عبد المجید اول

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
خلیفہ
امیرالمومنین
سلطان سلطنت عثمانیہ
خادم الحرمین الشریفین
عبد المجید اول
عبد المجید اول

خلیفہ
امیرالمومنین
سلطان سلطنت عثمانیہ
خادم الحرمین الشریفین
دور حکومت 2 جولائی 1839ء – 2 جون 1861ء
(21 سال 11 ماہ)
ساتھی yes
معلومات شخصیت
پیدائش 23 اپریل 1823  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
قسطنطنیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 25 جون 1861 (38 سال)[1][2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
قسطنطنیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات سل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
مدفن استنبول  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Ottoman flag.svg سلطنت عثمانیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام
زوجہ شوق افزا سلطان
تیر مجگان سلطان
گل جمال قادین افندی
رحیمہ پریستو سلطان
گلستان قادین افندی (1854–1861)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شریک حیات (P26) ویکی ڈیٹا پر
اولاد محمد پنجم،عبدالحمید دوم،محمد ششم،مراد پنجم،جمیلہ سلطان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
والد محمود دوم  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
والدہ بزم عالم سلطان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والدہ (P25) ویکی ڈیٹا پر
بہن/بھائی
خاندان عثمانی خاندان
اعزازات
Legion Honneur Chevalier ribbon.svg لیجن آف آنر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وصول کردہ اعزازات (P166) ویکی ڈیٹا پر
دستخط
عبد المجید اول

عبد المجید اول (ترکی زبان: Abdü’l-Mecīd-i evvel) (پیدائش: 23 اپریل 1823ء – انتقال: 25 جون 1861ء) سلطنت عثمانیہ کے 31 ویں سلطان تھے جنہوں نے 2 جولائی 1839ء کو اپنے والد محمود ثانی کی جگہ تخت سلطانی سنبھالا۔ ان کا دور حکمرانی قوم پرستوں کی تحریکوں کے آغاز کا زمانہ تھا۔ سلطان نے "عثمانیت" (انگریزی: Ottomanism) کے فروغ کے ذریعے قوم پرستی کو روکنے کی ناکام کوشش کی حالانکہ انہوں نے نئے قوانین اور اصلاحات کے ذریعے غیر مسلم اور غیر ترک اقوام کو عثمانی معاشرے میں ضم کرنے کی بھرپور سعی کی۔ انہوں نے مغربی یورپ کی اہم سیاسی قوتوں برطانیہ اور فرانس کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کیے اور انہی اتحادیوں کے ذریعے روس کے خلاف جنگ کریمیا لڑی۔ 30 مارچ 1856ء کو معاہدۂ پیرس کے ذریعے سلطنت عثمانیہ کو یورپی اقوام کا باقاعدہ حصہ قرار دیا گیا۔ عبد المجید کی سب سے بڑی کامیابی تنظیمات کا اعلان اور نفاذ تھا جس کا آغاز ان کے والد محمود ثانی نے کیا تھا۔ اس طرح 1839ء سے ترکی میں جدیدیت کا آغاز ہو گیا۔

تعلیم و تربیت[ترمیم]

عبد المجید نے یورپی طرز پر تعلیم حاصل کی اور وہ فرانسیسی زبان پر مکمل عبور رکھتے تھے اور ادب اور کلاسیکی موسیقی میں بھی انہیں رغبت تھی۔ وہ اپنے والد محمود ثانی کی طرح اصلاحات کو پسند کرتے تھے اور اس حوالے سے خوش قسمت تھے کہ انہیں مصطفی رشید پاشا، محمد امین علی پاشا اور فواد پاشا جیسے ترقی پسند وزیر ملے۔ اپنے پورے دور حکومت میں وہ اصلاحات مخالف قدامت پسندوں کے خلاف جدوجہد کرتے رہے۔ عبد المجید پہلے عثمانی سلطان تھے جو مخصوص دنوں میں، خصوصاً جمعہ کو، ذاتی دلچسپی لے کر براہ راست عوامی شکایات سنتے تھے۔ انہوں نے تنظیمات کے نفاذ کے بعد عوام پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے سلطنت بھر کا دورہ بھی کیا اور اس سلسلے میں 1844ء میں ازمیت، مدانیہ، بروصہ، گیلی پولی، چناق قلعہ، لیمنوس، لیسبوس اور ساکز کے دورے کیے۔ انہوں نے 1846ء میں بلقان کے صوبوں کا بھی دورہ کیا۔

اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ ان کے دور میں سلطنت عثمانیہ جدیدیت کی راہ پر گامزن ہوئی اور سلطنت میں امن قائم ہوا لیکن اس جدیدیت کی سلطنت عثمانیہ کو بہت مہنگی قیمت چکانی پڑی۔ تاریخ میں پہلی بار جنگ کریمیا کے دوران سلطنت عثمانیہ کو اگست 1854ء میں غیر ملکی قرضہ لینا پڑا۔ اس کے بعد 1855ء، 1858ء اور 1860ء میں بھی سلطنت نے قرضے لیے اور یوں معاشی طور پر قرضوں میں جکڑتی گئی۔ دوسری جانب شاہ کے اخراجات میں بھی بے پناہ اضافہ ہوا جس کا اندازہ استنبول میں دولمہ باغچہ جیسے عظیم الشان محل کی تعمیر سے بھی ہوتا ہے جس پر 35 ٹن سونے کی لاگت آئی۔

وفات[ترمیم]

عبد المجید 39 سال کی عمر میں 25 جون 1861ء کو تپ دق کے باعث انتقال کر گئے۔ ان کی جگہ عبد العزیز اول تخت سلطانی پر بیٹھے۔ انہوں نے سوگواران میں متعدد بیٹے چھوڑے جن میں سے مراد پنجم، عبد الحمید ثانی، محمد پنجم اور محمد ششم نے بعد ازاں سلطان کی حیثیت سے امور سلطنت سنبھالے۔

اہم اصلاحات[ترمیم]

  • پہلے عثمانی کاغذی نوٹوں کا اجرا (1840ء)
  • فوج کی تنظیمِ نو (1843ء1844ء)
  • عثمانی قومی ترانہ اور قومی پرچم کا انتخاب (1844ء)
  • فرانسیسی طرز پر مالیاتی نظام کی تنظیمِ نو
  • فرانسیسی طرز پر ہی ضابطۂ فوجداری و دیوانی کی تنظیمِ نو
  • مجلسِ معارفِ عمومیہ کا قیام جو پہلی عثمانی پارلیمان کا نمونہ تھی (1876ء)
  • پہلی بار جدید جامعات و تعلیمی اداروں کا قیام (1848ء)
  • غیر مسلموں پر عائد اضافی محصولات کا خاتمہ (1856ء)
  • غیر مسلموں کو فوج میں شمولیت کی اجازت (1856ء)
  • معیشت کو مضبوط کرنے کے لیے انتظامی امور میں بہتری کے لیے اقدامات
  • عبد المجید کے دور میں پہلی بار پگڑی کی جگہ فاس (جو بعد ازاں ترکی ٹوپی کہلائی) کو اختیار کیا گیا۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ربط: جی این ڈی- آئی ڈی — اخذ شدہ بتاریخ: 27 اپریل 2014 — اجازت نامہ: سی سی زیرو
  2. دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Abdulmecid-I — بنام: Abdulmecid I — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  3. Hoiberg، Dale H., ویکی نویس (2010)۔ "Abdulmecid I"۔ Encyclopedia Britannica۔ I: A-ak Bayes (اشاعت 15th)۔ Chicago, IL: Encyclopedia Britannica Inc.۔ صفحہ 22۔ آئی ایس بی این 978-1-59339-837-8۔ 
  4. There are sources that state his birth date as the 23rd of April
عبد المجید اول
پیدائش: 23 اپریل 1823 وفات: 25 جون 1861
شاہی القاب
پیشرو 
محمود ثانی
سلطان سلطنت عثمانیہ
2 جولائی 1839 – 25 جون 1861
جانشین 
عبد العزیز اول
مناصب سنت
پیشرو 
محمود ثانی
خلیفہ
2 جولائی 1839 – 25 جون 1861
جانشین 
عبد العزیز اول

سانچہ:عثمانی شجرہ نسب