شام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش


الجمهورية العربية السورية
عرب جمہوریہ شام
شام کا پرچم شام کا قومی نشان
پرچم قومی نشان
شعار: Wahdah, Hourriah, Ishtirakiah
(اتحاد، آزادی، اشتراکیت)
ترانہ: حماۃ الدیار
شام کا محل وقوع
دارالحکومت دمشق
عظیم ترین شہر دمشق
دفتری زبان(یں) عربی
نظامِ حکومت
صدر
وزیرِ اعظم
صدارتی جمہوریہ
بشار الاسد
محمد ناجی العطری
آزادی
- پہلا اعلانِ آزادی
دوسرا اعلانِ آزادی
تاریخِ آزادی
اقوام متحدہ اور فرانس سے
ستمبر 1936ء
یکم جنوری 1944ء
17 اپریل 1946ء
رقبہ
 - کل
 
 - پانی (%)
 
185180  مربع کلومیٹر (88)
71498 مربع میل
0.06
آبادی
 - تخمینہ:2007ء
 - کثافتِ آبادی
 
19,929,000 (54)
103 فی مربع کلومیٹر(101)
267 فی مربع میل
خام ملکی پیداوار
     (م۔ق۔خ۔)

 - مجموعی
 - فی کس
تخمینہ: 2007ء

86.59 ارب بین الاقوامی ڈالر (66 واں)
4500 بین الاقوامی ڈالر (109 واں)
انسانی ترقیاتی اشاریہ
   (تخمینہ: 2007ء)
0.724
(108) – متوسط
سکہ رائج الوقت شامی پونڈ (SYP)
منطقۂ وقت
 - عمومی
۔ موسمِ گرما (د۔ب۔و)
مشرقی یورپی وقت (EET)
(یو۔ٹی۔سی۔ 2)
مستعمل (یو۔ٹی۔سی۔ 3)
ملکی اسمِ ساحہ
    (انٹرنیٹ)
.sy
رمزِ بعید تکلم
  (کالنگ کوڈ)
+963

شام (عربی: سوريا، انگریزی: Syria) مشرق وسطیٰ کا ایک بڑا اور تاریخی ملک ہے۔ اس کا مکمل نام الجمهورية العربية السورية ہے۔ اس کے مغرب میں لبنان، جنوب مغرب میں اسرائيل، جنوب میں اردن، مشرق میں عراق اور شمال میں ترکی ہے۔ شام دنیا کے قدیم ترین ممالک میں سے ایک ہے۔ موجودہ دور کا شام 1946 میں فرانس کے قبضے سے آزاد ہوا تھا۔ اس کی آبادی دو کروڑ ہے جن میں اکثریت عربوں کی ہے۔ بہت تھوڑی تعداد میں اسیریائی، کرد، ترک اور دروز بھی شام میں رہتے ہیں۔

تاریخ[ترمیم]

قدیم زمانہ[ترمیم]

شام دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں کا مرکز رہا ہے۔ دنیا کے قدیم ترین سامی اقوام اور زبانوں کے آثار شام سے دستیاب ہوئے ہیں۔ مشرقی شام کے شہر عبیل ( عربی میں عبيل ، انگریزی میں Ebla ) سے 1975 میں ایک عظیم سامی سلطنت کے آثار ملے ہیں جس میں قدیم ترین سامی زبانوں اور تہذیب کا بہترین نوادراتی اثاثہ شامل ہے جس میں 17000 مٹی کی تختیاں ہیں۔ ان پر اس زمانے کی تجارت، ثقافت، زراعت وغیرہ کے بارے میں بیش قیمت معلومات درج ہیں۔ ان کا زمانہ 2500 قبل مسیح سے بھی پہلے کا ہے۔ شام پر یکے بعد دیگرے کنعانیوں، عبرانیوں ، اسیریائی لوگوں اور بابل کے لوگوں نے قبضہ کیا اور نت نئی تہذیبوں کو جنم دیا جن کو آج ہم دنیا کی قدیم تہذیبوں کے نام سے جانتے ہیں۔ بعد میں رومیوں ، بازنطینیوں ، یونانیوں ، ایرانیوں اور عربوں نے بھی شام پر حکومت کی۔

اسلامی عہد[ترمیم]

