بارامانیاس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

بارامانیاس (انگریزی: Parmenides یونانی: Παρμενίδης ) قبل سقراطی فلسفیوں میں ایک اہم ترین نام ہے جس کی فکر کی اہمیت کا اندازا اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اسے مابعدالطبیعات کا بانی کہا جاتا ہے اور اس کے نظریات افلاطون اور سقراط سمیت بعد کے تقریباً تمام فلسفیوں کے ہاں موجود ہیں یہانتک کہ ہیگل نے جا بجا اس کی فکر سے استفادہ ہے اور ہیگلیائی جدلیات کا آغاز بھی پارمینڈیس کے نظریہ وجود سے ہوتا ہے۔

بارامانیاس کا عہد[ترمیم]

تاریخِ فلسفہ میں اکثر پارمینڈیس کو ہیراقلاطیس سے قبل کا فلسفی سمجھا جاتا ہے مگر ایک تازہ پروفیسر سٹیس نے اپنی کتاب " فلسفہ یونان کی تنقیدی تاریخ " میں تاریخی حوالوں سے یہ ثابت کیا ہے کہ ہیراقلاطیس کا دور پہلے ہے۔ اس تحقیق میں وہ پارمینڈیس کی کتب سے حوالے دیتے ہیں جہاں اس نے ہیراقلاطیس کا نام لے کر اس کے نظریات کا رد کیا ہے۔ مکالمات افلاطون میں ایک مکالمہ پارمینڈیس نام کا بھی ہے۔ ایتھنز کا یہ سفر ہمارے فلسفی نے اپنے بڑھاپے میں کیا تھا ۔

مسئلہ وجود و عدم[ترمیم]

ایک دور بھی یہ سوال فلسفے میں نہایت اہمیت کا حامل رہا ہے کہ کیا خلا یعنی مکمل عدم کا وجود ہے یا نہیں ہے؟ اس سوال کا ماخذ دراصل اس سوال میں ہے کہ کیا موجودات یعنی کائنات عدم سے وجود میں آۓ ہیں یا نہیں؟ اور اگر عدم سے وجود میں آۓ ہیں تو خود عدم کے وجود کی نوعیت کیا ہے اور کیا اس کا وجود ایک حقیقت کے طور پر تسلیم کیے جانے کے قابل بھی ہے یا نہیں ہے؟ ابتدائی مادی فلسفہ جس کے شارحین میں طالیس، اناکسیمنڈر کے نام شامل ہیں نے بظاہر اس سوال کا جواب نفی میں دیا ہے کیونکہ وہ اس بات کے قائل ہیں کہ عناصرِ اربعہ یعنی پانی ، ہوا، آگ اور مٹی کا وجود ہمیشہ سے ہے سو وہ عدم سے وجود میں نہیں آۓ۔ لیکن مسئلہ عدم جس پہلے فلسفی کے ہاں واضح طور پر سامنے آتا ہے وہ ہیراقلاطیس ہے۔ ہیراقلاطیس کے خیال میں حرکت حقیقت کا سب سے بنیادی اصول ہے اور کسی شے کو بھی ثبات نہیں ہے۔ اس کا ایک مشہور قول ہے کہ تم کسی دریا میں دو بار قدم نہیں ڈال سکتے کیونکہ دوسری بار وہ پانی گزر چکا ہو گا اور ایک مطلق نیا دریا بہہ رہا ہو گا۔ اب حرکت کیا ہے ؟ کسی شے کا اس حالت میں بدل جانا جس میں وہ پہلے نہیں تھی حرکت کہلاتا ہے۔ یعنی حرکت دراصل کیفیت یا حالت کی تبدیلی ہے۔ لیکن حرکت کے نتیجے میں شے جس نئی حالت میں بدل گئی ہے وہ حالت پہلے وجود نہیں رکھتی تھی اور اس لئے عدم میں تھی۔ پس اگر کسی شے یا وجود میں عدم کا اضافہ کیا جائے ( یہاں عدم سے مراد وہ شے کی وہ حالت ہے جس میں وہ شے پہلے موجود نہیں تھی ) تو وہ شے تکون کے مرحلے سے گزرتی ہوئی ایک بالکل نئی شے بن جاتی ہے۔ پس حرکت کا تصور اس کے سوا کچھ بھی نہیں ہے کہ وجود وہ کچھ بن چکا ہے جو وہ پہلے نہیں تھا یعنی وجود میں عدم کا اضافہ ہو چکا ہے۔ ہیراقلاطیس کے یہ نظریات ہیگل کے توسط سے اقبال کے ذریعے ہم تک شعری صورت میں پہنچے ہیں اور اقبال کا تصور حرکت و تبدیلی ہیراقلاطیس سے مستفید ہوا ہے۔

