افلاطون

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
افلاطون
(إغريقية میں: Πλάτωνخاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
Head Platon Glyptothek Munich 548.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 427 ق م[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 347 ق م[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
استاد سقراط[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں استاد (P1066) ویکی ڈیٹا پر
نمایاں شاگرد ارسطو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شاگرد (P802) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ فلسفی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
تصنیفی زبان قدیم یونانی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں بولی، لکھی اور دستخط کی گئیں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
مؤثر سقراط،بارامانیاس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مؤثر (P737) ویکی ڈیٹا پر
ویب سائٹ
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آئی ایم ڈی  بی - آئی ڈی (P345) ویکی ڈیٹا پر

افلاطون(Plato)، جس کا اصل نام ارسٹوکلیز بتایا جاتا ہےیونان کے موثر ترین فلسفیوں میں سے ایک ہے۔

پیدائش[ترمیم]

افلاطون کی پیدائش 427،428 ق م میں ایتھنز یونان میں پیدا ہوا۔

مکالمات[ترمیم]

افلاطون سقراط کا شاگرداور متعدد فلسفیانہ مکالمات کا خالق اور ایتھنز میں اکادمی(اکیڈمی) نامی ادارے کا بانی تھا جس میں بعد ازاں ارسطو نے تعلیم حاصل کی۔ افلاطون نے اکیڈمی میں وسیع پیمانے پر تعلیم دی اور بہت سے فلسفیانہ موضوعات، جن میں سیاست، اخلاقیات، مابعدالطبیعیات اور علمیات شامل ہیں، پر لکھا۔ افلاطون کے مکالمات اس کی اہم ترین تحریریں ہیں، اگرچہ اس سے بعض خطوط بھی تک پہنچے ہیں۔ یقین کیا جاتا ہے کہ افلاطون کے تمام مصدقہ مکالمات صحیح سلامت ہم تک آئے ہیں۔

تاہم بعض ماہرین نے افلاطون سے منسوب مکالمات (First Alcibiades, Clitophon ) کو مشکوک قرار دیا ہے یا ان کے مطابق بعض تحریریں سراسر غلط طور پر اس سے منسوب کر دی گئیں (Demodocus, Second Alcibiades)۔ جبکہ افلاطون سے منسوب تمام خطوط کو بھی جھوٹا قرار دیا گیا ہے، تاہم ساتویں خط کو ان دعووں سے مستثنی قرار دیا گیا ہے۔

سقراط کے اثرات[ترمیم]

سقراط افلاطون کے مکالمات کا کم و بیش مرکزی کردار ہے۔ مگریہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ تحریر کردہ دلائل میں سے کون سے افلاطون کے اور کونسے سقراط کے ہیں۔کیونکہ سقراط نے بذات خود کچھ تحریر نہیں کیا۔اس مسئلے کو عموما ”سقراطی مسئلہ” کہا جاتا ہے۔ تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ افلاطون اپنے استاد سقراط کے خیالات سے بے حد متاثر تھا، اور اس کی ابتدائی تحریروں میں بیان کردہ تمام خیالات اور نظریات ماخوذ ہیں۔

وفات[ترمیم]

افلاطون 348،349 ق م میں فوت ہوا۔[3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 مصنف: افلاطون — مدیر: Luc Brisson — صفحہ: IX — ISBN 978-2-08-121810-9
  2. http://law2.umkc.edu/faculty/projects/ftrials/socrates/plato&soc.html
  3. حکایت فلسفہ (ول ڈیوراں)مترجم مولوی احسان احمد،صفحہ 8

مزید دیکھیے[ترمیم]

کتب خانہ افلاطون

بیرونی روابط[ترمیم]

http://plato-dialogues.org/plato.htm

http://librivox.org/euthyphro-by-plato

http://plato.stanford.edu/entries/plato

http://www.ellopos.net/elpenor/greek-texts/ancient-greece/guthrie-plato.asp