سقراط

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
سقراط
Socrates Louvre.jpg
پیدائش 470/469 BC[1]
Deme Alopece، ایتھنز
وفات 399 ق م (عمر تقریبا۔ 71 سال)
ایتھنز
قومیت یونانی
عہد قدیم فلسفہ
علاقہ مغربی فلسفہ
مکتب فکر Classical Greek
شعبہ عمل
علمیات، ethics
اہم نظریات
سقراطی طریقہ کار، سقراطی المیہ

سقراط [ق م 470–399] (Socrates) دنیائے فلسفہ کا سب سے عظیم اور جلیل المرتبت معلم ہے، جس نے پانچویں صدی قبل مسیح میں یونان میں مغربی فلسفہ کی بنیاد رکھی۔ میلاد مسیح سے 470 سال پہلے یونان کے معروف شہر ایتھنز میں پیدا ہوا۔ اس کی ابتدائی زندگی کے بارے میں تحریری شواہد ناپید ہیں۔ تاہم افلاطون اور مابعد فلاسفہ کے حوالے بتاتے ہیں کہ وہ ایک مجسمہ ساز تھا، جس نےحب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہوکر کئی یونانی جنگوں میں حصہ لیا اور دادِ شجاعت پائی۔ تاہم اپنے علمی مساعی کی بدولت اُسے گھر بار اور خاندان سے تعلق نہ تھا۔احباب میں اس کی حیثیت ایک اخلاقی و روحانی بزرگ کی سی تھی۔ فطرتاً سقراط، نہایت اعلیٰ اخلاقی اوصاف کا حامل، حق پرست اور منصف مزاج استاد تھا۔ اپنی اسی حق پرستانہ فطرت اور مسلسل غور و فکر کے باعث اخیر عمر میں اس نے دیوتاووں کے حقیقی وجود سے انکار کردیا، جس کی پاداش میں جمہوریہ ایتھنز کی عدالت نے 399 قبل مسیح میں اسے موت کی سزا سنائی۔اور سقراط نے حق کی خاطر زہر کا پیالہ پی لیا۔

خاندان[ترمیم]

سقراط کا باپ سنگ تراش اور ماں دایہ تھی۔ دونوں مل کر جو کماتے تھے وہ ان کی گزربسر کے لیے کافی تھا۔ سقراط کو نوجوانی میں کبھی فکرمعاش لاحق نہ ہوئی۔ اس نے متداول فلسفہ میں درک حاصل کیا۔ ابتدا میں اسے طبیعی فلسفہ سے لگاؤ تھا جو رفتہ رفتہ بالکل سرد پڑ گیا اور اس کے بجائے یہ معلوم کرنے کی چیٹک لگی کہ زندگی بسر کرنے کی وہ روش کون سی ہے جسے انسانوں کے لیے سب سے مستحسن قرار دیا جا سکتا ہے۔

خاصی عمر کا ہو جانے کے بعد اس نے زین تھیپی نامی ایک عورت سے شادی کی۔ اس کا نام ظاہر کرتا ہے کہ وہ کسی اچھے خاندان سے تعلق رکھتی تھی اور جہیز میں کچھ نہ کچھ نقدی بھی لائی ہوگی۔ زین تھیپی کی بدمزاجی اور جھونجھل کے افسانے بہت مشہور ہیں۔ تندخوئی کے یہ قصے شاید روایتی ہوں۔

سقراط ایسا شوہر یقینا نہیں ہوگا جس کے ساتھ نباہ کرنا آسان ہو۔ یہ حقیقت بھی ملحوظ رکھنی چاہیے کہ زین تھیپی کو سقراط کی غیردنیادارانہ مصروفیات کی وجہ سے تنگی ترشی سے گزارا کرنا پڑتا ہوگا اور اس طرح کی آئے دن کی جھکندن آدمی کو چراہندا بنانے کے لیے کافی تھی۔ سقراط نے اپنے آبائی پیشے پر توجہ نہیں دی تھی۔

طریقہ تعلیم[ترمیم]

سقراط نے دنیا کو ایک نئے انداز مبحث سے متعارف کروایا۔ اس کا طریق بحث فسطائی قسم کا تھا، مگر اسے مناظرہ نہیں کہہ سکتے کیونکہ وہ اپنی بحث سے اخلاقی نتائج تک پہنچتا اور حقیقت ثابت کرتا۔ وہ پے در پے سوال کرتا اور پھر دوسروں پر ان کے دلائل کے تضادات عیاں کرتا اور یوں مسائل کی تہہ تک پہنچ کر منطقی و مدلل جواب سامنے لاتا۔

مثلا:

سچائی کیا ہے؟
عدل کیا ہے؟
انصاف کیا ہے؟ وغیرہ

طرز فکر[ترمیم]

