محمود ثانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
خلیفہ
امیرالمومنین
سلطان سلطنت عثمانیہ
خادم الحرمین الشریفین
محمود ثانی
(عثمانی ترک میں: محمود ثانى)،(عثمانی ترک میں: Mahmûd-u sânîخاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
محمود ثانی

خلیفہ
امیرالمومنین
سلطان سلطنت عثمانیہ
خادم الحرمین الشریفین
دور حکومت جولائی28, 1808 – جولائی 1, 1839
ساتھی yes
سلطان سلطنت عثمانیہ
معلومات شخصیت
پیدائش 20 جولا‎ئی 1785  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
قسطنطنیہ،استنبول  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 1 جولا‎ئی 1839 (54 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
قسطنطنیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات سل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Ottoman flag.svg سلطنت عثمانیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام
طبی کیفیت سل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں بیماری (P1050) ویکی ڈیٹا پر
زوجہ بزم عالم سلطان
پرتیونیال سلطان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شریک حیات (P26) ویکی ڈیٹا پر
اولاد عبد المجید اول،عبد العزیز  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
والد عبدالحمید اول  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
والدہ نقش دل سلطان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والدہ (P25) ویکی ڈیٹا پر
بہن/بھائی
خاندان عثمانیہ خاندان
دستخط
محمود ثانی

محمود ثانی (پیدائش: 20 جولائی 1785ء، انتقال: یکم جولائی 1839ء) 30 ویں عثمانی سلطان تھے۔ سلیم ثالث کے بعد جس عثمانی سلطان نے اصلاح کا کام جاری رکھنے کی کوشش کی وہ محمود (1808ء تا 1839ء) ہی تھے۔ محمود سلطان عبدالحمید اول کا بیٹا تھا۔ بے امنی، سرکشی اور بغاوتوں سے اس کے دور کا آغاز ہوا۔ مصر میں مقامی مملوک سردار بے لگام ہو چکے تھے اور عرب میں نجد کے سعودی خاندان کو عروج حاصل ہوا اور سعودی افواج نے حجاز پر قبضہ کرکے عراق اور شام تک چھاپے مارنے شروع کردیے تھے۔ یونان نے بھی اپنی آزادی کا اعلان کر دیا۔ محمود نے 18 سال کے اندر تمام بغاوتوں کا خاتمہ کر دیا۔ مصر کے والی محمد علی نے مصر و شام میں امن قائم کر دیا۔ حجاز کو سعودی افواج سے واپس لے لیا اور 1826ء میں یونان کی بغاوت بھی فرو کردی گئی۔ اسی سال ینی چری کا بھی خاتمہ کر دیا گیا جس کے سردار اور سپاہی سلطنت کے لیے ایک مصیبت بن گئے تھے۔ محمود نے اب ان کی جگہ جدید طرز کی ایک نئی فوج تیار کی جس کی وردی یورپی طرز کی تھی اور پگڑی کی بجائے ترکی ٹوپی پہنتی تھی۔ سلطان نے بکتاشی اور درویشوں کا بھی خاتمہ کر دیا جو اصلاحات کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ تھے۔ اس کے علاوہ محمود نے جاگیرداری نظام پر بھی پابندیاں لگائیں اور یہ حکم جاری کیا کہ کوئی شخص مقدمے کے بغیر قتل نہ کیا جائے۔ سلیمان قانونی کے زمانے سے یہ قاعدہ ہو گیا تھا کہ سلاطین نے دربار میں آنا چھوڑ دیا تھا جہاں ساری کارروائی وزیر اعظم کی صدارت میں ہوتی تھی۔ محمود نے اس دستور کو توڑا اور پابندی سے دیوان میں آنا شروع کیا۔ ان اصلاحات کے بعد توقع تھی کہ سلطنت ترقی کی راہ پر گامزن ہوجاتی لیکن مغربی قوتیں خصوصاً روس یہ نہیں چاہتا تھا کہ سلطنت عثمانی پھر ایک بڑی طاقت بن جائے۔ چنانچہ انہوں نے سلطنت عثمانیہ کے معاملات میں مداخلت شروع کردی اور سلطنت سے جنگ چھیڑ دی۔ 20 اکتوبر 1827ء کو یونان میں نوارینو کے مقام پر روس، انگلستان اور فرانس کے متحدہ بحری بیڑے نے حملہ کرکے عثمانی بیڑے کو بالکل تباہ کر دیا۔ روسی فوجیں بلقان کی طرف بڑھتی ہوئی 1829ء میں ادرنہ تک پہنچ گئیں،سلطان کو روس سے پھر صلح کرنی پڑی۔ روسی دباؤ کے تحت میں یونان کو آزادی دے دی گئی۔ روسی افواج نے مفتوحہ علاقے واپس کردیے لیکن دریائے ڈینیوب کے دہانے اور دریا کے شمال میں واقع رومانیہ کے علاقے پر قابض ہو گیا۔ ادھر سے اطمینان ہوا تو 1830ء میں فرانس الجزائر پر قابض ہو گیا۔ 1831ء میں مصر کے والی محمد علی پاشا نے بغاوت کردی اور اس کی فوجیں ابراہیم پاشا کی قیادت میں شام کو فتح کرتی ہوئی ترکی کے قلب میں کوتاہیہ تک پہنچ گئیں اور یہ معلوم ہوتا تھا کہ اب ان کا جلد ہی استنبول پر بھی قبضہ ہو جائے گا۔ ان حالات میں محمود ثانی کا انتقال ہو گیا۔

محمود ثانی
پیدائش: جولائی 20, 1785 وفات: جولائی 1, 1839
شاہی القاب
پیشرو 
مصطفی رابع
سلطان سلطنت عثمانیہ
نومبر 15, 1808 – جولائی 1, 1839
جانشین 
عبد المجید اول
مناصب سنت
پیشرو 
مصطفی رابع
خلیفہ
نومبر 15, 1808 – جولائی 1, 1839
جانشین 
عبد المجید اول

سانچہ:عثمانی شجرہ نسب