دمشق جو دنیا کے قدیم ترین آباد شہروں میں سے ایک ہے، 636 عیسوی میں مسلمانوں نے فتح کیا۔ بعد میں 661 عیسوی سے 750 عیسوی تک وہاں اموی سلطنت قائم رہی جس کی حدود ہسپانیہ سے وسط ایشیاء تک تھیں۔ 750 عیسوی میں عباسیوں نے امویوں کو سلطنت و خلافت سے بے دخل کر دیا اور سلطنت کا مرکز بغداد بن گیا۔ 1260 عیسوی میں مملوکوں نے اسے دوبارہ دارالخلافہ بنایا مگر امیر تیمور نے 1400 عیسوی میں دمشق اور گردو نواح کو تباہ کر دیا اور اس کے تمام نابغہ روزگار لوگوں اور ہنرمندوں کو اپنے ساتھ سمرقند لے گیا۔ اس کے بعد انیسویں صدی کے شروع تک یہ زیادہ تر عرصہ سلطنت عثمانیہ کے تحت رہا۔ 1918 میں وہاں فرانسیسیوں اور برطانویوں کی ایما پر ایک کٹھ پتلی حکومت قائم ہوئی جس کا نتیجہ یہ تھا کہ کچھ ہی عرصہ بعد شام کا زیادہ تر علاقہ فرانسیسیوں کے قبضہ میں چلا گیا۔

فرانسیسی اختیار[ترمیم]

شریف مکہ نے برطانوی سامراج کی ایما پر ترکی خلافت کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے 1918 عیسوی میں دمشق میں ایک قومی حکومت قائم کرنے میں مدد دی جو فیصل بن حسین نے قائم کی جس کے تحت شام کے کچھ علاقے، لبنان، اردن اور فلسطین کے کچھ علاقے آتے تھے۔ 1919 عیسوی میں انتخابات ہوئے اور ایک مجلس (پارلیمنٹ) قائم ہوئی مگر اصل طاقت برطانوی سامراج اور اس کے دوستوں کے پاس رہی۔ 1916 میں برطانیہ اور فرانس میں ایک خفیہ معاہدہ ہوا جسے سائیکس پیکوٹ معاہدہ کہتے ہیں۔ جس کے بعد مجلس اقوام عالم (لیگ آف نیشنز)، جو اقوام متحدہ کی ابتدائی شکل تھی، کے ذریعے یہ اقتدار فرانس کو سونپ دیا گیا۔ 1920 عیسوی میں فرانسیسی افواج نے شام پر مکمل قبضہ کر لیا اور شام کو 1921 میں چھ ریاستوں میں تقسیم کردیا جن میں لبنان بھی شامل تھا۔ فلسطین کے بارے میں انگریزوں نے 1917 میں ہی ایک خفیہ معاہدہ (بالفور کا معاہدہ) کیا تھا جس میں وہاں ایک یہودی ریاست کے قیام کی منظوری دی گئی تھی۔ یہ وہ عہد تھا جس میں فرانس ، برطانیہ اور دیگر سامراجی اور سرمایہ دار ممالک نے مشرق وسطی کو مختلف خفیہ معاہدوں کی مدد سے آپس میں بانٹ لیا تھا۔ اس اثناء میں شام میں کئی مزاحمتی تحریکوں نے جنم لیا۔ فرانس نے شام کو کئی دفعہ مصنوعی آزادی کا فریب دیا۔ 1932 میں شام میں پہلی دفعہ آزادی کا اعلان ہوا مگر پارلیمنٹ فرانس کی مرضی کی تھی اور تمام کابینہ ایسے لوگوں پر مشتمل تھی جو فرانس کے حواری تھے۔ اسی وجہ سے شام اس وقت ایک آزاد ملک نہ بن سکا۔ آزادی کی تحریکیں چلتی رہیں حتیٰ کہ یہ پارلیمنٹ فرانس نے 1939 میں دوسری جنگ عظیم کے بہانے ختم کر دی۔ فرانس خود 1940 میں جرمنی کے قبضہ میں آ گیا مگر شام پھر بھی آزاد نہ ہو سکا اور برطانوی اور فرانسیسی افواج نے 1941 میں شام کو روند ڈالا۔ اپنا قبضہ برقرار رکھنے کے لیے فرانس نے کئی پارلیمنٹیں بنوائی اور مصنوعی حکومتیں تشکیل دیں۔ ایسی ایک پارلیمنٹ 1943 میں تشکیل دی گئی جس کے ساتھ 1944 میں فرانس نے ایک معاہدہ آزادی کیا۔ مگر 1945 میں فرانسیسی افواج نے دمشق کے ارد گرد گھیرا ڈال کر زبردست بمباری کی اور پارلیمنٹ کی عمارت تباہ کر دی۔ اس بمباری میں شامی حکومت کے افراد کے علاوہ 2000 سے زیادہ عام لوگ، عورتیں اور بچے ھلاک ہوئے۔ اس وقت شام کے صدر شکری القوتلی تھے جن سے برطانوی سفیر نے ان سے ملاقات کی اور فرانس کے ساتھ صلح نامے پر دستخط یا کسی محفوظ مقام پر منتقلی کی تجویز دی جو انہوں نے رد کردی۔ ان کے اس عزم و حوصلے کے باعث ہی فرانس گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوا اور اسے اگلے سال شام خالی کرنا پڑا۔

