بازنطینی سلطنت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
بازنطینی سلطنت

مشرقی سلطنت روم۔ چوتھی صدی عیسوی میں سلطنت روم دو حصوں ، مغربی اور مشرقی میں تقسیم ہوگئی۔ مشرقی حصہ اپنے دارالحکومت بازنطین کے نام پر بازنطینی سلطنت کہلایا۔ (330ء میں بازنطینی شہنشاہ قسطنطین نے بازنطیم کا نام اپنے نام پر قسطنطنیہ رکھ دیا اور 1930ء میں ترکی حکومت نے بدل کر استنبول کر دیا۔

بازنطینی سلطنت میں شام ، ایشیائے کوچک ، مصر ، تھریس اوریونان کے ممالک شامل تھے۔ پانچویں صدی عیسوی میں بلقان کے سلاؤ قبائل اور جرمنی کے ونڈال قوموں نے قسطنطنیہ پر کئی حملے کیے۔ چھٹی صدی عیسوی اس کے عروج کا زمانہ تھا۔ خصوصاً شہنشاہ جسٹینین کا دور حکومت لیکن ساتویں صدی میں یہ زوال پزیر ہوئی اور شمالی اطالیہ کے میدان لمبارڈی میں بسنے والوں ، ایرانیوں اور عربوں نے اس پر پے درپے حملے کیے جس کے باعث یہاں طوائف الملوکی اور انتشار کا دور دورہ رہا۔ ساتویں صدی کے اختتام پر شمالی افریقا ، مصر، شام ، فلسطین اور قبرص وغیرہ عربوں نے قبضے میں چلے گئے اور بازنطینی سلطنت حقیقت میں یونانی سلطنت بن کر رہ گئی۔ آخر 1453ء میں سلطنت عثمانیہ کے فرمانروا سلطان محمد فاتح کی افواج نے قسطنطنیہ فتح کرلیا اور آخری بازنطینی بادشاہ قسطنطین یاز دہم مارا گیا۔ فتح قسطنطنیہ سے زمانہ وسطی کا خاتمہ اور یورپ میں نشاۃ ثانیہ کا آغاز ہوا۔

تسمیہ[ترمیم]

فہرست قیصر بازنطینی روم[ترمیم]

اس عنوان کے لئے مزید پڑھیں، فہرست قیصر بازنطینی روم

ابتدائی تاریخ و پہلا دور عروج[ترمیم]

رومن سلطنت کی تقسیم[ترمیم]

مغربی صوبوں کی تسخیر نو[ترمیم]

پہلا دور زوال[ترمیم]

مسلمانوں کے خلاف جنگیں[ترمیم]

بلغاریہ سلطنت کے خلاف جنگیں[ترمیم]

کیویائی روس کے ساتھ تعلقات[ترمیم]

دوسرا دور عروج[ترمیم]

دوسرا دور زوال[ترمیم]

بحران اور پارہ سازی[ترمیم]

صلیبی جنگیں[ترمیم]

بارہویں صدی حیاتِ نو[ترمیم]

تیسرا دور زوال اور انتشار[ترمیم]

سلطنت عثمانیہ و فتح قسطنطنیہ[ترمیم]

عواقب و نتائج[ترمیم]