فلسفہ بارامانیاس کا نقطہء آغاز[ترمیم]

پارمینڈیس اپنا فلسفہ یہاں سے شروع کرتا ہے کہ ہم کسی بھی شے کے بارے میں دو بنیادی سوال پوچھتے ہیں کہ کیا وہ وجود رکھتی ہے یا نہیں رکھتی۔ آئیے ہم یہی سوال عدم کے بارے میں کرتے ہیں۔ کیا عدم وجود رکھتا ہے یا مزید واضح الفاظ میں اس طرح کہ کیا "نہ ہونا" ہے یا نہیں ہے؟ اگر اس کا جواب نہیں میں ہے تو اس طرح ہو گا کہ "نہ ہونا" نہیں ہے۔ یہ جواب واضح ہے۔ لیکن اگر اس کا جواب ہاں میں ہے تو کچھ یوں ہو گا کہ " نہ ہونا " ہے۔ اب یہ جواب اپنے اندر واضح تضاد رکھتا ہے سو اسے ماننا محال ہے۔ پس ثابت ہوتا ہے کہ عدم کا وجود ایک منطقی مغالطہ ہے۔ لیکن بات یہاں ختم نہیں ہوتی۔ اگر عدم نہیں ہے تو کیا ہے؟ پھر بس وجود ہی وجود ہے اور ایسا وجود جو نہ کبھی پیدا کیا گیا اور نہ کبھی فنا ہو گا۔

اس جواب کی بنیاد پر پارمینڈیس اپنا فلسفہ تشکیل دیتا ہے جو تاریخ کی سب سے پہلی مربوط اور منظم ما بعد الطبیعات کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔

بارامانیاس کی مابعدالطبعیات[ترمیم]

ہم موجودات کے درمیان بہت سا فرق پاتے ہیں۔ میز ' میز ہے اور کرسی نہیں ہے۔ درخت ' درخت ہے اور پانی نہیں ہے۔ زید ' زید ہے اور بکر نہیں ہے۔ سو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ موجودات کے درمیان فرق عدم کی بنیاد پر ہے۔ ایک شے دوسری شے نہیں ہے۔ لیکن اگر یہ عدم درمیان سے ہٹا دیا جاۓ تو کیا ہو ؟ پھر ظاہر ہے کہ اشیا کا فرق ہی ختم ہو جاۓ اور پارمینڈیس یہی دکھانا چاہتا ہے۔ موجودات میں کوئی فرق نہیں ہے کیونکہ عدم کا کوئی وجود نہیں ہے۔ تمام موجودات دراصل ایک کلی وجود ہیں اور ان کا ظاہری تفاوت محض دھوکا ہے جو عدم کو درمیان میں لانے سے پیدا ہوتا ہے۔

لیکن ہیراقلاطیس ثابت کر چکا تھا کہ حرکت عدم کے بغیر ممکن نہیں ہے اور اب ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ عدم کا تو وجود ہی نہیں ہے تو پھر حرکت کا انجام کیا ہو؟ اس سوال کا واضح جواب ہے کہ حرکت کا کوئی وجود نہیں اور یہ محض حواس کا دھوکا ہے۔ اور چونکہ حرکت ہمیشہ کسی خالی جگہ میں ہونا ہی ممکن ہے اور کائنات میں کوئی جگہ بھی خالی نہیں ہے سو حرکت ممکن نہیں ہے۔ ردِ حرکت کا یہ نظریہ پارمینڈیس کے شاگرد زینو نے اپنے مشہور عالم پیراڈوکس کے ذریعے مزید واضح کیا ہے۔

