محمد ثالث

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
محمد ثالث
III. Mehmet.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش 26 مئی 1566  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مانیسا  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 22 دسمبر 1603 (37 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قسطنطنیہ  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن استنبول  ویکی ڈیٹا پر مقام دفن (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of the Ottoman Empire.svg سلطنت عثمانیہ  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
زوجہ خنداں سلطان
عالمہ سلطان  ویکی ڈیٹا پر شریک حیات (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد احمد اول، مصطفی اول  ویکی ڈیٹا پر اولاد (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد مراد سوم  ویکی ڈیٹا پر والد (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والدہ صفیہ سلطان  ویکی ڈیٹا پر والدہ (P25) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
خاندان عثمانی خاندان  ویکی ڈیٹا پر خاندان (P53) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مناصب
سلطان سلطنت عثمانیہ   ویکی ڈیٹا پر منصب (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دفتر میں
15 جنوری 1595  – 22 دسمبر 1603 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png مراد سوم 
احمد اول  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
عملی زندگی
پیشہ حاکم  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دستخط
Tughra of Mehmed III.svg
 
محمد ثالث

محمد ثالث (عثمانی ترکی: محمد ثالث Meḥmed-i sālis, ترکی: III.Mehmed) (پیدائش 26 مئی 1566ء22 دسمبر 1603ء) 1595ء سے اپنی وفات تک سلطنت عثمانیہ کا فرمانروا رہا۔ وہ اپنے والد مراد سوم کی جگہ تخت سلطانی پر بیٹھا۔

سلطنت عثمانیہ میں تخت سنبھالنے کے ساتھ ہی "قتل برادران" کی قبیح رسم کا آغاز سلطان محمد فاتح کے دور میں ہوا اور آہستہ آہستہ یہ رسم زور پکڑتی گئی۔ اس کی بنیادی وجہ نئے سلطان کے لیے بغاوت کے خطرات کو کم کرنا تھا لیکن محمد ثالث کا تخت سنبھالنا برادر کشی کے اس سلسلے میں ایک سیاہ باب کا اضافہ تھا اور 27 بھائیوں کا قتل محمد ثالث کو عثمانی تاریخ میں ناپسندیدہ کرداروں میں شامل کرنے کے لیے کافی تھا۔ اس نے اپنی بیس سے زائد بہنوں کو بھی قتل کیا۔ اس میں حکمرانی کا کوئی گُر نہ تھا اور تمام تر اختیارات اس کی والدہ صفیہ سلطان کے ہاتھ میں تھے۔ اس کے دور کا اہم واقعہ ہنگری میں آسٹریا اور عثمانیوں کے درمیان جنگ تھی جو 1596ء سے 1605ء تک جاری رہی۔ جنگ میں عثمانیوں کی شکست کے باعث سلطان کو افواج کی قیادت خود سنبھالنی پڑی اور وہ سلیمان اول کے بعد میدان جنگ میں اُترنے والا پہلا عثمانی حکمران تھا۔ اس کی افواج نے 1596ء میں اگری فتح کیا اور جنگ کرسزتس میں ہیبسبرگ اور ٹرانسلوانیا کی افواج کو شکست دی۔ اگلے سال معالجین نے سلطان کو کثرت شراب نوشی اور بسیار خوری سے پیدا ہونے والے امراض کے باعث میدان جنگ میں اترنے سے منع کر دیا۔ ان جنگوں میں فتوحات کے باعث محمد ثالث کے دور میں زوال پزیر سلطنت عثمانیہ کو کوئی اور دھچکا نہیں پہنچا۔

محمد ثالث
پیدائش: مئی 26, 1566 وفات: دسمبر 22, 1603[عمر 37]
شاہی القاب
ماقبل 
مراد ثالث
سلطان سلطنت عثمانیہ
جنوری 15, 1595 – دسمبر 22, 1603
مابعد 
احمد اول
مناصب سنت
ماقبل 
مراد ثالث
خلیفہ
جنوری 15, 1595 – دسمبر 22, 1603
مابعد 
احمد اول

سانچہ:عثمانی شجرہ نسب

  1. https://pantheon.world/profile/person/Mehmed_III — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017