سقراط کی زندگی کے بارے میں کوئی زیادہ مواد میسر نہیں ۔ سقراط کے دوستوں اور شاگردوں نے اس کی زندگی کے بارے میں جو کچھ اپنی تحریروں میں بیان کیا ہے۔ اس سے ہی سقراط کا سوانحی خاکہ تیار کرنے کی کوشش کی گئی۔سقراط کے لڑکپن کی ذہانت اور تخلیقی صلاحیتوں کے حوالے سے ایک واقعہ سقراط کے بچپن کے دوست اور ہم مکتب کرائیٹو نے بیان کیا ہے۔ کرائیٹو کا کہنا ہے کہ میں اور سقراط ایک دن کمھار کے چاک کے پاس سے گزر رہے تھے۔ کمھار نے نرم نرم ملائم مٹی کا ایک لوندا چاک پر رکھا، چاک کو تیزی سے گھمایا اور مٹی کے لوندے میں اپنے دونوں ہاتھوں کو کچھ اس طرح سے حرکت دی کہ دیکھتے ہی دیکھتے ایک خوبصورت مرتبان مٹی کے لوندے کی جگہ پر نمودار ہو گیا۔ سقراط نے کہا ابھی تو چاک پرمٹی کا لوندا تھا یہ خوبصورت مرتبان آخر کہاں سے آ گیا پھر خود ہی کہنے لگا ہاں یہ مرتبان کمہارکے ذہن میں تھا اور پھر ہاتھوں کے ہنر سے منتقل ہو کر اس چاک پر آ گیا۔ سقراط نے نتیجہ اخذ کیا کہ کوئی بھی مادی چیز جیسے مکان، کرسی یا کوئی مجسمہ یا تصویر پہلے انسان کے ذہن میں آتی ہے، پھر انسان اپنے ذہن کے اس نقشے کو مادی شکل میں ڈھالتا ہے۔یہ ایک زبردست اور غیرمعمولی دریافت تھی۔سقراط نے ہنر، فن اور تخلیق کے بارے میں جان لیا تھا۔ سقراط کے قریبی دوست فیڈو، کرائیٹو اور خاص شاگرد افلاطون کا کہنا ہے کہ سقراط پر بعض اوقات ایک ایسی کیفیت طاری ہو جاتی تھی،جس کو الفاظ میں پورے طور پر بیان نہیں کیا جا سکتا۔ ۔ سقراط خیال کرتا تھا کہ الہامی نشان دیوتائوں کی جانب سے اس کی رہنمائی کرتا ہے کیونکہ دیوتائوں کو تمام چیزوں کا علم ہے۔بچپن سے سقراط جب جوانی میں داخل ہوا، تو پھر وہ الہامی نشان کی کیفیت کو سمجھنے لگا، اسے یقین ہونے لگا کہ اس کے ضمیر میں اچھائی اور نیکی کے حوالے سے کوئی خاص بات ہے۔ اس کا اپنا خیال تھا کہ اس الہامی نشان کی وجہ سے جو کیفیت طاری ہوتی ہے، وہ کوئی غیرمعمولی چیز ہے۔[2]

بنیادی نظریات[ترمیم]

فی زمانہ سقراط کی کوئی تصنیف موجود نہیں تاہم اس کے شاگردِ رشید افلاطون نے اس کے نظریات کو قلمبند کیا اور اپنی ہردوسری تحریر میں اس کے حوالے دئیے۔ اس کی نظریات کا خلاصہ کچھ یوں ہے۔

  • روح حقیقی مجرد ہے اور جسم سے جدا ہے۔ جسم کی موت روح کا خاتمہ نہیں بلکہ اس کی آزادی کی ایک راہ ہے، لہذا موت سے ڈرنا حماقت ہے۔
  • جہالت کا مقابلہ کرنا چاہیے، اور انفرادی مفاد کو اجتماعی مفاد کے پس منظر میں دیکھنا چاہیے۔
  • انسان کو انصاف و ظلم، اور سچ و جھوٹ میں ہمیشہ تمیز روا رکھنی چاہیے۔
  • حکمت و دانش لاعلمی کے ادراک میں پنہاں ہے۔
  • جاننا دو قسم کا ہوتا ہے۔ ایک رائے اور دوسرا علم۔ عام آدمی فقط رائے رکھتا ہے اور اس پر عمل کرتا ہے جبکہ علم صرف حکیم کو حاصل ہوتا ہے۔
  • نیکی علم ہے اس لیے اس کی تعلیم ہو سکتی ہے۔ خیرو شر کے اصول عقلی طور پر لوگوں کو سمجھائے جاسکتے ہیں۔
  • ظلم کرنا ظلم سہنے سے بدرجہ ہا بہتر ہے۔
  • بدی کرنے کے بعد سزا پانا بہ نسبت بچ کر نکل جانے سے بدرجہ ہا بہتر ہے۔
  • سچا آدمی موت سے نہیں بلکہ بد اعمالی سے گھبراتا ہے۔
  • عقل کلی کا وجود ہے۔
  • خیرمطلق کا وجود ہے۔
  • نیکی عقل ہے اور بدی جہالت
  • نیکی آپ ہی اپنا اجر ہے اور بدی آپ ہی اپنی سزا

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. خطا در حوالہ: حوالہ بنام enc1911 کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا ().
  2. http://iqbal9211.blogspot.in/2014/04/blog-post_14.html

بیرونی روابط[ترمیم]