اب یہ کائنات کیا ہے جس میں نہ تو موجودات کے درمیان کوئی فرق ہے اور نہ ہی کہیں حرکت ہے۔ ہمارا فلسفی اس سوال کا جواب کچھ یوں دیتا ہے کہ کائنات کے دو رخ ہیں۔ ایک رخ حقیقی ہے جس میں محض ایک کامل اور کلی وجود ہے جو مکمل سکون کی حالت میں ہے۔ جہاں کوئی حرکت نہیں ہے اور محض ایک ابدی سکون اور ہوۓ جانے کی حالت ہے۔ کائنات کا دوسرا رخ ظاہری ہے جس میں ہم موجودات کے درمیان فرق بھی پاتے ہیں اور حرکت کا مشاہدہ بھی کرتے ہیں۔ لیکن پھر اس حرکت اور تفاوت کے پاۓ جانے کی وجہ کیا ہے؟

بارامانیاس کی علمیات[ترمیم]

یہاں سے یہ سوال علمیات میں داخل ہو جاتا ہے۔ پارمینڈیس کے نزدیک ہم ہر شے کا علم یا تو حواس سے حاصل کرتے ہیں یا عقل سے۔ ہمارے حواس خام ہیں اور اسی وجہ سے ہمیں حرکت اور تفاوت محسوس ہوتا ہے مگر عقل کامل ہے اور ہمیں حقیقت کا علم دیتی ہے ایسی حقیقت جس میں محض وجود ہے اور کوئی عدم یا حرکت و تفاوت نہیں ہے۔ پس ہمارے فلسفی کے نزدیک حقیقت اور ظاہر کا فرق عقل اور حواس کے فرق کی وجہ سے ہے۔ اب آپ پارمینڈیس کے سارے نظام پر مجموعی طور پر نظر ڈالیں تو کچھ یہ صورت بنتی ہے کہ حقیقت اور ظاہر کی دوئی ہے اور عقل اور حواس کی دوئی ہے۔ وجود کلی اور سکون حقیقی ہے اور عقل کے ذریعے اس تک پہنچا جا سکتا ہے۔ انفرادی موجودات اور حرکت ظاہری دھوکا ہے اور حواس کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔

پارمینڈیس کا تصورِ وجود ایک مجرد تصور ہے جس کی کوئی صورت یا شکل نہیں ہے۔ وہ بس ہے۔ ایک دفعہ مثال دینے کی خاطر پارمینڈیس نے کہا کہ وجود حقیقی گلوب کی طرح ہے مگر یہ مثال محض مثال ہے اور اس کی وجہ سے پارمینڈیس کے مجموعی نظام پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا۔

بارامانیاس کے فلسفے کی تاریخی اہمیت[ترمیم]

یہ نظریات فلسفے کی تاریخ میں نہایت اہم رہے ہیں اور افلاطون کے امثال کے وجود کی نوعیت پارمینڈیس کے تصور وجود سے بہت مماثلت رکھتی ہے۔ افلاطون کے امثال بھی مجرد اور حرکت سے پاک ہیں۔ مادی اور حقیقی دنیا کا فرق افلاطون نے پارمینڈیس سے مستعار لیا ہے اور یہانتک کہ کانٹ کے ہاں ظاہری اور حقیقی یعنی فی نامینا اور نامینا کے نظریات بھی پارمینڈیس سے متاثر ہوۓ ہیں۔ ہیگلیائی جدلیات میں پہلا مقولہ وجود کا ہے جو خود ہیگل کے الفاظ میں پارمینڈیس کے تصور وجود سے اخذ ہے اگرچہ جدلیات میں اس تصور سے مختلف نتائج اخذ کئے گئے ہیں۔