مراد رابع

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

سلطنت عثمانیہ کا مؤسس ثانی

مراد رابع
Murad IV.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 27 جولا‎ئی 1612[1]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قسطنطنیہ  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 8 فروری 1640 (28 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قسطنطنیہ  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن استنبول  ویکی ڈیٹا پر مقام دفن (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات طبعی موت  ویکی ڈیٹا پر طرزِ موت (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of the Ottoman Empire.svg سلطنت عثمانیہ  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
زوجہ عائشہ خاتون  ویکی ڈیٹا پر شریک حیات (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد احمد اول  ویکی ڈیٹا پر والد (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والدہ کوسم سلطان  ویکی ڈیٹا پر والدہ (P25) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
فاطمہ سلطان، گوہرخان سلطان (دختر احمد اول)، ابراہیم اول، عثمان ثانی، خانزادہ سلطان، شہزادہ قاسم  ویکی ڈیٹا پر بہن/بھائی (P3373) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
خاندان عثمانی خاندان  ویکی ڈیٹا پر خاندان (P53) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مناصب
سلطان سلطنت عثمانیہ   ویکی ڈیٹا پر منصب (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دفتر میں
10 ستمبر 1623  – 9 فروری 1640 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png مصطفی اول 
ابراہیم اول  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
دیگر معلومات
پیشہ حاکم، شاعر  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دستخط
Tughra of Murad IV.svg 

مراد اربع کو مراد چہارم کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ مراد اربع 1623ء سے 1640ء تک خلافت عثمانیہ کی باگ ڈور سنبھالنے والا سلطان تھا۔ وہ 26 یا 27 جولائی 1612ء کو استنبول میں پیدا ہوئے اور 8 یا 9 فروری 1640ء کو وفات پائی۔ وہ سلطان احمد اول کا بیٹا تھا۔ ان کی والدہ سلطان کوسم سلطان تھیں۔ مراد چہارم نے عائشہ خاتون سے شادی کی۔

سلطان مراد رابع کے آخری ایام میں بایزید کا قتل ایک اہم موڑ تھا، جو بغاوت کے الزام میں سلطان مراد رابع کے زیر عتاب آگیا،اگر چہ با یزید بغاوت سے لاتعلق تھا، مگر اس کی والدہ گلبہار خاتون شازش اور بغاوت میں متواتر پیش پیش تھی، یہ بات با یزید کو بہ خوبی معلوم تھی، مگر وہ خاموش رہا، اسی کی خاموشی قتل کا الزام بنی ، با یزید حقیقتاً سلطان مراد رابع کا بھائی تھا اور وہ کبھی بھی بغاوت جیسے کاموں میں ملوث نہ تھا، اکثر مراد رابع کے ساتھ باغیوں کے خلاف لڑتا اور بھرپور کارروائی کرتا۔ شہ زادہ با یزید کو محل سے فرار ہونے کے لیے وزیر نے پیش کش کی مگر شہ زادے انکار کر دیا اور کہا کہ جو حکم آقا نے دیا اسے بجا لاؤ ں گا شہ زادہ سلطان احمد کا بیٹا اور گلبہار خاتون لخت جگر تھا جبکہ کے مراد کا بھائی والد کی طرف سے تھا۔

سلطان مراد رابع نے تمام عمر باغیوں کی سرکوبی میں صرف کی ایک دن بھی آرام سے نہیں بیٹھا، ینی چری کی شرکسی کو فرو کرنے میں کامیاب ہوا،

اپنی آخری عمر میں اس نے تمام شہ زادوں کو قتل کا حکم دے دیا، مگر خوش قسمتی سے ابراہیم اول بچ نکلے جو بعد ازاں خلیفہ بنے، مراد کو یقین تھا کہ بعد میں ان کے ساتھ بھی عثمان خان جیسا  سلوک ہو سکتا ہے،

حوالہ جات[ترمیم]

  1. دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Murad-IV — بنام: Murad IV — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
مراد رابع
پیدائش: جون 16، 1612 وفات: فروری 9، 1640
شاہی القاب
ماقبل 
مصطفٰی اول
سلطان سلطنت عثمانیہ
ستمبر 10، 1623 – فروری 9، 1640
مابعد 
ابراہیم اول
مناصب سنت
ماقبل 
مصطفٰی اول
خلیفہ
ستمبر 10، 1623 – فروری 9، 1640
مابعد 
ابراہیم اول

سانچہ:عثمانی شجرہ نسب