزادے تھے اور اپنے بھائی مصطفی ثالث کے بعد 21 جنوری 1774ء کو تخت سلطنت پر بیٹھے۔

عبد الحمید نے اپنی زندگی کے ابتدائی 43 سال کا بیشتر عرصہ حرم میں گزارj۔ سلطان بغاوت کے خطرے کے پیش نظر شہزادوں کو "حرم میں قید" کر دیا کرتے تھے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم والدہ رابعہ شرمی سلطان سے حاصل کی جنہوں نے عبد الحمید کو تاریخ اور خطاطی کے علوم سکھائے۔

حرم کی مقید زندگی گزارنے کے باعث عبد الحمید ریاستی معاملات پر کوئی گہری نظر نہیں رکھتے تھے اور اس طرح مشیروں کے رحم و کرم پر رہ گئے۔ البتہ حرم کی تربیت نے انہیں بہت مذہبی اور امن پسند طبیعت دی۔ ان کی حکومت کے آغاز کے اگلے ہی سال سلطنت عثمانیہ کو جنگ کولویا میں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا جس کے باعث اسے 1774ء میں ذلت آمیز معاہدہ کوچک کناری پر دستخط کرنا پڑے جو اس کے زوال کے آغاز کی واضح دلیل تھی۔

اپنی تمام تر ناکامیوں کے باوجود عبد الحمید اول کو سب سے رحم دل عثمانی سلطان تسلیم کیا جاتا ہے۔ ان کی مذہبی طبیعت کے باعث لوگ انہیں "ولی" کہا کرتے تھے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. عنوان : Абдуль-Гамидъ — شائع شدہ از: Entsiklopedicheskiy Leksikon. Tom 1, 1835
  2. عنوان : Абдул-Гамид I — شائع شدہ از: Brockhaus and Efron Encyclopedic Dictionary. Volume I, 1890
  3. ^ ا ب Dale H. Hoiberg (ویکی نویس.)۔ "Abdulhamid I"۔ Encyclopædia Britannica (اشاعت 15th۔)۔ Chicago, IL: Encyclopædia Britannica Inc.۔ صفحہ 22۔ آئی ایس بی این 978-1-59339-837-8۔


عبدالحمید اول
پیدائش: 20 مارچ 1725 وفات: 7 اپریل 1789
شاہی القاب
ماقبل 
مصطفی ثالث
سلطان سلطنت عثمانیہ
21 جنوری 1774 – 7 اپریل 1789
مابعد 
سلیم ثالث
مناصب سنت
ماقبل 
مصطفی ثالث
خلیفہ
21 جنوری 1774 – 7 اپریل 1789
مابعد 
سلیم ثالث

سانچہ:عثمانی شجرہ نسب