سلیم اول

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سلیم اول
Yavuz Sultan I. Selim Han.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 10 اکتوبر 1470  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
اماسیا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 22 ستمبر 1520 (50 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
چورلو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات سرطان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
مدفن یاوز سلیم مسجد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Ottoman flag.svg سلطنت عثمانیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
زوجہ عائشہ حفصہ سلطان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شریک حیات (P26) ویکی ڈیٹا پر
اولاد سلیمان اعظم،  خدیجہ سلطان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
والد بایزید ثانی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
والدہ گل بہار خاتون  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والدہ (P25) ویکی ڈیٹا پر
خاندان عثمانی خاندان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں خاندان (P53) ویکی ڈیٹا پر
مناصب
سلطان سلطنت عثمانیہ   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
دفتر میں
5 مئی 1512  – 2 اکتوبر 1520 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png بایزید ثانی 
سلیمان اعظم  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
عملی زندگی
پیشہ حاکم  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
دستخط
Tughra of Selim I.JPG 

سلیم اول المعروف سلیم یاووز (عثمانی ترکی: سليم اوّل، جدید ترکی: I.Selim یا Yavuz Sultan Selim) (پیدائش: 10 اکتوبر 1470ء انتقال 22 ستمبر 1520ء) 1512ء سے 1520ء تک سلطنت عثمانیہ کے سلطان تھے۔ سلیم کے دور میں ہی خلافت عباسی خاندان سے عثمانی خاندان میں منتقل ہوئی اور مکہ و مدینہ کے مقدس شہر عثمانی سلطنت کا حصہ بنے۔ اس کی سخت طبیعت کے باعث ترک اسے "یاووز" یعنی "درشت" کہتے ہیں۔

تخت نشینی[ترمیم]

انہوں نے اپنے والد بایزید ثانی کو تخت سے اتارا اور خود حکومت سنبھالی۔ قانون کے مطابق انہوں نے تخت سنبھالتے ہی اپنے تمام بھائیوں اور بھتیجوں کو قتل کر ڈالا

فتوحات[ترمیم]

سلیم اول سلطنت عثمانیہ کے عظیم فاتحین میں سے ایک تھا اور اس کی خصوصیت یہ تھی کہ اس نے مغرب کی جانب پیش قدمی کی بجائے مشرق کو میدان جنگ بنایا کیونکہ وہ سمجھتا تھا کہ جب تک سلطنت عثمانیہ کے برابر میں صفوی اور مملوک حکومتیں قائم ہیں تب تک یورپ میں پیش قدمی نہیں کی جاسکتی۔ اس نے جنگ مرج دابق اور جنگ ردانیہ میں مملوکوں کو شکست دے کر شام، فلسطین اور مصر کو عثمانی قلمرو میں شامل کیا۔ مملوکوں کی اس شکست سے حجاز اور اس میں واقع مکہ و مدینہ کے مقدس شہر بھی عثمانی سلطنت کے زیر اثر آ گئے۔ اس فتح کے بعد قاہرہ میں مملوکوں کے زیر نگیں آخری عباسی خلیفہ المتوکل ثالث سلیم اول کے ہاتھوں خلافت سے دستبردار ہو گیا اور یوں خلافت عباسی خاندان سے عثمانی خاندان کو منتقل ہو گئی۔

سلیم نے اپنے لیے حاکم الحرمین کی بجائے خادم الحرمین الشریفین کا لقب پسند کیا اور خلافت حاصل کرکے خلیفہ و امیر المومنین کہلایا۔

مصر سے نمٹنے کے بعد سلیم نے ایران کی صفوی سلطنت کے خلاف جنگ کا آغاز کیا اور شاہ اسماعیل اول کو جنگ چالدران میں بدترین شکست دی اور صفویوں کے دار الحکومت تبریز پر بھی قبضہ کر لیا تاہم اس نے قدرت پانے کے باوجود ایران کو اپنی سلطنت میں شامل نہیں کیا۔ سلیم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اہل تشیع سے شدید نفرت کرتا تھا اور ایران میں اہل تشیع کی اکثریت کو ایران پر قبضہ نہ کرنے کی اہم ترین وجہ سمجھا جاتا ہے۔

اپنے دور حکومت میں سلیم نے عثمانی سلطنت کا رقبہ 25 لاکھ مربع کلومیٹر سے 65 لاکھ مربع کلومیٹر تک پہنچادیا۔

مصر کی مہم سے واپسی کے بعد سلیم نے جزیرہ رہوڈس پر چڑھائی کی تیاری شروع کی تاہم اس دوران وہ بیمار پڑ گیا اور 9 سال تک پایۂ تخت سنبھالنے کے بعد انتقال کرگیا۔ اس وقہ اس کی عمر 54 سال تھی۔

سلیم فارسی اور ترک دونوں زبانوں میں شاعری بھی کرتا تھا۔

سلیم ایک بہترین فاتح ہونے کے باوجود ظالم شخص تھا اس لیے ترک اسے یاووز یعنی مہیب کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ اس کا دور حکومت مختصر لیکن فتوحات کے لحاظ سے سب سے اہم تھا۔

نگار خانہ[ترمیم]

سلیم اول
پیدائش: اکتوبر 10, 1465 وفات: ستمبر 22, 1520
شاہی القاب
ماقبل 
بایزید ثانی
سلطان سلطنت عثمانیہ
اپریل 25, 1512 – ستمبر 22, 1520
مابعد 
سلیمان اول
دعویدار
ماقبل 
بایزید ثانی
— محض خطاب —
خلیفہ
اپریل 25, 1512 – 1517
خلیفہ بنے 1517
مناصب سنت
ماقبل 
المتوکل ثالث
خلیفہ
1517 – ستمبر 22, 1520
مابعد 
سلیمان اول