مشرقی سلطنت روم۔ چوتھی صدی عیسوی میں سلطنت روم دو حصوں ، مغربی اور مشرقی میں تقسیم ہوگئی۔ مشرقی حصہ اپنے دارالحکومت بازنطین کے نام پر بازنطینی سلطنت کہلایا۔ (330ء میں بازنطینی شہنشاہ قسطنطین نے بازنطیم کا نام اپنے نام پر قسطنطنیہ رکھ دیا اور 1930ء میں ترکی حکومت نے بدل کر استنبول کر دیا۔
بازنطینی سلطنت میں شام ، ایشیائے کوچک ، مصر ، تھریس اوریونان کے ممالک شامل تھے۔ پانچویں صدی عیسوی میں بلقان کے سلاؤ قبائل اور جرمنی کے ونڈال قوموں نے قسطنطنیہ پر کئی حملے کیے۔ چھٹی صدی عیسوی اس کے عروج کا زمانہ تھا۔ خصوصاً شہنشاہ جسٹینین کا دور حکومت لیکن ساتویں صدی میں یہ زوال پذیر ہوئی اور شمالی اطالیہ کے میدان لمبارڈی میں بسنے والوں ، ایرانیوں اور عربوں نے اس پر پے درپے حملے کیے جس کے باعث یہاں طوائف الملوکی اور انتشار کا دور دورہ رہا۔ ساتویں صدی کے اختتام پر شمالی افریقہ ، مصر، شام ، فلسطین اور قبرص وغیرہ عربوں نے قبضے میں چلے گئے اور بازنطینی سلطنت حقیقت میں یونانی سلطنت بن کر رہ گئی۔ آخر 1453ء میں سلطنت عثمانیہ کے فرمانروا سلطان محمد فاتح کی افواج نے قسطنطنیہ فتح کرلیا اور آخری بازنطینی بادشاہ قسطنطین یاز دہم مارا گیا۔ فتح قسطنطنیہ سے زمانہ وسطی کا خاتمہ اور یورپ میں نشاۃ ثانیہ کا آغاز ہوا۔