عبد العزیز اول

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
عبد العزیز عثمانی
Abdülaziz of the Ottoman Empire
خلیفہ
امیرالمومنین
سلطان سلطنت عثمانیہ
خادم الحرمین الشریفین
Sultan Abdulaziz of the Ottoman Empire.jpg
عبدالعزیز اول 1867ء میں
دور حکومت 2 جون 1861ء30 مئی 1876ء
پیشرو عبد المجید اول
جانشین مراد خامس
سلطان سلطنت عثمانیہ
ملکہ در رینیو قادین افندی
ادا دل قادین افندی
گوحیری قادین افندی
حیران دل قادین افندی
نشیرک قادین افندی
شاہی خاندان عثمانی خاندان
والد محمود ثانی
والدہ پرتیونیال سلطان
پیدائش 9 فروری 1830ءاستنبول
وفات 4 جون 1876ء (عمر: 46 سال شمسی)بمقام چراغاں محل، استنبول، سلطنت عثمانیہ، موجودہ ترکی
مذہب اسلام
طغرا

عبد العزیز اول (Abdülaziz I) یا عبد العزیز عثمانی (Abdülaziz of the Ottoman Empire) عثمانی ترکی زبان: عبد العزيز) (پیدائش: 9 فروری 1830ء – انتقال: 4 جون 1876ء) سلطنت عثمانیہ کے 32 ویں سلطان تھے جنہوں نے 25 جون 1861ء سے 30 مئی 1876ء تک عنان اقتدار سنبھالی۔ وہ سلطان محمود ثانی کے صاحبزادے تھے اور 1861ء میں اپنے بھائی عبد المجید اول کے بعد تخت سلطانی پر براجمان ہوئے۔

آپ نے بچپن میں روایتی تعلیم حاصل کی۔ جسمانی طور پر آپ بہت قوی تھے اور کشتی میں دیگر پہلوانوں کو پچھاڑنے کی صلاحیت بھی رکھتے تھے۔ موسیقی اور مصوری کے بھی شائق تھے۔ آپ کی تیار کردہ کچھ موسیقی عثمانی دربار کی موسیقی کی لندن اکادمی نے "عثمانی دربار میں یورپی موسیقی" نامی البم میں جمع کر رکھی ہے۔

دور اقتدار[ترمیم]

عبد المجید اول کے عہد میں شروع ہونے والی اصلاحات "تنظیمات"کا سلسلہ ان کے عہد میں بھی جاری رہا۔ 1864ء میں نئی ولایتوں (صوبوں) کا قیام عمل میں آیا اور 1868ء میں ایک ریاستی انجمن بھی قائم کی گئی۔ آپ کے دور ہی میں عوامی تعلیم کے نظام کو فرانسیسی طرز پر منظم کیا گیا اور جامعہ استنبول کو جدید خطوط پر استوار کیا گیا۔

سلطان عبد العزیز نے بلقان کے صوبوں میں بغاوتوں کے باعث روسی سلطنت سے دوستانہ تعلقات استوار کیے۔

عبد العزیز کے دور حکومت میں سلطنت عثمانیہ کے فرانس اور برطانیہ سے بھی دوستانہ تعلقات قائم ہوئے اور وہ پہلے یورپی سلطان تھے جنہوں نے، 1867ء میں، مغربی یورپ کا دورہ کیا جس میں انگلستان کا دورہ بھی شامل تھا۔ انہوں نے یہ سفر ایک نجی ریل کار کے ذریعے کیا جو آج بھی استنبول کے “آر ایم کے عجائب گھر” میں محفوظ ہے۔

1875ء میں سلطنت تقریباً دیوالیہ ہو گئی۔ اس کی وجہ جہاں ایک جانب افواج کی جدید خطوط پر تربیت و تنظیم نو تھی وہیں اس میں سلطان کے شاہانہ و پرتعیش طرز زندگی اور عظیم تعمیراتی منصوبہ جات کا بھی ہاتھ تھا۔ علاوہ ازیں 1875ء میں بوسنیا و ہرزیگووینا اور 1875ء میں بلغاریہ میں بغاوتیں ہوئیں۔ اور 11 مئی 1876ء کو دارالخلافہ میں بغاوت کے نتیجے میں 29 اور 30 مئی 1876ء کی درمیانی شب سلطان کو استعفٰی دینے پر مجبور کر دیا گیا۔ 4 جون کو ان کی لاش محل میں پائی گئی۔ ان کی موت کے حقیقی اسباب معلوم نہیں ہو سکے اور خود کشی یا قتل کو ان کے موت کا سبب سمجھا جاتا ہے۔

کارنامے[ترمیم]

‏عبدالعزیز کا سب سے بڑا کارنامہ عثمانی بحریہ کو جدید خطوط پر استوار کرنا تھا۔ 1875ء میں عثمانی بحریہ میں 21 بحری جنگی جہاز اور 173 دیگر جہاز شامل تھے اس لحاظ سے وہ برطانیہ اور فرانس کی بحری افواج کے بعد دنیا کی تیسری سب سے بڑی بحری فوج تھی۔

ان کے دور میں ہی پہلی مرتبہ بذریعہ ریل سلطنت کے مختلف شہروں میں رابطہ قائم کیا گیا اور اس مقصد کے لیے استنبول میں سرکیجی ریلوے اسٹیشن کا قیام عمل میں لایا گیا جو آج بھی استنبول میں اسی آب و تاب کے ساتھ قائم ہے۔

ان کے دور میں استنبول میں آثار قدیمہ کا عجائب گھر قائم ہوا۔ ان کے عہد میں ہی 1863ء میں ترکی میں پہلی مرتبہ ڈاک ٹکٹیں شائع کی گئیں اور ترکی نے 1875ء میں یونیورسل پوسٹل یونین میں بانی رکن کی حیثیت سے شمولیت اختیار کی۔

حوالہ جات[ترمیم]

عبد العزیز اول
پیدائش: 9 فروری 1830 وفات: 4 جون 1876
شاہی القاب
پیشتر
عبد المجید اول
سلطان سلطنت عثمانیہ
25 جون 1861 – 30 مئی 1876
اگلا
مراد خامس
مناصب سنت
پیشتر
عبد المجید اول
خلیفہ
25 جون 1861 – 30 مئی 1876
اگلا
مراد خامس

سانچہ:عثمانی شجرہ نسب