آزادی[ترمیم]

دوسری جنگ عظیم کی وجہ سے فرانس اور برطانیہ دونوں کمزور ہو گئے تھے۔ فرانس نے جب یہ محسوس کیا کہ وہ مزید شام پر اپنا قبضہ نہیں رکھ سکتا تو اس نے شام کو آزادی دینے کا فیصلہ کیا۔ 1946 میں فرانس نے 1944 میں کیے جانے والے معاہدہ آزادی کو دوبارہ تسلیم کر لیا اور 15 اپریل 1946 کو فرانسیسی اور برطانوی افواج شام سے نکل گئیں۔ 17 اپریل 1946 کو شام نے آزادی کا اعلان کر دیا اور بیسویں صدی کا ایک آزاد ملک بن گیا۔ اس کا نام الجمہوریہ السوریۃ رکھا گیا۔ بعد میں 30 مارچ 1949 کو برطانیہ، فرانس اور سی آئی اے (CIA) کی مدد سے ایک فوجی بغاوت ہوئی جس نے حکومت پر قبضہ کر لیا اور کم و بیش وہی کہانی شروع ہو گئی جو نو آزاد مسلمان ملکوں کی مشترکہ داستان ہے۔

شام بطور آزاد ملک[ترمیم]

قنیطرہ کا ھسپتال۔اسرائیلی بمباری سے چھلنی

شامی افواج نے 1948 کی عرب اسرائیلی جنگ میں حصہ لیا جس کے بعد برطانیہ، فرانس اور امریکہ کی جاسوسی تنظیم سی آئی اے (CIA) نے اس کی حکومت کے خلاف سازشیں شروع کر دیں۔ اس سازش نے مارچ 1949 کی فوجی بغاوت کو جنم دیا۔ (1952 میں ایسی ہی فوجی بغاوت مصر میں بھی ہوئی)۔ جنرل حسنی الزعیم ( جنرل زعیم) نے اقتدار سنبھالا۔ جنرل زعیم 25 جولائی 1949 کو ایک استصواب رائے (ریفرینڈم) کے ذریعے 99 فی صد ووٹ لے کر صدر بن گیا۔ (بعینہ یہی کہانی پاکستان اور دوسرے کئی ممالک میں بھی دہرائی گئی ہے)۔ اگست میں ایک اور فوجی بغاوت ہوئی جس کے بعد جنرل زعیم کو قتل کر دیا گیا۔ ایک نئی حکومت بن گئی۔ اس حکومت نے عراق کے ساتھ اتحاد کی کوشش کی جسے برطانیہ، فرانس اور امریکہ کی جاسوسی تنظیم سی آئی اے (CIA) نے سخت ناپسند کیا حالانکہ عراق میں بھی انھی کی کٹھ پتلی حکومت قائم تھی۔ مگر وہ اسلامی ممالک کے اتحاد کو برداشت نہیں کر سکتے تھے چنانچہ اسی سال دسمبر میں ایک اور فوجی بغاوت میں جنرل ششکالی کی حکومت قائم ہوئی۔ اس حکومت نے 1953 میں ایک آئین بھی منظور کیا۔ عوامی دباو پر 1955 میں انتخابات ہوئے اور ایک غیر فوجی حکومت قائم ہو گئی۔ جس نے مصر کی حکومت سے تعلقات قائم کیے۔ روس کے ساتھ قریبی تعلقات قائم ہوئے۔ 22 فروری 1958 کو مصر اور شام نے اتحاد کیا اور ایک متحدہ ملک قائم ہو گیا جس کا نام متحدہ عرب جمہوریہ تھا۔ یاد رہے کہ مصر میں بھی امریکی اور برطانوی حمایت یافتہ قوتیں ختم کر کے جمال عبد الناصر برسراقتدار آچکے تھے جن کی وجہ سے یہ اتحاد ممکن ہوا۔ مگر 28 ستمبر 1961 میں سامراجی قوتوں کی ایما پر ایک اور فوجی بغاوت ہوئی جس نے یہ اتحاد ختم کر کے شام کو دوبارہ ایک الگ ملک کی حیثیت دے دی۔ ملک میں روسی حمایت یافتہ لوگوں اور سامراجی حمایت رکھنے والوں کے درمیان رسہ کشی جاری رہی اور 8 مارچ 1963 کو بعث پارٹی کے لوگوں نے اقتدار پر قبضہ کیا۔ بعث پارٹی نے تیل کی صنعت کو قومیا لیا اور عیسائی مشنری سکولوں کو بند کر دیا۔ 23 فروری 1966 کو اسی پارٹی کے حافظ الاسد نے حکومت پر قبضہ کر کے صدر امین حفیظ کو برطرف کر دیا۔ انہی حافظ الاسد کے بیٹے بشار الاسد آج کل شام کے حاکم ہیں۔ 1973 میں شام نے مصر کے ساتھ مل کر اسرائیل کے خلاف جنگ کی اور گولان کی پہاڑیوں کا کچھ حصہ آزاد کروایا ۔ اس موقع پر روس اور امریکہ دونوں ایک ہو گئے اور جنگ بندی میں اہم کردار ادا کیا۔ انہی ممالک نے مصر اور اسرائیل کی صلح کروائی اور مصر نے اسرائیل کو تسلیم کرلیا اس مین بنیادی کردار امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے ادا کیا جو خود ایک سابق جرمن یہودی تھا۔ مگر شام اس حد تک جانے پر تیار نہ ہوا اور اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا۔ 1976 میں شامی افواج لبنانی حکومت کی درخواست پر لبنان میں داخل ہوئیں اور لبنان میں عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان خانہ جنگی کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔ 10 جون 2000 کو حافظ الاسد کا انتقال ہو گیا اور ان کے بیٹے بشار الاسد نے صدارت سنبھال لی۔ انھوں نے سابقہ حکومت کی نسبت شخصی آزادیوں میں بہتری پیدا کی ہے۔ آج کل وہ امریکہ کے ساتھ سرد جنگ میں الجھے ہوئے ہیں۔ 16 جون 2006 کو انھوں نے ایران کے ساتھ ایک دفاعی معاہدہ بھی کیا ہے جو بہت اہم ہے اور اس کے ذریعے ہتھیاروں کا تبادلہ بھی ممکن ہے۔

