سلیم اول

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
سلیم اول
Selim I
خلیفہ
امیرالمومنین
فہرست سلاطین عثمانی سلطنت عثمانیہ
خادم الحرمین الشریفین
Yavuz Sultan I. Selim Han.jpg
سلطان سلطنت عثمانیہ
دور حکومت 26 مئی 1512 – 22 ستمبر 1520
پیشرو بایزید ثانی
جانشین سلیمان اعظم
ملکہ عائشہ حفصہ سلطان
نسل سلیمان اول
اویس پاشا
خدیجہ سلطان
بیہان سلطان
شاہ سلطان
فاطمہ سلطان
حفصہ سلطان
شاہی خاندان سلطنت عثمانیہ
والد بایزید ثانی
والدہ گل بہار خاتون
پیدائش 10 اکتوبر 1465/1466/1470
اماسیا
وفات 22 ستمبر 1520
تکیرداغ، چورلو
تدفین یاوز سلیم مسجد، ضلع فاتح، استنبول
مذہب اسلام
طغرا

سلیم اول (المعروف سلیم یاووز) (عثمانی ترکی: سليم اوّل, جدید ترکی: I.Selim یا Yavuz Sultan Selim) (پیدائش: 10 اکتوبر 1465ء، انتقال 22 ستمبر 1520ء) 1512ء سے 1520ء تک سلطنت عثمانیہ کے سلطان تھے۔ سلیم کے دور میں ہی خلافت عباسی خاندان سے عثمانی خاندان میں منتقل ہوئی اور مکہ و مدینہ کے مقدس شہر عثمانی سلطنت کا حصہ بنے۔ اس کی سخت طبیعت کے باعث ترک اسے "یاووز" یعنی "درشت" کہتے ہیں۔

تخت نشینی[ترمیم]

انہوں نے اپنے والد بایزید ثانی کو تخت سے اتارا اور خود حکومت سنبھالی۔ قانون کے مطابق انہوں نے تخت سنبھالتے ہی اپنے تمام بھائیوں اور بھتیجوں کو قتل کر ڈالا

فتوحات[ترمیم]

سلیم اول سلطنت عثمانیہ کے عظیم فاتحین میں سے ایک تھا اور اس کی خصوصیت یہ تھی کہ اس نے مغرب کی جانب پیش قدمی کے بجائے مشرق کو میدان جنگ بنایا کیونکہ وہ سمجھتا تھا کہ جب تک سلطنت عثمانیہ کے برابر میں صفوی اور مملوک حکومتیں قائم ہیں تب تک یورپ میں پیش قدمی نہیں کی جاسکتی۔ اس نے جنگ مرج دابق اور جنگ ردانیہ میں مملوکوں کو شکست دے کر شام، فلسطین اور مصر کو عثمانی قلمرو میں شامل کیا۔ مملوکوں کی اس شکست سے حجاز اور اس میں واقع مکہ و مدینہ کے مقدس شہر بھی عثمانی سلطنت کے زیر اثر آگئے۔ اس فتح کے بعد قاہرہ میں مملوکوں کے زیر نگیں آخری عباسی خلیفہ المتوکل ثالث سلیم اول کے ہاتھوں خلافت سے دستبردار ہوگیا اور یوں خلافت عباسی خاندان سے عثمانی خاندان کو منتقل ہوگئی۔

سلیم نے اپنے لئے حاکم الحرمین کے بجائے خادم الحرمین الشریفین کا لقب پسند کیا اور خلافت حاصل کرکے خلیفہ و امیر المومنین کہلایا۔

مصر سے نمٹنے کے بعد سلیم نے ایران کی صفوی سلطنت کے خلاف جنگ کا آغاز کیا اور شاہ اسماعیل اول کو جنگ چالدران میں بدترین شکست دی اور صفویوں کے دارالحکومت تبریز پر بھی قبضہ کرلیا تاہم اس نے قدرت پانے کے باوجود ایران کو اپنی سلطنت میں شامل نہیں کیا۔ سلیم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اہل تشیع سے شدید نفرت کرتا تھا اور ایران میں اہل تشیع کی اکثریت کو ایران پر قبضہ نہ کرنے کی اہم ترین وجہ سمجھا جاتا ہے۔

اپنے دور حکومت میں سلیم نے عثمانی سلطنت کا رقبہ 25 لاکھ مربع کلومیٹر سے 65 لاکھ مربع کلومیٹر تک پہنچادیا۔

مصر کی مہم سے واپسی کے بعد سلیم نے جزیرہ رہوڈس پر چڑھائی کی تیاری شروع کی تاہم اس دوران وہ بیمار پڑ گیا اور 9 سال تک پایۂ تخت سنبھالنے کے بعد انتقال کرگیا۔ اس وقہ اس کی عمر 54 سال تھی۔

سلیم فارسی اور ترک دونوں زبانوں میں شاعری بھی کرتا تھا۔

سلیم ایک بہترین فاتح ہونے کے باوجود ظالم شخص تھا اس لئے ترک اسے یاووز یعنی مہیب کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ اس کا دور حکومت مختصر لیکن فتوحات کے لحاظ سے سب سے اہم تھا۔

نگار خانہ[ترمیم]

سلیم اول
پیدائش: اکتوبر 10, 1465 وفات: ستمبر 22, 1520
شاہی القاب
پیشتر
بایزید ثانی
سلطان سلطنت عثمانیہ
اپریل 25, 1512 – ستمبر 22, 1520
اگلا
سلیمان اول
دعویدار
پیشتر
بایزید ثانی
— محض خطاب —
خلیفہ
اپریل 25, 1512 – 1517
خلیفہ بنے 1517
مناصبِ اہل سنت
پیشتر
المتوکل ثالث
خلیفہ
1517 – ستمبر 22, 1520
اگلا
سلیمان اول