انتظامی تقسیم[ترمیم]

بائیں طرف دیے گئے نقشے کے مطابق شام کو چودہ مختلف صوبوں میں تقسیم کیا گیا ہے جنہیں محافظات (محافظہ کی جمع) کہا جاتا ہے۔

  1. دمشق (عربی : محافظة دمشق ۔ انگریزی :Damascus)
  2. ریف دمشق (عربی: محافظة ريف دمشق ۔انگریزی: Rif Dimashq)
  3. قنیطرہ (عربی : محافظة القنيطرة ۔ انگریزی:Quneitra)
  4. درعا ( عربی : محافظة درعا ۔ انگریزی:Daraa)
  5. سویدا ( عربی: محافظة السويداء ۔ انگریزی : As Suwaydā)
  6. حمص ( عربی : محافظة حمص ۔ انگریزی : Homs )
  7. طرطوس ( عربی:محافظة طرطوس ۔ انگریزی:Tartous)
  8. اذقیہ ( عربی : محافظة اللاذقية ۔ انگریزی:Latakia )
  9. حماہ ( عربی: محافظة حماة ۔ انگریزی :Hama )
  10. ادلب ( عربی : محافظة إدلب ۔ انگریزی: Idlib )
  11. حلب ( عربی: محافظة حلب ۔ انگریزی: Aleppo)
  12. رقہ ( عربی: محافظة الرقة ۔ انگریزی: Ar Raqqah )
  13. دیرالزور (عربی: محافظة دير الزور۔انگریزی : Deir ez-Zor)
  14. حسکہ (عربی : محافظة الحسكة ۔انگریزی :Al Hasakah)
شام کی انتظامی تقسیم

انٹرنیٹ[ترمیم]

شام میں ٹیلی مواصلات اور ٹیکنالوجی کی وزارت کی طرف سے نگرانی کر رہے ہیں. اس کے علاوہ، حکومت کو انٹرنیٹ تک رسائی کی تقسیم میں ایک لازمی کردار ادا کرتا ہے. انٹرنیٹ پر سنسر شپ کے قوانین کی وجہ سے، 13،000 انٹرنیٹ کے کارکنوں نے مارچ 2011 اور اگست 2012 کے درمیان گرفتار کیا گیا ہے.[1]>[2]
خطا در حوالہ: <ref> ٹیگس موجود ہیں، لیکن <references/> ٹیگ موجود نہیں

‘‘http://ur.wikipedia.org/w/index.php?title=شام&oldid=839107’’ مستعادہ منجانب